
سرسید احمد خاں ہندوستان میں اصلاح کی آواز بلند کرنے والے پہلے مسلمان تھے۔ وہ ایسے دور میں منظر عام پر آئے جب ہندوستانی مسلم معاشرہ قدامت پرستی اور جمود میں ڈوبا ہوا تھا اور قرونِ وسطیٰ کی روایتی روش سے نکلنے کے لیے جدوجہد کرنے پر آمادہ نہیں تھا۔ علما کے غیر صحت مند اثرات نے مسلمانوں کے ذہنوں میں یہ تصور بٹھا دیا تھا کہ جدید تعلیم مذہب سے مطابقت نہیں رکھتی بلکہ اس کے خلاف ہے۔1857 کی ناکام بغاوت اور علما کی جانب سے جہاد کی اپیل نے مسلمانوں کو انگریزوں کے غیظ و غضب اور انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنا دیا۔ سرسید ایک عدالتی افسر کی حیثیت سے اس بحران کے دوران حکومت کی خدمت انجام دیتے رہے لیکن ان ہنگاموں کے بعد پیدا ہونے والے حالات نے ان پر گہرا اثر ڈالا۔ انہوں نے لکھا:
”میں نے مسلم معاشرے کے زوال پر غور کیا اور اس نتیجے پر پہنچا کہ جدید تعلیم ہی ان بیماریوں کا واحد علاج ہے جن میں مسلمان مبتلا ہیں۔ میں نے یہ طے کیا کہ ان کے ذہنوں سے اس مضبوط فرقہ وارانہ تصور کو دور کرنے کے لیے ایک حکمت عملی اختیار کی جائے کہ یورپی ادب اور سائنس کا مطالعہ مذہب کے خلاف ہے اور کفر کو فروغ دیتا ہے۔“
سرسید کے مقاصد تعلیمی اور سماجی اصلاحات تھے۔ وہ 19ویں صدی کے اوائل میں 17 اکتوبر 1817 کو پیدا ہوئے تھے۔ ان کی مذہبی معاملات میں مداخلت کرنے کی کوئی خواہش نہیں تھی لیکن ان کی تمام کوششوں کی مخالفت مذہب کے نام پر کی گئی۔ اپنی اس مشکل صورت حال کو بیان کرتے ہوئے سرسید نے کہا کہ ”ہم مذہب پر کسی بحث سے گریز کرنا چاہتے تھے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے رویے سماجی رسم و رواج اور مذہبی عقائد اس قدر ایک دوسرے میں گھل مل گئے ہیں کہ مذہبی تنازع کو جنم دیے بغیر سماجی اصلاحات پر کوئی گفتگو ممکن نہیں۔“
علما سے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ جب انہیں کسی نقصان دہ چیز کو ترک کرنے کے لیے کہا جاتا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ اس میں مذہبی فضیلت ہے اور جب انہیں کوئی مثبت کام کرنے کے لیے کہا جاتا ہے تو وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ مذہب میں اس کی اجازت نہیں۔ اس لیے اپنے مقصد کو آگے بڑھانے کے لیے ہمارے پاس مذہبی تناظر میں گفتگو کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں۔“اسی مقصد کے تحت انہوں نے جولائی 1884 میں رسالہ محمدن سوشل ریفارمر جاری کیا۔ اپنے الفاظ میں یہ رسالہ ”اس جنونیت کے خلاف جدوجہد میں اہم کردار ادا کرتا رہا جس نے مسلم معاشرے کو جہالت کی گہری کھائی میں دھکیل دیا تھا۔ اس رسالے میں جدید تعلیم اور سماجی و مذہبی اصلاحات پر توجہ دی گئی۔
علی گڑھ میں اسکول کا آغاز 1875 میں ہوا۔ اس منصوبے کی کامیابی مکمل طور پر عوامی چندے پر منحصر تھی۔ سرسید نے خود بھی قابل ذکر مالی تعاون کیا اور چندہ جمع کرنے کے لیے غیر معمولی کوششیں کیں۔ انہوں نے لاٹریاں منعقد کیں اور ڈرامے پیش کیے۔ چندہ جمع کرنے کے لیے وہ کسی بھی جگہ جانے سے گریز نہیں کرتے تھے حتیٰ کہ طوائفوں کے محلوں میں جانے سے بھی انہیں کوئی جھجک نہیں ہوتی تھی۔
.webp)
سرسید نے ان تمام لوگوں کی مدد کا اعتراف کیا جنہوں نے اس مقصد میں ان کا ساتھ دیا۔ انہوں نے خاص طور پر ان ہندوؤں کا ذکر کیا جنہوں نے مالی اور دیگر وسائل کی صورت میں تعاون کیا اور پوری مسلم برادری پر بڑا احسان کیا۔بالآخر 1920 میں یہ کالج ایک یونیورسٹی کی شکل اختیار کر گیا۔ اس وقت سرسید کو دنیا سے رخصت ہوئے 22 سال گزر چکے تھے۔ وہ 1898 میں وفات پا گئے تھے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا قیام علی گڑھ تحریک کی کامیابی کا ایک زندہ ثبوت تھا۔
تاہم یہ کہانی اس وقت تک نامکمل رہے گی جب تک مسلم علما کی اس مخالفت کا ذکر نہ کیا جائے جس کا سرسید کو اپنی وفات تک سامنا کرنا پڑا اور جو آج بھی بعض حلقوں میں موجود ہے۔اس مخالفت کی شدت کا اندازہ مولانا ابوالحسن علی ندوی کی کتاب اسلامیات اور مغربیت کی کشمکش میں درج تبصرے سے لگایا جا سکتا ہے۔ یہ کتاب سرسید کی وفات کے 60 سال سے زیادہ عرصے بعد لکھی گئی تھی۔ مولانا ندوی لکھتے ہیں کہ ”سرسید کا تعلیمی مشن اور مغربی تہذیب کی حمایت ایک دوسرے کے ساتھ اس طرح جڑ گئے کہ لوگوں کے ذہنوں میں اندیشے اور شکوک پیدا ہونے لگے۔ مذہبی حلقوں میں مخالفت کی ایک لہر اٹھ کھڑی ہوئی اور ان کی تحریک کے بائیکاٹ کی اپیل بھی بیک وقت شروع ہو گئی۔ سب سے پہلے سرسید کو اس وقت مخالفت کا نشانہ بنایا گیا جب انہوں نے انگریزوں کے ساتھ کھانا کھایا اور ایک دستخط شدہ مضمون کے ذریعے اپنے اس عمل کا دفاع کیا۔ لندن میں قیام کے دوران ان کی مخالفت میں مزید شدت آ گئی۔
سرسید نے ایک یادداشت کے ذریعے اس مخالفت کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ کانپور کی خوفناک پکار لکھنؤ کے نغماتی طنز آگرہ اور الہ آباد کی بے مقصد چہ میگوئیاں رام پور اور بریلی کے فتوے اور دہلی کے مقدس بزرگوں کے طنزیہ تبصرے مجھے رنجیدہ نہیں کرتے۔ میرا دل اپنی قوم کی فلاح و بہبود کے خیال سے لبریز ہے اور اس میں غصے یا رنجش کے لیے کوئی جگہ نہیں۔“علما کی مخالفت سے واقف ہونے کے باوجود سرسید نے پیش کش کی کہ کالج میں مذہبی تعلیم کے معاملات میں ان کا کوئی کردار نہیں ہوگا۔ انہوں نے ممتاز علما کو نصاب تیار کرنے کی دعوت بھی دی۔لیکن مولانا قاسم نانوتوی اور دیوبند کے مولانا یعقوب نے اس تجویز کو مسترد کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ایسے ادارے سے وابستہ نہیں ہو سکتے جہاں شیعہ طلبہ بھی تعلیم حاصل کریں گے۔
مولانا حالی نے سرسید کی سوانح عمری میں لکھا ہے کہ 60 مولویوں اور علما نے ایسے فتووں پر دستخط کیے تھے جن میں سرسید پر کفر اور ارتداد کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔ ہندوستان کے علما کے درمیان اس معاملے میں مکمل اتفاق رائے تھا اور صرف خدائی منظوری باقی رہ گئی تھی۔مولوی علی بخش نے یہ کام بھی انجام دے دیا۔ وہ زیارت کے بہانے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ گئے اور ایک ایسا فتویٰ حاصل کیا جس میں کہا گیا تھا کہ اگر سرسید توبہ نہ کریں اور کالج قائم کرنے کے اپنے منصوبے پر قائم رہیں تو ان کا سر قلم کر دیا جائے۔ سرسید ایک دور اندیش شخصیت تھے جنہوں نے تمام مخالفتوں کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنے خواب کی تکمیل کے لیے جدوجہد جاری رکھی۔ انہوں نے بجا طور پر کہا تھا کہ میں وہ جانتا ہوں جو یہ نہیں جانتے اور میں وہ سمجھتا ہوں جو یہ نہیں سمجھتے۔ تاریخ نے ثابت کر دیا کہ سرسید درست تھے اور علما حسبِ روایت بالکل غلط ثابت ہوئے۔
عارف محمد خان سابق مرکزی وزیر ہیں۔