دولت رحمان :گوہاٹی
پدم شری حاصل کرنے کے محض 4 ماہ بعد معروف آرٹ ڈائریکٹر اور مجسمہ ساز نورالدین احمد کو آسام کے اعلیٰ ترین شہری اعزاز ’آسام سوربھ ایوارڈ 2025‘ کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔ انہیں یہ اعزاز فنون لطیفہ اسٹیج ڈیزائن مجسمہ سازی اور ثقافتی ورثے کے تحفظ کے میدان میں ان کی غیر معمولی اور دیرپا خدمات کے اعتراف میں دیا جائے گا۔وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما نے جمعہ کی شام اعلان کیا کہ ریاستی حکومت نے نورالدین احمد کو اس باوقار اعزاز سے نوازنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہیں رواں سال دسمبر میں منعقد ہونے والی ایک سرکاری تقریب میں آسام کے گورنر لکشمن پرساد آچاریہ اعزاز پیش کریں گے۔
اس اعلان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے نورالدین احمد نے اپنی روایتی انکساری کے ساتھ ریاستی حکومت کا شکریہ ادا کیا۔انہوں نے کہا کہ میں ایک سادہ انسان ہوں۔ گاؤں میں رہنے والا ایک عام فنکار ہوں۔ مجھے اعزاز حاصل ہے کہ آسام حکومت نے مجھے اس قابل سمجھا۔ ساتھ ہی میرا ماننا ہے کہ پدم شری کے بعد یہ اعزاز ملنے سے سماج کے تئیں میری ذمہ داری مزید بڑھ گئی ہے۔
تقریباً 5 دہائیوں سے نورالدین احمد نے اپنی زندگی فنون لطیفہ کے لیے وقف کر رکھی ہے۔ انہوں نے اپنے تخیل کو شاندار بصری شاہکاروں میں ڈھال کر آسام کے ممتاز فنکاروں میں اپنی جگہ بنائی ہے۔نورالدین احمد کی پیدائش آسام کے مغربی حصے میں واقع ضلع نلباری کے ہاتیکوچی گاؤں میں ہوئی۔ انہوں نے آنجہانی آدیا شرما کی رہنمائی میں اپنے فن کا سفر شروع کیا۔ بعد ازاں وہ ممبئی چلے گئے اور پھر لکھیم پور میں معروف فنکار چندرکمل بوردولائی کی رہنمائی میں اپنی صلاحیتوں کو مزید نکھارا۔ 1981 سے 1983 کے درمیان انہوں نے دہلی میں جدید مجسمہ سازی اور پتلی سازی کی تکنیکوں کی خصوصی تربیت حاصل کی۔ اس تربیت نے ان کے شاندار فنی سفر کی مضبوط بنیاد رکھی۔

ان کی فنی وراثت کو آگے بڑھانے میں ان کے دونوں بیٹوں کا بھی اہم کردار ہے۔ دونوں نے تھیٹر اسٹیج سازی اور بصری فنون کے میدان میں اپنی الگ شناخت قائم کی ہے۔احمد کا کہنا ہے کہ انہیں اس بات سے بے حد اطمینان حاصل ہوتا ہے کہ ان کے بیٹوں نے تخلیقی دنیا میں اپنی جگہ بنائی ہے اور خاندان کی فنی روایت کو آگے بڑھا رہے ہیں۔گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران نورالدین احمد نے تاریخی یادگاروں مشہور قدرتی مناظر کلاسیکی فن پاروں اور ممتاز شخصیات کے قد آدم مجسموں کو اپنی فنکارانہ صلاحیتوں سے نئی زندگی دی ہے۔ باریک کاریگری کے ذریعے تاریخ دیومالا اور تخیل کو مجسم کرنے کی ان کی صلاحیت نے انہیں وسیع پیمانے پر مقبولیت دلائی ہے۔
حال ہی میں انہوں نے گوہاٹی کے بشنوپور بیملہ نگر سربوجنین درگا پوجا پنڈال کے لیے رامائن میں بیان کردہ وانر بادشاہوں کی افسانوی سلطنت ’کشن کندھا نگری‘ کا شاندار نمونہ تیار کیا۔ اس پنڈال کا اہتمام سن فلاور کلب نے کیا تھا۔ان کی اس تخلیق نے بڑی تعداد میں لوگوں کو اپنی جانب متوجہ کیا اور عوام کی جانب سے خوب پذیرائی حاصل کی۔ فنکارانہ تخیل اور عمدہ کاریگری کے اس نمونے کو ایک شاہکار قرار دیا گیا۔
یہ مسلسل چوتھا سال تھا جب نورالدین احمد نے درگا پوجا پنڈالوں کی ڈیزائننگ اور آرائش کے منصوبوں پر کام کیا۔ اپنی غیر معمولی تخلیقات کے ذریعے انہوں نے تہوار میں شرکت کرنے والوں کی محبت اور ستائش حاصل کی۔رامائن میں کشن کندھا کو ایک اہم مقام حاصل ہے۔ رزمیہ داستان کے مطابق یہ وانر بادشاہ بالی اور اس کے بھائی سوگریو کی سلطنت کا دارالحکومت تھا۔ جنگ میں بالی کی موت کے بعد سوگریو نے اپنے معتمد مشیر ہنومان کے ساتھ بھگوان رام کا ساتھ دیا تاکہ لنکا سے سیتا کو بازیاب کرایا جا سکے۔

نورالدین احمد نے اس افسانوی سلطنت کو اپنی فنکارانہ مہارت سے اس طرح پیش کیا کہ قدیم رزمیہ داستان حقیقت کے قریب محسوس ہونے لگی۔ اس تخلیق نے دیکھنے والوں کو دیومالا تاریخ اور فنکارانہ تخیل کے امتزاج سے ایک منفرد تجربہ فراہم کیا۔بچپن کے خوابوں کو حیرت انگیز فن پاروں میں تبدیل کرنے سے لے کر تھیٹر کی بصری زبان کو نئی جہت دینے تک نورالدین احمد کا سفر مسلسل جدت لگن اور فنکارانہ مہارت کی داستان ہے۔
آسام کی مشہور موبائل تھیٹر تحریک میں ان کی خدمات خاص طور پر اہم رہی ہیں۔ اس تحریک کی تاریخ میں ان کا نام نمایاں مقام رکھتا ہے۔ انہوں نے اسٹیج ڈیزائن اور تھیٹر کی پیشکش کو فن کی نئی بلندیوں تک پہنچانے میں قائدانہ کردار ادا کیا۔نورالدین احمد 450 سے زیادہ موبائل تھیٹر پروڈکشنز کے لیے اسٹیج سیٹ ڈیزائن کر چکے ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے ہندوستان کی متعدد زبانوں میں تقریباً 5600 ڈراموں کے لیے آرٹ ڈائریکشن کی خدمات انجام دی ہیں۔ یہ ایک غیر معمولی کارنامہ ہے جس کی مثال ہندوستانی تھیٹر کی دنیا میں بہت کم ملتی ہے۔
تاہم ان کی تخلیقات کی شان اور کامیابیوں کے وسیع دائرے سے بڑھ کر ان کی سادگی انہیں ساتھی فنکاروں مداحوں اور فن کی نئی نسلوں کے درمیان مقبول بناتی ہے۔ملک اور ریاست کے بعض اہم ترین اعزازات حاصل کرنے کے باوجود پدم شری نورالدین احمد آج بھی اپنی سادہ زندگی اور بنیادی اقدار سے جڑے ہوئے ہیں۔ اپنے فن سے غیر متزلزل لگن اور سماج کے تئیں ذمہ داری کا احساس ان کی شخصیت کی نمایاں خصوصیات ہیں۔