مکہ معاہدہ: کیا پاکستان سعودی عرب سے کیے گئے وعدے پورے کر سکے گا؟

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 14-10-2026
مکہ معاہدہ: کیا پاکستان سعودی عرب سے کیے گئے وعدے پورے کر سکے گا؟
مکہ معاہدہ: کیا پاکستان سعودی عرب سے کیے گئے وعدے پورے کر سکے گا؟

 



شنکر کمار

5 اکتوبر کو پاکستان ترکی اور سعودی عرب نے اگست کے اوائل میں طے پانے والے مکہ معاہدے کے تحت اپنے دفاعی اقدامات کو فعال کرنے پر اتفاق کیا۔ اس معاہدے کو فعال کرنے کے لیے پاکستان اور ترکی کی جانب سے سعودی عرب میں تیزی سے فوجی تعیناتی ضروری ہے تاکہ یمن کے حوثی باغیوں کے حملوں کا مقابلہ کیا جا سکے۔تاہم اس پیش رفت نے مشرق وسطیٰ کی صورت حال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ حوثی باغیوں نے سعودی عرب میں ڈرون اور میزائل حملوں میں شدت پیدا کر دی ہے جس کے نتیجے میں ہوائی اڈوں اور دیگر اہم بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا ہے۔ایسے حالات میں ایک اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا پاکستان ایران کے حمایت یافتہ اور جنگی تجربہ رکھنے والے حوثی باغیوں کا مقابلہ کر سکے گا جبکہ خود پاکستان اپنی سرزمین پر سرگرم مسلح شورش پسندوں پر قابو پانے کے لیے جدوجہد کر رہا ہے۔

پاکستان کے داخلی چیلنجز

بلوچستان ہو یا خیبر پختونخوا یا پھر پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر کا متنازع علاقہ۔ اسلام آباد کو ہر جگہ مایوسی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ بلوچ لبریشن آرمی (BLA) بلوچ لبریشن فرنٹ (BLF) بلوچ ریپبلکن آرمی (BRA) اور تحریک طالبان پاکستان (TTP) جیسے شورش پسند گروہ بار بار پاکستانی سکیورٹی فورسز کی عملی صلاحیتوں کو چیلنج کر چکے ہیں۔

پاکستانی مسلح افواج کے سرکاری ترجمان ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (ڈی جی آئی ایس پی آر) کے مطابق صرف 2025 میں بلوچستان اور پاکستان کے دیگر علاقوں میں شورش پسندوں کے خلاف کارروائیوں کے دوران 1,235 فوجی ہلاک ہوئے۔جنوبی ایشیا ٹیررازم پورٹل کے اعداد و شمار کے مطابق 2016 سے 2025 کے درمیان ملک کے مختلف حصوں میں شورش پسندوں کے خلاف کارروائیوں کے دوران پاکستانی سکیورٹی فورسز کے 4,100 سے زیادہ اہلکار مارے گئے۔ یہ اعداد و شمار واضح کرتے ہیں کہ پاکستان کو مسلح شورش پسندوں کے خلاف سخت جدوجہد کا سامنا ہے۔ اس مسئلے کو مزید سنگین بنانے والی بات یہ ہے کہ پاکستان نے طالبان کے زیر اقتدار افغانستان کے خلاف بھی ایک محاذ کھول رکھا ہے۔

گزشتہ 5 برسوں کے دوران پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر ہونے والی جھڑپوں میں دونوں ممالک کی مسلح افواج کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ اسلام آباد اور کابل کے درمیان کشیدگی بدستور برقرار ہے اور مستقبل قریب میں ان جھڑپوں کے خاتمے کے امکانات بہت کم دکھائی دیتے ہیں۔اس پس منظر میں اہم سوال یہ ہے کہ پاکستان کی پہلے سے دباؤ کا شکار اور فوجی صلاحیتوں کے حوالے سے مشکلات سے دوچار افواج حوثی باغیوں کے خلاف دفاعی کارروائیوں کو کس طرح مضبوط بنا سکیں گی۔ اس کے ساتھ یہ جانچنا بھی ضروری ہے کہ سعودی عرب کو اپنی سرزمین پر پاکستانی فوجیوں کی تعیناتی کی اجازت دینے سے کوئی فوجی فائدہ حاصل ہوا ہے یا نہیں۔

چند روز قبل سی این این کو دیے گئے ایک انٹرویو میں لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا تھا کہ پاکستانی فوج کئی دہائیوں سے سعودی عرب میں مختلف شعبوں اور دفاعی صلاحیتوں کے تحت موجود ہے۔ احمد شریف چوہدری ڈی جی آئی ایس پی آر کے عہدے پر فائز ہیں۔گزشتہ سال ستمبر میں اسلام آباد اور ریاض نے اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ اس معاہدے کے تحت دونوں ممالک نے عہد کیا تھا کہ کسی ایک ملک کے خلاف جارحیت کو دونوں ممالک کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا۔اس کے باوجود یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ مارچ 2026 سے حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی عرب پر مسلسل حملوں کے دوران پاکستانی فوج خاموش تماشائی کیوں بنی رہی۔ ہوائی اڈوں سے لے کر اہم تیل پائپ لائنوں ریفائنریوں بحری جہازوں اور دیگر اہم بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے والے حوثی حملوں نے سعودی عرب کی سلامتی کے لیے ایک بڑا چیلنج پیدا کر دیا ہے۔

ایران کا عنصر

نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ مکہ معاہدے کے فعال ہونے کے بعد پاکستانی فضائیہ کے لڑاکا طیارے یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف حملوں میں حصہ لے رہے ہیں۔ اسی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ تقریباً 8,000 پاکستانی فوجی سعودی عرب میں تعینات ہیں۔تاہم پاکستان نے فوری طور پر ایک بیان جاری کرتے ہوئے اس دعوے کی سختی سے تردید کی کہ اس کے لڑاکا طیارے یمن میں حوثیوں کے میزائل اور ڈرون ٹھکانوں پر حملوں میں حصہ لے رہے ہیں۔

پاکستان کی یہ تردید اپنے اندر بہت سے اشارے رکھتی ہے۔ اسلام آباد حوثی باغیوں کے ساتھ براہ راست تصادم میں الجھنا نہیں چاہتا کیونکہ اس سے اس کے اپنے مفادات متاثر ہو سکتے ہیں۔ پاکستان اس حقیقت سے واقف ہے کہ یمن میں سرگرم اس باغی گروہ کو تہران کی حمایت حاصل ہے۔حقیقت یہ ہے کہ اسلام آباد سعودی عرب کے ساتھ اچھے تعلقات برقرار رکھنا چاہتا ہے لیکن ساتھ ہی اسے اس تلخ جغرافیائی اور سیاسی حقیقت کا بھی احساس ہے کہ ایران اس کا ایک اہم پڑوسی ہے اور دونوں ممالک کے درمیان طویل زمینی سرحد موجود ہے۔

پاکستان جانتا ہے کہ یمن میں اس کی فوجی شرکت ایران کے ساتھ کشیدگی کو بڑھا سکتی ہے جس کے اثرات پاکستان کے داخلی حالات پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ پاکستان کی آبادی میں شیعہ مسلمانوں کا تناسب تقریباً 10 سے 15 فیصد بتایا جاتا ہے۔ دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان تصادم کی صورت میں شیعہ آبادی کے بعض حلقے تہران کی حمایت کر سکتے ہیں۔ اگر ایسا ہوا تو پاکستان میں داخلی بے چینی اور بدامنی پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔یہی وجہ تھی کہ پاکستان نے 2015 میں سعودی عرب کی قیادت میں قائم اسلامی فوجی اتحاد برائے انسداد دہشت گردی (IMCTC) کا حصہ ہونے کے باوجود یمن میں حوثی باغیوں کی پیش قدمی روکنے کے لیے سعودی عرب کی فوجی مدد کی اپیل قبول نہیں کی تھی۔ پاکستان کی پارلیمنٹ نے مغربی ایشیا کے اس ملک میں سعودی قیادت میں ہونے والی فوجی مداخلت میں شامل ہونے کے خلاف ووٹ دیا تھا۔

معاہدے کے مقاصد پر سوالات

موجودہ صورت حال میں مکہ معاہدے کی افادیت پر سوال اٹھنا فطری ہے۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ یہ معاہدہ اسے جارحانہ فوجی کارروائیوں کا پابند نہیں بناتا بلکہ اس کی نوعیت مکمل طور پر دفاعی ہے۔اگر پاکستان اپنی ذمہ داریوں کو دفاعی تعاون انٹیلی جنس کے تبادلے اور اہم بنیادی ڈھانچے کے تحفظ تک محدود رکھتا ہے تو بھی یہ معاہدہ ریاض کے لیے اہم فوائد فراہم کر سکتا ہے۔ لیکن صورت حال اس کے برعکس دکھائی دیتی ہے کیونکہ اسلام آباد حوثی باغیوں کے خلاف کسی بھی مؤثر کردار کے لیے درکار اسٹریٹجک قیمت ادا کرنے کو تیار نظر نہیں آتا۔سعودی عرب پر حوثی باغیوں کے مسلسل میزائل اور ڈرون حملے اس صورت حال کی واضح عکاسی کرتے ہیں۔بنیادی سوال یہی ہے کہ کیا مکہ معاہدہ سعودی عرب کو قابل اعتماد سکیورٹی ضمانتیں فراہم کر سکے گا جبکہ پاکستان کسی وسیع تر تصادم کا خطرہ مول لینے سے گریز کر رہا ہے۔