بھٹکل سے امریکہ تک: عبدالسید کی تاریخی کامیابی، اہلیہ سارہ کی ہندوستانی جڑیں , تین نسلوں میں پھیلی خاندانی داستان

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 05-11-2026
بھٹکل سے امریکہ تک: عبدالسید کی تاریخی کامیابی، اہلیہ سارہ  کی ہندوستانی جڑیں , تین نسلوں میں پھیلی خاندانی داستان
بھٹکل سے امریکہ تک: عبدالسید کی تاریخی کامیابی، اہلیہ سارہ کی ہندوستانی جڑیں , تین نسلوں میں پھیلی خاندانی داستان

 



 

امریکی وسط مدتی انتخابات میں مشی گن سے ڈیموکریٹک امیدوار عبدالسید نے ریپبلکن حریف مائیک راجرز کو شکست دے کر امریکی سینیٹ کی نشست جیت لی ہے۔ وہ امریکہ کی تاریخ کے پہلے مسلم سینیٹر منتخب ہوئے ہیں۔ ان کی اس کامیابی نے نہ صرف امریکی سیاست میں مسلم نمائندگی کے حوالے سے ایک نئی تاریخ رقم کی ہے، بلکہ ان کی اہلیہ سارہ جوکاکو کے ہندوستانی خاندانی پس منظر کو بھی عالمی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔ سارہ کا تعلق کرناٹک کے ساحلی شہر بھٹکل کے معروف جوکاکو خاندان سے ہے، جس کی تاریخ تعلیم، سماجی خدمات، ہجرت اور پیشہ ورانہ کامیابیوں سے عبارت ہے۔

مشی گن سے امریکی سینیٹ کے انتخاب میں عبدالسید کی کامیابی کے بعد امریکہ کے سیاسی منظرنامے میں ایک نئی تاریخ رقم ہوئی ہے۔ انہوں نے ریپبلکن امیدوار مائیک راجرز کو شکست دے کر وہ نشست حاصل کر لی ہے جس پر اس سے قبل سینیٹر گیری پیٹرز فائز تھے۔ امریکی میڈیا کی جانب سے انتخابی نتائج کا اعلان کیے جانے کے بعد عبدالسید کو ملک کا پہلا مسلم سینیٹر منتخب قرار دیا گیا۔ وہ مصری نژاد امریکی ہیں اور مشی گن میں صحتِ عامہ کے شعبے میں خدمات انجام دینے کے بعد سیاست میں سرگرم ہوئے۔

لیکن عبدالسید کی اس کامیابی کی کہانی کا ایک دلچسپ ہندوستانی پہلو بھی ہے، جو ان کی اہلیہ سارہ جوکاکو کے خاندانی پس منظر سے جڑا ہوا ہے۔ سارہ کا تعلق کرناٹک کے ساحلی شہر بھٹکل کے ایک ایسے خاندان سے ہے جس نے کئی نسلوں تک تعلیم، سماجی خدمت اور پیشہ ورانہ زندگی کے مختلف شعبوں میں اپنی شناخت قائم کی۔ ان کے دادا شمس الدین جوکاکو بھٹکل کی نمایاں عوامی شخصیات میں شمار ہوتے تھے، والد ڈاکٹر جکاکو ایس طیب نے امریکہ میں طبی شعبے میں اپنا مقام بنایا، جبکہ سارہ نے خود نفسیات کے شعبے میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز کیا۔

 یوں عبدالسید کی کامیابی محض ایک امریکی سیاست داں کی انتخابی فتح نہیں، بلکہ اس کے ساتھ ایک ایسے خاندان کی داستان بھی سامنے آتی ہے جس کی جڑیں ہندوستان کے ایک چھوٹے سے ساحلی شہر میں پیوست ہیں۔ اس خاندان کی نئی نسل امریکہ میں آباد ہے، مگر اس کی تاریخ اور سماجی شناخت آج بھی بھٹکل سے وابستہ ہے۔ بھٹکل کے ایک ممتاز باشندے نے، جنہوں نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی درخواست کی، خاندان کی تعلیمی اور سماجی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے امریکی سیاست کے ایک اہم انتخاب میں اس کی وابستگی پر فخر کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا، ’’ہم ان کے لیے نیک خواہشات رکھتے ہیں۔ یہ ہم سب کے لیے فخر کا لمحہ ہے کہ جوکاکو خاندان کا ایک فرد امریکہ کے ایک اہم عہدے کے انتخابی مقابلے میں کامیاب ہوا ہے۔‘‘

انہوں نے سارہ جوکاکو کے حجاب پہننے کے معاملے پر ہونے والی گفتگو کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ کسی خاتون کے مذہبی لباس کو اس کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں، کامیابیوں اور خاندانی ورثے پر حاوی نہیں ہونے دینا چاہیے۔

بھٹکل میں مسلمانوں کی آبادی نمایاں اکثریت رکھتی ہے اور یہاں حجاب روزمرہ زندگی کا ایک مانوس منظر ہے۔ شہر کی بہت سی مسلم خواتین اسے اپنے معمول کے لباس کے طور پر اختیار کرتی ہیں۔ اس لیے مقامی لوگوں کے لیے سارہ کا حجاب پہننا کوئی غیر معمولی بات نہیں، البتہ امریکہ کی انتخابی سیاست میں اس پہلو کو جس انداز سے موضوعِ بحث بنایا گیا، اس نے بھٹکل کے لوگوں کی توجہ بھی اپنی جانب مبذول کرائی۔

ہندوستان سے تعلق: ’’میری اہلیہ دیسی ہیں‘‘

عبدالسید نے خود ایک موقع پر اپنی اہلیہ کے ہندوستانی پس منظر اور ان کے خاندان سے تعلق کے بارے میں بات کی تھی۔ 23 اگست کو پاکستان کے یومِ آزادی کے سلسلے میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے، جہاں بڑی تعداد میں پاکستانی نژاد امریکی شہری موجود تھے، انہوں نے کہا تھا، ’’میری اہلیہ دیسی ہیں۔‘‘

’دیسی‘ کی اصطلاح عموماً جنوبی ایشیائی پس منظر رکھنے والے افراد کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ اس کے بعد انہوں نے سارہ جوکاکو کے ہندوستانی تعلق کی وضاحت کرتے ہوئے کہا، ’’وہ تقسیم کی لکیر کے دوسری طرف سے تعلق رکھتی ہیں۔‘‘

یہ جملہ ہندوستان اور پاکستان کی تقسیم کے تاریخی پس منظر میں کہا گیا تھا۔ سارہ جوکاکو کا آبائی تعلق ہندوستان سے ہے، جب کہ ان کی پیدائش اور پرورش امریکہ میں ہوئی۔ وہ پیشے کے اعتبار سے ماہرِ نفسیات ہیں اور انہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ امریکہ ہی میں گزارا ہے۔عبدالسید گزشتہ تقریباً دو دہائیوں سے جنوبی ہندوستانی خاندان کا حصہ ہیں۔ وہ مختلف انٹرویوز میں اس تعلق کا ذکر کبھی مزاحیہ انداز میں اور کبھی گھریلو زندگی کے ثقافتی رنگوں کے حوالے سے کرتے رہے ہیں۔

ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا تھا، ’’دیکھیے، میں تقریباً بیس برس سے ایک جنوبی ہندوستانی خاندان میں شادی شدہ ہوں۔ اب تو میں اس خاندان کا حصہ بن چکا ہوں۔ کبھی کبھی لگتا ہے کہ میں عرب سے زیادہ ہندوستانی ہوں۔ایک دوسرے موقع پر انہوں نے اپنے گھر کے ماحول کا ذکر کرتے ہوئے کہا، ’’میں پوری زندگی دیسی خواتین کے درمیان رہا ہوں۔ میری دو بیٹیاں بھی دیسی ہیں اور میری اہلیہ بھی۔‘‘

عبدالسید کے یہ بیانات اس گھرانے کی ایک دلچسپ تصویر پیش کرتے ہیں، جہاں مصری اور ہندوستانی ثقافتیں ایک دوسرے کے ساتھ گھل مل گئی ہیں۔ ایک طرف عبدالسید کا مصری خاندانی پس منظر ہے، تو دوسری طرف سارہ کے ذریعے جنوبی ہندوستان کی روایات اور تہذیبی اثرات اس خاندان کا حصہ ہیں۔

تاہم سارہ کی خاندانی جڑیں ہندوستان سے وابستہ ہونے کے باوجود ان کی اپنی زندگی امریکہ میں پروان چڑھی۔ وہ مشی گن میں ایک ہندوستانی تارکینِ وطن خاندان میں پیدا ہوئیں اور وہیں ان کی پرورش ہوئی۔ انہوں نے یونیورسٹی آف مشی گن میں تعلیم حاصل کی، جہاں ان کی ملاقات عبدالسید سے ہوئی۔ بعد ازاں انہوں نے برطانیہ کی آکسفورڈ یونیورسٹی میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔

سارہ نے 2015 میں کولمبیا یونیورسٹی کے ویگلوس کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز سے میڈیکل کی ڈگری حاصل کی اور اس کے بعد نفسیات کے شعبے میں اپنا پیشہ ورانہ سفر آگے بڑھایا۔ شائع شدہ سوانحی معلومات کے مطابق وہ یونیورسٹی آف مشی گن ہیلتھ میں شعبۂ نفسیات کی ایک اہم انتظامی ذمہ داری بھی ادا کر چکی ہیں۔اس طرح سارہ کی زندگی میں ہندوستانی خاندانی ورثے، امریکی معاشرت، اعلیٰ تعلیم اور طبی پیشے کے کئی پہلو یکجا نظر آتے ہیں۔

بھٹکل: سمندر، تجارت اور تہذیبی میل جول کا شہر

سارہ جوکاکو کے خاندانی پس منظر کو سمجھنے کے لیے بھٹکل کی تاریخ اور اس کے تہذیبی ماحول کو جاننا بھی ضروری ہے۔ کرناٹک کے مغربی ساحل پر واقع یہ شہر صدیوں سے سمندری تجارت، ہجرت اور مختلف ثقافتوں کے باہمی رابطے کا مرکز رہا ہے۔

قومی شاہراہ 66 کے ذریعے بھٹکل کی جانب سفر کیا جائے تو ایک طرف بحیرۂ عرب کے دلکش مناظر دکھائی دیتے ہیں، جبکہ دوسری جانب مغربی گھاٹ کی سرسبز پہاڑیاں اس علاقے کے قدرتی حسن میں اضافہ کرتی ہیں۔ شاہراہ سے شہر کے اندر داخل ہونے پر سڑکیں نسبتاً تنگ ہو جاتی ہیں۔ کئی مکانات ایک دوسرے سے متصل ہیں، بعض کی دیواریں مشترک ہیں، جبکہ متعدد عمارتوں کے طرزِ تعمیر میں شہر کی قدیم تاریخ اور مختلف تہذیبی اثرات نمایاں دکھائی دیتے ہیں۔

بھٹکل کی شناخت یہاں آباد نوائط برادری سے گہرا تعلق رکھتی ہے۔ اس برادری کی تاریخ سمندری تجارت اور مختلف علاقوں کے لوگوں کے درمیان صدیوں پر محیط میل جول کی عکاس ہے۔ تاریخی بیانات کے مطابق یمن اور فارس سمیت مختلف خطوں سے تاجر اس ساحلی علاقے میں آتے رہے۔ انہوں نے مقامی آبادی کے ساتھ تجارتی تعلقات قائم کیے اور وقت کے ساتھ مقامی خواتین سے شادیاں بھی کیں۔ ان میل جول کے نتیجے میں ایک منفرد لسانی اور ثقافتی شناخت وجود میں آئی۔

نوائطی زبان اسی تہذیبی امتزاج کی ایک اہم مثال ہے۔ بھٹکل کی مسلم آبادی کے بعض حلقوں میں بولی جانے والی اس زبان پر کونکنی، فارسی، عربی اور اردو کے اثرات نمایاں ہیں۔ اگرچہ نوائطی زبان گھریلو اور برادری کی سطح پر رابطے کا اہم ذریعہ ہے، تاہم تعلیمی اور مذہبی ماحول میں اردو بھی استعمال ہوتی ہے۔

شہر کے طرزِ تعمیر میں بھی اس تاریخی میل جول کے آثار دیکھے جا سکتے ہیں۔ یہاں علاقائی تعمیراتی روایت کے ساتھ اسلامی اور دیگر ثقافتی اثرات کا امتزاج ملتا ہے۔ بھٹکل کی یہ تہذیبی شناخت محض اس کے ماضی تک محدود نہیں، بلکہ آج بھی شہر کی سماجی زندگی اور روزمرہ کے معمولات میں محسوس کی جا سکتی ہے۔

آبادی اور رقبے کے اعتبار سے نسبتاً چھوٹا ہونے کے باوجود بھٹکل کے روابط کرناٹک سے باہر بہت دور تک پھیلے ہوئے ہیں۔ تجارت، تعلیم اور بیرون ملک ہجرت کے ذریعے یہاں کے متعدد خاندانوں نے مشرقِ وسطیٰ، یورپ اور شمالی امریکہ میں اپنی جگہ بنائی ہے۔ جوکاکو خاندان بھی ان خاندانوں میں شامل ہے جن کی جڑیں بھٹکل میں ہیں، لیکن جن کی نئی نسلیں دنیا کے مختلف حصوں میں آباد ہو چکی ہیں۔

شمس الدین جوکاکو: بھٹکل کی سماجی اور تعلیمی تاریخ کا اہم نام

امریکی اخبار دی امریکن بازار کی بھٹکل میں رپورٹنگ کے دوران ایک نام بار بار سامنے آیا، اور وہ تھا سارہ جوکاکو کے دادا شمس الدین جوکاکو کا۔ وہ وکیل، ماہرِ تعلیم اور سیاست داں تھے اور ہندوستان کی آزادی سے پہلے اور اس کے بعد کے برسوں میں بھٹکل کی نمایاں عوامی شخصیات میں شمار ہوتے تھے۔

مقامی لوگوں کے مطابق شمس الدین جوکاکو کی خدمات سیاست تک محدود نہیں تھیں۔ انہوں نے بھٹکل اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں بجلی اور دیگر بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے لیے بھی کوششیں کیں۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے تعلیمی اور سماجی اداروں کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ یہ وہ دور تھا جب رسمی تعلیم کے مواقع محدود تھے اور کسی فرد کا اعلیٰ تعلیم تک پہنچنا ایک بڑی کامیابی تصور کیا جاتا تھا۔

بھٹکل کے ایک انجینئر محمد تنویر کاسرکوڈ، جو جوکاکو خاندان کی تاریخ سے واقف ہیں، کے مطابق شمس الدین جوکاکو اور ان کی اولاد کی کامیابیاں اس خاندان کی تعلیم سے دیرینہ وابستگی کو ظاہر کرتی ہیں۔کاسرکوڈ نے دی امریکن بازار سے گفتگو میں کہا، ’’جے ایچ شمس الدین ایسے زمانے میں وکیل بنے، جب تعلیم تک رسائی آسان نہیں تھی۔‘‘

ان کے مطابق اس دور میں دسویں جماعت تک تعلیم حاصل کر لینا بھی ایک بڑی کامیابی سمجھا جاتا تھا۔ ایسے حالات میں شمس الدین جوکاکو کا وکالت کے شعبے میں پہنچنا ان کی محنت اور تعلیم سے وابستگی کی عکاسی کرتا ہے۔شمس الدین جوکاکو کا تعلق بھٹکل کے معروف تعلیمی ادارے انجمن حامیِ مسلمین سے بھی رہا۔ یہ ادارہ شہر کے تعلیمی منظرنامے میں ایک اہم مقام رکھتا ہے۔ مقامی لوگ آج بھی ادارے اور عوامی زندگی کے لیے شمس الدین کی خدمات کو یاد کرتے ہیں۔

ان کی تعلیم سے وابستگی کا اثر ان کی اولاد کی زندگیوں میں بھی نظر آیا۔ ان کے بیٹے جکاکو ایس طیب نے طب کے شعبے میں تعلیم حاصل کی اور ڈاکٹر بنے، جبکہ ان کے ایک دوسرے بیٹے عبدالرحیم جوکاکو نے مکینیکل انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کی اور بعد میں انجمن حامیِ مسلمین کے صدر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔

محمد تنویر کاسرکوڈ کے مطابق خاندان نے بیرون ملک آباد ہونے کے باوجود ہندوستان سے اپنا تعلق برقرار رکھا۔ خاندان کے افراد وقتاً فوقتاً ہندوستان آتے رہے۔ اگرچہ بھٹکل ان کا آبائی شہر تھا، تاہم خاندان کے بعض افراد بنگلورو اور کوڈاگو (کورگ) میں بھی رہتے تھے۔ یہ علاقے بھٹکل سے تقریباً 190 میل جنوب میں واقع ہیں۔

شمس الدین جوکاکو کی خدمات کی یاد شہر کے جغرافیے میں بھی ایک عرصے تک موجود رہی۔ بھٹکل کے ایک معروف چوراہے کا نام کئی دہائیوں تک ان کے نام پر ’’شمس الدین سرکل‘‘ رہا۔ یہ چوراہا مقامی لوگوں کے لیے ایک اہم شناخت اور راستہ بتانے کا معروف مقام تھا۔ بعد میں سڑک کی توسیع اور ترقیاتی کاموں کے دوران وہاں موجود ڈھانچے کو منہدم کر دیا گیا، لیکن چوراہے کا نام لوگوں کی یادوں میں باقی رہا۔

مقامی باشندوں کے لیے یہ نام صرف ایک چوراہے کی شناخت نہیں، بلکہ اس شخصیت کی یاد بھی ہے جس نے شہر کی تعلیمی، سماجی اور بنیادی ترقی میں اپنا حصہ ڈالا تھا۔

دی امریکن بازار کی ٹیم نے بھٹکل کے دورے کے دوران مقامی لوگوں کی مدد سے جوکاکو خاندان سے منسوب ایک مکان کا بھی سراغ لگایا۔ یہ عمارت شہر کی مرکزی سڑکوں سے کچھ ہٹ کر واقع ہے اور دورے کے وقت اس کی مرمت اور تزئین کا کام جاری تھا۔ عمارت کے بیرونی حصے پر وقت کے اثرات نمایاں تھے۔ بعض جگہ سرخ اینٹیں اور کنکریٹ کی دیواریں دکھائی دیتی تھیں، جبکہ دیواروں پر کائی اور سبزہ اگ آیا تھا۔

مقامی باشندوں کے مطابق یہ مکان کبھی شمس الدین جوکاکو کی ملکیت تھا، تاہم دی امریکن بازار اس کی ملکیت کی تاریخ کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکا۔ لوگوں نے یہ بھی بتایا کہ شمس الدین نے ایک اور مکان تعمیر کروایا تھا، لیکن اس میں منتقل ہونے سے پہلے ہی ان کا انتقال ہو گیا۔

وقت گزرنے کے ساتھ خاندان کی نئی نسلیں ہندوستان کے دوسرے شہروں اور بیرون ملک منتقل ہوتی گئیں، جس کے نتیجے میں بھٹکل میں خاندان کی براہِ راست موجودگی کم ہوتی چلی گئی۔ مقامی لوگوں کے مطابق سارہ کے والد کے پاس اب شہر میں کوئی مکان نہیں ہے۔

اس کے باوجود جوکاکو خاندان کا نام بھٹکل میں اجنبی نہیں ہوا۔ بالخصوص عمر رسیدہ افراد اور شہر کے تعلیمی و سماجی اداروں سے وابستہ لوگ آج بھی اس خاندان اور شمس الدین جوکاکو کی خدمات کا ذکر کرتے ہیں۔

ڈاکٹر جکاکو ایس طیب: بھٹکل سے امریکہ تک طبی سفر

جوکاکو خاندان کا بھٹکل سے مشی گن تک کا سفر سارہ کے والد ڈاکٹر جکاکو ایس طیب کی بیرون ملک روانگی سے شروع ہوتا ہے۔ انہوں نے ہندوستان میں طبی تعلیم حاصل کرنے کے بعد بہتر پیشہ ورانہ مواقع کی تلاش میں بیرون ملک کا رخ کیا اور بالآخر امریکہ میں اپنا طبی کیریئر قائم کیا۔ڈاکٹر طیب گردوں کے امراض کے ماہر، یعنی نیفرولوجسٹ ہیں۔ انہوں نے 1976 میں بنگلورو میڈیکل کالج سے طب کی ڈگری حاصل کی۔ اس کے بعد ان کا پیشہ ورانہ سفر انہیں ہندوستان سے سعودی عرب اور پھر امریکہ لے گیا۔

خاندان کی تاریخ سے واقف بھٹکل کے ایک باشندے کے مطابق، ڈاکٹر طیب نے امریکہ منتقل ہونے سے پہلے سعودی عرب کے کنگ فیصل اسپتال میں کام کیا تھا۔ تاہم دی امریکن بازار اس اسپتال میں ان کی ملازمت کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکا۔

1980 کی دہائی میں وہ بہتر پیشہ ورانہ مواقع کی تلاش میں امریکہ منتقل ہو گئے۔ وہاں انہوں نے مشی گن کے بون سیکورس اسپتال میں 1984 سے 1987 کے درمیان داخلی امراض (انٹرنل میڈیسن) میں ریزیڈنسی مکمل کی۔ اس کے بعد 1987 سے 1989 تک ہنری فورڈ اسپتال میں گردوں کے امراض کے شعبے میں فیلوشپ کی۔

ان تربیتی مراحل کی تکمیل کے بعد انہوں نے ڈیٹرائٹ کے علاقے میں اپنا طبی پیشہ شروع کیا اور وہاں اپنی شناخت قائم کی۔

ڈاکٹر طیب کا یہ سفر ان متعدد ہندوستانی ڈاکٹروں کی جدوجہد سے مشابہت رکھتا ہے جنہوں نے بیسویں صدی کے آخری عشروں میں امریکہ کے اسپتالوں اور طبی اداروں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ اس دور میں ہندوستان سے تعلیم یافتہ ڈاکٹروں کی ایک بڑی تعداد بہتر پیشہ ورانہ مواقع کے لیے امریکہ اور دیگر مغربی ممالک منتقل ہوئی۔

جوکاکو خاندان کے لیے ڈاکٹر طیب کی کامیابی محض ایک فرد کی پیشہ ورانہ ترقی نہیں تھی، بلکہ یہ اس تعلیمی روایت کا تسلسل بھی تھی جسے شمس الدین جوکاکو نے بھٹکل میں فروغ دینے کی کوشش کی تھی۔ ایک نسل نے کرناٹک کے ساحلی شہر میں تعلیمی اور سماجی اداروں کو مضبوط بنانے میں حصہ لیا، اگلی نسل نے امریکہ میں طبی شعبے میں اپنا مقام بنایا، اور پھر اسی خاندان کی نئی نسل میں سارہ نے نفسیات کے شعبے کو اپنا پیشہ بنایا۔

یونیورسٹی کیمپس میں ملاقات اور شادی کا آغاز

سارہ جوکاکو اور عبدالسید کی ازدواجی زندگی کا آغاز یونیورسٹی آف مشی گن میں ہوا، جہاں دونوں اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہے تھے۔ سارہ اس وقت فرسٹ ایئر کی طالبہ تھیں، جب ان کی ملاقات عبدالسید سے ہوئی۔ دونوں کی دوستی آگے بڑھی اور بالآخر انہوں نے مئی 2006 میں شادی کر لی۔ اس وقت سارہ کی عمر 19 برس اور عبدالسید کی عمر 21 برس تھی۔

ان کی شادی اور ابتدائی زندگی کے بارے میں کچھ تفصیلات یونیورسٹی آف مشی گن کے اخبار دی مشی گن ڈیلی میں شائع ہونے والے ایک انٹرویو سے سامنے آتی ہیں۔

اس انٹرویو میں عبدالسید نے طالب علمی کے زمانے میں شادی اور ایک دوسرے کے ساتھ زندگی آگے بڑھانے کے تجربے پر گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا، ’’اپنے شریکِ حیات کے ساتھ ساتھ زندگی میں آگے بڑھنے کا موقع ملنا ایک ایسا تجربہ ہے جس سے بہت سے لوگ محروم رہ جاتے ہیں۔ سارہ اور میں خود کو خوش قسمت سمجھتے ہیں کہ ہمیں یہ موقع ملا۔ خدا کا شکر ہے۔‘‘سارہ نے بھی اس دور کی ایک یاد بیان کی تھی۔ ان کے مطابق عبدالسید نے انہیں یقین دلایا تھا کہ شادی کا مطلب یہ نہیں کہ دونوں اپنی انفرادی شخصیت کی نشوونما روک دیں گے۔ ان کے بقول عبدالسید نے کہا تھا، ’’ہم اب بھی آگے بڑھ رہے ہیں، فرق صرف یہ ہے کہ اب ہم ایک ساتھ آگے بڑھ سکتے ہیں۔‘‘

اس گفتگو کے دوران عبدالسید نے مزاحیہ انداز میں خود کو رومانوی بھی قرار دیا تھا۔

سارہ کے لیے عبدالسید کی پہلی شخصیت کسی سنجیدہ دانشور یا مستقبل کے سیاست داں جیسی نہیں تھی۔ انہوں نے یاد کرتے ہوئے بتایا تھا کہ عبدالسید اکثر لیکروس کھیل کے لباس میں نظر آتے تھے اور ان کا انداز ایک کھلاڑی جیسا تھا، اگرچہ سارہ یہ بھی تسلیم کرتی تھیں کہ وہ ذہین تھے۔

وقت کے ساتھ ان کی ازدواجی زندگی عبدالسید کی عوامی گفتگو کا حصہ بنتی رہی۔ سیاسی جلسوں اور انٹرویوز کے علاوہ وہ کبھی کبھار اپنی اہلیہ کے بارے میں ذاتی اور جذباتی انداز میں بھی بات کرتے ہیں۔ویلنٹائن ڈے کے موقع پر اپنی اہلیہ کے لیے بنائی گئی ایک ویڈیو میں انہوں نے سارہ کو ’’ہم دونوں میں سب سے بہتر‘‘، ’’ماما بیئر‘‘ اور ’’ایک غیر معمولی ڈاکٹر‘‘ جیسے الفاظ سے یاد کیا تھا۔

عبدالسید نے اپنی تحریروں میں بھی سارہ کے اثرات کا ذکر کیا ہے۔ ایک تحریر میں انہوں نے لکھا تھا، ’’میں خود کو سمجھنے کے لیے جدوجہد کرتا رہا، لیکن سارہ ایسی نہیں تھیں۔ وہ اپنے جذبات کے ساتھ رقص کرتی تھیں، جبکہ میں ان سے کشتی لڑتا تھا۔ وقت کے ساتھ انہوں نے مجھے بھی اپنے جذبات کے ساتھ، اگرچہ قدرے بے ڈھنگے انداز میں، رقص کرنا سکھایا۔‘‘

یہ عبارت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ عبدالسید اپنی اہلیہ کو اپنی ذاتی شخصیت کی تشکیل اور جذبات کے اظہار میں ایک اہم اثر کے طور پر دیکھتے ہیں۔ ان کے مطابق سارہ نے انہیں اپنے جذبات کو بہتر طور پر سمجھنے اور ان کا اظہار کرنے میں مدد دی۔آج یہ جوڑا دو بیٹیوں کی پرورش کر رہا ہے۔ ان کا گھرانہ ہندوستانی اور مصری ثقافتی روایات کے امتزاج کی ایک مثال ہے، جہاں دونوں والدین کے خاندانی پس منظر اور تہذیبی اثرات نئی نسل کی زندگی کا حصہ ہیں۔

سیاست داں کی اہلیہ، لیکن انتخابی مہم سے دور

عبدالسید کے سیاسی سفر میں نمایاں پیش رفت کے باوجود سارہ جوکاکو نے اپنی زندگی کو زیادہ تر پیشہ ورانہ مصروفیات اور خاندان تک محدود رکھا ہے۔ انہوں نے اپنے شوہر کی سیاسی مقبولیت کے ساتھ خود کو انتخابی سیاست کے مرکز میں لانے کی کوشش نہیں کی۔امریکہ میں کئی سیاست دانوں کی بیویاں انتخابی مہم کا نمایاں حصہ ہوتی ہیں۔ وہ جلسوں سے خطاب کرتی ہیں، انتخابی اشتہارات میں دکھائی دیتی ہیں اور اپنے شوہروں کے سیاسی پیغام کو عوام تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ اس کے برعکس سارہ نے نسبتاً کم نمایاں رہنے کو ترجیح دی ہے۔ وہ بنیادی طور پر اپنے طبی پیشے اور خاندانی زندگی پر توجہ دیتی رہی ہیں۔

اگرچہ وہ بعض سیاسی تقریبات میں اپنے شوہر کے ساتھ نظر آتی رہی ہیں، لیکن عبدالسید کی انتخابی مہم میں ان کی موجودگی مرکزی حیثیت نہیں رکھتی۔ تاہم ان کا کم نمایاں رہنا انہیں سیاسی بحث سے مکمل طور پر دور نہیں رکھ سکا۔

اگست میں ڈیموکریٹک پارٹی کے پرائمری انتخاب میں عبدالسید کی کامیابی کے بعد امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر ایک ایسی پوسٹ شیئر کی جس پر خاصا تنازع پیدا ہوا۔ اس پوسٹ میں ٹرمپ اور ان کی اہلیہ میلانیا ٹرمپ کی تصویر کے ساتھ عبدالسید اور حجاب پہنے ہوئے سارہ کی تصویر دکھائی گئی تھی۔ پوسٹ کے ساتھ درج عبارت تھی: ’’دو بالکل مختلف امریکہ۔‘‘

اس پوسٹ پر تنقید کرنے والوں کا کہنا تھا کہ اس تقابل کے ذریعے جوڑے کی مذہبی شناخت کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس معاملے نے سارہ جوکاکو کو بھی اس سیاسی بحث کے مرکز میں لا کھڑا کیا، جس سے وہ اب تک زیادہ تر دور رہی تھیں۔یہ تنازع اس بات کی بھی مثال بن گیا کہ امریکی سیاست میں کسی امیدوار کی مذہبی شناخت اور اس کے خاندانی پس منظر کو کس طرح انتخابی گفتگو کا موضوع بنایا جا سکتا ہے۔ سارہ کے معاملے میں حجاب، جو ان کی ذاتی مذہبی وابستگی اور روزمرہ زندگی کا حصہ ہے، سیاسی بحث میں نمایاں طور پر سامنے آیا۔

بھٹکل میں اس معاملے کو ایک مختلف زاویے سے دیکھا گیا۔ وہاں کے لوگوں کے لیے حجاب ایک مانوس مذہبی لباس ہے، لیکن امریکہ میں اس کے سیاسی استعمال نے اس خاندان کے آبائی شہر میں بھی گفتگو کو جنم دیا۔ مقامی لوگوں نے اس بات پر زور دیا کہ سارہ کی شناخت کو صرف ان کے لباس کے ذریعے نہیں دیکھا جانا چاہیے، بلکہ ان کی تعلیم، طبی خدمات اور خاندانی پس منظر کو بھی اہمیت دی جانی چاہیے۔

اوشا وینس سے تقابل، مگر دونوں کا عوامی کردار مختلف

سارہ جوکاکو کے ہندوستانی پس منظر کے حوالے سے ان کا تقابل امریکہ کی نائب صدر جے ڈی وینس کی اہلیہ اوشا وینس سے بھی کیا گیا ہے۔ دونوں خواتین ہندوستانی جڑوں والے خاندانوں سے تعلق رکھتی ہیں اور اپنے اپنے شعبوں میں اعلیٰ تعلیم اور پیشہ ورانہ کامیابی حاصل کر چکی ہیں، تاہم سیاسی زندگی میں ان کے کردار مختلف ہیں۔

اوشا وینس نے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد وکالت کے شعبے میں اپنی شناخت قائم کی۔ وہ ایک ممتاز تعلیمی پس منظر رکھتی ہیں اور اپنے شوہر کے سیاسی سفر کے باعث امریکہ میں ایک معروف عوامی شخصیت بن چکی ہیں۔اس کے برعکس سارہ جوکاکو نے سیاست میں نمایاں کردار اختیار کرنے کے بجائے اپنی طبی پیشہ ورانہ زندگی کو ترجیح دی ہے۔ وہ نفسیات کے شعبے سے وابستہ ہیں اور اپنے شوہر کی انتخابی مہم میں نسبتاً کم نظر آتی ہیں۔

اس تقابل سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ہندوستانی پس منظر رکھنے والی دو پیشہ ور خواتین، جن کے شوہر امریکی سیاست میں اہم مقام رکھتے ہیں، اپنی عوامی زندگی کے حوالے سے مختلف راستے اختیار کر سکتی ہیں۔ سارہ کے لیے فی الحال ان کی طبی شناخت اور خاندانی زندگی زیادہ اہم دکھائی دیتی ہے، جبکہ اوشا وینس اپنے شوہر کے سیاسی منصب کے باعث قومی سطح پر زیادہ نمایاں ہیں۔

2018 کی ناکامی سے 2026 کی تاریخی کامیابی تک

عبدالسید کا سیاسی سفر کئی برسوں پر محیط ہے۔ 2018 میں انہوں نے مشی گن کے گورنر کے عہدے کے لیے ڈیموکریٹک پارٹی کے پرائمری انتخاب میں حصہ لیا تھا، لیکن دوسرے نمبر پر رہے۔ اس انتخابی ناکامی کے باوجود وہ مشی گن کی سیاست میں سرگرم رہے اور صحتِ عامہ کے شعبے میں اپنے تجربے کے ساتھ سیاسی میدان میں اپنی جگہ بناتے رہے۔

2026 میں انہوں نے امریکی سینیٹ کے انتخاب کے لیے ڈیموکریٹک پارٹی کی نامزدگی حاصل کرنے کی کوشش کی۔ 4 اگست کو ہونے والے پرائمری انتخاب میں انہوں نے کانگریس کی رکن ہیلی اسٹیونز کو معمولی فرق سے شکست دی۔ اس کامیابی کے بعد وہ عام انتخابات میں ڈیموکریٹک امیدوار بنے۔

3 نومبر کو ہونے والے عام انتخاب میں ان کا مقابلہ ریپبلکن امیدوار مائیک راجرز سے ہوا۔ یہ نشست سینیٹر گیری پیٹرز کی ریٹائرمنٹ کے باعث خالی ہوئی تھی۔ انتخابی نتائج کے اعلان کے بعد امریکی میڈیا نے عبدالسید کی کامیابی کی تصدیق کی اور انہیں اس نشست کا فاتح قرار دیا۔ اس طرح وہ امریکی سینیٹ کے لیے منتخب ہونے والے پہلے مسلمان بن گئے۔

17 ستمبر کو واشنگٹن پوسٹ اور شار اسکول کے ایک سروے میں عبدالسید کو مائیک راجرز پر معمولی برتری حاصل دکھائی گئی تھی۔ سروے کے مطابق عبدالسید کو 48 فیصد اور راجرز کو 45 فیصد ووٹروں کی حمایت حاصل تھی۔ تاہم یہ فرق سروے کی ممکنہ غلطی کی حد کے اندر تھا، اس لیے اس وقت انتخابی مقابلے کو سخت قرار دیا جا رہا تھا۔ بعد کے انتخابی نتائج نے اس مقابلے کا فیصلہ عبدالسید کے حق میں کر دیا۔ان کی کامیابی کی اہمیت صرف مشی گن کی ایک سینیٹ نشست تک محدود نہیں۔ وہ امریکی تاریخ میں اس ایوان کے پہلے مسلم رکن بننے جا رہے ہیں۔ اس کامیابی نے امریکی سیاست میں مسلم نمائندگی کے حوالے سے ایک نئی مثال قائم کی ہے۔

عبدالسید کی اس کامیابی کے ساتھ ان کی اہلیہ سارہ جوکاکو کا ہندوستانی پس منظر بھی عالمی توجہ کا موضوع بنا ہے۔ ایک طرف عبدالسید کے خاندان کی جڑیں مصر سے ملتی ہیں، تو دوسری طرف ان کی اہلیہ کا خاندان کرناٹک کے ساحلی شہر بھٹکل سے تعلق رکھتا ہے۔ یوں ان کی خاندانی زندگی میں جنوبی ایشیا، مشرقِ وسطیٰ اور امریکہ کی تہذیبی روایات ایک ساتھ موجود ہیں۔

بھٹکل میں جوکاکو خاندان کی یادیں آج بھی زندہ ہیں

عبدالسید کی انتخابی کامیابی اور امریکی سیاست میں ان کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ نے جوکاکو خاندان کو ایک بار پھر بھٹکل کی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔ تاہم اس ساحلی شہر کے لوگوں کے لیے یہ خاندان صرف اس وجہ سے اہم نہیں کہ اس کی ایک نسل امریکہ کی سیاست سے وابستہ ہو گئی ہے۔ اس خاندان کی مقامی تاریخ اس سے کہیں زیادہ پرانی اور گہری ہے۔

شہر کے بزرگوں کے لیے جوکاکو نام آج بھی شمس الدین جوکاکو کی یاد دلاتا ہے، جنہوں نے تعلیم، بنیادی سہولتوں اور عوامی زندگی کے فروغ میں اپنا کردار ادا کیا۔ ان کی خدمات کا ذکر آج بھی مقامی لوگوں کی گفتگو میں ملتا ہے۔ شمس الدین سرکل کا نام، اگرچہ وہاں کا پرانا ڈھانچہ اب موجود نہیں، لیکن شہر کی اجتماعی یادداشت میں ایک تاریخی حوالہ بن چکا ہے۔ان کے بعد خاندان کی اگلی نسل نے طب اور انجینئرنگ کے شعبوں میں تعلیم حاصل کی۔ ڈاکٹر جکاکو ایس طیب نے امریکہ میں طبی خدمات انجام دیں، جبکہ عبدالرحیم جوکاکو نے انجینئرنگ کی تعلیم کے بعد انجمن حامیِ مسلمین کی قیادت میں بھی حصہ لیا۔ اس کے بعد سارہ جوکاکو نے طب اور نفسیات کے شعبے میں اپنی شناخت قائم کی۔

اس خاندان کی کہانی میں ہجرت ایک اہم موڑ ضرور ہے، لیکن اس نے اپنے آبائی شہر سے تعلق کو مکمل طور پر ختم نہیں کیا۔ خاندان کے افراد ہندوستان آتے رہے، بنگلورو اور کورگ جیسے علاقوں سے بھی ان کے روابط رہے، اور بھٹکل کے لوگ آج بھی ان کے بزرگوں کی خدمات کو یاد کرتے ہیں۔

دی امریکن بازار کی رپورٹنگ کے دوران مقامی باشندوں نے جس انداز سے جوکاکو خاندان کا ذکر کیا، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ کسی خاندان کی سماجی شناخت صرف اس کی موجودہ رہائش یا معاشی حیثیت سے نہیں بنتی، بلکہ اس کی ماضی کی خدمات اور مقامی معاشرے پر چھوڑے گئے اثرات بھی اسے زندہ رکھتے ہیں۔

آج بھلے ہی جوکاکو خاندان کی نئی نسلیں امریکہ اور دیگر ملکوں میں آباد ہوں، لیکن بھٹکل میں ان کی تاریخ ان اداروں، عمارتوں اور یادوں کے ذریعے موجود ہے جن سے یہ خاندان کبھی وابستہ رہا۔ شمس الدین جوکاکو کی تعلیمی اور سماجی خدمات سے لے کر ڈاکٹر طیب کی طبی کامیابیوں اور سارہ کی پیشہ ورانہ زندگی تک، اس خاندان کا سفر تین نسلوں پر محیط ہے۔

کرناٹک کے ایک ساحلی شہر سے شروع ہونے والا یہ سفر اب مشی گن کی سیاست تک پہنچ چکا ہے۔ اس داستان میں دو ملکوں کی جغرافیائی دوری، مختلف ثقافتوں کا امتزاج، تعلیم کے ذریعے آگے بڑھنے کی خواہش اور سماجی خدمات کی روایت سب ایک ساتھ دکھائی دیتے ہیں۔ بھٹکل میں جوکاکو خاندان کی جسمانی موجودگی اگرچہ پہلے جیسی نہیں رہی، لیکن اس کا نام اور اس کی خدمات آج بھی مقامی لوگوں کی یادوں میں زندہ ہیں۔