ممبئی: مسلم بیکری مالک کی گنیش بھکتوں سے محبت، کاروبار بھی ہوا دوگنا

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 29-09-2026
  ممبئی: مسلم بیکری مالک کی گنیش بھکتوں سے محبت، کاروبار بھی ہوا دوگنا
ممبئی: مسلم بیکری مالک کی گنیش بھکتوں سے محبت، کاروبار بھی ہوا دوگنا

 



محمد اویس، میراروڈ (ممبئی)

ممبئی اور اس کے مضافاتی علاقوں میں گنیش اتسو کا جشن اپنی مثال آپ ہوتا ہے۔ بپا کی آمد سے لے کر وسرجن (بتوں کے جلوس اور آبی وسرجن) تک پورا شہر عقیدت اور جوش و خروش کے ایک منفرد رنگ میں ڈوبا نظر آتا ہے۔

اننت چتردشی اور وسرجن کے دیگر دنوں میں عقیدت مندوں کا ایک سمندر سڑکوں پر امڈ آتا ہے۔ ڈھول تاشوں کی گونج، فضا میں اڑتے گلال اور ’گنپتی بپا موریا‘ کے نعروں کے درمیان جلوس میں شامل عقیدت مندوں کے قدم شدید گرمی اور مسلسل پیدل چلنے کی وجہ سے تھک جاتے ہیں۔ ایسے میں مہاراشٹر نے اس عظیم ہجوم کے درمیان گنگا جمنی تہذیب کی ایک خوب صورت مثال دیکھی۔

ممبئی سے متصل میراروڈ کے پونم ساگر علاقے میں واقع ’ماسٹر بیکری‘ کے مالک حسن خان نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر گنیش وسرجن کے جلوس میں شریک ہزاروں عقیدت مندوں کے لیے مفت شربت کی سبیلیں لگائیں اور سب کے دل جیت لیے۔

لوک مانیہ تلک کا تصور اور آج کی حقیقت

جب لوک مانیہ تلک نے 1893 میں عوامی گنیش اتسو کی شروعات کی تھی تو ان کا مقصد محض مذہبی نہیں تھا۔ ان کا بنیادی مقصد معاشرے کے تمام طبقات اور مذاہب سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو ایک ساتھ لانا اور ان کے درمیان سماجی ہم آہنگی اور قوم پرستی کے جذبے کو فروغ دینا تھا۔بدقسمتی سے آج کے دور میں اکثر دیکھا جاتا ہے کہ اس تہوار کو سیاسی فائدے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے اور اس کے ذریعے معاشرے میں تقسیم پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

میراروڈ جیسا علاقہ، جو کچھ عرصہ قبل شدید فرقہ وارانہ کشیدگی اور تنازعات کی وجہ سے پوری ریاست میں موضوعِ بحث بن گیا تھا، جب اسی میراروڈ سے محبت اور بھائی چارے کی تصویر سامنے آتی ہے تو اس کی اہمیت کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ حسن خان جیسے لوگ آج بھی لوک مانیہ تلک کے اسی اصل تصور کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔

شدید گرمی میں عقیدت مندوں کو راحت، تیسرے، ساتویں، نویں اور گیارہویں دن شربت کی سبیلیںحسن خان کئی برسوں سے گنیش وسرجن کے موقع پر بلا ناغہ یہ نیک کام انجام دے رہے ہیں۔ اس بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا:’’ہم جس علاقے میں رہتے ہیں، وہاں ہر مذہب اور ذات کے لوگ آپس میں مل جل کر امن اور ہم آہنگی کے ساتھ رہتے ہیں۔ گنیش بھکت بپا کے وسرجن کے لیے شدید گرمی اور بھیڑ کے درمیان کئی کئی گھنٹے پیدل چلتے ہیں۔ ان تھکے ہوئے عقیدت مندوں کو کچھ راحت پہنچانے اور ان کی تھکن دور کرنے کے مقصد سے ہم سب نے شربت تقسیم کرنے کا منصوبہ بنایا اور ہم ہر سال یہ کام کرتے ہیں۔‘‘

اس علاقے کے مقامی رہائشی اور گنیش بھکت پانڈے نے بتایا:.’’یہ پہل صرف ایک دن تک محدود نہیں ہے۔ وسرجن کے تمام اہم دنوں، یعنی تیسرے، ساتویں، نویں اور گیارہویں دن خصوصی طور پر شربت کی سبیلیں لگائی جاتی ہیں۔ سیکڑوں گنیش بھکت اس ٹھنڈے شربت سے لطف اندوز ہوتے ہیں اور خان صاحب کو دل سے دعائیں دیتے ہیں۔‘‘

.

صرف شربت ہی نہیں، گنیش منڈلوں کو عطیات بھی

حسن خان کی گنیش اتسو میں شرکت صرف شربت تقسیم کرنے تک محدود نہیں ہے۔ ’ماسٹر بیکری‘ کی جانب سے علاقے کے عوامی گنیش اتسو منڈلوں کو ہر سال عطیہ بھی دیا جاتا ہے۔

موجودہ سماجی ماحول پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حسن خان نے کہا:’’آج کل ہر طرف ایک مختلف ماحول پیدا کیا جا رہا ہے۔ ایک دوسرے کے مذاہب کے تعلق سے نفرت اور غلط فہمیاں پھیلائی جا رہی ہیں۔ ایسے وقت میں نفرت کی اس خلیج کو پاٹنے اور محبت کا پیغام عام کرنے کے لیے اس طرح کے اقدامات کرنا بہت ضروری ہے۔ہم صرف گنیش اتسو ہی نہیں مناتے بلکہ اپنے علاقے کے لوگوں کے ساتھ ہولی، دیوالی، عید اور رمضان سمیت تمام تہوار مل جل کر مناتے ہیں۔‘‘

محبت کے بدلے محبت، کاروبار بھی دوگنا پھلا پھولا. 

انسانیت کے جذبے سے کی گئی اس کوشش کے مثبت اثرات حسن خان کے کاروبار پر بھی نظر آ رہے ہیں۔ معاشرے سے ملنے والی محبت پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے حسن خان نے کہا ’’اپنے رویے کی وجہ سے لوگ ہماری بہت عزت کرتے ہیں۔ معاشرے میں محبت اور بھائی چارہ تو بڑھ ہی رہا ہے، اس کے ساتھ لوگوں کی دعاؤں کی بدولت میرا کاروبار بھی دوگنا ترقی کر رہا ہے۔ لوگوں کی اسی محبت کی وجہ سے گنیش اتسو کے دوران ہمیں معمول سے کہیں زیادہ کھانے پینے کی اشیا کے آرڈر موصول ہوئے۔‘‘

حسن خان کی اس پہل پر ایک گنیش بھکت نے نہایت معنی خیز بات کہی:- ’’چاہے ہندو ہو یا مسلمان، سکھ ہو یا عیسائی، اس طرح کی پہل ہر برادری کے لوگوں کو کرنی چاہیے۔ معاشرے میں تقسیم پیدا کرنے اور مذہب کے نام پر سیاست کرنے والوں کو ایسا کام کرکے ہی مناسب جواب دیا جا سکتا ہے۔

لوگوں کے دلوں میں بڑھتی ہوئی دوریوں کو کم کرنے کے لیے آج واقعی جس چیز کی ضرورت ہے، وہ ایسے ہی شربت کی مٹھاس ہے!‘‘میراروڈ کا یہ واقعہ ایک بار پھر ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ کوئی بھی مذہب نفرت کی تعلیم نہیں دیتا۔