ڈاکٹر ایم بشیر احمد

اکتوبر 2020 میں ہندوستان کی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے قیام کی صد سالہ تقریبات کا موقع تھا۔ یہ یونیورسٹی مسلم دنیا میں اعلیٰ تعلیم کے کسی ادارے میں سائنس کی تعلیم متعارف کرانے والے اولین اداروں میں سے ایک تھی، جہاں تقریباً 500 سال کے تعطل کے بعد سائنسی تعلیم کو فروغ دیا گیا۔سر سید احمد خان انیسویں صدی کے ایک عظیم مسلم عالم، دور اندیش مفکر، مدبر، ماہر تعلیم اور مسلم مصلح تھے۔ انہوں نے پانچ صدیوں کی غفلت کے بعد ہندوستانی مسلمانوں میں سائنس کی تعلیم کو دوبارہ زندہ کیا۔ساتویں سے پندرہویں صدی تک مسلمان سائنس، ٹیکنالوجی اور اختراعات کے میدان میں پیش پیش تھے۔ اشعری نظریے کے غلبے کے باعث مسلم ممالک نے سائنس اور فلسفے کی تعلیم ترک کر دی۔ اس کے نتیجے میں انہوں نے عالمی سطح پر اپنی برتری کھو دی۔ اٹھارہویں اور انیسویں صدی میں مغربی دنیا کے لیے پوری مسلم دنیا، بشمول عظیم صفوی، عثمانی اور مغلیہ سلطنتوں، کو نوآبادیاتی تسلط میں لینا زیادہ آسان ہو گیا۔
سر سید کی پیدائش ایسے وقت میں ہوئی جب انگریز ہندوستان پر قبضہ کر رہے تھے اور مغل حکمران اپنی سلطنت کا دفاع کرنے کے قابل نہیں رہے تھے۔ وہ ہندوستانی مسلمانوں کے ان عظیم مفکرین میں سے ایک تھے جنہوں نے علما اور شعرا کے درمیان رہتے ہوئے اس حقیقت کو محسوس کیا کہ ہندوستان کی پہلی جنگ آزادی میں شکست اور ذلت کی بنیادی وجوہات میں سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں ترقی کا فقدان شامل تھا۔جہاں یورپی ممالک سولہویں صدی سے تیزی کے ساتھ تکنیکی ترقی کر رہے تھے، وہیں مسلم یونیورسٹیوں میں سائنسی علوم کو ترک کرنے کے باعث مسلمان زوال کی طرف بڑھ رہے تھے۔
سر سید نے مسلمانوں کی افسوس ناک حالت کو محسوس کیا اور عوام میں تعلیمی پسماندگی کے غلبے کو دیکھ کر انہیں گہرا دکھ ہوا۔ انہوں نے مسلمانوں کو جہالت سے نکالنے کو اپنی زندگی کا مقصد بنا لیا۔ اس راستے میں انہیں حمایت بہت کم ملی، جب کہ مخالفت کا سامنا بہت زیادہ کرنا پڑا۔ انہیں اندازہ تھا کہ جدید تعلیم ہی وہ واحد ذریعہ ہے جس کے ذریعے تعلیمی طور پر پسماندہ عوام کی حالت بہتر بنائی جا سکتی ہے، تاکہ وہ ترقی کے میدان میں دوسروں کا مقابلہ کر سکیں اور عزت و احترام حاصل کر سکیں۔
سر سید احمد خان 17 اکتوبر 1817ء کو دہلی کے ایک متوسط اور مذہبی خاندان میں پیدا ہوئے۔ ان کی ابتدائی تعلیم میں عربی، فارسی اور اسلامی علوم پر توجہ دی گئی۔ بعد میں انہوں نے انگریزی زبان بھی سیکھی۔ 1838ء میں انہیں ایسٹ انڈیا کمپنی میں ملازمت ملی اور چند سال خدمات انجام دینے کے بعد انہوں نے جج کی حیثیت سے بھی کام کیا۔1857ء کی انگریزوں کے خلاف بغاوت کے دوران انہوں نے انگریزوں کے مظالم کا مشاہدہ کیا، جس میں ان کے خاندان کے کئی افراد ہلاک ہوئے۔ انہوں نے اپنے تجربات پر ایک کتاب لکھی، جس میں نوآبادیاتی حکمرانوں کے ہاتھوں ہندوستانیوں کی ذلت آمیز شکست کے اسباب کو اجاگر کیا گیا تھا۔ اس کتاب کا انگریزی میں ترجمہ کیا گیا اور اسے برطانوی پارلیمنٹ اور ملکہ وکٹوریہ کو بھیجا گیا۔ نتیجتاً ایسٹ انڈیا کمپنی کو ہندوستان سے نکال دیا گیا۔
سال1857ء کی ہندوستانی بغاوت کے فوراً بعد سر سید نے اسکول قائم کیے اور لوگوں کو اپنے بچوں کو جدید تعلیم دلانے کے لیے آمادہ کیا۔ تاہم، اس وقت کے بڑے مسلم رہنماؤں میں بھی تعلیمی پسماندگی پائی جاتی تھی، جس کی وجہ سے انہیں شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ بہت کم لوگوں نے ان کے پیغام کی اہمیت کو سمجھا۔سر سید 1869ء سے 1870ء کے دوران انگلستان گئے اور وہاں آکسفورڈ اور کیمبرج یونیورسٹیوں کا دورہ کیا، تاکہ برطانوی نظام تعلیم کا مطالعہ کر سکیں۔ انہوں نے مشاہدہ کیا کہ برطانوی عوام اپنے ملک کی صنعتی ترقی کے لیے سخت محنت کرتے تھے، جب کہ ہندوستانی معاشرے میں اس جذبے کی کمی تھی۔واپس آنے کے بعد انہوں نے تعلیمی ادارے قائم کرنے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی اور مسلمانوں کی ترقی اور اصلاح کے لیے ایک مؤثر رسالہ ’’تہذیب الاخلاق‘‘ جاری کیا۔مئی 1875ء میں علی گڑھ میں ایک مسلم اسکول قائم ہوا۔ 1876ء میں ملازمت سے سبک دوشی کے بعد سر سید نے اپنی تمام تر توجہ اس اسکول کو وسعت دے کر کالج بنانے پر مرکوز کر دی۔ انہوں نے علی گڑھ میں ایک سائنٹفک سوسائٹی بھی قائم کی، جس میں اہل علم کو انگریزی زبان کی اہم سائنسی کتابوں کا اردو اور ہندی میں ترجمہ کرنے کی ذمہ داری دی گئی، تاکہ عام لوگ بھی ان علوم کو سمجھ سکیں۔ سر سید احمد خان نے محمڈن اینگلو اورینٹل کالج(MAO College) قائم کیا، جو 14 ستمبر 1920ء کو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی بن گیا۔

ان کا نصب العین تھا
’’ایک سچا مسلمان وہ ہے جس کے ایک ہاتھ میں قرآن مجید اور دوسرے ہاتھ میں سائنس کی کتاب ہو۔‘‘ان کی سب سے بڑی دلچسپی جدید تعلیم کے ذریعے عوام کی فکری ترقی تھی۔انہوں نے قرآن مجید کی جدید طرز کی تفسیر کے کئی حصے لکھے، اسلام پر متعدد کتابیں تحریر کیں اور سیکڑوں مضامین کے ذریعے مسلمانوں کو جدید تعلیم حاصل کرنے کی ترغیب دی۔ ان کا استدلال تھا کہ قرآن مجید کو سمجھنے کے لیے عقل اور قوانین فطرت کی گہری تفہیم ضروری ہے، اس لیے قرآن مسلمانوں کو سائنسی طریقۂ تحقیق اختیار کرنے سے نہیں روکتا۔
انہوں نے وضاحت کی تھی کہ ’’دین خدا کا کلام ہے اور ہمارا ماحول خدا کا کام ہے۔ خدا کے کام کی حقیقت کو سمجھنے کی کوشش سائنس ہے۔ لہٰذا سائنس اور دین کے درمیان کوئی تضاد ممکن نہیں، کیونکہ خدا کا کلام اس کے کام کے خلاف نہیں ہو سکتا۔‘‘سر سید احمد خان کا خیال تھا کہ اسلامی تعلیم کے اعتبار سے مدارس کی تعلیم انگریزوں کے اسکولوں میں دی جانے والی تعلیم سے بہتر ہے، لیکن یہ تعلیم مسلمانوں کو ایک نئے مستقبل کی طرف لے جانے کے لیے کافی نہیں تھی۔انہوں نے مغربی تعلیم کی اہمیت پر زور دیا اور اپنے ہم مذہب افراد کو اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ صرف روایتی تعلیمی اداروں کی حمایت تک محدود نہ رہیں، بلکہ ان اداروں میں جدید علوم کو بھی اپنائیں۔ ان کی سب سے بڑی دلچسپی جدید تعلیم کے ذریعے عوام کی فکری ترقی تھی۔
انہوں نے اپنے تعلیمی فلسفے کی بنیاد سائنس، مذہبی علوم اور اخلاقیات کے مربوط نظام پر رکھی۔ انہوں نے مذہبی فکر میں عقلیت پسندی کو فروغ دیا اور ہندوستانی مسلم معاشرے میں جدید اصلاحات کی ابتدا کی، ایسے وقت میں جب مسلمانوں کا حوصلہ پست تھا اور وہ علمی و تہذیبی زوال کا شکار تھے۔سر سید کو مذہبی قدامت پسندوں کی جانب سے سخت مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ اس زمانے میں انگریزی زبان سیکھنے کو گناہ سمجھا جاتا تھا۔ سائنس اور انگریزی سمیت مغربی تعلیم کی حمایت نے لوگوں کے ذہنوں میں خدشات اور شکوک و شبہات پیدا کر دیے۔ علما کے اثر و رسوخ کے باعث بہت سے مسلمان اس الجھن میں مبتلا تھے کہ جدید تعلیم مذہب کے خلاف ہے اور اس سے مطابقت نہیں رکھتی۔
یہ کوئی حیرت کی بات نہیں تھی کہ پندرہویں صدی کے بعد مسلم دنیا کی کسی یونیورسٹی میں سائنس کو بطور مضمون نہیں پڑھایا جا رہا تھا۔قدامت پسند مسلمانوں نے سر سید کے ترقی پسند، آزاد خیال اور سیکولر نظریات کی مخالفت کی اور انہیں کافر قرار دیا۔ دیوبندی علما نے ان کی تجویز کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایسے ادارے سے وابستہ نہیں ہو سکتے جس کے کیمپس میں شیعہ طلبہ بھی موجود ہوں۔
متعدد مسلم علما نے ایسے فتووں پر دستخط کیے جن میں سر سید پر کفر اور ارتداد کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔ ایک عالم تو مکہ مکرمہ تک گیا اور وہاں سے ایسا فتویٰ حاصل کیا جس میں سر سید کو کالج قائم کرنے کے منصوبے پر قائم رہنے کی صورت میں قتل کرنے کی بات کہی گئی تھی۔محمڈن اینگلو اورینٹل کالج کے سنگ بنیاد کے موقع پر سر سید نے اپنی مشہور تقریر میں کہا کہ ’’میرے عزیز بچو! تم ایک خاص مقام تک پہنچ چکے ہو۔ ایک بات ہمیشہ یاد رکھنا کہ جب میں نے یہ کام شروع کیا تھا تو ہر طرف میری مخالفت ہو رہی تھی اور مجھے گالیاں دی جا رہی تھیں۔ میری زندگی اس قدر دشوار ہو گئی تھی کہ میں اپنی عمر سے پہلے ہی بوڑھا ہو گیا۔ میرے بال جھڑ گئے، میری بینائی کمزور ہو گئی، لیکن میری بصیرت ختم نہیں ہوئی۔ میرا خواب کبھی دھندلا نہیں ہوا اور میرا عزم کبھی ناکام نہیں ہوا۔

میں نے یہ ادارہ تمہارے لیے تعمیر کیا ہے اور مجھے یقین ہے کہ تم اس ادارے کی روشنی کو دور دور تک پھیلاؤ گے اور ہر طرف سے تاریکی ختم ہو جائے گی۔‘‘یہ الفاظ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے قیام کے لیے سر سید کی زندگی بھر کی جدوجہد کا خلاصہ پیش کرتے ہیں۔ ان کا مقصد ہندوستان میں اعلیٰ تعلیم کا ایک ایسا ادارہ قائم کرنا تھا جو مسلمانوں کی علمی اور فکری ترقی میں بنیادی کردار ادا کرے۔اگر سر سید آج زندہ ہوتے تو انہیں یہ دیکھ کر ایک بار پھر تکلیف ہوتی کہ ان کی برادری آج بھی بڑی حد تک انہی حالات سے دوچار ہے جن کا سامنا ان کے زمانے میں تھا۔تعلیمی نظام میں سائنس کو شامل کرنے کے نتیجے میں یونیورسٹیوں سے مسلمان ڈاکٹر، انجینئر اور آئی ٹی کے ماہرین تو پیدا ہو رہے ہیں، لیکن مصنف کے مطابق، کوئی بھی یونیورسٹی مسلمان سائنس دان پیدا نہیں کر رہی۔مسلمانوں میں تعلیم کی صورت حال آج بھی ویسی ہی ہے یا بعض پیمانوں پر مزید خراب ہو گئی ہے۔ مصنف کے مطابق، شہری علاقوں میں 40 سے 50 فیصد اور دیہی علاقوں میں 60 سے 70 فیصد مسلمان ناخواندہ ہیں۔
مسلم آبادی کا ایک بڑا حصہ اب بھی اپنے بچوں کو روایتی تعلیمی اداروں، مثلاً مدارس، میں بھیجنے کو ترجیح دیتا ہے، جہاں انہیں سائنس کی تعلیم نہیں دی جاتی۔یہ تصور بھی اب تک موجود ہے کہ دینی علوم اور دنیاوی علوم الگ الگ ہیں اور ایک دوسرے کے مخالف ہیں۔ جدید تعلیمی اداروں میں پڑھنے والے طلبہ اور مدارس کے طلبہ، دونوں ہی اسلام کی اس تعلیم کو پوری طرح نہیں سمجھ پا رہے جس کی وضاحت سر سید نے کی تھی۔ اسلام زندگی کا ایک مکمل نظام ہے اور ہر فرد کو دینی اور دنیاوی علوم، دونوں میں مہارت حاصل کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔آج ہم دیکھ سکتے ہیں کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے فارغ التحصیل طلبہ ہندوستان، پاکستان، بنگلہ دیش، مشرق وسطیٰ، یورپ اور امریکہ سمیت دنیا کے مختلف خطوں میں زندگی کے ہر شعبے میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔اگرچہ علی گڑھ کے سابق طلبہ دنیا بھر میں اپنے بانی سر سید احمد خان کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں، لیکن مصنف کا کہنا ہے کہ انہوں نے سر سید کے سائنسی تعلیم کو فروغ دینے کے مشن پر گفتگو بہت کم سنی ہے۔سر سید نے اپنی پوری زندگی مسلم امت کی حالت بہتر بنانے، تعلیمی معیار بلند کرنے اور مسلمانوں کو مغربی طاقتوں اور دیگر استحصالی قوتوں کے تسلط سے نکالنے کے لیے جدوجہد کی۔ بدقسمتی سے مسلمان آج بھی ان کے خوابوں کی تکمیل کے لیے خاطر خواہ پیش رفت نہیں کر رہے ہیں۔
سر سید نے اس بات پر زور دیا کہ ’سائنس اور ٹیکنالوجی کا علم حاصل کرنا مسلمانوں کے مسائل کا واحد حل ہے، ورنہ مسلمان ذلت اور بے قدری کا شکار رہیں گے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’’تقلید (پرانے طور طریقوں کی پیروی) سے نکلنے اور نئے خیالات کو فروغ دینے کے لیے اجتہاد (بدلتے ہوئے زمانے کے مطابق نئی تعبیر اور جدت) کی ضرورت ہے۔‘‘انہوں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ اسلام کی تعلیمات بیان کرنے کے بجائے اپنے کردار سے اسلام کی نمائندگی کی جائے۔ ان کے مطابق، مسلمانوں کو اپنے اخلاق، تعلیم، علم، رواداری، تقویٰ اور انسانیت کی بے لوث خدمت کے ذریعے اسلام کی حقیقی تصویر پیش کرنی چاہیے۔
سر سید نے کہا کہ ’موجودہ حالات میں صرف تعلیم ہی مسلمانوں کو بااختیار بنا سکتی ہے، اور کوئی چیز نہیں۔ مسلمان ایک جدید اسلامی معاشرہ اسی وقت تشکیل دے سکتے ہیں جب وہ سائنس، طب، انجینئرنگ، تدریس، انتظامی امور اور دیگر جدید شعبوں کی تعلیم کو فروغ دیں۔اللہ تعالیٰ نے ہمیں دیکھنے کے لیے آنکھیں اور تجزیہ کرنے کے لیے عقل عطا کی ہے۔ ہمیں اپنے اردگرد ہونے والے واقعات کا مشاہدہ کرنا چاہیے اور اپنی عقل استعمال کرتے ہوئے نتائج اخذ کرنے چاہییں۔ اللہ تعالیٰ بھی ہم سے یہی چاہتا ہے۔مختصر یہ کہ ہمیں عوام میں سائنسی مزاج پیدا کرنا چاہیے، جیسا کہ قرآن مجید کی مختلف آیات میں اس کی تلقین کی گئی ہے۔‘‘
سر سید احمد خان کے بارے میں علامہ اقبال کی رائے
ڈاکٹر علامہ محمد اقبال نے سر سید احمد خان کے بارے میں کہا کہ ’’اس شخص (سر سید) کی حقیقی عظمت اس حقیقت میں پوشیدہ ہے کہ وہ پہلے ہندوستانی مسلمان تھے جنہوں نے اسلام کی نئی تفہیم اور نئی سمت متعین کرنے کی ضرورت محسوس کی اور اس مقصد کے لیے عملی جدوجہد کی۔‘‘سر سید احمد خان ایک عظیم دور اندیش مفکر اور مصلح تھے۔ وہ ہمیشہ ہماری یادوں میں زندہ رہیں گے اور اسلام کی صحیح تفہیم کے ساتھ دنیا میں ترقی کرنے کی ترغیب دیتے رہیں گے، تاکہ مسلمان دوبارہ اس علمی و فکری قیادت کو حاصل کر سکیں جو کبھی ان کے شاندار ورثے کا حصہ تھی۔
مصنف کا تعارف: ڈاکٹر ایم بشیر احمد ساؤتھ ویسٹرن میڈیکل اسکول، ڈیلاس، ٹیکساس کے شعبۂ نفسیات کے سابق پروفیسر ہیں اور نارتھ ٹیکساس میں انسٹی ٹیوٹ آف میڈیول اینڈ پوسٹ میڈیول اسٹڈیز کے صدر ہیں۔