نئی دہلی : آواز دی وائس
بالی ووڈ کے معروف اداکار نانا پاٹیکر 75 برس کی عمر میں گووا میں انتقال کر گئے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق انہوں نے طبیعت خراب ہونے کی اطلاع صبح ساڑھے تین بجے ایک دوست کو پیغام کے ذریعے دی تھی۔ دوست کے اپارٹمنٹ پہنچنے پر وہ بے ہوش پائے گئے اور انہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا تاہم ڈاکٹروں کی کوششیں کامیاب نہ ہوسکیں۔ صبح 5 بج کر 10 منٹ پر ان کی موت کی تصدیق کی گئی۔ بتایا گیا ہے کہ انہیں شدید دل کا دورہ پڑا تھا۔ نانا پاٹیکر نے 1978 میں فلمی سفر شروع کیا اور پانچ دہائیوں تک اپنی منفرد اداکاری سے ناظرین کے دلوں پر راج کیا۔ انہیں تین قومی فلمی اعزازات اور 2013 میں پدم شری سے نوازا گیا تھا۔
نانا پاٹیکر اس وقت صرف 13 برس کے تھے۔ اسکول کے بعد وہ مشرقی ممبئی کے چونابھٹی علاقے تک تقریباً آٹھ کلومیٹر پیدل جاتے، جہاں فلموں کے پوسٹر پینٹ کرنے کا کام کرتے تھے۔ اس کام کے عوض انہیں ماہانہ 35 روپے ملتے اور دن میں صرف ایک وقت کا کھانا نصیب ہوتا تھا۔ ان کے خاندان کے ایک رشتہ دار نے ان کے والد کے ساتھ دھوکا کیا اور ان کی جائیداد پر قبضہ کر لیا تھا۔زندگی انتہائی مشکل تھی۔ نانا پاٹیکر کو اداکاری سیکھنے کے لیے کسی فلمی اسکول جانے کی ضرورت نہیں پڑی۔ انہوں نے زندگی کی سختیوں کے درمیان اداکاری سیکھی۔
Can’t believe Nana Patekar is no more 💔 Om Shanti🙏 #NanaPatekar https://t.co/aENjcUfk0j
— Disha (@Lucid_Direction) October 8, 2026
نانا پاٹیکر نے 2015 میں ٹائمز آف انڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا تھا ۔ میں نویں جماعت میں تھا، لیکن اس ذلت اور بھوک نے مجھے اتنا کچھ سکھا دیا کہ مجھے اداکاری سیکھنے کے لیے کسی اسکول جانے کی ضرورت نہیں رہی۔‘‘نانا پاٹیکر ایک ایسے اداکار تھے جن کے اگلے کردار کے بارے میں پیش گوئی کرنا آسان نہیں تھا۔ ’پریندا‘ (1989)، ’پراہار: دی فائنل اٹیک‘ (1991) اور ’کرانتی ویر‘ (1994) جیسی فلموں نے انہیں ایک کامیاب اور مقبول اداکار کے طور پر قائم کیا، لیکن بعد کے دور میں انہوں نے ’ویلکم‘ جیسی کامیڈی فلموں میں بھی اپنی اداکاری کے نئے رنگ دکھائے۔وہ اکثر کہا کرتے تھے۔مجھے شروع سے موت کا خوف نہیں رہا۔ 8 اکتوبر کی صبح گوا میں واقع اپنی رہائش گاہ پر ان کا انتقال ہوگیا۔
اسمتا پاٹل کی وجہ سے فلموں کا رخ کیا
ممبئی سے قریب علی باغ کے علاقے مرود جنجیرا کے ایک چھوٹے سے گاؤں سے تعلق رکھنے والے نانا پاٹیکر نے اسکول کے زمانے ہی سے تھیٹر میں کام شروع کر دیا تھا۔ بعد میں انہوں نے سر جے جے اسکول آف آرٹ میں داخلہ لیا۔اداکارہ اسمتا پاٹل انہیں جانتی تھیں، کیونکہ نانا پونے سے تعلق رکھتے تھے۔ اسمتا پاٹل ہی انہیں ہچکچاتے ہوئے ہدایت کار روی چوپڑا کے پاس فلم ’آج کی آواز‘ میں کردار دلانے کے لیے لے گئیں۔ابتدا میں انہیں فلم میں ایک نہایت معمولی کردار دیا گیا، جس میں انہیں زیادتی کرنے والوں میں سے ایک کا کردار ادا کرنا تھا۔نانا نے ایک انٹرویو میں اس واقعے کو یاد کرتے ہوئے کہا تھا:۔میں ناراض ہوگیا اور وہاں سے جانے ہی والا تھا کہ اسمتا آئیں۔ انہوں نے پوچھا، ’تم کیوں جا رہے ہو؟‘ میں نے اس شخص کو برا بھلا کہا جس نے مجھے وہ کردار دیا تھا۔ اس کے بعد مجھے نسبتاً بہتر کردار ملا، اگرچہ وہ بھی کوئی بہت بڑا کردار نہیں تھا، لیکن اس فلم سے مجھے پہچان ضرور ملی۔
جب والد نے کہا کہ یہ میرا بیٹا بھی ہے‘نانا پاٹیکر کے والد ٹیکسٹائل پر پینٹنگ کا کام کرتے تھے اور ایک چھوٹا سا کاروبار چلاتے تھے۔ انہیں تماشا بہت پسند تھا، خواہ وہ فلموں کے ذریعے ہو یا تھیٹر کے ذریعے۔ وہ نانا کو ڈرامے دکھانے کے لیے لے جایا کرتے تھے۔نانا کو ایک زمانے میں یہ احساس تھا کہ ان کے والد ان کے بڑے بھائی سے زیادہ محبت کرتے ہیں، لیکن بعد میں ان کا یہ تاثر بدل گیا۔ایک مرتبہ نانا نے اسٹیج پر والمیکی کا کردار ادا کیا۔ اس ڈرامے کی ہدایت کاری وجیا مہتا نے کی تھی۔ ان کا ڈراما دیکھنے کے لیے ان کے والد خاص طور پر ممبئی سے آئے اور شیواجی مندر میں موجود تھے۔
نانا نے ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ میں جو کچھ بھی ہوں، وجیا مہتا کی وجہ سے ہوں، جنہوں نے میرے پہلے ڈرامے کی ہدایت کاری کی تھی۔ سبھی لوگوں نے میرے کردار کو بہت پسند کیا۔ میرے والد بھی میرا ڈراما دیکھنے آئے تھے۔ انہوں نے وجیا بائی کے سامنے میری تعریف کی، لیکن وہ نہیں جانتی تھیں کہ وہ میرے والد ہیں۔ انہوں نے ان سے کہا،یہ میرا بیٹا ہے۔ میرے والد نے جواب دیا، خوش قسمتی سے یہ میرا بیٹا بھی ہے۔‘’پریندا‘، ’پراہار‘ اور ’کرانتی ویر
اگر نانا پاٹیکر کی اداکاری کے مختلف رنگوں کو ظاہر کرنے والی تین فلموں کا انتخاب کیا جائے تو ان میں ودھو ونود چوپڑا کی ’پریندا‘، مہیول کمار کی ’کرانتی ویر‘ اور خود نانا پاٹیکر کی ہدایت کاری میں بننے والی ’پراہار: دی فائنل اٹیک‘ نمایاں ہیں۔نانا پاٹیکر جو اپنی بے باک گفتگو کے لیے بھی مشہور تھے، پردۂ سیمیں پر بھی ایسے کردار ادا کرتے رہے جو ان کی حقیقی زندگی کی بے باکی اور شخصیت کی عکاسی کرتے تھے۔
One of the most Genuine Soul of Indian Cinema Departs Sad news #NanaPatekar 🙏🏻 https://t.co/sft5yISbLD
— Maj Yogesh Dahiya🇮🇳 (@dahiyayogesh81) October 8, 2026
’پراہار‘
’پراہار‘ میں نانا پاٹیکر نے میجر وی ایس چوہان کا کردار ادا کیا، جو نئے کیڈٹس کے لیے کسی خوفناک خواب سے کم نہیں تھا۔ ان کی تیز دھار اداکاری، سرد نگاہوں اور سخت لہجے نے کردار کو یادگار بنا دیا۔
فلم کو 37ویں فلم فیئر ایوارڈز میں بہترین کہانی کے ایوارڈ کے لیے نامزد کیا گیا تھا۔ فلم میں ڈمپل کپاڈیا، مادھوری ڈکشٹ اور گوتم جوگلےکر نے بھی اہم کردار ادا کیے۔
’کرانتی ویر‘
کرانتی ویر‘ میں نانا پاٹیکر نے پرتاپ نارائن تلک کا کردار ادا کیا اور حب الوطنی کے ایک منفرد انداز کو پردے پر پیش کیا۔فلم میں ڈمپل کپاڈیا، اتل اگنی ہوتری اور ممتا کلکرنی نے مرکزی کردار ادا کیے، جبکہ فریدہ جلال، پریش راول، ٹینو آنند اور ڈینی ڈینزونگپا معاون کرداروں میں تھے۔یہ فلم اس سال کی تیسری سب سے زیادہ کمائی کرنے والی فلم بنی۔ اسے تین اسٹار اسکرین ایوارڈز، چار فلم فیئر ایوارڈز اور ایک نیشنل فلم ایوارڈ بھی ملا۔
’پریندا‘
پریندا‘ میں نانا پاٹیکر نے انا سیٹھ کا کردار ادا کیا اور اپنی اداکاری سے سب کو متاثر کیا۔ فلم میں انیل کپور اور مادھوری ڈکشٹ نے بھی اہم کردار ادا کیے تھے۔ فلم کی شوٹنگ کے دوران نانا پاٹیکر اور ہدایت کار ودھو ونود چوپڑا کے درمیان ایک مرتبہ شدید جھگڑا بھی ہوگیا تھا۔چوپڑا نے بعد میں اس واقعے کو یاد کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے نانا کو ’پُرش‘ نامی ڈرامے میں دیکھا تھا۔ ان کے مطابق نانا کے ساتھ کام کرتے ہوئے انہوں نے گالی دینا سیکھا، کیونکہ جب وہ نانا کو کسی منظر کی ہدایت دیتے تو نانا انہیں گالیاں دے دیتے تھے۔ اس کے جواب میں وہ بھی انہیں گالیاں دینے لگے۔ایک روز نانا کو ایک جذباتی منظر کی شوٹنگ کرنی تھی، لیکن وہ تھکے ہوئے تھے اور اس دن مزید کام نہیں کرنا چاہتے تھے۔چوپڑا کے مطابق نانا نے کہا کہ وہ مزید شوٹنگ نہیں کریں گے اور گھر جا رہے ہیں۔ اس پر چوپڑا نے کہا کہ اگر وہ جا رہے ہیں تو پھر شوٹنگ کے اضافی اخراجات بھی انہیں ادا کرنے ہوں گے۔ بات بڑھ گئی اور دونوں کے درمیان ہاتھا پائی ہوگئی، جس دوران چوپڑا نے نانا کا کرتا پھاڑ دیا۔سیٹ پر موجود پولیس اہلکاروں نے دونوں کو دیکھ کر کہا کہ ’’ہم یہاں آپ کی حفاظت کے لیے ہیں اور آپ لوگ آپس میں ہی لڑ رہے ہیں۔‘‘
A great artist and actor is no more. #NanaPatekar .Rest in Peace Nana! His immortal message to the citizens of India will live on forever. Do listen https://t.co/iyYwf2SAb8
— Ashish Joshi (@bismil_prasad) October 8, 2026
’اب تک چھپن‘، ’شکتی‘ اور ’راج نیتی
’اب تک چھپن‘ میں انسپکٹر سادھو آگاشے، ’شکتی‘ میں نرسمہا اور ’راج نیتی‘ میں برج گوپال کے کرداروں کے ذریعے نانا پاٹیکر نے ایک مخصوص طرز کی سنجیدہ اور حقیقت پسندانہ اداکاری کو اپنی شناخت بنایا۔لیکن نانا کے اندر ابھی بہت کچھ باقی تھا، جو ناظرین نے اکشے کمار کی فلم ’ویلکم‘ میں دیکھا۔ فلم میں ڈان ادے شیٹی کے کردار نے نانا پاٹیکر کی ایک بالکل نئی تصویر پیش کی، جسے 1980 اور 1990 کی دہائی کے ان کے مداحوں نے پہلے اس انداز میں نہیں دیکھا تھا۔حالیہ برسوں میں بھی وہ ’ہاؤس فل 5‘، ’او رومیو‘ اور ’صوبیدار‘ جیسی فلموں میں نظر آئے، جہاں انہوں نے انیل کپور کے ساتھ ایک مختصر کردار بھی ادا کیا۔
نانا پاٹیکر: نجی زندگی
نانا پاٹیکر اپنی اہلیہ نیل کانتی سے علیحدہ رہتے تھے۔ تاہم ایک پرانے انٹرویو میں انہوں نے بتایا تھا کہ ان کے کیریئر کے ابتدائی دنوں میں ان کی اہلیہ ان سے زیادہ کماتی تھیں۔نانا نے کہا تھا کہ وہ برہمن ہیں اور برہمن ذہین لوگ ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس میں مراٹھا ہوں، ایک جنگجو۔ وہ بہت اچھی انسان ہیں، انتہائی ایماندار اور جو کچھ ان کے پاس ہے اسی میں مطمئن رہنے والی۔ وہ ایک بینک میں افسر تھیں۔ اس وقت میری آمدنی 750 روپے ماہانہ تھی، کیونکہ مجھے فی شو 50 روپے ملتے تھے، جبکہ ان کی ماہانہ تنخواہ 2500 روپے تھی۔‘نانا پاٹیکر ایک وقت میں روزانہ 60 سگریٹ تک پیا کرتے تھے۔ وہ 56 برس کی عمر تک سگریٹ نوشی کرتے رہے۔ بعد میں ان کے ایک قریبی دوست کی اہلیہ، جنہیں وہ اپنی بہن کی طرح سمجھتے تھے، کے اکلوتے بیٹے کی سگریٹ نوشی کے باعث موت ہوگئی۔ایک روز جب نانا کھانس رہے تھے تو اس خاتون نے ان سے کہا کہ ’’ابھی کیا کیا دیکھنا ہے مجھے؟‘‘یہ جملہ نانا کے دل پر اثر کر گیا اور انہوں نے سگریٹ نوشی ترک کر دی۔
A great artist and actor is no more. #NanaPatekar .Rest in Peace Nana! His immortal message to the citizens of India will live on forever. Do listen https://t.co/iyYwf2SAb8
— Ashish Joshi (@bismil_prasad) October 8, 2026
فلموں سے آگے: سماجی خدمت
سادہ زندگی گزارنے کے لیے معروف نانا پاٹیکر سماجی کاموں میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے۔ انہوں نے فلاحی تنظیم انوبھوتی کے ذریعے بہار کے سیلاب سے متاثرہ دیہات کی تعمیر نو کے لیے مالی مدد فراہم کی۔فلم ’پاٹھ شالا‘ میں اداکاری کے عوض ملنے والی اپنی پوری رقم بھی انہوں نے پانچ مختلف فلاحی تنظیموں کو عطیہ کر دی تھی۔انہوں نے خشک سالی اور قرض کے بوجھ کے باعث خودکشی کرنے والے کسانوں کے خاندانوں کی بھی مالی مدد کی۔ اگست 2015 میں انہوں نے ودربھ کے 62 کسان خاندانوں کو 15،000 روپے فی خاندان کے چیک دیے۔ ستمبر 2015میں انہوں نے مراٹھواڑہ کے لاتور اور عثمان آباد اضلاع کے مزید 113 کسان خاندانوں کی مدد کی۔کسان خاندانوں کی مدد کے لیے انہوں نے ڈیڑھ کروڑ روپے کی گاڑی لینے سے بھی انکار کر دیا تھا۔
’نام فاؤنڈیشن‘ کا قیام
ستمبر 2015 میں نانا پاٹیکر نے مراٹھی اداکار مکرند اناساپورے کے ساتھ مل کر نام فاؤنڈیشن (Naam Foundation) قائم کی۔یہ تنظیم مہاراشٹر میں خشک سالی سے متاثرہ کسانوں اور ان کے خاندانوں کی مدد کے لیے کام کرتی ہے۔
نانا پاٹیکر نے #IcareIsupport کے نام سے ٹوئٹر مہم بھی چلائی، جس کے ذریعے مہاراشٹر کے خشک سالی سے متاثرہ افراد کے لیے مالی وسائل جمع کیے گئے۔
اعزازات اور پہچان
فلم اور فن کے شعبے میں ان کی خدمات کے اعتراف میں نانا پاٹیکر کو 64ویں یومِ جمہوریہ کے موقع پر 2013 میں پدم شری سے نوازا گیا۔اسی سال حکومت مہاراشٹر نے انہیں راج کپور اسپیشل کنٹری بیوشن ایوارڈ بھی دیا۔نانا پاٹیکر کی ذاتی ضروریات بہت محدود تھیں اور وہ اپنی سادہ زندگی کو برقرار رکھنا چاہتے تھے۔ ایک پرانے انٹرویو میں انہوں نے بتایا تھا کہ میرا گھر 750 مربع فٹ کا ہے۔ ہم نے اسے ایک لاکھ دس ہزار روپے میں خریدا تھا اور آج بھی میں اسی گھر میں رہتا ہوں۔‘‘
A great artist and actor is no more. #NanaPatekar .Rest in Peace Nana! His immortal message to the citizens of India will live on forever. Do listen https://t.co/iyYwf2SAb8
— Ashish Joshi (@bismil_prasad) October 8, 2026
تنازعات بھی زندگی کا حصہ رہے
نانا پاٹیکر کی زندگی تنازعات سے بھی مکمل طور پر پاک نہیں رہی۔ اداکارہ تنوشری دتہ نے 2008 میں فلم ’ہارم اوکے پلیز‘ کی شوٹنگ کے دوران نانا پاٹیکر پر جنسی ہراسانی اور دھمکانے کے الزامات عائد کیے تھے۔ یہ معاملہ بعد میں ہندوستان میں شروع ہونے والی #MeToo تحریک کے اہم واقعات میں شمار کیا گیا۔
آخری عوامی تقریب
نانا پاٹیکر نے اپنی زندگی کی آخری عوامی شرکت 4 اکتوبر کو گووا میں سمراٹ کلب انٹرنیشنل کی تنصیب کی تقریب میں کی تھی۔اس موقع پر انہوں نے کہا تھا: کہ ’’مجھے نہیں معلوم کہ میں کل یہاں ہوں گا یا نہیں۔‘‘شاید نانا پاٹیکر کو خود بھی اندازہ نہیں تھا کہ ان کے یہ الفاظ چند ہی دن بعد حقیقت بن جائیں گے۔