آسام، : آسام میں سیلاب کی تباہ کاریوں کے درمیان ممبئی سے تعلق رکھنے والے معروف سماجی کارکن، انسان دوست اور مخیر شخصیت حسین منصوری متاثرہ خاندانوں کی مدد کے لیے آسام پہنچ گئے ہیں۔ حسین منصوری سیلاب سے بری طرح متاثرہ سیوا ساگر ضلع میں دو روزہ دورے پر ہیں، جہاں وہ متاثرہ خاندانوں تک ضروری امدادی سامان پہنچانے کے ساتھ ساتھ ان کے مسائل جاننے اور مشکل کی اس گھڑی میں ان کا حوصلہ بڑھانے میں مصروف ہیں۔
حسین منصوری اپنے ساتھ سیلاب متاثرین کے لیے ضروری امدادی سامان بھی لے کر آسام پہنچے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ان کی امدادی سرگرمیوں میں متاثرہ خاندانوں کے لیے خشک راشن، پینے کا صاف پانی، طبی کٹس اور بچوں کے لیے اسکول بیگ فراہم کرنا شامل ہے۔ ان کا مقصد صرف امدادی سامان تقسیم کرنا نہیں بلکہ سیلاب سے متاثرہ لوگوں کے درمیان پہنچ کر ان کے دکھ درد کو سمجھنا اور انہیں یہ احساس دلانا بھی ہے کہ مشکل وقت میں معاشرہ ان کے ساتھ کھڑا ہے۔
سیلاب کی تباہ کاریوں کو قریب سے دیکھنے کے بعد حسین منصوری نے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ سیلاب نے آسام کے مختلف علاقوں میں ہزاروں خاندانوں کی زندگی کو متاثر کیا ہے۔ کئی خاندان اپنے گھروں، روزگار اور ضروری سامان سے محروم ہو گئے ہیں، جبکہ بہت سے لوگوں کو خوراک، صاف پانی اور طبی سہولتوں کی ضرورت ہے۔ ایسے حالات میں حسین منصوری کی جانب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ اور امدادی سرگرمیوں میں براہ راست شرکت متاثرین کے لیے امید اور حوصلے کا پیغام ہے۔
سیوا ساگر میں متاثرین کے درمیان حسین منصوری
حسین منصوری نے اپنے دو روزہ دورے کے دوران سیوا ساگر کے سیلاب متاثرہ علاقوں کا رخ کیا اور مقامی خاندانوں سے ملاقات کی۔ انہوں نے متاثرین سے براہ راست بات چیت کرتے ہوئے ان کی مشکلات اور ضروریات کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔ اس موقع پر انہوں نے متاثرہ لوگوں کی حوصلہ افزائی کی اور یقین دلایا کہ ملک کے مختلف حصوں سے لوگ ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔
ان کی امدادی مہم میں خاص طور پر ان خاندانوں کو ترجیح دی جا رہی ہے جو سیلاب کے باعث بنیادی ضروریات سے محروم ہو گئے ہیں۔ خشک راشن اور پینے کے پانی کے علاوہ طبی کٹس کی فراہمی کا مقصد متاثرہ لوگوں کو فوری ریلیف فراہم کرنا ہے۔ بچوں کے لیے اسکول بیگ کی تقسیم بھی اس بات کی علامت ہے کہ قدرتی آفت کے باوجود ان کی تعلیم کا سلسلہ متاثر نہیں ہونا چاہیے۔حسین منصوری کی یہ کوششیں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب آسام کے مختلف سیلاب زدہ علاقوں میں امداد اور بحالی کا کام جاری ہے۔ قدرتی آفت کے بعد متاثرہ خاندانوں کو فوری امداد کے ساتھ ساتھ طویل مدتی بحالی اور دوبارہ آبادکاری کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ ایسے میں سماجی کارکنوں، رضاکاروں اور انسان دوست افراد کی کوششیں سرکاری اور غیر سرکاری امدادی سرگرمیوں کو مزید تقویت فراہم کرتی ہیں۔
انسانی خدمت میں ایک نمایاں نام
حسین منصوری کا تعلق ممبئی سے ہے اور وہ سماجی خدمت اور انسان دوستی کے حوالے سے اپنی ایک الگ شناخت رکھتے ہیں۔ وہ اپنے سوشل ورک اور عوامی خدمت کے کاموں کے لیے خاصے معروف ہیں۔ ضرورت مندوں کی مدد، قدرتی آفات سے متاثرہ لوگوں کے درمیان پہنچنا اور مشکل حالات میں انسانیت کے ساتھ کھڑا ہونا ان کی سماجی سرگرمیوں کا نمایاں حصہ ہے۔
حسین منصوری کی شخصیت کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ وہ انسانی خدمت کو صرف ایک وقتی سرگرمی کے طور پر نہیں دیکھتے بلکہ ضرورت مند لوگوں تک براہ راست پہنچنے اور ان کے مسائل کو قریب سے سمجھنے پر یقین رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مختلف مواقع پر ان کی سرگرمیاں لوگوں کی توجہ حاصل کرتی رہی ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ انسانیت کی خدمت کسی مذہب، ذات یا علاقے کی پابند نہیں اور ضرورت مند کی مدد کرنا معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
آسام کا حالیہ دورہ بھی اسی جذبۂ انسانیت کی ایک مثال ہے۔ ممبئی سے ہزاروں کلومیٹر دور آسام کے سیلاب متاثرین کے درمیان پہنچ کر ان کی مدد کرنا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ انسانی ہمدردی کی کوئی جغرافیائی حد نہیں ہوتی۔ حسین منصوری نے متاثرہ خاندانوں کے درمیان پہنچ کر نہ صرف امدادی سامان فراہم کیا بلکہ ان کے دکھ کو محسوس کیا، ان کی بات سنی اور ان کے حوصلے کو بڑھانے کی کوشش کی۔
سوشل میڈیا پر بھی سرگرم
حسین منصوری سوشل میڈیا پر بھی خاصے فعال اور معروف ہیں۔ وہ اپنی سماجی اور فلاحی سرگرمیوں کے ذریعے لوگوں کو انسانیت، ہمدردی اور ایک دوسرے کی مدد کا پیغام دیتے ہیں۔ ان کی سرگرمیوں کو سوشل میڈیا پر بڑی تعداد میں لوگ دیکھتے اور سراہتے ہیں، جس سے امدادی کاموں کے بارے میں عوامی بیداری پیدا کرنے میں بھی مدد ملتی ہے۔
سوشل میڈیا کی طاقت کو مثبت انداز میں استعمال کرتے ہوئے حسین منصوری انسانی خدمت کے پیغام کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کی سرگرمیاں خاص طور پر نوجوانوں کو یہ پیغام دیتی ہیں کہ معاشرے میں تبدیلی صرف بڑے اداروں یا حکومتوں کے ذریعے نہیں آتی بلکہ عام لوگ بھی اپنے حصے کی ذمہ داری ادا کرکے دوسروں کی زندگی میں مثبت تبدیلی لا سکتے ہیں۔
انسانیت سب سے بڑی خدمت
آسام کے سیلاب کے دوران حسین منصوری کا کردار ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب متاثرہ خاندانوں کو فوری مدد اور حوصلے دونوں کی ضرورت ہے۔ ان کی امدادی سرگرمیاں اس بات کی مثال ہیں کہ ملک کے ایک حصے میں آنے والی قدرتی آفت پورے ملک کے لوگوں کے لیے تشویش کا باعث بن سکتی ہے۔
حسین منصوری کا سیوا ساگر پہنچنا، متاثرین سے ملاقات کرنا، خشک راشن اور پینے کا پانی فراہم کرنا، طبی کٹس تقسیم کرنا اور بچوں کے لیے اسکول بیگ فراہم کرنا انسانی خدمت کے اسی جذبے کی عکاسی کرتا ہے۔ ان کی کوشش یہ پیغام دیتی ہے کہ مصیبت کے وقت کسی انسان کا ساتھ دینا ہی سب سے بڑی انسانیت ہے۔
آسام کے سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے حسین منصوری کی یہ پہل ان کے سماجی کاموں کے تسلسل کی ایک کڑی ہے۔ ان کی شخصیت ان لوگوں کے لیے ایک مثال بن کر سامنے آتی ہے جو انسانیت کی خدمت کو اپنی زندگی کا مقصد سمجھتے ہیں۔ ایسے وقت میں جب ہزاروں خاندان اپنے معمولات زندگی کی بحالی کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں، حسین منصوری جیسے انسان دوست افراد کی موجودگی متاثرین کے لیے امید، حوصلے اور یکجہتی کا پیغام بن رہی ہے۔