سارہ وحید کی نئی کتاب چاند بی بی کو تاریخ کے حاشیے سے دوبارہ سامنے لاتی ہے۔ وہ جنگجو، سفارت کاراور نائب حکمران جن کی کہانی تاریخ میں خواتین کے کردار کے بارے میں ہمارے تصورات کو چیلنج کرتی ہے۔
.gif)
رشدہ شاہین
صحافی و محقق
1595 کے اواخر میں جب شہنشاہ اکبر کی بھیجی ہوئی فوجیں اپنی سلطنت کو وسعت دینے کے لیے دکن کی جانب پیش قدمی کرنے لگیں، تو ایک ملکہ بہادری اور استقامت کے ساتھ اپنی ریاست کے دفاع کے لیے سامنے آئیں۔ حوصلے، سیاسی بصیرت اور عسکری مہارت سے لیس چاند بی بی نے اپنے عہد کی ایک نہایت طاقتور سلطنت کے خلاف کامیاب مزاحمت کی قیادت کی۔
سولہویں صدی کی یہ ملکہ جنوبی ایشیا میں حکومت کرنے، جنگیں لڑنے اور نیابتِ حکومت سنبھالنے والی خواتین کی ایک طویل تاریخ کا حصہ ہیں۔ تاہم اپنی غیر معمولی بہادری اور قیادت کے باوجود چاند بی بی کا ذکر مرکزی تاریخی بیانیوں میں نسبتاً کم ہی نظر آتا ہے۔
ان کی کہانی کو وسیع تر قارئین تک پہنچانے کے لیے مؤرخ سارہ وحید نے 2022 میں ہندوستان بھر میں تحقیقی سفر شروع کیے تاکہ چاند بی بی کی زندگی اور ورثے کو دوبارہ کھوج سکیں۔ سارہامریکہ کییونیورسٹی آف ساؤتھ کیرولائنا کے میک کاس لینڈ کالج آف آرٹس اینڈ سائنسز میں تاریخ کی پروفیسر ہیں، جہاں ان کا کام قرونِ وسطیٰ، ابتدائی جدید اور جدید جنوبی ایشیا کے ادوار کا احاطہ کرتا ہے۔ یہی تحقیق بالآخر ان کی کتاب ’’چاندبیبی: دیلائیوزاینڈلیجنڈزآفاےواریئرکوئین (چاندبیبی: ایکجنگجوملکہکیحیاتاورروایات)‘‘ کی بنیاد بنی، جو پینگوئن رینڈم ہاؤس انڈیا کے ادارے ونٹیج سے شائع ہوئی ہے۔
آواز دی وائسکو دیے گئے ایک انٹرویو میں سارہ نے بتایا کہ چاند بی بی نے انہیں کیوں متاثر کیا، اس داستان کے پیچھے موجود خاتونکون تھیں، اور آج بھی ان کی کہانی کیوں اہمیت رکھتی ہے۔

ایک پرانی کتابوں کی دکان میں ملنے والی ملکہ
سارہ کے لیے چاند بی بی تک پہنچنے کا سفر علمی تحقیق سے پہلے ذاتی نوعیت کا تھا۔ وہ کہتی ہیں،’’چاند بی بی کی زندگی اور دکن کی وہ مذہبی طور پر کثیر اور نسلی اعتبار سے متنوع دنیا، جس سے وہ تعلق رکھتی تھیں، خود میرے لیے گہری تحریک کا باعث تھی۔ میں یہ کتاب لکھنے کے لیے اپنی ذاتی شناخت، یعنی حیدرآبادی خاتونہونے کے اپنے ورثے سے بھی متاثر ہوئی۔‘‘
انہوں نے بچپن میں پہلی بار اس ملکہ کے بارے میں سنا تھا۔ لیکن کتاب کا آغاز ایک غیر متوقع جگہ سے ہوا۔ سارہ یاد کرتی ہیں، ’’یہ منصوبہ حقیقت میں اس وقت شروع ہوا جب وہ میری آبائی شہر (حیدرآباد) کی ایک پرانی کتابوں کی دکان میں مجھے ملیں۔ اس ملاقات نے مجھے صرف ملکہ تک نہیں پہنچایا بلکہ ان کی بہت سی ’بعد کی زندگیوں‘تک بھی لے گئی۔ یعنی یہ کہ انہیں مختلف ادوار میں کس طرح یاد کیا گیا اور پیش کیا گیا۔‘‘
چاند بی بی کی زندگی پر لکھا نہ گیا ہو، ایسا نہیں ہے۔ ان کے بارے میں اردو میں کئی کتابیں موجود ہیں۔ ان میں سے بہت سی بیسویں صدی کے آغاز یا اس سے پہلے کی ہیں اور ان پر فارسی تاریخ نویسی کا گہرا اثر ہے۔ اس کے علاوہ بعد کے زمانے میں بھی ان پر کتابیں شائع ہوئی ہیں۔ لیکن سارہ کے مطابق ان کا کام کئی حوالوں سے مختلف ہے۔
وہ وضاحت کرتی ہیں، ’’میری کتاب ایک سیدھی سادی سوانح عمری نہیں ہے۔ سوانح عمریاں مفید ہوتی ہیں، لیکن وہ کسی فرد کو اس پیچیدہ تاریخی دنیا سے الگ بھی کر سکتی ہیں جس نے اسے ممکن بنایا۔‘‘اس کے بجائے سارہ چاند بی بی کو ’’دکن کے وسیع تر سیاسی، فکری اور ثقافتی منظرناموں‘‘کے اندر رکھتی ہیں۔
ان کی دلیل کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ چاند بی بی کو کس نظر سے دیکھا جائے۔ انہیں ایک الگ تھلگ غیر معمولی شخصیت سمجھنے کے بجائے سارہ انہیں ’’دکن کی ان خواتین کی ایک طویل تاریخ‘‘کا حصہ قرار دیتی ہیں جنہوں نے علاقوں پر حکومت کی، فوجوں کی قیادت کی اور ایسی نائب حکمران رہیں جنہوں نے ثقافتی اور سیاسی اداروں کی تشکیل میں کردار ادا کیا۔
سارہ تاریخی ذرائع پر بھی تنقیدی نظر ڈالتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں، ’’زیادہ تر فارسی تاریخیں، اور ان پر مبنی بہت سے بعد کے بیانات، اشرافیہ کے مردوں نے تحریر کیے تھے اور ان میں خواتین، سیاسی اختیار اور حرم کے بارے میں ان کے اپنے تصورات شامل ہیں۔ میں نے اپنی کھوج صرف اس حد تک محدود نہیں رکھی کہ یہ ذرائع ہمیں کیا بتاتے ہیں، بلکہ یہ بھی جاننے کی کوشش کی کہ وہ خواتین کی زندگیوں کو مخصوص انداز میں کیوں بیان کرتے ہیں۔‘‘
سارہ کی تحقیق میں یہ بھی شامل رہا کہ وقت کے ساتھ چاند بی بی کو تصویروں میں کس طرح پیش کیا جاتا رہا، جس میں بار بار نظر آنے والی وہ تصویر بھی شامل ہے جس میں ملکہ کو باز کے ساتھ شکار کرتے دکھایا جاتا ہے۔ ان کے لیے یہ تصاویر محض چاند بی بی کی عکاسی نہیں بلکہ تاریخی شواہد ہیں، جو یہ بتاتے ہیں کہ مختلف ادوار کے لوگ انہیں کس طرح سمجھتے اور یاد رکھتے تھے اور اس عمل سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ وہ کن اقدار کو اہمیت دیتے اور کس چیز کو سراہتے تھے۔

وہ خاتونجسے دشمنوں نے ’’سلطان‘‘کہا
تو آخر یہ ملکہ کون تھیں جن کے سامنے ایک طاقتور سلطنت کو پسپا ہونا پڑا؟ سارہ کہتی ہیں، ’’اپنے زمانے اور مقام کے دوسرے اشرافیہ افراد کی طرح چاند بی بی بھی اعلیٰ تعلیم یافتہ اور کئی زبانیں جاننے والی تھیں۔ وہ سولہویں صدی کی ایک ملکہ تھیں جنہوں نے بیجاپور اور احمد نگر دونوں میں نائب حکمران کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ وہ سفارت کار، فوجی حکمتِ عملی بنانے والی، ماہر کھلاڑی اور شکاری، تعمیراتی اور عوامی منصوبوں کی سرپرست، اور ایک مضبوط سیاسی رہنما تھیں۔ ان کا تعلق ایسے خطے سے تھا جہاں کے حکمران طویل عرصے سے کسی مرکزی سلطنت میں ضم ہونے کی مزاحمت کرتے آئے تھے۔‘‘
چاند بی بی کو سب سے زیادہ احمد نگر کے دفاع اور 1595تا 1596کے محاصرے میں مغل فوج کو پسپا کرنے کے لیے یاد کیا جاتا ہے۔ لیکن سارہ کا کہنا ہے کہ چاند بی بی کی طاقت صرف ایک بہادری کے واقعے تک محدود نہیں تھی، نہ ہی کسی ایک محدود جگہ تک۔ وہ کہتی ہیں، ’’چاند بی بی نے اختیار صرف خواتین کے حصے میں نہیں بلکہ دربار میں بھی استعمال کیا۔ ان کی خودمختاری کو ان کے دشمنوں نے بھی تسلیم کیا، جنہوں نے انہیں ’سلطان‘کہا۔‘‘
یہ اختیار وسیع تر بحرِ ہند کی دنیا تک پھیلا ہوا تھا۔ سارہ چاند بی بی کے 1598 میں پرتگالی وائسرائے ڈوم فرانسسکو دا گاما کے ساتھ خط و کتابت کو اہم قرار دیتی ہیں، جس میں انہوں نے خود کو خودمختار برابری کی زبان میں پیش کیا، اپنے لیے سلطان کا لفظ استعمال کیا اور وائسرائے سے ایسے مخاطب ہوئیں جیسے ایک حکمران دوسرے حکمران سے بات کرتا ہے۔ سارہ کے مطابق انہوں نے اپنے خطوط پرتگالیوں تک پہنچانے اور ان کی وضاحت کرنے کے لیے ایک برہمن سفیر مقرر کیا تھا۔
سارہ کے مطابق یہ روابط ظاہر کرتے ہیں کہ چاند بی بی ’’ایک بحری طاقت کے ساتھ سفارتی تعلق قائم کر رہی تھیں، جس نے مغلوں کے اس دعوے کو چیلنج کیا کہ بیرونی طاقتوں کے ساتھ سفارت کاری صرف انہی کا اختیار ہے، اور یہی چیز چاند بی بی کو اکبر کے لیے ایک اضافی خطرہ بناتی تھی۔‘‘
احمد نگر کے کامیاب دفاع کی خبر بہت دور تک پھیلگئی تھی۔ سارہ کے مطابق، ’’یہ خبر پرتگالی ذرائع کے ذریعے اسپین کے بادشاہ فلپ دوم تک بھی پہنچ چکی تھی۔‘‘ان کے نزدیک یہ اس بات کا ثبوت تھا کہ چاند بی بی ’’صرف ایک علاقائی جنگجو ملکہ نہیں تھیں بلکہ ایک ایسی خودمختار حکمران تھیں جن کے اقدامات کو ابتدائی جدید دنیا میں، ہندوستان سے بہت دور تک، سنجیدگی سے لیا جا رہا تھا۔‘‘
تاہم تحقیق کے دوران چاند بی بی کی فوجی مزاحمت کے علاوہ بھی سارہ کو ان کی شخصیت کے کئی دوسرے پہلو متاثر کرتے رہے۔ وہ کہتی ہیں، ’’فوجی بہادری چاند بی بی کی حکمرانی کا صرف ایک پہلو تھی۔ میں دکن کی سلطنتوں کے درمیان اتحاد قائم کرنے کی ان کی صلاحیت اور سفارت کاری کی مہارت سے بھی متاثر ہوئی۔‘‘ وہ اپنے قریب کے سیاسی اختلافات اور دور دراز طاقتوں کے ساتھ مذاکرات، دونوں کو سنبھالتی رہیں۔
سارہ کہتی ہیں، ’’انہوں نے اپنے دربار کے اندر موجود مختلف گروہوں کے درمیان توازن قائم کیا اور بیرونی طاقتوں کے ساتھ مذاکرات کیے۔‘‘سارہ کے مطابقچاند بی بی مسلسل یہ فیصلہ کر رہی تھیں کہ، ’’فوجی مزاحمت کب تک ممکن ہے، اور کب مذاکرات کے ذریعے سلطنت اور لوگوں کے لیے مسلسل جنگ کے مقابلے میں زیادہ کچھ محفوظ کیا جا سکتا ہے۔‘‘
سارہ اس بات سے محتاط رہتی ہیں کہ خواتین کی سیاسی امنگوں کو صرف مردوں کی ناکامیوں کا نتیجہ سمجھا جائے، یا اس دور کی فوجی مزاحمت کو رومانوی انداز میں پیش کرتے ہوئے سمجھوتے کو شک کی نظر سے دیکھا جائے۔ وہ کہتی ہیں، ’’میرے خیال میں یہ بوجھ خواتین کے لیے خاص طور پر زیادہ شدید ہو سکتا ہے، کیونکہ ان کے سیاسی فیصلوں کو اکثر جذبات یا عدم تسلسل تک محدود کر دیا جاتا ہے۔‘‘
وہ مزید کہتی ہیں، ’’لیکن چاند بی بی سیاسی معاملات کی طرح عسکری معاملات میں بھی اتنی ہی دوراندیش تھیں۔‘‘انہوں نے ’’درباری سیاست اور اندرونی اختلافات سے لے کر دکن میں پرتگالی اور مغل طاقتوں کے بڑھتے ہوئے دباؤ تک، متعدد چیلنجز کا سامنا کیا۔‘‘

چاند بی بی آج بھی کیوں اہم ہیں؟
میں نے سارہ سے پوچھا کہ چاند بی بی آج بھی کیوں اہم ہیں۔ ان کے لیے چاند بی بی کی کہانی محض ماضی کا ایک ورثہ نہیں بلکہ موجودہ دور سے براہ راست تعلق رکھتی ہے۔ جب میں نے خاص طور پر پوچھا کہ آج کی خواتین اور نوجوانوں کے لیے چاند بی بی کی اہمیت کیا ہے تو سارہ نے جواب دیا،’’چاند بی بی اہم لمحات میں ایک کمزور اور منقسم سیاسی برادری کو شدید عدم استحکام کے درمیان متحد رکھنے میں کامیاب رہیں۔ یہ آج کے دور میں بھی متعلقہ محسوس ہوتا ہے، جب خواتین اور نوجوان معاشی عدم تحفظ، جنگ، آمریت، اور فرقہ وارانہ و پدرشاہانہ تشدد سے پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں۔‘‘
سارہ کے نزدیک پہلا سبق خود قیادت کی نوعیت سے متعلق ہے۔ وہ کہتی ہیں، ’’قیادت صرف انفرادی بہادری کا نام نہیں ہے۔ چاند بی بی کی کامیابیاں اتحاد بنانے، قابلِ اعتماد تعلقات قائم کرنے، اور سیاسی و ثقافتی حدود سے بالاتر ہو کر کام کرنے کی صلاحیت پر منحصر تھیں۔‘‘
سارہ کے خیال میں چاند بی بی کی مؤثریت کی وجہ یہ تھی کہ انہوں نے خود کو کسی ایک جامد شناخت تک محدود نہیں کیا۔ وہ کہتی ہیں، ’’یہ صرف ان کی ذات کا معاملہ نہیں تھا بلکہ وہ ابتدائی جدید دنیا بھی اہم تھی جس سے وہ تعلق رکھتی تھیں، یعنی برطانوی نوآبادیات سے پہلے کی دنیا۔ چاند بی بی کسی ایک مقررہ شناخت سے وابستہ نہیں تھیں، بلکہ وہ مسلسل سرحدیں عبور کرنے والی شخصیت تھیں۔‘‘وہ مزید کہتی ہیں، ’’ان کی دنیا فارسی اور ہندوستانی، سنی، شیعہ اور صوفی، علاقائی اور عالمگیر نوعیت کی تھی۔ وہ احمد نگر اور بیجاپور کے درمیان، زنانہ اور دربار کے درمیان، فوجی مزاحمت اور سفارتی مذاکرات کے درمیان حرکت کرتی رہیں۔‘‘
سارہ کے مطابق، ’’چاند بی بی کی زندگی نوجوانوں کو سکھاتی ہے کہ وہ سخت اور جامد شناختوں سے محتاط رہیں، اور ان لوگوں سے بھی جو اصرار کرتے ہیں کہ شناختیں صرف ایک رخ رکھ سکتی ہیں یا ایک دوسرے کی دشمن ہونی چاہئیں۔‘‘
ان کے مطابق چاند بی بی کی دنیا اور زندگی آج کی خواتین کے لیے بھی اہم ہے۔ سارہ کہتی ہیں، ’’چاند بی بی ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ ماضی میں ایسی خواتین موجود تھیں جنہوں نے اقتدار استعمال کیا۔ لیکن انہوں نے اختیار صرف بادشاہت کے مردانہ نمونوں کی نقل کرتے ہوئے حاصل نہیں کیا۔‘‘وہ مزید کہتی ہیں، ’’انہوں نے طاقت کے ان طریقوں سے بھی فائدہ اٹھایا جو شاہی خواتین، رشتہ داری، تعلیم اور خاندان، دربار میں موجودگی، اور حکمرانوں سے مذاکرات اور فوجوں کی قیادت سے وابستہ تھے۔‘‘
سارہ کے مطابق، ’’چاند بی بینے زندگی کے ان میدانوں میں قدم رکھا جنہیں عام طور پر نسوانی بھی سمجھا جاتا تھا اور مردانہ بھی، لیکن خود کو مکمل طور پر کسی ایک دائرے تک محدود نہیں ہونے دیا۔‘‘
چاند بی بی کی مثال بہادری کی آسان تعریفوں کو بھی پیچیدہ بناتی ہے۔ سارہ کہتی ہیں، ’’بہادری کا مطلب یقیناً فوج کا سامنا کرنا ہو سکتا ہے، لیکن اس کا مطلب لوگوں اور اداروں کے تحفظ کے لیے نامکمل سمجھوتوں کو قبول کرنا بھی ہو سکتا ہے۔چاند بی بی کی کہانی ہمیں طاقت کے نمائشی مظاہروں اور اداروں کو قائم رکھنے کے زیادہ مشکل اور مسلسل کام کے درمیان فرق کرنے کی دعوت دیتی ہے۔‘‘
اور پھر چاند بی بی سے جڑی وہ داستانیں ہیں، ایسی کہانیاں جن کی سچائی کی تصدیق نہیں کی جا سکتی، لیکن سارہ کے مطابق ان کی معنویت حقیقی ہے۔ وہ چاند بی بی کے اس قصے کی طرف اشارہ کرتی ہیں جس کے مطابق وہ اپنے خاندان کی خواتین کے ساتھ زیرِ زمین سرنگوں کے ذریعے فرار ہوئیں اور ’’ایک دوسرے کے لیے مشعلیں روشن کرتی رہیں۔‘‘
یہ واقعہ حقیقت میں پیش آیا یا نہیں، اس بارے میں سارہ کہتی ہیں، ’’یہ روایت ایسی دنیا کا تصور پیش کرتی ہے جس میں خواتین نے مل کر ان پر مسلط کیے گئے پرتشدد انجام کے خلاف مزاحمت کی۔‘‘ان کے مطابق یہ کہانی اس لیے زندہ رہی کیونکہ، ’’یہ ہندوستان کی سب سے زیادہ محروم برادریوں کے لیے یکجہتی اور بقا کی ایک متبادل تاریخ پیش کرتی ہے۔‘‘

بوسیدہ آرکائیوز میں ملکہ کی تلاش
چاند بی بی کی زندگی کو دوبارہ تشکیل دینا کوئی آسان کام نہیں تھا۔ سارہ کہتی ہیں، ’’سب سے بڑی مشکل یہ نہیں تھی کہ ذرائع موجود نہیں تھے، بلکہ یہ تھی کہ ہندوستان میں وہ بکھرے ہوئے تھے، مناسب طریقے سے محفوظ نہیں تھے، ان کی فہرست بندی ناکافی تھی یا ان تک رسائی انتہائی مشکل تھی۔‘‘
انہوں نے پایا کہ فارسی مخطوطات، ’’عجائب گھروں، کتب خانوں، نجی ذخائر اور غیر رسمی آرکائیوز میں بکھرے ہوئے ہیں۔‘‘اکثر ان تک رسائی کا انتظامی عمل، ’’دستاویزات کی تشریح کے مقابلے میں کہیں زیادہ دشوار ثابت ہوا۔‘‘
زبان نے بھی مشکلات میں اضافہ کیا۔ سارہ کے مطابق اردو کی بہت سی تاریخیں پہلے کے فارسی کاموں کے تراجم یاماخوذ بیاناتہیں۔ تاہم مقامی اور صوبائی سطح پر اردو تاریخ نویسی قابلِ اعتماد ہو سکتی ہے، کیونکہ، ’’اردو اسکالرز سابق مسلم ریاستوں کے کئی علاقوں میں موجود تھے، وہ علاقائی زبانیں جانتے تھے، فارسی اور عربی کے عالم بھی تھے، اور بعض اوقات سنسکرت کے بھی ماہر تھے۔‘‘تاہم وہ خبردار کرتی ہیں، ’’زیادہ حالیہ اردو تاریخوں میں بعض اوقات حذف شدہ پہلو یا نظریاتی مداخلتیں شامل ہو سکتی ہیں۔‘‘
چاند بی بی کی زندگی کی بازیافت کے دوران سارہ کو فارسی درباری تاریخوں میں موجود تعصبات کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ وہ کہتی ہیں، ’’یہ تاریخیں مردوں، درباروں اور فوجوں کی آوازوں کو خواتین، خادموں یا عام سپاہیوں کی آوازوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ آسانی سے محفوظ کرتی ہیں۔‘‘بعد کے دور کے انگریزی تراجم کے بارے میں وہ کہتی ہیں کہ وہ، ’’پہلے کی تاریخ نویسی سے ایک واضح انقطاع تھے، اور ان میں انتہائی مسئلہ پیدا کرنے والے تصورات شامل کیے گئے، جنہوں نے ماضی پر گھڑی ہوئی کہانیاں مسلط کر دیں۔‘‘
آخرکار کتاب کی تکمیل کے لیے سارہ نے بھی وہی تحقیقی طریقہ اختیار کیا جو دنیا بھر کے مؤرخین استعمال کرتے ہیں، مختلف ذرائع کو ملا کر دیکھنا اور ان سے حاصل ہونے والے شواہد کا باہمی تقابل کرنا، جسے تثلیثِ شواہد کہا جاتا ہے۔ وہ کہتی ہیں، ’’مجھے فارسی تاریخوں کو اردو تراجم، پرتگالی خط و کتابت، کتبوں، مصوری کے نمونوں، تعمیراتی باقیات، آثارِ قدیمہ کی رپورٹس، شاعری، لوک روایات اور زبانی تاریخوں کے ساتھ ملا کر دیکھنا پڑا۔‘‘
لیکن اس عمل کا نتیجہ ہمیشہ قطعی یقین کی صورت میں سامنے نہیں آیا۔ سارہ کہتی ہیں، ’’اس کے باوجود تصدیق کا مطلب ہمیشہ یہ نہیں تھا کہ ایک ایسی واحد اور ناقابلِ تردید حقیقت تک پہنچا جائے جو سب کو قبول ہو۔ بعض اوقات سب سے ذمہ دارانہ نتیجہ یہی ہوتا ہے کہ غیر یقینی کو برقرار رکھا جائے۔‘‘ان کے مطابق، ’’متضاد بیانات شاید ہمیں ہمیشہ یہ نہ بتا سکیں کہ حقیقت میں کیا ہوا تھا، لیکن وہ ہمیں ان لوگوں اور سیاسی ثقافت کے بارے میں بہت کچھ بتا سکتے ہیں جنہوں نے یہ بیانات تخلیق کیے اور انہیں پھیلایا۔‘‘
یہ غیر یقینی چاند بی بی کی موت کی داستان میں سب سے زیادہ نمایاں نظر آتی ہے، جہاں مختلف روایات موجود ہیں، بعض میں ان کے قتل کا ذکر ہے، بعض میں خودکشی کا، جبکہ بعض میں زیرِ زمین سرنگوں کے ذریعے فرار ہونے کا۔ سارہ ان میں سے کسی کو حتمی حقیقت قرار نہیں دیتیں۔ وہ کہتی ہیں، ’’میں اس نتیجے پر پہنچی کہ ہر روایت اپنے راویوں کے خدشات کی عکاسی کرتی ہے۔ چاہے وہ سیاسی غداری کے بارے میں ہوں، خواتین کی عزت کے تصور سے متعلق ہوں، یا پھر امید اور مزاحمت کے بارے میں۔‘‘
ایک دلچسپ روایت کے مطابق قتل ہونے والی عورت دراصل چاند بی بی کی ایک ساتھی تھیں، جن کا نام بھی چاند تھا، اور جنہیں غلطی سے ملکہ سمجھ لیا گیا۔ سارہ کہتی ہیں، ’’کہا جاتا ہے کہ چاند بی بی کے بھتیجے نے کہا تھا کہ جو لاش ملی وہ ان کی پھوپھی کی نہیں تھی۔‘‘ہندوستان میں کئی مختلف مقامات پر موجود مقبرے چاند بی بی کی یاد سے منسوب کیے جاتے ہیں۔ تاہم سارہ کے مطابق، ’’ان کی آخری آرام گاہ کا سب سے معتبر اندراج مشہد، ایران میں ملتا ہے، جو امام رضا کے مزار کے قریب واقع ہے۔‘‘
سارہ نوٹ کرتی ہیں کہ شیعہ شاہی تدفین کے طریقوں میں کبھی کبھی عارضی تدفین کے بعد باقیات کو کسی مقدس مقام پر منتقل کیا جاتا تھا۔ وہ یہ امکان ظاہر کرتی ہیں کہ احمد نگر میں موجود نامکمل مقبرہ شاید اسی روایت سے متعلق ہو، لیکن وہ واضح کرتی ہیں کہ چاند بی بی کے معاملے میں اس تعلق کو یقینی طور پر ثابت نہیں کیا جا سکتا۔
_(1).png)
انہیں کیوں بھلا دیا گیا؟
اتنی بلند قامت شخصیت ہندوستان کی مرکزی تاریخ میں حاشیے پر کیوں رہ گئی؟ سارہ اس کی کئی باہم جڑی ہوئی وجوہات بیان کرتی ہیں۔
زیادہ تر محفوظ تاریخی ریکارڈ اشرافیہ کے مردوں نے تحریر کیے تھے۔ ان بیاناتیا کتبمیں، ’’خواتین اکثر مردوں کے حوالے سے نظر آتی ہیں، بطور بیٹیاں، بیویاں، بیوائیں یا مائیں، نہ کہ اپنے حق میں سیاسی کردار رکھنے والی شخصیات کے طور پر۔‘‘سارہ کے مطابق کسی خاتون کی حکمرانی کو، ’’محض عارضی صورتِ حال قرار دیا جا سکتا تھا، یا کسی مرد حکمران کی ذاتی کمزوری کا نتیجہ سمجھا جا سکتا تھا، بجائے اس کے کہ اسے خود اس خاتون کی سیاسی خواہش اور صلاحیت کا اظہار تسلیم کیا جائے۔‘‘
سارہ کہتی ہیں کہ نوآبادیاتی اور مستشرقانہ تاریخ نویسی نے بھی بہت خلل پیدا کیا، کیونکہ اس نے، ’’یہ تصور عام کیا کہ مسلمان خواتین حرم کی غیر فعال باشندے تھیں، جو سیاسی زندگی سے مکمل طور پر الگ تھیں۔‘‘حالانکہ سارہکے مطابق، ’’حرم دراصل سیاسی طاقت اور اقتدار کی کشمکش کا ایک اہم میدان تھا۔‘‘
آج کی عوامی اور علمی تاریخ نویسی کے بارے میں سارہ کہتی ہیں کہ اس دور کے مطالعے میں، ’’اب بھی شمالی ہندوستان اور مغل سلطنت کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔‘‘جبکہ دکن کو اکثر، ’’صرف اس وقت بیان کیا جاتا ہے جب وہ مغل توسیع کے ساتھ رابطے میں آتا ہے۔‘‘یہ اس حقیقت کے باوجود ہے کہ سارہ کے الفاظ میں، ’’دکن نے جنوبی ایشیا کے بیشتر خطوں کے مقابلے میں شاید زیادہ تعداد میں خواتین حکمران پیدا کیں۔‘‘
برطانوی نوآبادیاتی مؤرخین نے بھی اس مسئلے کو بڑھایا، کیونکہ انہوں نے ہندوستان کے ماضی کو الگ الگ ’’ہندو‘‘اور ’’مسلم‘‘ادوار میں تقسیم کیا، ’’اور پیچیدہ سیاسی کشمکش کو ایک دائمی مذہبی تنازعے میں بدل دیا۔‘‘
اگر سارہ چاہتی ہیں کہ کئی برسوں کی تحقیق کے بعد قارئین چاند بی بی کے بارے میں ایک غلط فہمی پر نظرِ ثانی کریں، تو وہ یہ ہے کہ چاند بی بی کو ایک غیر معمولی استثنا سمجھا جائے۔ وہ کہتی ہیں، ’’انہیں غیر معمولی کہنا بظاہر تعریف معلوم ہو سکتا ہے، لیکن اس سے یہ غلط مفروضہ مضبوط ہو سکتا ہے کہ کوئی عورت جو حکومت کرتی تھی یا سیاسی خواہش رکھتی تھی، وہ ایک ناقابلِ وضاحت استثنا تھی۔‘‘
سارہ کہتی ہیں، ’’میں چاند بی بی کو غیر معمولی (خاتون)کے بجائے ایک مثالی (خاتون)کے طور پر بیان کرتی ہوں۔ وہ دکن کی بہت سی بااثر خواتین میں سے ایک تھیں۔‘‘وہ اس سلسلے کی کڑیاں ’’نایانیکا اور اکا دیوی سے لے کر رودرما دیوی، رانی ابکا چوٹا، خونزہ ہمایوں اور آغا نرگس بانو تک‘‘جوڑتی ہیں۔
سارہ کے مطابق چاند بی بی کو اس نظر سے دیکھنے سے پوری تصویر بدل جاتی ہے۔ وہ کہتی ہیں، ’’ان کی اہمیت صرف اس شاندار تصویر میں نہیں ہے جس میں ایک تنہا خاتونہاتھ میں تلوار لیے مغل فوج کا سامنا کر رہی ہے۔ انہیں اداروں، روایات، خواتین کے نیٹ ورکس، خاندانی تعلقات اور ایک ایسی سیاسی ثقافت کی حمایت حاصل تھی جس میں خواتین طاقت استعمال کر سکتی تھیں اور کرتی تھیں۔ کبھی ان پر عائد حدود کے اندر رہتے ہوئے اور کبھی انہیں چیلنج کرتے ہوئے۔‘‘
سارہ کہتی ہیں، ’’وہ اپنی مثال آپ تھیں، لیکن اکیلی نہیں تھیں۔“جب ہم انہیں ایک استثنا سمجھنا چھوڑ دیتے ہیں تو تاریخوں، آرکائیوز، خاندانی روایات اور مناظر میں طویل عرصے سے نظر انداز کی جانے والی بہت سی دوسری خواتین بھی ہمارے سامنے آنا شروع ہو جاتی ہیں۔‘‘