اسلام اور مصنوعی ذہانت: کیا اے آئی قرآن کے مطالعے، فتویٰ اور روزمرہ دعاؤں میں ہماری رہنمائی کر سکتی ہے؟

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 09-10-2026
اسلام اور مصنوعی ذہانت: کیا اے آئی قرآن کے مطالعے، فتویٰ اور روزمرہ دعاؤں میں ہماری رہنمائی کر سکتی ہے؟
اسلام اور مصنوعی ذہانت: کیا اے آئی قرآن کے مطالعے، فتویٰ اور روزمرہ دعاؤں میں ہماری رہنمائی کر سکتی ہے؟

 



 ایمان سکینہ

مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) خاموشی سے جدید زندگی کے تقریباً ہر شعبے میں داخل ہو چکی ہے۔ ہم اسے ای میل لکھنے، زبانوں کا ترجمہ کرنے، معلومات تلاش کرنے، اپنے دن کی منصوبہ بندی کرنے اور نئی مہارتیں سیکھنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ ایسے میں یہ سوال اٹھنا فطری ہے کہ کیا اے آئی مسلمانوں کو اسلام سمجھنے اور اس پر عمل کرنے میں بھی مدد دے سکتی ہے؟

اس کا جواب نہ مکمل طور پر ’’ہاں‘‘ ہے اور نہ ہی مکمل طور پر ’’نہیں‘‘۔

اسلام محض اس لیے کسی مفید ٹیکنالوجی کو مسترد نہیں کرتا کہ وہ نئی ہے۔ قرآن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی بہت سی مخلوقات کو انسان کے فائدے کے لیے مسخر کیا ہے۔ تاہم اسلام ذمہ داری، تحقیق و تصدیق اور علم کے احترام کی بھی تعلیم دیتا ہے۔ یہ اصول اس وقت خاص طور پر اہم ہو جاتا ہے جب ٹیکنالوجی کا استعمال قرآن، حدیث اور اسلامی قانون جیسے حساس علمی شعبوں میں کیا جائے۔

اے آئی اور قرآن کا مطالعہ

اے آئی ایک مفید ’’مطالعہ معاون‘‘ (Study Assistant) ثابت ہو سکتی ہے۔ کوئی شخص اس سے کسی سورت کے عمومی موضوع کو سمجھنے، مختلف تراجم کا تقابل کرنے، قرآن میں بار بار آنے والے موضوعات کی نشاندہی کرنے یا صبر، شکر، عدل اور معافی سے متعلق آیات تلاش کرنے میں مدد لے سکتا ہے۔

یہ طلبہ کو بڑی مقدار میں موجود معلومات کو منظم کرنے میں بھی مدد دے سکتی ہے۔ حالیہ اسلامی علمی مباحث میں یہ بات تسلیم کی گئی ہے کہ اے آئی قرآن پر تحقیق، تلاوت کی مشق اور حفظ میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔ مثال کے طور پر مصر کے دار الافتاء نے کہا ہے کہ اے آئی کی مدد سے تیار کردہ الیکٹرانک قرآن اور مصنوعی تلاوت کے آلات پڑھنے اور حفظ میں مدد کے لیے قابلِ اجازت ہو سکتے ہیں، بشرطیکہ قرآن کے متن اور تلاوت کی درست طریقے سے جانچ کی جائے۔

لیکن یہاں ایک اہم حد ہے جسے عبور نہیں کرنا چاہیے:

اے آئی کو تفسیرِ قرآن کے لیے ہماری خودمختار اتھارٹی نہیں بننا چاہیے۔

جنوری 2026 میں مصر کے دار الافتاء نے خاص طور پر قرآن کی تشریح کے لیے اے آئی ایپلی کیشنز پر مکمل انحصار سے خبردار کیا تھا۔ تشویش کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اے آئی ایسا جواب پیش کر سکتی ہے جو بظاہر انتہائی پُراعتماد ہو، لیکن اس میں مختلف ذرائع آپس میں خلط ملط ہو سکتے ہیں، سیاق و سباق کو غلط سمجھا جا سکتا ہے یا ایسی تشریح پیش کی جا سکتی ہے جس کے لیے تفسیر کے مطلوبہ علمی اصول موجود نہ ہوں۔

قرآن خود بھی تحقیق اور تصدیق کا اصول بیان کرتا ہے:

’’اگر تم نہیں جانتے تو اہلِ علم سے پوچھو۔‘‘
(سورۃ النحل، 16:43)

اے آئی ہمیں دروازے تک پہنچنے میں مدد دے سکتی ہے، لیکن اسے اس دروازے کے پیچھے موجود عالمِ دین کا متبادل نہیں بننا چاہیے۔

فتویٰ کے معاملے میں کیا حکم ہے؟

یہاں اس سے بھی زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے۔ فتویٰ محض مذہبی معلومات تلاش کرکے تیار کیا جانے والا جواب نہیں ہوتا۔ ایک مستند عالم قرآن، سنت، اصولِ فقہ، فقہی اختلافات، حالات، نیت اور متعلقہ شخص کی مخصوص صورتِ حال کو سامنے رکھتے ہوئے رائے قائم کرتا ہے۔انٹرنیشنل اسلامک فقہ اکیڈمی نے تحقیق اور دلائل جمع کرنے میں اے آئی کی افادیت کو تسلیم کیا ہے، تاہم اس بات پر زور دیا ہے کہ فتویٰ جاری کرنے کے لیے درکار علمی اجتہاد اور فقہی استدلال اے آئی خود مختار طور پر انجام نہیں دے سکتی۔مصر کے دار الافتاء نے اس سے بھی آگے بڑھ کر کہا ہے کہ اے آئی سے حاصل کردہ جوابات کو بطور فتویٰ اختیار کرنا درست نہیں، کیونکہ اے آئی میں مفتی کے لیے ضروری علمی اہلیت اور حالات کو سمجھنے کی وہ صلاحیت موجود نہیں جو فتویٰ دینے کے لیے درکار ہوتی ہے۔لہٰذا اگر کوئی شخص اے آئی سے پوچھتا ہے کہ ’’اسلام اس معاملے کے بارے میں کیا کہتا ہے؟‘‘ تو یہ جواب ابتدائی تحقیق کے لیے مفید ہو سکتا ہے۔ لیکن جب معاملہ نکاح، طلاق، وراثت، مالی ذمہ داریوں، طبی حالات یا کسی دوسرے اہم اور حساس مسئلے سے متعلق ہو تو حتمی رہنمائی کسی قابلِ اعتماد اور مستند عالمِ دین سے ہی لینی چاہیے۔

روزمرہ کی دعاؤں کے بارے میں کیا؟

یہ معاملہ قدرے مختلف ہے۔

اے آئی کو مستند اور معروف دعائیں تلاش کرنے، انہیں منظم کرنے یا یاد رکھنے کے لیے استعمال کرنا مفید ہو سکتا ہے۔ کوئی شخص سفر، پریشانی، شکرگزاری، والدین، حفاظت یا کسی نئے کام کے آغاز کے موقع پر قرآن اور مستند احادیث میں مذکور دعائیں تلاش کرنے کے لیے اے آئی سے مدد لے سکتا ہے۔لیکن یہاں بھی تصدیق ضروری ہے۔ انٹرنیٹ پر گردش کرنے والی ہر دعا قرآن یا سنت سے ثابت نہیں ہوتی اور اے آئی بھی بعض اوقات پورے اعتماد کے ساتھ ایسی باتیں نبی کریم ﷺ کی طرف منسوب کر سکتی ہے جن کا کوئی معتبر ماخذ موجود نہیں ہوتا۔

یہاں ایک گہرا سوال بھی پیدا ہوتا ہے:

کیا ہم اے آئی کا استعمال اللہ کو یاد رکھنے میں مدد کے لیے کر رہے ہیں یا اللہ کے ساتھ اپنے ذاتی تعلق کی جگہ اسے لے رہے ہیں؟

اے آئی کی مدد سے لکھی گئی ایک خوبصورت دعا اللہ تعالیٰ سے اخلاص کے ساتھ کی جانے والی گفتگو کا متبادل نہیں بن سکتی۔ ٹیکنالوجی ہمیں دعا کی یاد دلا سکتی ہے، لیکن ہمارے دل میں اخلاص پیدا نہیں کر سکتی۔

اے آئی کو ذریعہ بنائیں، دینی اتھارٹی نہیں

اس لیے سب سے متوازن طریقہ یہی ہے کہ اے آئی کو ایک ذریعہ (Tool) سمجھا جائے، دینی اتھارٹی نہیں۔

اسے معلومات تلاش کرنے، انہیں منظم کرنے، دہرائی کرنے، ترجمہ کرنے اور سیکھنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ قرآن کی آیات اور احادیث کے حوالوں کی تصدیق کی جائے۔ معتبر تفاسیر اور مستند اسلامی مصادر کی طرف رجوع کیا جائے۔ اور ایسے معاملات جن میں فتویٰ درکار ہو، ان کے لیے مستند علما سے رجوع کیا جائے۔اے آئی مذہبی علم تک رسائی کو آسان بنا سکتی ہے، لیکن آسان رسائی کو دینی اتھارٹی سمجھ لینا درست نہیں۔اسلام اور ٹیکنالوجی کا مستقبل انسان اور مشین کے درمیان مقابلہ نہیں ہونا چاہیے۔ اصل مقصد یہ ہونا چاہیے کہ انسانی علم، ضمیر اور ایمان کی مدد سے طاقتور ٹیکنالوجی کو حق اور سچائی کی خدمت کا ذریعہ بنایا جائے، نہ کہ اسے انسانی علم اور دینی رہنمائی کا متبادل بنا دیا جائے۔