منصور الدین فریدی : نئی دہلی
یہ کانگریس ریڈیو ہے۔ ہندوستان کے کسی مقام سے 42.34 میٹر پر آپ سے مخاطب ہے۔
یہ تاریخی اعلان آج سے 77 برس قبل ڈاکٹر اوشا مہتا نے کیا تھا۔ وہ ان نوجوان مجاہدین آزادی میں شامل تھیں جنہوں نے 1942 کی "ہندوستان چھوڑو تحریک" کے دوران ایک خفیہ آزاد ریڈیو اسٹیشن قائم کیا۔ اس ریڈیو کا مقصد برطانوی حکومت کی سخت سنسرشپ کے باوجود عوام تک آزادی کی تحریک کی خبریں پہنچانا اور انہیں جدوجہد کے لیے بیدار رکھنا تھا۔14 اگست 1942 کو ڈاکٹر اوشا مہتا اور ان کے ساتھیوں نے کامیابی کے ساتھ ایک پورٹیبل ریڈیو ٹرانسمیٹر تیار کیا جس کے ذریعے "کانگریس ریڈیو" کی نشریات کا آغاز ہوا۔ یہ ریڈیو آزادی کی تحریک کے دوران قومی مزاحمت کی ایک طاقتور آواز بن گیا۔
دراصل 8 اگست 1942 کو بمبئی میں آل ہند کانگریس کمیٹی کے اجلاس میں مہاتما گاندھی نے تاریخی نعرہ "بھارت چھوڑو" پیش کیا اور برطانوی حکومت سے فوری طور پر ہندوستان چھوڑنے کا مطالبہ کیا۔اس اعلان کے چند ہی گھنٹوں بعد 9 اگست کی صبح برطانوی حکومت نے مہاتما گاندھی۔ جواہر لال نہرو۔ سردار ولبھ بھائی پٹیل اور تقریباً تمام مرکزی رہنماؤں کو گرفتار کر لیا۔ حکومت کا خیال تھا کہ قیادت کی گرفتاری کے بعد تحریک خود بخود دم توڑ دے گی۔رہنماؤں کی گرفتاری کے بعد نوجوان طلبہ۔ کارکنوں اور عام شہریوں نے تحریک کی باگ ڈور سنبھال لی۔ اس دوران ایک بڑا مسئلہ یہ پیدا ہوا کہ اخبارات پر سخت پابندیاں عائد کر دی گئیں۔ کسی بھی اخبار کو تحریک کی خبریں شائع کرنے کی اجازت نہیں تھی۔ایسے حالات میں ایک ایسے ذریعے کی ضرورت شدت سے محسوس کی گئی جو سرکاری پابندیوں سے آزاد ہو اور عوام تک صحیح اطلاعات پہنچا سکے۔
اسی ماحول میں اوشا مہتا اور ان کے ساتھیوں نے فیصلہ کیا کہ ایک خفیہ ریڈیو اسٹیشن قائم کیا جائے جو حکومت کی سنسرشپ کو ناکام بنا سکے۔اس زمانے میں تین مختلف گروہ خفیہ ریڈیو قائم کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ اوشا مہتا نے ریڈیو مکینکس کے ایک استاد کو قائل کیا کہ وہ ان کے لیے ایک ایسا پورٹیبل ریڈیو ٹرانسمیٹر تیار کریں جسے آسانی سے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیا جا سکے تاکہ پولیس کی گرفت سے بچا جا سکے

اوشا مہتا کون تھیں؟
اوشا مہتا کا تعلق گجرات سے تھا۔ وہ بچپن ہی سے مہاتما گاندھی کے نظریات سے متاثر تھیں اور طالب علمی کے زمانے میں کانگریس کی سرگرمیوں میں حصہ لینے لگی تھیں۔1942 میں جب بمبئی میں آل ہند کانگریس کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا تو اوشا مہتا بھی وہاں موجود تھیں۔ انہوں نے مہاتما گاندھی۔ جواہر لال نہرو۔ سردار پٹیل اور دیگر رہنماؤں کی تقاریر سنیں۔ انہی تقاریر نے ان کے اندر یہ یقین پیدا کیا کہ اگر آزادی کی تحریک کو زندہ رکھنا ہے تو ایک ایسے ریڈیو کی ضرورت ہے جو حکومت کے کنٹرول سے آزاد ہو۔اوشا مہتا روایتی احتجاج جیسے جلوس نکالنے یا دھرنے دینے کے بجائے کوئی منفرد کام کرنا چاہتی تھیں۔ انہوں نے دنیا کے مختلف ممالک کی انقلابی تحریکوں کا مطالعہ کیا تھا اور جانتی تھیں کہ ریڈیو عوام تک فوری پیغام پہنچانے کا سب سے مؤثر ذریعہ بن سکتا ہے۔اسی سوچ نے بعد میں خفیہ کانگریس ریڈیو کو جنم دیا۔
خفیہ کانگریس ریڈیو کا تصور کیسے وجود میں آیا؟
دراصل 9 اگست 1942 کو کانگریس کی اعلیٰ قیادت کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں بے یقینی کی کیفیت پیدا ہوگئی۔ عوام تک تحریک کی صحیح صورت حال پہنچانے والا کوئی مؤثر ذریعہ موجود نہیں تھا۔ اخبارات سخت سنسرشپ کی زد میں تھے اور آل انڈیا ریڈیو صرف سرکاری مؤقف نشر کر رہا تھا۔ ایسے میں بمبئی کے چند نوجوان طلبہ اور آزادی کے متوالوں نے ایک خفیہ اجلاس منعقد کیا۔ابتدا میں یہ تجویز سامنے آئی کہ ایک خفیہ اخبار شائع کیا جائے تاکہ تحریک کی خبریں عوام تک پہنچ سکیں۔ لیکن جلد ہی یہ احساس ہوا کہ اخبار کی طباعت اور تقسیم دونوں ہی برطانوی حکومت کی کڑی نگرانی میں ہیں۔ کسی بھی وقت چھاپہ مار کر پورا نیٹ ورک ختم کیا جا سکتا ہے۔ چنانچہ اس تجویز کو ترک کر دیا گیا۔اسی اجلاس میں اوشا مہتا نے ایک نئی تجویز پیش کی کہ اگر ایک خفیہ ریڈیو اسٹیشن قائم کیا جائے تو حکومت کی سنسرشپ کو ناکام بنایا جا سکتا ہے۔ ریڈیو کے ذریعے چند لمحوں میں ہزاروں لوگوں تک خبریں اور پیغامات پہنچائے جا سکتے تھے۔ حاضرین نے اس خیال کی بھرپور تائید کی اور یوں کانگریس ریڈیو کے قیام کی بنیاد رکھی گئی۔
کانگریس ریڈیو کی پہلی نشریات
کئی دنوں کی تیاریوں کے بعد 14 اگست 1942 کو خفیہ ریڈیو اسٹیشن نے اپنی پہلی نشریات شروع کیں۔ پہلی آواز خود اوشا مہتا کی تھی۔انہوں نے نہایت پراعتماد انداز میں اعلان کیا۔"یہ کانگریس ریڈیو ہے جو ہندوستان کے کسی مقام سے 42.34 میٹر پر اپنی نشریات پیش کر رہا ہے۔"یہ جملہ سنتے ہی آزادی کے متوالوں میں نئی امید پیدا ہوگئی۔ پہلی مرتبہ سرکاری ریڈیو کے مقابلے میں ایک ایسا نشریاتی مرکز وجود میں آیا تھا جو آزادی کی تحریک کی حقیقی تصویر پیش کر رہا تھا۔ہر نشریات کا آغاز اسی اعلان سے ہوتا تھا اور مقام کو خفیہ رکھا جاتا تھا تاکہ پولیس ریڈیو اسٹیشن تک نہ پہنچ سکے۔

کن لوگوں نے اوشا مہتا کا ساتھ دیا؟
اگرچہ کانگریس ریڈیو کی علامت اوشا مہتا تھیں لیکن اس کامیاب منصوبے کے پیچھے کئی افراد کی انتھک محنت شامل تھی۔سوشلسٹ رہنما ڈاکٹر رام منوہر لوہیا نے ریڈیو کے لیے تقاریر اور پیغامات فراہم کیے۔ اچیوت راؤ پٹوردھن اور دیگر کانگریسی رہنما بھی اس منصوبے سے وابستہ تھے۔ریڈیو اسٹیشن قائم کرنا آسان کام نہیں تھا۔ نشریاتی آلات بہت مہنگے تھے۔ ابتدا میں اوشا مہتا کے ایک عزیز نے اپنے زیورات فروخت کرکے اخراجات پورے کرنے کی پیش کش کی لیکن بعد میں بابو بھائی کھاکھر نے مالی وسائل کا انتظام کیا۔ریڈیو کے نشریاتی آلات کی تیاری میں وٹھل داس جھاویری نے مرکزی کردار ادا کیا۔ انہوں نے ریڈیو انجینئر نریمن آبارباد پرنٹر سے ٹرانسمیٹر تیار کروایا جبکہ بمبئی کے معروف ریڈیو تاجر نانک موتوانی نے ضروری آلات فراہم کیے۔ان تمام افراد نے اپنی شناخت خفیہ رکھتے ہوئے آزادی کی تحریک کے لیے غیر معمولی خدمات انجام دیں۔
پولیس کو دھوکا دینے کی حکمت عملی
کانگریس ریڈیو چلانا انتہائی خطرناک کام تھا۔ برطانوی حکومت کا خفیہ محکمہ ہر وقت اس ریڈیو اسٹیشن کی تلاش میں رہتا تھا۔ اسی لیے اوشا مہتا اور ان کے ساتھی ایک جگہ زیادہ دیر نہیں رکتے تھے۔تاریخی ریکارڈ کے مطابق تقریباً دو ڈھائی ماہ کے دوران ریڈیو اسٹیشن کا مقام سات سے آٹھ مرتبہ تبدیل کیا گیا۔نشریات کا آغاز بمبئی کے سی ویو بلڈنگ سے ہوا۔ اس کے بعد واکیشور روڈ پر واقع رتن محل منتقل کیا گیا۔ پھر لیبرنم روڈ کی اجیت ولا۔ لکشمی بھون۔ سینڈہرسٹ روڈ۔ گرگاؤں کی پاریکھ واڑی اور آخر میں محلکشمی مندر کے قریب واقع پیراڈائز بنگلے سے نشریات جاری رہیں۔ہر مرتبہ مقام کی تبدیلی صرف اس لیے کی جاتی تھی تاکہ برطانوی پولیس ریڈیو سگنل کا سراغ نہ لگا سکے۔
کانگریس ریڈیو کی نشریات میں کیا ہوتا تھا؟
کانگریس ریڈیو کا بنیادی مقصد عوام تک صحیح خبریں پہنچانا تھا۔ نشریات ہندی اور انگریزی دونوں زبانوں میں پیش کی جاتی تھیں۔ابتدائی دنوں میں روزانہ دو مرتبہ پروگرام نشر ہوتے تھے لیکن خطرات بڑھنے کے بعد ایک ہی نشریات جاری رکھی گئی۔پروگراموں میں قومی ترانے اور حب الوطنی کے نغمے شامل ہوتے تھے جن میں "سارے جہاں سے اچھا" اور "وندے ماترم" خاص طور پر نشر کیے جاتے تھے۔اس کے علاوہ مہاتما گاندھی۔ ڈاکٹر رام منوہر لوہیا اور دیگر رہنماؤں کے پیغامات سنائے جاتے تھے۔ مختلف شہروں میں ہونے والے احتجاج۔ پولیس کی فائرنگ۔ گرفتاریوں اور عوامی تحریکوں کی تازہ خبریں بھی نشر کی جاتی تھیں۔چٹاگانگ میں بم حملے۔ جمشید پور کے عوامی احتجاج اور بلیا کی بغاوت جیسی اہم خبریں بھی کانگریس ریڈیو نے عوام تک پہنچائیں۔

نوجوانوں کے لیے خصوصی پیغام
کانگریس ریڈیو کی ایک نمایاں خصوصیت نوجوانوں اور طلبہ سے براہ راست خطاب تھا۔ہر نشریات میں انہیں آزادی کی جدوجہد میں شامل ہونے کی دعوت دی جاتی تھی۔ایک موقع پر ریڈیو سے یہ تاریخی پیغام نشر کیا گیا۔
"تعلیم انتظار کر سکتی ہے لیکن آزادی نہیں۔"
اس ایک جملے نے ہزاروں طلبہ کو تحریکِ آزادی میں شامل ہونے پر آمادہ کیا۔ متعدد نوجوانوں نے کالجوں اور اسکولوں کا بائیکاٹ کیا اور احتجاجی تحریکوں کا حصہ بن گئے۔
خواتین اور بچوں کا خفیہ کردار
کانگریس ریڈیو کی کامیابی میں خواتین اور بچوں نے بھی غیر معمولی کردار ادا کیا۔چونکہ پولیس نوجوان مرد کارکنوں پر زیادہ نظر رکھتی تھی اس لیے خفیہ پیغامات پہنچانے کے لیے خواتین اور کم عمر بچوں کی خدمات حاصل کی گئیں۔یہ افراد ایک مقام سے دوسرے مقام تک خبریں۔ تحریریں اور ضروری سامان خاموشی سے پہنچاتے تھے۔ اسی حکمت عملی کی وجہ سے برطانوی حکومت کافی عرصے تک ریڈیو اسٹیشن کا سراغ لگانے میں ناکام رہی۔
عوام پر کانگریس ریڈیو کے اثرات
کانگریس ریڈیو بہت مختصر عرصے تک فعال رہا لیکن اس کی مقبولیت حیرت انگیز تھی۔لوگ مقررہ وقت پر اپنے ریڈیو سیٹوں کے سامنے جمع ہو جاتے اور بے چینی سے خفیہ نشریات کا انتظار کرتے تھے۔جب سرکاری ذرائع صرف حکومتی مؤقف پیش کر رہے تھے اس وقت کانگریس ریڈیو عوام کو حقیقی صورت حال سے آگاہ کر رہا تھا۔ اس نے آزادی کی تحریک میں نئی روح پھونک دی اور ہزاروں افراد کو برطانوی حکومت کے خلاف جدوجہد کے لیے تیار کیا۔کانگریس ریڈیو کی بڑھتی ہوئی مقبولیت نے برطانوی حکومت کو شدید پریشان کر دیا تھا۔ سرکاری خفیہ ادارے اور پولیس مسلسل اس کوشش میں تھے کہ کسی طرح اس خفیہ نشریاتی مرکز کا سراغ لگا لیا جائے۔ ریڈیو کی ہر نشریات کے بعد سگنلز کا جائزہ لیا جاتا اور مختلف علاقوں میں چھاپے مارے جاتے لیکن اوشا مہتا اور ان کے ساتھی ہر بار مقام تبدیل کرکے گرفتاری سے بچ نکلتے۔تقریباً ڈھائی ماہ تک جاری رہنے والی ان نشریات نے برطانوی انتظامیہ کو احساس دلا دیا تھا کہ یہ محض ایک ریڈیو اسٹیشن نہیں بلکہ تحریکِ آزادی کا متحرک مرکز بن چکا ہے۔
کانگریس ریڈیو کا سراغ کیسے ملا؟
بالآخر برطانوی پولیس کو ایک تکنیکی ذریعے سے ریڈیو اسٹیشن کا سراغ مل گیا۔ بعض تاریخی حوالوں کے مطابق ایک ریڈیو تکنیکی کارکن سے تفتیش کے دوران ایسی معلومات حاصل ہوئیں جن کی بنیاد پر پولیس نشریاتی مقام تک پہنچنے میں کامیاب ہوگئی۔12 نومبر 1942 کو جب اوشا مہتا گرگاؤں کے ایک خفیہ مقام سے معمول کی نشریات پیش کر رہی تھیں تو پولیس نے اچانک چھاپہ مار دیا۔اوشا مہتا اور ان کے ساتھیوں کو اسی وقت گرفتار کر لیا گیا۔ ریڈیو ٹرانسمیٹر۔ نشریاتی آلات۔ تحریری ریکارڈ اور دیگر تمام سامان بھی ضبط کر لیا گیا۔ اس طرح تقریباً ڈھائی ماہ تک جاری رہنے والی کانگریس ریڈیو کی آواز خاموش ہو گئی۔
عدالتی کارروائی اور قید
گرفتاری کے بعد اوشا مہتا اور ان کے ساتھیوں کے خلاف خصوصی عدالت میں مقدمہ چلایا گیا۔ کئی ہفتوں تک مقدمے کی سماعت جاری رہی اور آخرکار اوشا مہتا کو چار سال قید بامشقت کی سزا سنائی گئی۔انہیں پونا کی یروڈا جیل منتقل کر دیا گیا جہاں آزادی کے متعدد کارکن پہلے ہی قید تھے۔جیل میں برطانوی حکام نے ان پر شدید دباؤ ڈالا کہ وہ اپنے ساتھیوں کے نام اور خفیہ نیٹ ورک کی معلومات فراہم کریں۔ انہیں مختلف لالچ بھی دیے گئے۔ بعض حوالوں کے مطابق انہیں بیرون ملک اعلیٰ تعلیم کی پیش کش بھی کی گئی لیکن اس شرط کے ساتھ کہ وہ اپنے ساتھیوں کے بارے میں معلومات فراہم کریں۔اوشا مہتا نے ہر پیش کش مسترد کر دی۔برطانوی حکام تقریباً چھ ماہ تک مسلسل اوشا مہتا سے تفتیش کرتے رہے۔ ذہنی دباؤ۔ سخت سوالات اور مختلف حربوں کے باوجود انہوں نے کسی ساتھی کا نام ظاہر نہیں کیا۔جیل کی سختیوں نے ان کی صحت پر گہرا اثر ڈالا لیکن ان کے حوصلے میں کوئی کمی نہ آئی۔وہ اس مقدمے میں گرفتار ہونے والی واحد خاتون تھیں جنہیں چار سال قید بامشقت کی سزا سنائی گئی۔ 1946 میں رہائی کے بعد بھی انہوں نے عوامی زندگی اور علمی خدمات کا سلسلہ جاری رکھا۔

کانگریس ریڈیو کی تاریخی اہمیت
کانگریس ریڈیو نے صرف دو ڈھائی ماہ کام کیا لیکن اس مختصر عرصے میں اس نے تحریکِ آزادی کی تاریخ میں ایک نئی مثال قائم کر دی۔اس کی سب سے بڑی کامیابی یہ تھی کہ جب اخبارات پر سنسرشپ نافذ تھی اور اطلاعات کے تمام ذرائع حکومت کے قبضے میں تھے تو اسی ریڈیو نے عوام تک صحیح خبریں پہنچائیں۔پولیس کی کارروائیاں۔ مظاہرے۔ گرفتاریاں۔ فائرنگ کے واقعات اور کانگریس کے رہنماؤں کے پیغامات مسلسل نشر کیے جاتے رہے۔ اس سے عوام کا حوصلہ بلند ہوا اور آزادی کی تحریک کی رفتار برقرار رہی۔اسی کے ساتھ کانگریس ریڈیو نے آل انڈیا ریڈیو کے سرکاری پروپیگنڈے کا مؤثر جواب بھی دیا۔ عوام پہلی مرتبہ سرکاری موقف کے علاوہ ایک متبادل اور قومی نقطۂ نظر بھی سننے لگے۔
آزادی کی تحریک میں ذرائع ابلاغ کا نیا باب
کانگریس ریڈیو نے یہ ثابت کر دیا کہ ذرائع ابلاغ صرف اطلاعات کی ترسیل کا ذریعہ نہیں بلکہ قومی جدوجہد کا مؤثر ہتھیار بھی بن سکتے ہیں۔اس تجربے نے آزادی کی تحریک میں ابلاغ کے ایک نئے باب کا اضافہ کیا۔ نوجوانوں نے ٹیکنالوجی کو قومی مقصد کے لیے استعمال کیا اور محدود وسائل کے باوجود ایک ایسا نشریاتی نظام قائم کیا جس نے برطانوی حکومت کو سخت پریشانی میں مبتلا کر دیا۔یہ صرف ایک ریڈیو اسٹیشن نہیں بلکہ آزادی۔ جرأت اور عوامی مزاحمت کی علامت تھا۔
اوشا مہتا کی خدمات کا اعتراف
آزادی کے بعد اوشا مہتا نے اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور سیاسیات کی ممتاز استاد بنیں۔ انہوں نے ممبئی یونیورسٹی میں تدریسی خدمات انجام دیں اور گاندھیائی فکر کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا۔ان کی قومی خدمات کے اعتراف میں حکومت نے انہیں متعدد اعزازات سے نوازا۔ ان کی زندگی اس حقیقت کی روشن مثال ہے کہ قومی تحریکوں میں خواتین کا کردار کسی بھی طرح مردوں سے کم نہیں تھا۔آج اوشا مہتا کا نام ہندوستان کی ان بہادر خواتین میں شمار کیا جاتا ہے جنہوں نے آزادی کی جدوجہد میں اپنی صلاحیتوں اور جرات کا لازوال ثبوت پیش کیا۔تحریکِ آزادی کی تاریخ صرف میدانِ جنگ یا سیاسی جلسوں کی داستان نہیں بلکہ یہ قلم۔ آواز اور ابلاغ کی طاقت کی بھی تاریخ ہے۔ اوشا مہتا اور ان کے ساتھیوں نے ایسے وقت میں خفیہ کانگریس ریڈیو قائم کیا جب آزادی کی تحریک کو ایک مؤثر ذریعۂ ابلاغ کی اشد ضرورت تھی۔ انہوں نے جان ہتھیلی پر رکھ کر قوم تک سچی خبریں پہنچائیں اور یہ ثابت کیا کہ اگر عزم مضبوط ہو تو محدود وسائل بھی بڑے انقلاب کی بنیاد بن سکتے ہیں۔کانگریس ریڈیو کی آواز اگرچہ صرف چند ماہ تک سنائی دی لیکن اس کی بازگشت آزادی کی تاریخ میں ہمیشہ زندہ رہے گی۔ اس نے نوجوانوں میں حوصلہ پیدا کیا۔ عوام کو متحد رکھا اور برطانوی حکومت کے اطلاعاتی محاصرے کو توڑ دیا۔ یہی وجہ ہے کہ اوشا مہتا اور ان کے ساتھیوں کی یہ جرات مندانہ کاوش تحریکِ آزادی کا ایک درخشاں مگر نسبتاً کم بیان کیا جانے والا باب ہے جسے نئی نسل کے سامنے زیادہ نمایاں انداز میں پیش کیے جانے کی ضرورت ہے۔