شاہ تاج خان(پونہ)
بچوں کے لیے لکھنا کوئی بچوں کا کھیل نہیں! مگر جب خواتین نے بچوں کے لیے قلم سنبھالا تونہ صرف لکھا بلکہ خوب لکھا۔خواتین نے اردو ادبِ اطفال کو صرف الفاظ ہی نہیں دیئے بلکہ خواب دیے جو وہ ایک بچے کو سلاتے ہوئے کبھی لوری تو کبھی کہانیوں کی شکل میں سناتی چلی آئی ہیں۔بچوں کی پلکوں پرسجے خوابوں میں وہ اپنے قلم سے حقیقت کے رنگ بھر رہی ہیں۔ ادبِ اطفال وہ ادب ہے جو بچوں کی ذہنی اور جسمانی صلاحیتوں کو مدنظر رکھ کر لکھا جاتا ہے۔بچہ کیا چاہتا ہے ایک ماں تب بھی سمجھ لیتی ہے جب وہ کچھ نہیں بولتا۔ وہ ماں ہو، دادی یا پھر نانی ، خواتین بچے کے ساتھ زیادہ وقت گزارتی ہیں۔بچے کے ہر لمحہ اور ہر پل کی ضرورت سے باخبر خواتین جب ادب ِاطفال تخلیق کرتی ہیں تو وہ ادب بچے کی نفسیات ،احساسات ، ضروریات اور اس کی ذہنی نشوونما میں بھی مددگار ثابت ہوتا ہے۔ اردو ادب اطفال کی کہکشاں میں خواتین قلمکار،ہمت، محنت اور لگن کے ساتھ بچوں کے حوصلوں کو اڑان دینے کے لیے محبت سے‘ پر’ بُن رہی ہیں۔بچوں کی اونچی اڑان کے لیے ان پروں کو مضبوط بنانا ہے تو خواتین کوعصر حاضر کی ضروریات سے باخبر ہونا ہوگا ۔جس کے لیے انھیں تعلیم یافتہ بلکہ اعلٰی تعلیم یافتہ ہونا ضروری ہے۔ خواتین جتنی زیادہ تعلیم یافتہ ہوں گی اتنا اچھا ادب تخلیق کر سکیں گی۔
کہانیاں جو سناتی ہو نظم و نثر کے روپ میں
ادب اطفال کسی بھی معاشرے کی نظریاتی، اخلاقی اور علمی تعمیر میں اہم رول ادا کرتا ہے۔ابتدائی دور کے ادب اطفال پر نظر ڈالیں توروایتی انداز تحریر کا بنیادی مقصد اخلاقی اصلاح اور مذہبی اقدار کی منتقلی تھا۔ نظم ہو یا نثر اس کا محور پریاں، جن ، بھوت ، شہزادے شہزادیاں اور گھر کے مختلف موضوعات ہوا کرتے تھے۔ ان تحریروں میں کردار اچھے یا پھر برے تھے۔ جہاں نیکی کی جیت اور بدی کو ہمیشہ ہارتے ہوئے پیش کیا جاتا تھا۔اکیسویں صدی میں سائنس کی نئی نئی ایجادات اور ڈیجیٹل میڈیا کے فروغ نے بچوں کی نفسیات ،پسند نا پسند کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے۔مغربی ادبِ اطفال پر اگر نظر ڈالیں تو وہاں ادباء اور شعراء نے وقت بدلنے کے ساتھ بچوں کی نفسیات کے عین مطابق ادب تخلیق کیا۔اب جدید انداز تحریر کا بنیادی مقصد ذہنی تربیت ، تجسس اور سائنسی فکر کو بیدارکرنا ہے۔
اردو ادب میں خواتین نے جب بچوں کے لیے لکھنا شروع کیا تو ان کی تحریروں کا بنیادی مقصد بچوں میں حب الوطنی، قومی یک جہتی، بزرگوں کا ادب و احترام وغیرہ جیسے اوصاف پیدا کرناتھا۔اس دور میں ادبِ اطفال میں خوابناک ماحول، طلسماتی فضا اور تخیلاتی دنیا کا جادو سر چڑھ کر بولتا تھا۔لیلٰی خواجہ بانو، حجاب امتیاز علی، صالحہ عابد حسین، بیگم قدسیہ زیدی وغیرہ نے کثیر تعداد میں دوسری زبانوں سے کہانیوں کو اردو زبان میں منتقل کیا۔اس کے بعد کے دور میں رضیہ سجّاد ظہیر، عصمت چغتائی، قراۃالعین حیدر، اشرف صبوحی، اے آر خاتون، عطیہ پروین، واجدہ تبسم، جیلانی بانو،بانو سرتاج وغیرہ کی ایک طویل فہرست ہے جنہوں نے ادبِ اطفال کی آبیاری میں نہایت اہم رول ادا کیا۔ان کی تحریروں نے نہ صرف بچوں کی اخلاقی تربیت کی بلکہ اردو زبان و ادب سے ان کا رشتہ بھی مضبوط کیا۔ عصمت چغتائی نے جب بچوں کے لیے کہانیاں لکھیں تو ان کی تخلیقات کا انداز روایتی اور پندو نصائح پر مبنی نہیں بلکہ انھوں نے بچوں کو ان کی اصل نفسیات ، شرارتوں ، معصومانہ چالاکیوں کو جرات کے ساتھ پیش کیا۔ انھوں نے نہایت آسان اور عام فہم زبان استعمال کرتے ہوئے ادب تخلیق کیا۔ رضیہ سجاد ظہیرنے کثیر تعداد میں دوسری زبانوں کی کہانیوں کا اردو زبان میں ترجمہ کیا۔ ‘ ولی عہد’ ان کی ایک طویل کہانی ہے جو ماہنامہ کھلونا میں فروری 1957سے مئی1957تک قسط وار شائع ہوئی۔ ایسے ہی روسی مصنف لازار لاگن کے مشہور ناول The old genie Hottabych کاقراۃ العین نے اردو زبان میں ترجمہ کیا۔ناول کے اردو ترجمہ ‘‘جِن حسن عبدالرحمٰن’’ کو اردو ادب کے سائنس فکشن میں اولیت حاصل ہے۔ کشور ناہید نے نظم ونثر میں بچوں کے لیے نئے تجربے کیے۔ انھوں نے طبع زاد کہانیوں کے ساتھ روایتی کہانیاں بھی لکھیں۔ اردو ادب میں متعدد خواتین قلمکاروں نے اپنے قلم سے بچوں کی تربیت میں اہم رول ادا کیا ہے۔انھوں نے اپنی تحریروں کے ذریعے کبھی ایک مشفق ماں تو کبھی ایک دور اندیش معلمہ بن کر نسل نو کی فکری تربیت کی ہے۔
آؤ بچو سنو کہانی، ایک تھا راجہ ایک تھی رانی
اردو ادبِ اطفال کی ابتدائی کہانیاں اصلاحی ، نصیحت آموز اور معلوماتی نوعیت کی تھیں ۔ اکثراردو ادبِ اطفال میں لڑکیوں کو نازک، دوسروں پرمنحصراورکسی شہزادے کی منتظر دکھایا جاتا تھا۔بہادری اور مہم جوئی لڑکوں کے کرداروں میں نظر آتی رہی۔ لڑکوں کو ہمیشہ بہادر، مہم جو، ذہین اور مسائل حل کرنے والے کے طور پر پیش کیا گیاجبکہ لڑکیوں کے کرداروں کو گھر، باورچی خانہ اور گڑیوں کے کھیل تک محدود رکھا گیا۔مانو یہ طے کر دیا گیا ہوکہ یہ کام لڑکوں کا اور یہ کام لڑکیوں کا ہے۔ گڑیا اور گلابی رنگ لڑکیوں کے لیے مخصوص کردیا گیا تو لڑکوں کو نیلا رنگ اور گاڑیوں کا شوقین بنا کر پیش کیا گیا۔ ایسی متعدد مثالیں موجود ہیں جوصنفی جانبداری کو پیش کرتی ہیں۔ داستانوں میں شہزادے مہم پر نکلتے ہیں، دنیا فتح کرتے ہیں اور مظلوم شہزادیاں بے بس ، محلوں میں قید، جادوگروں کی شکاراور کسی نجات دہندہ کے انتظار میں بیٹھی دکھائی دیتی ہیں۔اس بات سے انکار ممکن نہیں کہ ادب زندگی کا آئینہ ہوتا ہے وہ معاشرے کی جھلک ہی نہیں دکھاتا بلکہ سماج پر اثرات مرتب کرتا ہے۔نتیجتاً لڑکے بیرونی ذمہ داریوں تک اور لڑکیاں خود کو گھریلو کاموں تک محدود کر لیتی ہیں۔ لڑکیوں کو مستقل کمزور اور ڈرپوک پیش کرنے یا کسی کی مدد کی محتاج دکھائے جانے سے حقیقی زندگی میں بھی ان کی خود اعتمادی کا گراف متاثر ہوا۔ دوسری جانب لڑکے بھی لاشعوری طور پر خود کو برتر اور لڑکیوں کو کمتر سمجھنے لگے۔ ایسا ادب پڑھتے ہوئے کئی نسلیں بڑی ہو گئیں جس کا اثر ان کی زندگی پر پڑے بنا نہ رہ سکا۔ صرف لڑکیاں ہی نہیں بلکہ لڑکے بھی نفسیاتی طور پر دباؤ کا شکار ہو ئے جیسے بار بار یہ لکھا گیا کہ‘ لڑکے نہیں روتے’تووہ اپنے جذبات کا کھل کر اظہار تک نہیں کر پائے ۔اردو ادب کا ایک خاص حصّہ بچوں کو روایتی سانچوں میں قید کرتا ہے جہاں ان کی صنف اُن کا مستقبل طے کرتی ہے۔وقت اور ضرورت کے مطابق خواتین تخلیق کاروں نے روایتی صنفی کرداروں کے رول بدلنے پر کام شروع کیا ۔ اگر ہم موجودہ جدید ادبِ اطفال کی بات کریں تو یہاں بچوں کو آزاد فضا فراہم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ جہاں ان کی صنف نہیں بلکہ ان کی ذہانت ان کی محنت طے کرے گی کہ وہ کس قابل ہیں۔
دادو تحسین کا یہ شور ہے کیوں؟
اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ خواتین کی کثیر تعداد ادب میں اپنی اہمیت اور موجودگی درج کرا رہی ہے۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ صرف لکھ رہی ہیں یا وقت ، حالات اور بچے کی نفسیاتی ضروریات کے مطابق موضوعات کا انتخاب بھی کر رہی ہیں ؟ کیا وہ مہم جوئی، جاسوسی، حکمت ، عقل و دانش، فلسفہ اور سائنس و ٹیکنالوجی کے موضوعات کو اپنی تخلیقات میں جگہ دے رہی ہیں؟ یا پھر آج بھی وہ گھریلو ماحول، خاندانی رشتے، احساسِ ہمدردی جیسے محدود دائرے میں ہی گھوم رہی ہیں؟کیا اردو ادبِ اطفال میں خواتین قلمکاروں نے جے کے رولنگ کے ہیری پوٹر میں ہرمائنی گرینجرHermione Grangerجیسا کوئی کردار تخلیق کیا، جو اپنی ذہانت اور علم کی بدولت لڑکوں کی رہنمائی کرتی ہے۔شاید نہیں! ہاں! اتنا ضرور کہا جاسکتا ہے کہ وہ صنفی توازن اور لڑکیوں کی حوصلہ افزائی کرنے کی کوشش ضرور کرتی ہیں۔ وہ لڑکیوں کو پر اعتماد اور خود مختار دکھانے جیسے موضوعات کو قلم بند کررہی ہیں۔ پھر بھی وہ خود کو نصیحتیں کرنے سے نہیں روک پاتیں۔ ان کی کہانیوں میں براہِ راست نصیحتیں آج بھی موجود ہیں۔وہ صنفی مساوات کا نعرہ تو بلند کرتی ہیں مگر ان کے تخلیق کیے گئے نسوانی کردار اکثر مضبوط فیصلے کرنے سے قاصر نظر آتے ہیں۔
جب بھی کاغذ قلم اٹھاتا ہوں
اردو ادبِ اطفال میں اب لڑکوں کو بھی حساس ، روتے اور جذبات کا اظہار کرتے ہوئے دکھایا جانے لگا ہے۔کہانیوں میں والدہ اور خواتین کرداروں کو سائنسداں، پائلٹ اور ڈاکٹر کے طور پر پیش کیا جارہا ہے۔اسے خوش آئند ہی کہیں گے کہ اب کہانیوں کے مرکزی کرداروں میں لڑکیوں کو لڑکوں کے برابر مہم جو اور ذہین دکھایا جانے لگا ہے۔اب کہانیوں میں ماحول اور پس منظر میں بھی تبدیلیاں آرہی ہیں۔ کردار بھی حقیقت پسندانہ ہیں ساتھ ہی براہ راست نصیحت کرنے کی بجائے کہانی کواکثر اس طرح بُنا جاتا ہے کہ بچہ خود اچھے اور برے کا فیصلہ کرے۔اگر یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ خواتین قلمکاروں نے مادری جبلت کے باعث بچوں کے نازک جذبات اور نفسیات کو مردوں کے مقابلے زیادہ گہرائی سے سمجھ کر لکھا ہے۔باوجود اس کے اردو اد ب اطفال میں خواتین اب بھی ‘مثالی خاندان’ کا روایتی خاکہ ہی پیش کرتی ہیں۔جہاں امی ، ابو، دادا ،دادی سب خوش وخرم زندگی گزارتے ہیں۔ ان کی کہانیاں زیادہ تر پر امن گھریلو یا اسکول کے ماحول تک محدود ہوتی ہیں۔خواتین اب بھی لڑکیوں کو پریوں جیسی خوبصورت ، سیدھی سادی اورپیاری سی بچی کے روپ میں زیادہ پیش کرتی ہیں۔ عام طور پر خواتین کی کہانیوں کا اختتام انتہائی خوشگوار ہوتا ہے۔ طلاق یافتہ یا ٹوٹے ہوئے خاندانوں کے بچوں کی نفسیاتی الجھنوں پر خواتین قلمکار، بچوں کے لیے لکھنے سے گریز کرتی ہیں۔اس کے علاوہ وہ بچوں کو موت کی تلخ حقیقت اور اس کے بعد کے سوگ جیسے گہرے فلسفیانہ و نفسیاتی موضوعات سے دور رکھتی ہیں۔یہی سبب ہے کہ خواتین کی تحریروں میں بچوں کو صدمے سے باہر نکالنے کی نفسیاتی تربیت کا فقدان پایا جاتا ہے۔بچوں کے لیے لکھنے والی خواتین قلمکاروں کی تحریروں میں موضوعات کا محدود ہونا اور ان کا چند مخصوص دائروں میں گھومنا ایک اہم علمی اور تخلیقی مسئلہ ہے۔بچوں کے لیے لکھنے والی خواتین ابھی بھی دائروں سے باہر نکلنے کی جدوجہد میں مصروف ہیں۔دنیا میں جہاں بچوں کا ادب سائنس فکشن اور پیچیدہ نفسیاتی موضوعات کا احاطہ کر رہا ہے۔ اردو ادب اطفال اب بھی اکثر چند روایتی موضوعات تک محدود نظر آتا ہے۔بچوں کے لیے لکھنے والی بیشتر خواتین، بچوں کی بدلتی ہوئی نفسیات پر تحقیق نہیں کرتیں۔ قلم اٹھانے سے قبل ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہئیے کہ آج کا بچہ ڈیجیٹل میڈیا کی وجہ سے بہت زیادہ باخبر ہے۔ باوجود اس کے خواتین قلمکاراکثر وہ لکھتی ہیں جو وہ بچوں کو سکھانا چاہتی ہیں، نہ کہ وہ جو بچے پڑھنا چاہتے ہیں۔اتنا ہی نہیں والدین بھی یہی چاہتے ہیں کہ کہانی کی کتابیں صرف تعلیمی یا روایتی اخلاقیات پر مبنی ہوں۔ اگر مصنفہ ، بچوں کے حقیقی اور آج کے مسائل جیسے بلینگ، ذہنی دباؤ یا تنہائی پر لکھنا چاہے تو اسے اکثر تنقید کا نشانہ بنایا جاتاہے۔ مشرقی معاشرہ اب بھی خواتین سے توقع رکھتا ہے کہ وہ صرف جذباتی، گھریلو یا اخلاقی موضوعات پر قلم اٹھائے لیکن ہمیں یہ قطعی نہیں بھولنا چاہئیے کہ تبدیلی لانے کے لیے جرات کا مظاہرہ کرنا پڑتا ہے۔باوجود اس کے یہ اطمینان بخش ہے کہ خواتین اپنی ادبی دنیا خود تخلیق کر رہی ہیں۔
چلو،سوچوں کے جگنو پالتے ہیں
پھر بھی اردو ادبِ اطفال میں جے کے رولنگ۔J K Rowlingجیسی ادیبہ کی کمی شدت سے محسوس ہوتی ہے جس نے ہیری پوٹر سیریز لکھ کر دنیا کا مقبول ترین فینٹیسی ادب تخلیق کیا۔‘فیمس فائیو’اور سیکریٹ سیون جیسی سسپنس اور انڈوینچر سیریز لکھنے والی اینیڈ بلائیٹن Enid Blyton اور دی ٹیل آف پیٹر ریبٹ لکھ کر جانوروں کے کرداروں کو لافانی بنانے والی بیٹرکس پاٹر Beatrix Potter جیسی ادیبات کا نہ جانے کب تک اردو ادب ِ اطفال کو انتظار کرنا ہوگا۔انتظار طویل ہو گیا ہے لیکن امید کے چراغ جل رہے ہیں۔