احسان فاضلی۔ سری نگر
سری نگر کے گنجان آباد علاقے زدیبل میں صدیوں پرانی خانقاہِ میر شمس الدین عراقی واقع ہے۔ یہ خانقاہ ممتاز عالم دین اور روحانی شخصیت میر شمس الدین عراقی سے منسوب ہے۔ وہ 16ویں صدی کے آغاز میں پہلے سفیر کی حیثیت سے اور بعد میں مبلغ کی حیثیت سے کشمیر آئے تھے۔مرکزی زدیبل امام باڑے سے پیدل تھوڑی ہی دوری پر واقع یہ خانقاہ ایک بلند مقام پر قائم ہے۔ اس کے مشرق میں ہری پربت قلعے پر صوفی بزرگ شیخ حمزہ مخدوم کی خانقاہ اور مزار واقع ہے۔خانقاہ کے احاطے میں موجودہ خانقاہ کی عمارت اور میر شمس الدین عراقی کا مزار شامل ہے۔ اس کے اطراف میں ان کے اہل خانہ اور اولاد کے علاوہ ان کے پیروکاروں کی قبریں بھی موجود ہیں۔
موجودہ خانقاہ کی عمارت دو دہائیوں سے کچھ زیادہ عرصہ قبل تعمیر نو کے بعد قائم کی گئی تھی۔ اس سے پہلے بھی مختلف ادوار میں اس کی کئی بار تعمیر نو ہو چکی ہے۔مقامی نگراں افراد کے مطابق جدید طرز پر تعمیر کی گئی خانقاہ کی موجودہ عمارت کو محرم کے ایام سمیت اہم مواقع پر عقیدت مندوں کے لیے کھولا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اپنے قیام کے بعد گزشتہ 5 صدیوں کے دوران خانقاہ کو 11 مرتبہ آگ لگنے کے واقعات میں نقصان پہنچا ہے۔
خانقاہِ زدیبل کا داخلی دروازہ
جموں و کشمیر حکومت کے محکمہ سیاحت کی جانب سے مزار کی عمارت کی مرمت اور تزئین و آرائش کے ساتھ زائرین اور سیاحوں کے لیے بہتر سہولتیں فراہم کرنے کا کام جاری ہے۔ تاہم یہ کام سست رفتاری سے آگے بڑھ رہا ہے۔زیادہ تر شیعہ برادری سے تعلق رکھنے والے عقیدت مند روزانہ یہاں آتے ہیں اور مزار پر خصوصی دعائیں کرتے ہوئے روحانی فیض حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔خانقاہ کے احاطے میں متعدد قدیم پتھر اور تاریخی آثار بکھرے ہوئے ہیں۔
ان میں بعض کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ قبروں کے کتبے یا یادگاری تختیاں ہیں جن پر عربی زبان میں اشعار اور عبارتیں کندہ ہیں۔ ان تاریخی آثار کے تحفظ اور انہیں محفوظ طریقے سے رکھنے کے لیے مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔خانقاہ کی دیکھ بھال انجمنِ شرعی شیعہ جموں و کشمیر کرتی ہے۔
_P9E_(35).webp)
_P9E_(34).webp)
جموں و کشمیر ہائی کورٹ کے سابق جج اور مصنف جسٹس (ریٹائرڈ) حکیم امتیاز حسین نے آواز دی وائس سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حضرت میر محمد شمس الدین عراقیؒ 15ویں صدی کی ممتاز روحانی شخصیات میں شامل تھے۔ دینی علوم اور روحانی معرفت کے علاوہ تصوف کے میدان میں بھی انہیں نمایاں مقام حاصل تھا۔ان کے بقول اپنی علمی گہرائی روحانی کمالات اور تبلیغی سرگرمیوں کے ذریعے انہوں نے کشمیر کی مذہبی اور ثقافتی تاریخ پر گہرے نقوش چھوڑے۔جسٹس (ریٹائرڈ) حکیم امتیاز حسین لکھتے ہیں کہ میر شمس الدین عراقیؒ کی پیدائش 833 ہجری یعنی 1429 عیسوی میں ایران کے علاقے سلوقان کے مضافات میں واقع قند گاؤں میں ہوئی۔
ان کا اصل نام محمد تھا۔ ان کے روحانی مرشد حضرت شاہ قاسم فیض بخشؒ نے انہیں میر شمس الدین کا لقب عطا کیا جس کا مطلب ہے دین کا سورج۔ بعد میں وہ میر شمس الدین عراقی کے نام سے مشہور ہوئے۔اس روحانی شخصیت کو عام طور پر میر شمس الدین عراقی کہا جاتا ہے۔ ان کے نام کے ساتھ عراقی کا لفظ ایران میں ان کے جائے پیدائش کے علاقے اراک کی نسبت سے جڑا ہے۔جسٹس حکیم امتیاز حسین کے مطابق حضرت نوربخشؒ کے انتقال کے بعد 869 ہجری میں میر شمس الدین عراقی نے روحانی کمال کے حصول کی اپنی کوششیں دوبارہ شروع کیں اور باضابطہ طور پر سلسلہ نوربخشیہ کے ممتاز مریدوں میں شامل ہوگئے۔
خانقاہِ زدیبل کے احاطے میں موجود قدیم نقش و نگار والے پتھر
میر شمس الدین عراقی کو کشمیر میں سلسلہ نوربخشیہ کا بانی سمجھا جاتا ہے۔ یہ سلسلہ صوفی سلسلے کبرویہ کی ایک شاخ ہے۔ کشمیر میں قیام کے دوران انہوں نے سری نگر کے زدیبل علاقے میں مشہور خانقاہِ نوربخشیہ قائم کی جو آگے چل کر کشمیر کے بڑے اور بااثر صوفی مراکز میں شمار ہونے لگی۔جسٹس (ریٹائرڈ) حکیم امتیاز حسین اس عام تاثر سے اختلاف کرتے ہیں کہ میر شمس الدین عراقی کشمیر میں شیعیت کے بانی تھے۔ ان کے مطابق تاریخی شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ میر شمس الدین عراقی کی آمد سے بہت پہلے متعدد شیعہ علما مبلغین اور مذہبی شخصیات کشمیر پہنچ چکی تھیں اور وہاں مکتبِ اہل بیت یعنی امامیہ مسلک کی تعلیمات متعارف کرا چکی تھیں۔میر شمس الدین عراقی کی آمد کو کشمیر میں تیسرے صوفی بزرگ کی آمد کے طور پر بھی دیکھا جاتا ہے۔
ان سے پہلے 14ویں صدی کی پہلی سہ ماہی میں سید شرف الدین المعروف بلبل شاہ اور اسی صدی کے دوسرے نصف میں میر سید علی ہمدانی المعروف شاہِ ہمدان کشمیر تشریف لائے تھے۔جسٹس حکیم امتیاز حسین کے مطابق میر شمس الدین عراقی پہلی مرتبہ 888 ہجری یعنی 1483 عیسوی میں کشمیر آئے۔ ان کے اس سفر کا مقصد اپنے روحانی مرشد شاہ قاسم فیض بخش کی ہدایت پر دواؤں میں استعمال ہونے والی جڑی بوٹیوں اور نایاب طبی پودوں کی تلاش تھا۔ یہ پودے سلطان حسین خراسان کے علاج کے لیے درکار تھے جن کا علاج شاہ قاسم فیض بخش کی نگرانی میں ہو رہا تھا۔کشمیر پہنچنے پر میر شمس الدین عراقی نے دیکھا کہ وادی پہلے ہی کبرویہ صوفی سلسلے کا ایک اہم مرکز بن چکی تھی۔ اس سلسلے کو میر سید علی ہمدانی کے پیروکاروں نے یہاں فروغ دیا تھا۔
_P9E_(38).webp)
_P9E_(37).jpg)
مزار کے اندر نصب میر شمس الدین عراقی کی زندگی اور خدمات سے متعلق کتبے
چونکہ میر شمس الدین عراقی خود بھی اسی وسیع روحانی سلسلے سے وابستہ تھے اس لیے انہوں نے کشمیر کے ممتاز صوفی علما اور روحانی رہنماؤں کے ساتھ قریبی تعلقات قائم کیے۔ اس دوران انہوں نے مریدوں کی تربیت روحانی تعلیم اور صوفی اداروں کو منظم کرنے پر توجہ دی۔ تقریباً 8 سال کشمیر میں قیام کے بعد وہ خراسان میں اپنے روحانی مرشد کے پاس واپس چلے گئے۔چھ عرصے بعد وہ دوبارہ کشمیر آئے اور دین کی تبلیغ کا کام شروع کیا۔ انہوں نے بڑی تعداد میں لوگوں کی روحانی تربیت کی اور انہیں روحانی ترقی کے اعلیٰ مدارج تک پہنچنے میں مدد دی۔انہوں نے خانقاہوں میں شاہِ ہمدان سے منسوب اورادِ فتحیہ پڑھنے والوں کی رہنمائی کی اور درویشوں کی تربیت کا سلسلہ بھی جاری رکھا۔
اس کے ساتھ ہی انہوں نے کشمیر میں اسلام کی تجدید اور فروغ کے لیے نمایاں کام کیا۔ وہ دینِ حق کی سربلندی اور حق کے پیغام کی تبلیغ کے لیے سرگرم رہے۔انہوں نے بے شمار لوگوں کو دین کے بنیادی اصولوں اور شریعت کی تعلیمات سے روشناس کرایا۔ ان کی دیگر خدمات میں کشمیر کے مختلف مقامات پر مساجد اور خانقاہوں کی تعمیر بھی شامل تھی۔جسٹس (ریٹائرڈ) حکیم امتیاز حسین کے مطابق میر شمس الدین عراقی کا انتقال عام طور پر 932 ہجری یعنی 1525 عیسوی میں بتایا جاتا ہے۔ انہیں سری نگر کے زدیبل علاقے میں ان کی اپنی خانقاہ میں دفن کیا گیا۔
تاہم بعد کے زمانے میں جب بیرونی حملہ آور مرزا حیدر دُغلات نے وادی کشمیر بالخصوص سری نگر میں بدامنی بغاوت اور فرقہ وارانہ کشیدگی کو ہوا دی تو ایک روایت سامنے آئی کہ میر شمس الدین عراقی کے جسد خاکی کو زدیبل سے چاڈورہ منتقل کرکے وہاں دفن کیا گیا تھا۔ بعد میں اسی مقام پر ان کا مزار بھی تعمیر کیا گیا۔جسٹس حکیم امتیاز حسین کے مطابق میر شمس الدین عراقی کی تدفین کے مقام سے متعلق یہ روایت بعد کے ادوار میں مشہور ہوئی۔