.jpg)
ڈاکٹر اسعد فیصل فاروقی

سرسید احمد خاں کا بنارس شہر میں قیام عدالت خفیفہ کے جج اور صدر الصدور کے طور پر رہا ہے۔ ان کا تبادلہ 6 اگست 1867ء کو علی گڑھ سے بنارس ہوا تھا، اور وہ اگست 1867ء کے دوسرے ہفتے میں بنارس پہنچے۔ سرسید اس شہر میں اگست 1867ء سے جولائی 1867ء (اور بعد کے ادوار سمیت مجموعی طور پر) مقیم رہے۔ اس دوران پہلے دور میں وہ ایک سال سات مہینے اور دوسرے دور میں پانچ برس نو مہینے بنارس میں رہے، جس طرح بنارس میں ان کی کل مدت ملازمت سات برس چھ مہینے رہی۔سرسید نے تعلیمی اعتبار سے بنارس کو دیگر شہروں سے ممتاز قرار دیا ہے۔ سائنٹفک سوسائٹی کے ممبران میں ایک بڑی تعداد بنارس کی بھی تھی، جن میں ہندو، مسلمان اور انگریز سب شامل تھے۔اپنی ملازمت کے اس آخری دور میں سرسید نے نہ صرف بنارس میں فلاحی اور رفاہی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا، بلکہ یہاں کے لوگوں سے بھی خصوصی روابط قائم کیے، یہی وجہ ہے کہ علی گڑھ کالج کے قیام کی تحریک کی داغ بیل سرسید نے بنارس سے ہی ڈالی اور اس کا خاکہ وہیں تیار کیا۔سرسید نے بنارس باسیوں کی بلالحاظ مسلک و مذہب جو خدمات انجام دیں، ان میں ہومیوپیتھک اسپتال کا قیام، بنارس انسٹی ٹیوٹ میں تعلیم و تربیت پر لیکچر، اور پرنس آف ویلز اسپتال کے قیام میں کلیدی کردار ادا کرنا شامل ہے۔ ذیل میں بنارس میں سرسید کے علمی، تعلیمی اور فلاحی کاموں میں معاون بنارس کی چند اہم غیر مسلم شخصیات کا ذکر کیا جا رہا ہے:
1. مہاراجہ ایشری پرشاد نرائن سنگھ، مہاراجہ بنارس (1822ء–1889ء)
مہاراجہ ایشری پرشاد کا سرسید سے خاص تعلق تھا۔ وہ سرسید کی سائنٹفک سوسائٹی کے اولین ممبروں میں سے تھے (9 جنوری 1864ء کو ممبر بنے)۔ مہاراجہ صاحب نے سرسید اور آئرن سائیڈ کے ساتھ بنارس کی ہومیوپیتھک ڈسپنسری کے قیام میں دلچسپی لی۔ جب محمڈن اینگلو اورینٹل کالج کے قیام کی تحریک شروع ہوئی تو مہاراجہ نے 2000 روپے کالج کو چندے میں دیے۔ سرسید نے علی گڑھ انسٹی ٹیوٹ گزٹ میں ان کے انتقال پر ایک تعزیتی نوٹ لکھا۔
.jpg)
2. سوامی دیانند سرسوتی (1824ء–1883ء)
آریہ سماج کے بانی، ممتاز ویدک اسکالر اور مذہبی و سماجی مصلح تھے۔ وہ توحید کے قائل اور بت پرستی کے مخالف تھے، جس کی وجہ سے روایتی پنڈتوں سے ان کا مناظرہ رہتا۔ سرسید سے ان کی پہلی ملاقات بنارس میں ہوئی، جہاں سرسید نے مہاراجہ بنارس اور سوامی جی کے درمیان مصالحت کروائی۔
دسمبر 1873ء میں جب سوامی جی علی گڑھ آئے اور راجہ جئے کشن داس کے ہاں ٹھہرے، تو سرسید ان سے ملنے پہنچے۔ اس ملاقات میں ہوا کو پاک کرنے کے سائنسی و مذہبی طریقوں (ہون) پر گفتگو ہوئی۔ سرسید نے ان کے احترام میں زمین پر بیٹھ کر گفتگو کی اور فرمایا کہ ایک سنت کے ساتھ بیٹھنے پر انہیں فخر ہے۔ سرسید نے ’علی گڑھ انسٹی ٹیوٹ گزٹ‘ میں سوامی جی کی توحید پرستی، اصلاحی جذبے اور حق گوئی کی کھل کر تعریف کی اور ملک بھر میں ان کے خطبات کی خبریں شائع کیں۔ 1877ء میں وائسرائے لارڈ لٹن کے دربار کے موقع پر سوامی دیانند نے پہلی ’کل مذاہب متحدہ کانفرنس‘ کا انعقاد کیا، جس میں سرسید احمد خاں، بابو کشیپ چندر سین اور ہریش چندر کے ساتھ شامل ہوئے۔ 30 اکتوبر 1883ء کو اجیر میں سوامی جی کی وفات پر سرسید نے گزٹ میں "سوامی دیانند سرستی کی وفات" کے عنوان سے تعزیتی مضمون لکھا اور ان کے علمی و اصلاحی کاموں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔
3. الیکزنڈر شیکسپیئر، کمشنر بنارس (1822ء–1884ء)
سرسید کے قریبی ساتھی، جن سے بجنور کے زمانے سے گہری دوستی تھی۔ بجنور کی تاریخ سرسید نے انہی کے کہنے پر لکھی تھی۔ شیکسپیئر نے گورنمنٹ سے سرسید کے نام پولیٹکل پنشن جاری کرنے کی سفارش کی تھی جس پر دوسو روپے ماہانہ پنشن جاری ہوئی تھی۔ جب 1871ء میں سید محمود انگلستان سے واپس آئے تو سرسید نے بنارس میں ایک دعوت کا اہتمام کیا جس کی صدارت شیکسپیئر نے کی۔ سرسید مدرستہ العلوم علی گڑھ کے قیام کے وقت عمارتوں کی تعمیر کے لیے شیکسپیئر نے 100 روپے کا چندہ دیا۔
4. ڈاکٹر ای جے لیزارس (1825ء–1901ء)
بنارس کی کثیر الجہت شخصیت اور متحرک عیسائی مشنری۔ انہوں نے بنارس میں اپنا دواخانہ اور ایک پرنٹنگ پریس ’میڈیکل ہال پرنٹنگ پریس‘ قائم کیا۔ سرسید نے ہنٹر کی تصنیف 'انڈین مسلمان' کا جواب اسی پریس سے 1872ء میں شائع کیا۔ سرسید سے لیزارس کی خاص دوستی تھی اور کالج کے آغاز کے وقت کچھ ادویہ بھی ان سے منگوائی گئی تھیں، جن کی ادائیگی کے معاملے پر سرسید نے بعد میں ان کی فیاضی اور مہربانیوں کا خصوصی اعتراف کیا۔
5. جے بی آئرن سائڈ، جج بنارس
بنارس کے جج اور سیشن جج۔ 1867ء میں جب بنارس میں سرسید نے ہومیوپیتھک اسپتال قائم کرنے کی تحریک چلائی، تو مہاراجہ بنارس کو پریزیڈینٹ اور ان کو کو-پریزیڈینٹ بنایا گیا۔ اسپتال کے افتتاح کے موقع پر آئرن سائڈ نے ہومیوپیتھک علاج کے موضوع پر لیکچر دیا جو انگریزی جرنل اور علی گڑھ انسٹی ٹیوٹ گزٹ میں شائع ہوا۔ انہوں نے سائنٹفک سوسائٹی اور ایم اے او کالج کی عمارت کی تعمیر کے لیے بھی مالی تعاون کیا۔
6. راجہ دیو نارائن سنگھ (1820ء–1870ء)
بھومیہار براہمن خاندان سے تعلق رکھنے والے راجہ دیو نارائن سنگھ کو 1866ء میں 'سر' کا خطاب ملا۔ وہ بنارس انسٹی ٹیوٹ کے صدر اور سائنٹفک سوسائٹی کے اولین ممبروں میں سے تھے۔ سرسید نے جب غازی پور میں انگریزی میڈیم اسکول (وکٹوریہ اسکول) کھولا تو اس کا سنگ بنیاد راجہ دیو نارائن سنگھ سے رکھوایا۔ ان کے انتقال کے بعد ان کے بیٹے راجہ شمبھو نارائن سنگھ نے ان کے نام سے ایم اے او کالج میں پختہ بورڈنگ ہاؤس بنوانے کے لیے 1500 روپے چندہ دیا۔
7. راجہ شمبھو نارائن سنگھ
راجہ دیو نارائن سنگھ کے فرزند۔ بنارس میں ملازمت کے دوران سرسید کے ان سے خاص مراسم ہوگئے تھے۔ 13 جولائی 1872ء کو سرسید کی الوداعی تقریب میں انگریزی ایڈریس راجہ شمبھو نارائن نے ہی پڑھا تھا۔ علی گڑھ میں 8 جنوری 1877ء کو ایم اے او کالج کے سنگ بنیاد کے موقع پر وہ تشریف لائے اور اپنے والد کی یاد میں بورڈنگ ہاؤس کے لیے بڑا مالی تعاون کیا۔ وہ سرسید کی قائم کردہ ’یونائٹیڈ انڈین پیٹریاٹک ایسوسی ایشن‘ کے بھی ممبر رہے۔
.jpg)
8. راجہ شیو پرشاد (1823ء–1895ء)
ہندی تحریک کے اہم رکن اور محکمہ تعلیم سے وابستہ شخصیت، جنہیں 'راجہ شیو پرشاد ستارہئ ہند' بھی کہا جاتا ہے۔ 1872ء میں انہوں نے مجوزہ کالج کے لیے ایک ہزار روپیہ چندہ دینے کا کہا لیکن اس کے ساتھ الہ آباد میں کالج کے قیام کی شرط رکھی، جسے سرسید نے قبول نہیں کیا۔ بعد میں حالات کی ترقی پر انہوں نے یہ چندہ کالج کو عنایت کیا۔ سرسید نے ان کے انتقال پر گزٹ میں ایک تعزیتی نوٹ تحریر کیا۔
9. بابو فتح نارائن سنگھ
بنارس کے رئیس اور مہاراجہ بنارس کے رشتہ دار۔ بابو فتح نارائن سنگھ بنارس انسٹی ٹیوٹ کی سرگرمیوں کو پروان چڑھانے میں اہم کردار ادا کرتے رہے اور طویل عرصہ تک اس کے نائب صدر اور پھر صدر رہے۔ بنارس میں سرسید کے متعلقین میں سے تھے اور سرسید نے اپنا پہلا لیکچر "اہل ہند کی ترقی و تربیت" انہی کے گھر پر دیا تھا۔
10. بھارتیندو ہریش چندر (1850ء–1885ء)
جدید ہندی نثر اور ناٹک کے معمار۔ اردو کے سلسلے میں ہریش چندر کا شمار سرسید کے مخالفین میں ہوتا ہے، تاہم سرسید سے ان کے علمی روابط بھی تھے اور وہ سائنٹفک سوسائٹی کے رکن (نمبر 505) تھے۔ سرسید نے ان کے مدرسے کی تعریف کی اور مضامین کو علی گڑھ انسٹی ٹیوٹ گزٹ میں جگہ دی۔ سرسید اکیڈمی میں ان کا ایک خط محفوظ ہے جو انہوں نے مدرستہ العلوم میں سنسکرت کی تعلیم کے نصاب کے سلسلے میں تحریر کیا تھا۔
11. ڈاکٹر ولیم روئے ہوپر (1837ء–1921ء)
بنارس کے سول سرجن اور میڈیکل سروس سے وابستہ تھے۔ جب 1867ء میں بنارس میونسپلٹی کمیٹی بنی تو وہ اس کے ممبر بنے اور شہر کی صحت کی حالت بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ 1876ء میں ان کی نگرانی میں پرنس آف ویلس اسپتال کی تعمیر کا کام شروع ہوا، جس کی مالی معاونت مہاراجہ آف بنارس اور سرسید احمد خاں نے کی۔ سرسید نے 1881ء میں اسپتال کے افتتاح کے وقت ڈاکٹر ہوپر کی خدمات اور جوش و خروش کا خصوصی اعتراف کیا۔
12. والٹر اسمتھ
بنارس کے سوداگر اور سرسید کے قریبی ساتھی۔ جنوری 1868ء میں سائنٹفک سوسائٹی کے ممبر بنے اور سوسائٹی کو نقد رقم کے ساتھ ساتھ قیمتی شیشہ آلات بھی عنایت کیے۔ ہومیوپیتھک اسپتال کمیٹی کے بھی ممبر رہے۔ یکم اپریل 1867ء کو بنارس ریلوے اسٹیشن سے سرسید کو لندن کے سفر کے لیے رخصت کیا اور سید محمود کو سونے کی گھڑی تحفہ میں پیش کی۔ کالج کی تعمیر کے لیے بھی انہوں نے چندہ دیا۔
13. مہاراجہ بہادر وزیانگرام (1826ء–1879ء)
آندھرا کی شاہی ریاست وزیانگرام کے مہاراجہ، جنہوں نے تعلیمی اور فلاحی کاموں میں پورے ہندوستان میں فراخدلی سے خرچ کیا۔ بنارس میں ان کی فیاضی کے گہرے اثرات تھے۔ انہوں نے علی گڑھ کے مدرستہ العلوم میں لائق طلبہ کے لیے سالانہ دوامی اسکالر شپ مقرر کی۔ ان کے انتقال پر سرسید نے علی گڑھ انسٹی ٹیوٹ گزٹ میں گہرے رنج و تعزیت کا اظہار کیا۔
14. رائے نرائن داس (متوفی 1879ء)
بنارس کے سب سے امیر کبیر بینکر اور سودی بینک کے کاروبار سے وابستہ۔ اگست 1867ء میں سائنٹفک سوسائٹی کے ممبر بنے اور فلاحی کاموں کے ساتھ ہومیوپیتھک اسپتال میں بھی چندہ دیا۔ ان کے انتقال (18 دسمبر 1879ء) پر سرسید نے علی گڑھ انسٹی ٹیوٹ گزٹ میں افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ان کی خاندانی شرافت اور حیثیت کو خراج تحسین پیش کیا۔

51. باپو دیو شاستری (1821ء–1890ء)
مہاراشٹر کے رہنے والے اور سنسکرت و فلکیات کے بڑے عالم۔ وہ سنسکرت کالج بنارس میں ریاضی اور فلکیات کے استاد مقرر ہوئے۔ باپو دیو شاستری بنارس انسٹی ٹیوٹ کے جلسوں میں شریک ہوتے جہاں سرسید سے ملاقاتیں ہوتی تھیں۔ ان کی علمی صلاحیتوں اور تصانیف کو سرسید نے علی گڑھ انسٹی ٹیوٹ گزٹ میں بھرپور پذیرائی بخشی تھی۔
بنارس کے اس سات سالہ طویل قیام کے دوران سرسید نے مذہب و ملت کی تفریق سے بالاتر ہو کر ہندوستانی سماج کی فلاح و بہبود، سائنسی و ادبی بیداری اور تعلیمی اداروں کے قیام کے لیے جن شخصیات کو اپنے ساتھ جوڑا، ان میں مذکورہ بالا غیر مسلم شخصیات کا کردار انتہائی کلیدی اور تاریخی اہمیت کا حامل ہے۔ ان بااثر شخصیات نے نہ صرف بنارس میں سرسید کے فلاحی پروجیکٹس کو کامیاب بنایا بلکہ آگے چل کر علی گڑھ تحریک اور ایم اے او کالج کے قیام میں بھی دل کھول کر مالی و اخلاقی تعاون فراہم کیا۔
مصنف اسسٹنٹ پروفیسر/ ماس کمیونی کیشن، منگلایتن یونیورسٹی، علی گڑھ ہیں