ایمان سکینہ
اتحاد اسلام کی خوبصورت ترین تعلیمات میں سے ایک ہے۔ اتحاد کا مطلب صرف ایک ساتھ کھڑے ہونا نہیں بلکہ دلوں کو نفرت سے پاک رکھنا، ایک دوسرے کا احترام کرنا اور معاشرے کی فلاح و بہبود کے لیے مل کر کام کرنا بھی ہے۔ اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ انسانوں کے درمیان زبان، ثقافت، رنگ، قبیلے اور روایات کا اختلاف ہو سکتا ہے، لیکن ان اختلافات کو نفرت اور تقسیم کا سبب نہیں بننا چاہیے۔ ہندوستان جیسے متنوع ملک میں قومی یکجہتی کے لیے بھی یہی اصول بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔
اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے:
’’اور تم سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقے میں نہ پڑو۔‘‘
(سورۂ آل عمران، آیت 103)
یہ آیت واضح پیغام دیتی ہے کہ اتحاد طاقت کا ذریعہ ہے جبکہ اختلاف اور تقسیم معاشرے کو کمزور کرتے ہیں۔ جب لوگ ذاتی مفادات کو پس پشت ڈال کر مشترکہ مقصد کے لیے کام کرتے ہیں تو امن اور ترقی کی راہیں ہموار ہوتی ہیں۔ اسی طرح ہر ہندوستانی کی ذمہ داری ہے کہ وہ مذہب اور برادری کے اختلاف سے بالاتر ہوکر ملک کے اتحاد، وقار اور خوش حالی کے تحفظ میں اپنا کردار ادا کرے۔قرآن مجید ہمیں یاد دلاتا ہے کہ تمام انسان ایک مشترکہ اصل سے تعلق رکھتے ہیں اور انہیں ایک دوسرے کے ساتھ احترام کا برتاؤ کرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
’’بے شک تمام مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں۔‘‘
(سورۂ الحجرات، آیت 10)
اسلام مسلمانوں کو ایک دوسرے کی مدد کرنے، غلطیوں کو معاف کرنے اور اختلافات کو پُرامن طریقے سے حل کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔ تاہم اخوت اور بھائی چارے کا یہی جذبہ دوسرے مذاہب کے ماننے والوں کے ساتھ حسن سلوک اور انصاف کا تقاضا بھی کرتا ہے۔ ایک اچھا مسلمان پورے معاشرے کے لیے امن، اعتماد اور ہمدردی کا ذریعہ ہوتا ہے۔قرآن مجید کی ایک اور آیت میں ارشاد ہے:’’اور ہم نے تمہیں قوموں اور قبیلوں میں تقسیم کیا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو۔‘‘
(سورۂ الحجرات، آیت 13)
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ تنوع کمزوری نہیں بلکہ ایک دوسرے کو سمجھنے، جاننے اور احترام کرنے کا موقع ہے۔اسلام دنیا کے مختلف ملکوں، قبیلوں، زبانوں اور فقہی مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر مشترکہ ایمان کے ذریعے جوڑتا ہے۔ اس کی بنیادی تعلیم یہی ہے کہ اختلافات کو ایمان، انسانیت اور باہمی احترام کے رشتوں کو کمزور کرنے کا سبب نہیں بننے دینا چاہیے۔

سردار پٹیل کا تصورِ اتحاد اور اسلامی تعلیمات
سردار ولبھ بھائی پٹیل کو ہندوستان کا مرد آہن کہا جاتا ہے۔ آزادی کے بعد انہوں نے سینکڑوں نوابی ریاستوں کو ہندوستانی وفاق میں ضم کرنے میں تاریخی کردار ادا کیا۔ ان کی زندگی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ اتحاد کے لیے حوصلے، عملی بصیرت، نظم و ضبط اور اجتماعی مفاد سے وابستگی ضروری ہے۔اسلامی نقطۂ نظر سے ان کی کوششوں کو نیکی اور بھلائی کے کاموں میں تعاون کے قرآنی اصول کی روشنی میں سمجھا جا سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:-’’اور نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرو اور گناہ اور زیادتی کے کاموں میں تعاون نہ کرو۔‘‘
(سورۂ المائدہ، آیت 2)
قومی یکجہتی کے لیے سردار پٹیل کی خدمات اس اہمیت کو اجاگر کرتی ہیں کہ محدود مفادات کے بجائے اجتماعی بھلائی کو ترجیح دی جائے۔ ان کی میراث ہمیں اختلافات کو مکالمے کے ذریعے حل کرنے، اداروں کو مضبوط بنانے اور ملک کے اتحاد کی حفاظت کرنے کی ترغیب دیتی ہے۔ اگرچہ سردار پٹیل اسلامی تعلیمات کی ترجمانی نہیں کر رہے تھے، لیکن قومی اتحاد کے لیے ان کی کوششیں انصاف، ذمہ داری اور سماجی ہم آہنگی جیسی اسلامی اقدار سے مطابقت رکھتی ہیں۔
قومی اتحاد صرف تقریروں سے قائم نہیں ہو سکتا۔ اس کے لیے دیانت داری، ہمدردی، انصاف اور مشکل وقت میں دوسروں کے ساتھ کھڑے ہونے کا جذبہ ضروری ہے۔ جب ہم غریبوں کی مدد کرتے ہیں، دوسروں کی عزت و وقار کا تحفظ کرتے ہیں، فرقہ وارانہ نفرت کو مسترد کرتے ہیں اور مشترکہ بھلائی کے لیے کام کرتے ہیں تو اتحاد کے اصول کو عملی زندگی میں اتارتے ہیں۔سردار پٹیل سے منسوب نعرہ ’’اتحاد اور مزید اتحاد‘‘ ہماری اجتماعی ذمہ داری کی اہمیت کو واضح کرتا ہے۔ پانچ سو ساٹھ سے زیادہ نوابی ریاستوں کو ہندوستانی وفاق میں ضم کرنے کی ان کی کوششیں اس بات کی مثال ہیں کہ ملک کی تعمیر میں مشترکہ مقصد کس قدر اہم ہوتا ہے۔
اسلام کی حقیقی روح انسان سے یہ مطالبہ نہیں کرتی کہ وہ کسی دوسرے کا احترام کرنے کے لیے اپنی شناخت ترک کردے۔ بلکہ اسلام انصاف قائم کرنے، اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے اور دوسروں کے ساتھ عزت و وقار کا برتاؤ کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔ اسی طرح وطن سے محبت کے لیے مذہب یا ثقافت میں یکسانیت ضروری نہیں بلکہ ملک کی فلاح و بہبود اور اتحاد کے لیے مخلصانہ کوشش درکار ہے۔
ذمہ دار شہریوں کی حیثیت سے ہمیں نفرت کو مسترد کرنا چاہیے، مکالمے کو فروغ دینا چاہیے اور ہر برادری کی فلاح و بہبود کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ ہمارا ایمان ہمیں ہمدردی کا درس دے، ہمارے اختلافات معاشرے کو وسعت بخشیں اور ہماری مشترکہ ذمہ داریاں ہمیں ہندوستانی ہونے کے ناتے متحد کریں۔متحد معاشرہ طاقت، امن اور ترقی کا سرچشمہ ہوتا ہے۔ جب ہم انصاف اور انسانیت کی بنیاد پر ایک ساتھ کھڑے ہوتے ہیں تو ہم اپنے مذہب کی اخلاقی تعلیمات اور اپنے ملک کی روح دونوں کا احترام کرتے ہیں۔