مذہبی برتری کا دعویٰ انسان کو انتہا پسندی کی طرف لے جا سکتا ہے: پاکستانی بک ٹیوبر شاہ رخ ندیم

Story by  منصورالدین فریدی | Posted by  [email protected] | Date 11-10-2026
مذہبی برتری کا دعویٰ انسان کو انتہا پسندی کی طرف لے جا سکتا ہے: پاکستانی بک ٹیوبر شاہ رخ ندیم
مذہبی برتری کا دعویٰ انسان کو انتہا پسندی کی طرف لے جا سکتا ہے: پاکستانی بک ٹیوبر شاہ رخ ندیم

 



منصور الدین فریدی/ نئی دہلی

اپنے مذہب کو سچا ماننا فطری بات ہے، لیکن اسے واحد سچ قرار دے کر دوسروں کے عقائد کو کمتر سمجھنا Doctrinal Absolutism ہے۔ ان کے مطابق مذہبی عقیدہ کسی حد تک انسان کے جغرافیہ اور خاندانی پس منظر سے بھی جڑا ہوتا ہے۔ دوسروں کے مذہب کا مذاق اڑانے یا اسے غلط ثابت کرنے کے بجائے انسان کو سچ کی تلاش پر توجہ دینی چاہیے، کیونکہ یہی تلاش اسے حقیقت کے قریب لے جا سکتی ہے  

پاکستان کے معروف بک ٹیوبر  شاہ رخ ندیم نے مذہبی یقین، جغرافیہ اور سچ کی تلاش پر اپنے خیالات کا اظہار کیا، انسٹاگرام پر صارفین کی جانب سے اظہارِ خیال کو سراہا گیا

دنیا میں چار ہزار سے زائد مذاہب اور مختلف مذہبی عقائد پائے جاتے ہیں، لیکن کیا اپنے مذہب کو سچا ماننے کا مطلب یہ بھی ہے کہ دوسرے تمام مذاہب کو غلط قرار دے دیا جائے؟ پاکستان کے معروف بک ٹیوبر شاہ رخ ندیم نے اسی سوال پر اپنے ایک ویڈیو پیغام میں تفصیلی گفتگو کی ہے۔شاہ رخ ندیم نے مذہبی عقیدے کو دوسروں پر مسلط کرنے کی سوچ کو "Doctrinal Absolutism" قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنے ہی مذہب اور عقیدے کو حتمی سچ سمجھنے لگے اور اپنے نظریے سے اختلاف کرنے والوں کو غلط یا کافر قرار دینے لگے۔

انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ دو افراد کے بیانات میں نمایاں فرق ہوتا ہے۔ ایک شخص کہتا ہے کہ "میرا مذہب سچا ہے اور مجھے اس پر یقین ہے"، جبکہ دوسرا کہتا ہے کہ "صرف میرا مذہب ہی سچا ہے اور میرا عقیدہ ہی سب سے بہتر ہے۔" شاہ رخ ندیم کے مطابق ان دونوں رویوں کو ایک نظر سے نہیں دیکھا جا سکتا۔

عقیدہ اور جغرافیہ کا تعلق

شاہ رخ ندیم نے مذہب اور انسان کے جغرافیائی پس منظر کے تعلق کی طرف بھی توجہ دلائی۔ ان کا کہنا تھا کہ عام طور پر انسان اسی مذہب میں پیدا ہوتا اور پرورش پاتا ہے جسے اس کے والدین اور معاشرہ مانتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر وہ جاپان میں پیدا ہوئے ہوتے تو ممکن ہے ان کا خدا کے بارے میں تصور مختلف ہوتا یا وہ مسلمان نہ ہوتے، جبکہ امریکا میں پیدا ہونے کی صورت میں ان کے عیسائی ہونے کے امکانات زیادہ ہوتے۔ ان کے بقول اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ انسان کا مذہبی پس منظر کسی نہ کسی حد تک اس کی جغرافیائی اور سماجی وابستگی سے بھی جڑا ہوتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہر مذہب کے پیروکار کو اپنا مذہب بہترین محسوس ہونا کوئی غیر معمولی بات نہیں، اصل مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب انسان اپنے عقیدے کو دوسروں پر مسلط کرنے کی کوشش کرے۔

اختلاف سے نفرت تک کا سفر

شاہ رخ ندیم نے کہا کہ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب کوئی شخص دوسرے مذاہب کو حقیر سمجھنے، ان کا مذاق اڑانے یا ان کے ماننے والوں کو کمتر ثابت کرنے لگتا ہے اور یہ دعویٰ کرتا ہے کہ صرف اسی کا عقیدہ درست ہے۔

ان کے مطابق اس طرح کی سوچ انسان کو Fundamentalism، Extremism اور بالآخر دوسرے لوگوں سے نفرت کی طرف لے جا سکتی ہے۔

انہوں نے مذہبی عقائد پر باہمی لڑائی کو بے فائدہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے نزدیک کسی کے مذہبی عقیدے پر دوسروں سے لڑنے کا کوئی حاصل نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسی بحث کا کوئی نتیجہ نہیں نکلتا اور انسان کو اپنی زندگی میں کسی دوسرے انسان سے مذہب کی بنیاد پر جنگ کرنے کے بجائے سچ کی تلاش پر توجہ دینی چاہیے۔

’’انسان کی سچ کی تلاش سب سے مقدس چیز ہے‘‘

اپنی گفتگو کے اختتام پر شاہ رخ ندیم نے کہا کہ ان کے لیے زندگی میں سب سے مقدس چیز انسان کی سچ کی تلاش ہے، کیونکہ یہی تلاش بالآخر انسان کو حقیقت کے قریب لے جا سکتی ہے۔شاہ رخ ندیم پاکستان کے معروف بک ٹیوبرز میں شمار ہوتے ہیں اور کتابوں، علم، فلسفے اور مذہب جیسے موضوعات پر گفتگو کرتے رہے ہیں۔ ان کے اس تازہ ویڈیو پیغام میں مذہبی یقین اور دوسروں کے عقائد کے احترام کا موضوع خاص طور پر زیر بحث آیا۔دلچسپ بات یہ ہے کہ انسٹاگرام پر ان کے اس اظہارِ خیال کے ردعمل میں بڑی تعداد میں صارفین نے ان کے نقطۂ نظر کو سراہا اور مذہب کے بارے میں اس اندازِ گفتگو کو مثبت قرار دیا۔