راجیو نارائن
دفاع اور جدید ٹیکنالوجی سے لے کر تجارت اور سرمایہ کاری تک ہندوستان اور اسرائیل نے ایک مضبوط شراکت داری قائم کی ہے۔ لیکن اسرائیل میں سیاسی غیر یقینی صورت حال اور خطے میں جاری کشیدگی کے درمیان ہندوستان کو اسٹریٹجک مواقع اور عرب دنیا کے ساتھ اپنے تعلقات کے درمیان توازن قائم رکھنا ہوگا۔ اس کے ساتھ ہی اسے فلسطینی ریاست کے قیام کی اپنی حمایت کو بھی برقرار رکھنا ہوگا۔
مون سون کی ناکامی سے پریشان ایک کسان ہو یا پانی کی قلت سے دوچار کوئی شہر یا سائبر جرائم پیشہ افراد سے آگے نکلنے کی کوشش کرتا ہوا کوئی کاروبار یا مستقبل کے خطرات سے نمٹنے کی تیاری کرتا ہوا کوئی دفاعی منصوبہ ساز، بظاہر ان سب کے مسائل ایک دوسرے سے مختلف دکھائی دیتے ہیں۔ لیکن ان چاروں کا تعلق ہندوستان کے ایک اہم عالمی رشتے سے ہوسکتا ہے اور وہ ہے اسرائیل کے ساتھ اس کے بڑھتے ہوئے تعلقات۔ اس شراکت داری کی اہمیت اس وقت مزید بڑھ گئی ہے جب اسرائیل میں انتخابات کے غیر فیصلہ کن نتائج کے باعث نئی حکومت کی سیاسی سمت غیر واضح ہوگئی ہے۔
کئی دہائیوں تک ہندوستان اور اسرائیل کے تعلقات کو دفاع اور سلامتی کے تناظر میں دیکھا جاتا رہا ہے۔ یہ اب بھی اس شراکت داری کا ایک اہم ستون ہے لیکن اب پوری تصویر یہی نہیں ہے۔ گزشتہ تین دہائیوں کے دوران دونوں ملکوں نے زراعت اور آبی وسائل کے انتظام سے لے کر سائبر سلامتی اور سائنسی تحقیق تک جدید ٹیکنالوجی کے مختلف شعبوں میں تعاون کو وسعت دی ہے۔
فروری 2026 میں وزیر اعظم نریندر مودی کے دورۂ اسرائیل نے اس تعلق کو نئی تقویت دی۔ اس موقع پر دونوں ملکوں نے اپنی شراکت داری کو امن اور سلامتی اور اختراع و خوش حالی کے لیے خصوصی اسٹریٹجک شراکت داری کا درجہ دیا۔ اس کا مقصد واضح ہے۔ دونوں ملک محض ٹیکنالوجی خریدنے کے بجائے اسے مشترکہ طور پر تیار کرنا چاہتے ہیں تاکہ ہندوستان کی ضروریات کے مطابق اسے ڈھالا جاسکے اور ایسی صلاحیتیں پیدا کی جاسکیں جو معاشی اور سماجی فوائد فراہم کریں۔
اس لیے اصل موقع صرف اسرائیلی مہارت حاصل کرنے میں نہیں بلکہ اسے ہندوستان کی اپنی صلاحیت میں تبدیل کرنے میں ہے۔ اس سے زراعت بہتر ہوسکتی ہے اور وسائل کا زیادہ مؤثر استعمال ممکن ہوسکتا ہے۔ اسی طرح تکنیکی صلاحیتوں میں اضافہ اور کاروبار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوسکتے ہیں۔ یہی وہ پہلو ہیں جو اسرائیل میں آخرکار کوئی بھی حکومت اقتدار میں آئے اس شراکت داری کو اقتدار کے ایوانوں سے باہر عام لوگوں کی زندگیوں کے لیے بھی اہم بنا سکتے ہیں۔
دوستی اور تجارت کا رشتہ
اس تعلق کو سرکاری معاہدوں اور سفارتی اعلانات سے آگے بڑھانے میں تجارت اور سرمایہ کاری کا اہم کردار ہوگا۔ مالی سال 2025-26 میں دونوں ملکوں کے درمیان اشیا کی دوطرفہ تجارت 3.93 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گئی۔ دونوں ممالک مجوزہ آزاد تجارتی معاہدے پر بھی بات چیت کررہے ہیں اور جولائی میں مذاکرات کا دوسرا دور مکمل ہوا۔ یہ پیش رفت تجارتی تعلقات کو وسعت دینے کی بنیاد فراہم کرتی ہے تاہم اس کے حقیقی فوائد کا انحصار معاہدے کی شرائط اور کاروباری اداروں کے لیے دستیاب مواقع پر ہوگا۔
ہندوستانی کمپنیوں کے لیے اسرائیل ٹیکنالوجی اور طبی آلات کے علاوہ زرعی اختراع اور آبی وسائل کے انتظام اور صنعتی پیداوار کے شعبوں میں مہارت کے حصول کا اہم ذریعہ ہے۔ دوسری جانب اسرائیلی کمپنیوں کے لیے ہندوستان ایک بڑی صارف منڈی ہے جہاں ڈیجیٹل معیشت تیزی سے ترقی کررہی ہے۔ یہاں صنعتی صلاحیت بھی موجود ہے اور سائنس و انجینئرنگ کے شعبوں میں تربیت یافتہ افراد کی بڑی تعداد بھی دستیاب ہے۔ اصل چیلنج ان مشترکہ خوبیوں کو متنوع تجارتی تعلقات میں تبدیل کرنا ہے۔ اگر تجارت صرف چند مخصوص مصنوعات تک محدود رہے تو دونوں معیشتوں کی مکمل صلاحیت سے فائدہ نہیں اٹھایا جاسکے گا۔مجوزہ تجارتی معاہدہ اہم ثابت ہوسکتا ہے لیکن معاہدہ بذات خود کامیابی نہیں ہوتا بلکہ کامیابی کا ذریعہ ہوتا ہے۔ اس کی افادیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جائے گا کہ آیا اس سے کاروبار کرنا آسان ہوتا ہے یا نہیں۔ کیا یہ سرمایہ کاری کو فروغ دیتا ہے اور کیا دونوں ملکوں کے عوام کو اس کے فوائد حاصل ہوتے ہیں۔
“India has good relations with Israel, will further strengthen ties.” - MEA on Israel elections https://t.co/P8bB3npMbR
— News Arena India (@NewsArenaIndia) October 28, 2026
خطے کے دوسرے ملکوں کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا
اس معاملے کا ایک اہم اسٹریٹجک پہلو بھی ہے جسے ہندوستان نظرانداز کرنے کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ اسرائیل اہم ہے لیکن وہ اس خطے کا صرف ایک ملک ہے جو ہندوستان کے معاشی اور سفارتی مفادات کے لیے انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔ خلیجی ممالک ہندوستان کو توانائی اور سرمایہ کاری کے ساتھ تجارت اور روزگار کے مواقع فراہم کرتے ہیں۔ مغربی ایشیا میں کشیدگی تیل کی قیمتوں اور بحری راستوں کے علاوہ رسدی سلسلوں کو بھی متاثر کرسکتی ہے۔ اسی لیے متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب اور قطر سمیت دیگر ممالک کے ساتھ ہندوستان کے بڑھتے ہوئے تعلقات اس کی خارجہ پالیسی کا کوئی ضمنی حصہ نہیں بلکہ اس کا بنیادی جزو ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ مجوزہ ہندوستان۔مشرق وسطیٰ۔یورپ اقتصادی راہداری سمیت مختلف رابطہ منصوبوں کی کامیابی سیاسی اختلافات سے بالاتر استحکام اور تعاون پر منحصر ہے۔ تنازعات کے ماحول میں اسٹریٹجک منصوبے پروان نہیں چڑھ سکتے۔ فلسطین کا مسئلہ اب بھی اس پورے معاملے کا مرکزی پہلو ہے۔ ہندوستان دو ریاستی حل کی حمایت کرتا رہا ہے جس کے تحت ایک خودمختار اور آزاد اور قابل عمل فلسطینی ریاست اسرائیل کے ساتھ امن و سلامتی کے ماحول میں قائم ہو۔
اس موقف کی حمایت کرنے کے لیے ہندوستان کو اسرائیل کے ساتھ اپنی شراکت داری ترک کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اسی طرح اسرائیل کے ساتھ شراکت داری کا مطلب یہ بھی نہیں کہ ہندوستان انسانی مصائب پر خاموش رہے یا مسئلے کے منصفانہ حل کے لیے اپنی حمایت کم کردے۔ اسرائیلی شہریوں کی سلامتی اور فلسطینیوں کے حقوق کو ایک دوسرے کے متضاد مقاصد سمجھنے کی ضرورت نہیں ہے۔
شراکت داری کے پس منظر میں سیاست
اس وسیع تر تناظر میں اسرائیل کے انتخابات اہمیت اختیار کرجاتے ہیں۔ غیر فیصلہ کن نتائج کے بعد بن یامین نیتن یاہو کی جماعت لیکوڈ سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری ہے لیکن کسی بھی اتحاد کو 120 رکنی کنیسٹ میں اکثریت کے لیے درکار 61 نشستیں حاصل نہیں ہوئیں۔ اب اتحاد بنانے کے لیے ہونے والے مذاکرات طے کریں گے کہ اگلی حکومت کی تشکیل کیسی ہوگی اور اس کی ترجیحات کیا ہوں گی۔انتخابی نتائج اہم ضرور ہیں لیکن ان کی وجہ سے ہندوستان اور اسرائیل کے تعلقات کی بنیادی نوعیت کو نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ دونوں ملکوں کے درمیان تعاون کی بنیاد مشترکہ سلامتی کے مفادات اور معاشی مواقع اور ادارہ جاتی روابط پر قائم ہے۔ اسرائیلی حکومت کی تشکیل بدلنے سے یہ بنیادیں ختم ہونے کا امکان کم ہے۔
ان انتخابات نے اسرائیل کے عرب شہریوں کی بڑھتی ہوئی سیاسی اہمیت کو بھی نمایاں کیا ہے۔ عرب قیادت والی جماعتوں نے ریکارڈ 19 نشستیں حاصل کی ہیں جس سے انہیں حکومت سازی کے مذاکرات میں اہم کردار ادا کرنے کا موقع مل سکتا ہے۔ تاہم یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا انتخابی کامیابی سے ان کی سیاسی نمائندگی میں اضافہ ہوتا ہے یا عوامی خدمات بہتر ہوتی ہیں یا پھر پالیسیوں میں کوئی ٹھوس تبدیلی آتی ہے۔
🇮🇳🇮🇱 A beautiful sight in Tel Aviv! Hindus in Israel were filmed heading to celebrate Dussehra, proudly practicing their faith in the Jewish state. https://t.co/Sak9kv0af6
— Hananya Naftali (@HananyaNaftali) October 25, 2026
وسیع تر تناظر میں دوستی
ہندوستان کے لیے اصل ضرورت یہ نہیں کہ وہ اسٹریٹجک شراکت داری اور مغربی ایشیا کے حوالے سے اپنی وسیع تر ذمہ داریوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرے۔ اصل ضرورت دونوں کو ساتھ لے کر چلنے کی ہے۔ اس کے لیے دفاع اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون اور تجارتی روابط کو مضبوط بنانے اور تحقیقی شراکت داری کو فروغ دینے کے ساتھ زراعت اور آبی سلامتی جیسے شعبوں میں تعاون جاری رکھنا ضروری ہے۔ اس کے ساتھ عرب ممالک سے مسلسل رابطہ برقرار رکھنے اور خطے میں موجود ہندوستانی شہریوں کے تحفظ اور اسرائیل فلسطین تنازع کے پرامن حل کی مستقل حمایت بھی لازمی ہے۔
اسرائیل کی سیاسی غیر یقینی صورت حال آنے والے مہینوں میں دونوں ملکوں کے تعاون کی رفتار اور سمت پر اثرانداز ہوسکتی ہے۔ اسی لیے ہندوستان کی اسٹریٹجک سوچ کسی ایک انتخابی دور یا وزیر اعظم کی مدت تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔ اصل امتحان یہ ہے کہ آیا یہ دوستی دونوں ملکوں کے لیے فائدہ مند نتائج پیدا کرسکتی ہے اور کیا ہندوستان مغربی ایشیا کے وسیع تر تناظر کو نظرانداز کیے بغیر اس تعلق کو برقرار رکھ سکتا ہے۔ اسٹریٹجک خودمختاری کا مطلب یہ نہیں کہ ہندوستان اپنے شراکت داروں سے دوری اختیار کرے۔
ہندوستان اور اسرائیل کے تعلقات کی مضبوطی کا اندازہ بیانات کی گرم جوشی سے نہیں بلکہ ان کے عملی نتائج سے لگایا جائے گا۔ اس کا اصل پیمانہ یہ بھی ہوگا کہ ہندوستان خطے کی مجموعی صورت حال کو سامنے رکھتے ہوئے اس شراکت داری کو کس حد تک آگے بڑھا سکتا ہے۔
مضمون نگار سینئر صحافی اور ابلاغ عامہ کے ماہر ہیں۔