خلیفہ عبدالحکیم: بھگوت گیتا کا اردو ترجمہ کرنے والا مسلم فلسفی پاکستان میں کیوں فراموش ہوگیا؟

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 24-10-2026
خلیفہ عبدالحکیم: بھگوت گیتا کا اردو ترجمہ کرنے والا مسلم فلسفی پاکستان میں کیوں فراموش ہوگیا؟
خلیفہ عبدالحکیم: بھگوت گیتا کا اردو ترجمہ کرنے والا مسلم فلسفی پاکستان میں کیوں فراموش ہوگیا؟

 



عامر سہیل وانی

خلیفہ عبدالحکیم ایک ممتاز فلسفی۔ محقق۔ مترجم اور اسلامی فکر کے شارح تھے جنہیں آج بڑی حد تک فراموش کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے اسلام کو فلسفے۔ جدید علوم۔ انسان دوستی اور دوسری فکری و مذہبی روایات کے ساتھ بامعنی مکالمے میں شامل کرنے کی کوشش کی۔ ان کا یقین تھا کہ ایمان انسانیت کے بارے میں ہماری سمجھ کو مزید گہرا بنانا چاہیے۔ اس کے باوجود پاکستان میں جہاں انہوں نے اپنی زندگی کا ایک اہم حصہ گزارا ان کی علمی میراث کو مرکزی تعلیمی نظام اور عوامی مباحث میں وہ مقام نہیں مل سکا جس کی وہ مستحق تھی۔1893 میں لاہور میں پیدا ہونے والے خلیفہ عبدالحکیم نے فلسفے کی تعلیم حاصل کی اور جرمنی کی ہائیڈل برگ یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ انہوں نے حیدرآباد کی عثمانیہ یونیورسٹی میں تدریسی خدمات انجام دیں۔ سری نگر کے امر سنگھ کالج کے پرنسپل رہے اور کشمیر میں ڈائریکٹر تعلیم کے عہدے پر بھی فائز ہوئے۔

بعد میں وہ لاہور واپس آئے اور 1950 میں ادارہ ثقافت اسلامیہ کے بانی ڈائریکٹر بنے۔ وہ محض مذہبی موضوعات پر تبصرہ کرنے والے دانشور نہیں تھے بلکہ ایک ممتاز ماہر تعلیم اور محقق تھے جو مختلف علمی روایات کا مطالعہ تحقیق۔ تقابلی جائزے اور فلسفیانہ غور و فکر کی بنیاد پر کرتے تھے۔خلیفہ عبدالحکیم کی شخصیت کو خاص اہمیت ان کے اس تصور نے دی کہ اسلام ایک زندہ علمی اور اخلاقی روایت ہے۔ وہ مذہب کو محض ایسے نعروں کا مجموعہ نہیں سمجھتے تھے جنہیں بار بار دہرایا جائے یا ایسی سرحدوں کا نام نہیں دیتے تھے جن کا مسلسل محاذ آرائی کے ذریعے دفاع کرنا ضروری ہو۔ان کے نزدیک اسلامی فکر کو بدلتے ہوئے معاشروں۔ معاشی ناانصافی۔ انسانی آزادی اور جدید زندگی کے مسائل سے پیدا ہونے والے سوالات کا سامنا کرنا چاہیے۔

ان کی کتاب اسلامی نظریہ میں اسلام کے بنیادی عقائد اور اصولوں کو عملی زندگی کے تقاضوں سے جوڑنے کی کوشش کی گئی۔ اسی طرح ان کی تصنیف اسلام اور اشتراکیت میں سماجی انصاف اور معاشی نظام سے متعلق سوالات کا جائزہ لیا گیا۔مولانا رومی اور علامہ اقبال پر ان کی تحریریں مسلم فکری روایت کی فلسفیانہ گہرائی کو نمایاں کرتی ہیں۔ ان کی دلچسپی صرف اس بات میں نہیں تھی کہ مسلمان کن عقائد پر یقین رکھتے ہیں بلکہ وہ یہ بھی جاننا چاہتے تھے کہ ان عقائد سے انسانی زندگی کو کیا فائدہ پہنچ سکتا ہے۔

 مذہبی شدت پسندی کے مقابلے میں علمی مکالمے کی اہمیت

آج کے مذہبی ماحول میں جہاں بلند آواز کو اکثر علم سمجھ لیا جاتا ہے اور مذہبی مباحث فوری فیصلوں اور دوسروں کو گمراہ قرار دینے کے رجحان سے متاثر ہوتے ہیں خلیفہ عبدالحکیم کی تحریریں غیر معمولی اہمیت اختیار کر جاتی ہیں۔تکفیر یعنی کسی دوسرے مسلمان کو کافر قرار دینے کا رجحان مذہبی اختلاف کو اس کشمکش میں تبدیل کر سکتا ہے کہ کس کے پاس یہ فیصلہ کرنے کا اختیار ہے کہ کون مسلمان ہے اور کون نہیں۔

اس تناظر میں خلیفہ عبدالحکیم کی کتاب اقبال اور ملا خاص طور پر اہم ہے۔اس کتاب میں انہوں نے مذہبی ظاہریت اور لفظی تعبیرات پر علامہ اقبال کی تنقید کو سامنے رکھتے ہوئے ایک بڑے مسئلے کی نشاندہی کی۔ وہ مسئلہ یہ تھا کہ مذہب کہیں جامد اصولوں اور سخت گیر تعبیرات تک محدود ہو کر اپنی تخلیقی اور اخلاقی روح سے محروم نہ ہو جائے۔علامہ اقبال خود بھی زندہ اور متحرک مذہبی فکر اور وراثت میں ملنے والی تعبیرات کے جمود کے درمیان موجود کشمکش سے نبرد آزما رہے تھے۔خلیفہ عبدالحکیم سمجھتے تھے کہ کوئی تہذیب محض اپنے ماضی کی عظمت اور کامیابیوں کا ذکر کرکے ترقی نہیں کر سکتی۔ اسے اپنے عہد کے سوالات کا سامنا کرنا اور نئے حالات میں اپنی فکری صلاحیتوں کو بروئے کار لانا ضروری ہے۔

سال1923 میں ہائیڈل برگ میں ڈاکٹر حکیم اپنی اہلیہ خدیجہ، جرمن آیا مونیکا اور شیر خوار بیٹے عارف حکیم کے ساتھ۔


بھگوت گیتا کا اردو ترجمہ اور مذہبی رواداری کی مثال

خلیفہ عبدالحکیم کی علمی جرات کی شاید سب سے نمایاں مثال ان کا بھگوت گیتا کا اردو ترجمہ ہے۔وہ ایک ایسے مسلمان فلسفی تھے جنہیں اسلامی فکر سے گہری دلچسپی تھی لیکن انہوں نے ہندو مذہب کی ایک بنیادی مقدس کتاب کا مطالعہ اور اسے اردو قارئین تک پہنچانا بھی اہم سمجھا۔یہ کام محض زبان پر عبور رکھنے سے کہیں زیادہ علمی وسعت اور فکری کشادگی کا تقاضا کرتا تھا۔ان کا یہ ترجمہ اس تصور کو چیلنج کرتا ہے کہ اپنے مذہب سے وابستگی کے لیے دوسری تہذیبوں اور مذہبی روایات سے الگ تھلگ رہنا ضروری ہے۔یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ علمی تبادلہ اور مذہبی اتفاق دو مختلف چیزیں ہیں۔ایک مسلمان عالم بھگوت گیتا کا مطالعہ کیے بغیر ہندو بنے کر سکتا ہے اور اسی طرح ایک ہندو عالم قرآن مجید کا مطالعہ کرکے بھی اپنے مذہب پر قائم رہ سکتا ہے۔تقابلی مطالعے کا مقصد تمام مذہبی اختلافات کو ختم کرنا نہیں بلکہ انہیں زیادہ دیانت داری اور احترام کے ساتھ سمجھنا ہے۔خلیفہ عبدالحکیم کی علمی کاوش اسی امکان کی نمائندگی کرتی تھی۔ ان کا تصور ایسی آفاقی انسان دوستی پر مبنی تھا جس کی بنیاد مذہبی وابستگی پر قائم ہو اور جس میں انسان اپنے عقائد سے دستبردار ہوئے بغیر ایک دوسرے سے سیکھ سکیں۔

مذہبی شناخت اور دوسری تہذیبوں سے مکالمہ

یہی وہ پہلو ہے جو خلیفہ عبدالحکیم کی فکری میراث کو مذہبی شناخت کی تنگ نظر تعبیرات کے لیے ایک چیلنج بناتا ہے۔جب مذہبی شناخت کو دوسرے مذاہب اور تہذیبوں کی مسلسل مخالفت سے مشروط کر دیا جائے تو مختلف روایتوں کے درمیان رابطے قائم کرنے والا عالم بھی مشکوک دکھائی دینے لگتا ہے۔جب حب الوطنی کو ثقافتی یکسانیت کے مترادف سمجھ لیا جائے تو دوسری مذہبی روایات کی کتابوں کے تراجم کو قبول کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔اسی طرح جب مذہبی شناخت کو ایک مستقل دفاعی جنگ کے طور پر پیش کیا جاتا ہے تو انسانیت کے مشترکہ مسائل پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔خلیفہ عبدالحکیم کی علمی زندگی ان رجحانات کے مقابلے میں ایک مختلف راستہ پیش کرتی ہے۔

ان کی فکر یہ بتاتی ہے کہ اپنے مذہب پر پختہ یقین رکھنے کا مطلب یہ نہیں کہ انسان دوسرے مذاہب کی مقدس کتابوں۔ فلسفے یا ثقافتی ورثے سے خوف محسوس کرے۔بلکہ مذہبی اعتماد انسان کو دوسروں کے خیالات اور روایات کو سمجھنے کا حوصلہ بھی دے سکتا ہے۔

پاکستان میں خلیفہ عبدالحکیم کی علمی میراث کیوں نظرانداز ہوئی؟

پاکستان کی فکری اور سیاسی تاریخ کسی حد تک یہ سمجھنے میں مدد دیتی ہے کہ خلیفہ عبدالحکیم جیسے دانشوروں کی آوازیں مرکزی علمی مباحث سے کیوں دور ہوتی گئیں۔تاہم اس صورت حال کی تمام ذمہ داری مذہبی علما پر ڈال دینا درست نہیں ہوگا۔پاکستان کی تعلیمی ترجیحات۔ سیاسی عدم استحکام۔ نظریاتی دباؤ اور انسانی علوم کے ساتھ عوامی سطح پر محدود وابستگی نے بھی آزادانہ تحقیق اور فکری سرگرمیوں کی پذیرائی کو متاثر کیا ہے۔مذہبی قوم پرستی نے مختلف ادوار میں ثقافتی وابستگی کی نسبتاً محدود تعبیر کو فروغ دیا۔ریاست اور معاشرے کے لیے اکثر یہ زیادہ آسان رہا کہ وہ مسلم شناخت کی چند منتخب علامتوں کو نمایاں کریں بجائے اس کے کہ ایک متنوع علمی روایت کے اندر مشکل اور سنجیدہ مکالمے کو برقرار رکھنے کی کوشش کریں۔

یہی وجہ ہے کہ خلیفہ عبدالحکیم جیسے دانشوروں کی فکر کو وہ توجہ نہیں مل سکی جس کی وہ مستحق تھی۔اسلام صرف مذہبی شناخت نہیں بلکہ سماجی ذمہ داری بھی ہے-عصر حاضر کے مذہبی مباحث میں اکثر انفرادی طرز عمل۔ مذہبی شناخت کی ظاہری علامتوں اور مذہبی حدود کی نگرانی پر بہت زیادہ توجہ دی جاتی ہے۔ان موضوعات کی اپنی اہمیت ہو سکتی ہے لیکن یہ غربت۔ عدم مساوات۔ تعلیم۔ معاشی استحصال اور اقتدار کے اخلاقی تقاضوں جیسے بنیادی مسائل پر سنجیدہ غور و فکر کا متبادل نہیں بن سکتے۔خلیفہ عبدالحکیم کی تحریریں مسلمانوں کو اس بات پر غور کرنے کی دعوت دیتی ہیں کہ ان کے مذہبی اصول معاشرتی اداروں کی تشکیل اور لوگوں کے مادی حالات کو بہتر بنانے میں کس طرح کردار ادا کر سکتے ہیں۔ان کے نزدیک مذہبی زندگی محض ایمان کے اعلانیہ اظہار کا نام نہیں تھی بلکہ اس کے لیے عام انسانوں کے حالات زندگی کے بارے میں حقیقی فکر اور عملی ذمہ داری ضروری تھی۔وہ چاہتے تھے کہ مذہبی فکر انسانی زندگی کے حقیقی مسائل سے جڑی رہے اور معاشرے میں انصاف اور بہتری پیدا کرنے کا ذریعہ بنے۔

 ڈاکٹر حکیم کےغیر مطبوعہ مسودے کو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر خسرو نے پاکستان کے دورے کے دوران حاصل کیا تھا، جسےصنعت کار فیرودیا کے تعاون سے شائع کرایا۔ کتاب کی رسمِ اجرا کے موقع پر ڈاکٹر حکیم کے رشتہ داروں کو دہلی مدعو کیا گیا تھا۔ اس تقریب میں ہندوستان کے وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی نے بھی شرکت کی۔تصویر میں بائیں سے دائیں مسٹر فیرودیا۔ وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی۔ ڈاکٹر حکیم کی صاحبزادی ڈاکٹر رافعہ حسن۔ مسز فیروڈیا۔ پروفیسر خسرو۔ پاکستان کے ہائی کمشنر جہانگیر قاضی اور ڈاکٹر نوید حسن موجود ہیں۔


جنوبی ایشیا کو خلیفہ عبدالحکیم جیسے مفکرین کی ضرورت

آج جنوبی ایشیا میں خلیفہ عبدالحکیم کی فکری خدمات پر دوبارہ توجہ دینے کی خاص ضرورت ہے۔یہ خطہ معاشی مشکلات۔ سماجی تقسیم۔ فرقہ وارانہ بداعتمادی اور اختلاف رائے کو دشمنی سمجھنے کے بڑھتے ہوئے رجحان کا سامنا کر رہا ہے۔ان مسائل کا حل نہ تو مذہب کو ترک کرنے میں ہے اور نہ ہی اسے دوسروں کو خارج کرنے کا ذریعہ بنانے میں۔اس کے لیے مذہبی روایات کی زیادہ وسیع اور گہری تفہیم ضروری ہے۔ ایسی تفہیم جو روحانی گہرائی۔ عقلی تحقیق۔ اخلاقی ذمہ داری اور انسانی حالات کے لیے ہمدردی کو یکجا کرے۔خلیفہ عبدالحکیم کی تحریریں اس مقصد کے لیے اہم فکری وسائل فراہم کرتی ہیں۔ان کی مثال یہ بھی یاد دلاتی ہے کہ مسلم فکری تاریخ اس سے کہیں زیادہ متنوع ہے جتنی آج کے بعض مذہبی مباحث سے ظاہر ہوتی ہے۔مسلمانوں کے علمی ورثے میں فلسفی۔ سائنس داں۔ شاعر۔ فقہا۔ صوفیا اور مترجم شامل ہیں جنہوں نے مختلف تہذیبوں کے افکار سے مکالمہ کیا۔

مولانا رومی نے انسانی زندگی میں معنی اور مقصد کی تلاش کو اپنی فکر کا موضوع بنایا۔ علامہ اقبال نے جدید دور کے چیلنجوں سے فکری سطح پر مقابلہ کیا جبکہ خلیفہ عبدالحکیم نے فلسفیانہ تحقیق کو اپنے زمانے کے عملی مسائل سے جوڑنے کی کوشش کی۔اس وسیع اور زرخیز علمی روایت کو محض اس بحث تک محدود کر دینا کہ کون کس کو مسلمان کہنے یا نہ کہنے کا حق رکھتا ہے دراصل اسی روایت کو کمزور کرنا ہے جس کے دفاع کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔

اصل المیہ ایک فلسفی کی فراموشی نہیں

اس لیے اصل المیہ صرف یہ نہیں کہ پاکستان ایک اہم فلسفی کو فراموش کر چکا ہے۔اس سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ خلیفہ عبدالحکیم جیسے مفکرین کو نظرانداز کرنا عوامی مذہبی زندگی میں آزادانہ فکر کے لیے گنجائش پیدا کرنے کی ایک وسیع تر مشکل کی عکاسی کرتا ہے۔اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ ہر عالم کو ان کے نتائج یا نظریات سے اتفاق کرنا چاہیے۔سنجیدہ علمی روایات تنقید۔ بحث اور اختلاف رائے کے ذریعے ہی ترقی کرتی ہیں۔اصل مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب سنجیدہ اختلاف کے لیے ضروری ماحول ختم ہو جائے اور اس کی جگہ مذمت اور الزام تراشی لے لے۔جب تحقیق کی جگہ جذباتی خطابت اختیار کر لے اور جب مذہبی یقین کے بلند بانگ اظہار کو سمجھنے اور تحقیق کرنے کی صبر آزما کوشش سے زیادہ اہمیت دی جانے لگے تو علمی روایت کمزور ہونے لگتی ہے۔خلیفہ عبدالحکیم کی فکری میراث ہمیں اسی خطرے سے خبردار کرتی ہے اور یاد دلاتی ہے کہ مذہب کی حقیقی خدمت صرف اس کے دفاع میں نہیں بلکہ اس کی علمی۔ اخلاقی اور انسانی وسعت کو زندہ رکھنے میں بھی ہے۔