مدینہ یونیورسٹی سے سبق لیں، ہندوستان کی یونیورسٹیز، انتہا پسند لٹریچر پر پابندی لگائیں

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 31-10-2026
مدینہ یونیورسٹی سے سبق لیں، ہندوستان کی یونیورسٹیز، انتہا پسند لٹریچر پر پابندی لگائیں
مدینہ یونیورسٹی سے سبق لیں، ہندوستان کی یونیورسٹیز، انتہا پسند لٹریچر پر پابندی لگائیں

 



عامر سہیل وانی

سعودی عرب کی اسلامی یونیورسٹی مدینہ نے تقریباً 100 مصنفین کی ایک فہرست تیار کی ہے جن کی کتابیں یونیورسٹی کے کتب خانوں میں رکھنے کی اجازت نہیں ہے۔ 29 اکتوبر 2026 کو دی آبزرور پوسٹ میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ بعنوان ’’مدینہ اسلامی یونیورسٹی کی مبینہ ممنوعہ مصنفین کی فہرست میں مودودی، ندوی اور قطب کے نام‘‘ میں بتایا گیا ہے کہ اس فہرست میں اسلامی انتہا پسندی سے منسوب کئی مصنفین شامل ہیں۔ ان میں ابوالاعلیٰ مودودی۔ سید قطب۔ ابوالحسن۔ حسن البنا۔ یوسف القرضاوی اور مالک بن نبی کے نام قابل ذکر ہیں۔ یونیورسٹی کے شعبۂ امور کتب خانہ کی جانب سے جاری کی گئی اس دستاویز کا عنوان ’’ممنوعہ مصنفین کی فہرست‘‘ ہے۔ یہ اقدام ہندوستان اور جنوبی ایشیا کی جامعات کی سنجیدہ توجہ کا متقاضی ہے۔ اس سے یہ اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ تعلیمی اداروں کی یہ ذمہ داری کہاں تک ہے کہ وہ ایسے لٹریچر کے پھیلاؤ کو روکیں جو مذہبی انتہا پسندی۔ فرقہ واریت اور نظریاتی عدم برداشت کو فروغ دیتا ہو۔

ہندوستان کی جامعات کو بھی اس پیش رفت سے سبق لیتے ہوئے اپنے کتب خانوں۔ نصاب میں شامل مطالعے کے مواد اور علمی وسائل کا جامع جائزہ لینا چاہیے۔ انہیں ایسی کتابوں کی نشان دہی کرکے ان پر پابندی عائد کرنی چاہیے جو مذہبی انتہا پسندی۔ فرقہ وارانہ عداوت۔ مسلکی تقسیم اور سیاسی شدت پسندی کو ہوا دیتی ہیں۔ بالخصوص مودودی اور سید قطب کی تحریریں گہری جانچ کی متقاضی ہیں کیونکہ جدید سیاسی اسلام پر ان کے خیالات کا نمایاں اثر رہا ہے۔ مذہب۔ ریاست۔ سیاسی اقتدار اور معاشرے سے متعلق ان کی تشریحات نے مسلم دنیا کی کئی نظریاتی تحریکوں کو متاثر کیا ہے۔ ان تحریروں سے بعض مواقع پر ایسی سیاسی سوچ کو بھی جواز فراہم کیا گیا ہے جو دوسروں کو خارج کرنے۔ تکثیری معاشرتی نظام کو چیلنج کرنے اور مختلف مذہبی و سیاسی نظریات رکھنے والوں کے خلاف عداوت پیدا کرنے کا سبب بنتی ہے۔ جامعات کو ایسے لٹریچر کی غیر تنقیدی اشاعت یا اسے علمی ادارے کی توثیق حاصل ہونے کا تاثر پیدا کرنے کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔

 یہاں بنیادی سوال یہ نہیں ہے کہ ان مصنفین کی تاریخی یا علمی اہمیت ہے یا نہیں۔ بلاشبہ ان کی تحریروں نے تاریخ اور فکر پر اثرات مرتب کیے ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا تعلیمی اداروں کو ایسے لٹریچر کے لیے غیر محدود جگہ فراہم کرنی چاہیے جو عدم برداشت۔ نظریاتی تصادم اور دوسری برادریوں کے خلاف عداوت کو فروغ دیتا ہو؟ علمی آزادی کا مطلب یہ نہیں ہوسکتا کہ مواد اور اس کے ممکنہ نتائج سے قطع نظر ہر شائع شدہ کتاب کو لازماً پھیلایا جائے۔ کسی نظریے کی تاریخی تشکیل کو سمجھنے کے لیے اس کا مطالعہ کرنا اور طلبا میں اس کے عقائد و نظریات کی ترویج کرنا دو الگ باتیں ہیں۔ پہلی صورت جائز علمی تحقیق ہے جبکہ دوسری نظریاتی تلقین کی شکل اختیار کرسکتی ہے۔ جامعات کو اس فرق کو سمجھتے ہوئے اپنی پالیسی مرتب کرنی چاہیے۔

 جنوبی ایشیا مذہبی انتہا پسندی اور مسلکی صف بندی کے تباہ کن نتائج دیکھ چکا ہے۔ پاکستان میں طویل عرصے سے جاری مسلکی تشدد۔ بنگلہ دیش میں مذہبی شدت پسندی کے واقعات اور ہندوستان میں بار بار پیدا ہونے والی فرقہ وارانہ کشیدگی اس خطرے کی نشان دہی کرتی ہے کہ جب مذہبی شناخت کو سیاسی عداوت کا ذریعہ بنادیا جائے تو معاشرے کو کس قدر نقصان پہنچ سکتا ہے۔ ان حالات کے اسباب تاریخی۔ معاشی اور سیاسی بھی ہیں لیکن نظریاتی لٹریچر کے اثرات کو یکسر نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ جب کتابیں مذہبی اختلافات کو ناقابل مصالحت تنازعات کے طور پر پیش کرتی ہیں۔ دوسری برادریوں کو دشمن قرار دیتی ہیں اور نظریاتی یکسانیت کو قابل فخر بناتی ہیں تو ایسا فکری ماحول پیدا ہوتا ہے جس میں عدم برداشت پنپ سکتی ہے۔ تعلیمی اداروں کو اس عمل کا خاموش حصہ نہیں بننا چاہیے۔

جامعات کو چاہیے کہ وہ اپنے کتب خانوں اور نصاب میں شامل مواد کے جائزے کے لیے آزاد کمیٹیاں تشکیل دیں جن میں علما۔ مؤرخین۔ سماجی علوم کے ماہرین اور مذہبی فکر کے محققین شامل ہوں۔ ان کمیٹیوں کو ایسی کتابوں کی نشان دہی کرنی چاہیے جو واضح طور پر دہشت گردی۔ تشدد۔ فرقہ وارانہ نفرت یا ظلم و ستم کی حمایت کرتی ہوں اور ان کی جامعات کے کتب خانوں اور نصاب میں ممانعت کی سفارش کرنی چاہیے۔ انتہا پسند سیاسی نظریات کی ترویج کرنے والے مواد کو مستند تعلیمی لٹریچر کے طور پر نہ تو نصاب میں شامل کیا جانا چاہیے اور نہ ہی اس کی غیر تنقیدی اشاعت ہونی چاہیے۔ تاہم اگر کسی تاریخی اعتبار سے اہم تصنیف کا مطالعہ شدت پسند نظریات کی تشکیل کو سمجھنے کے لیے ضروری ہو تو اسے تنقیدی انداز میں پڑھایا جانا چاہیے نہ کہ قابل تقلید نمونے کے طور پر پیش کیا جائے۔ مقصد نظریاتی تلقین کو روکنا ہونا چاہیے نہ کہ جائز تحقیق کی راہ میں رکاوٹ ڈالنا۔

ایسی پالیسی نہ مذہب پر حملہ ہے اور نہ علمی آزادی کے خلاف اقدام۔ اس کا مقصد تعلیم کو نظریاتی تسلط سے محفوظ رکھنا ہے۔ طلبا کو مذہبی تشریحات کے تنوع۔ فلسفیانہ روایات اور مختلف فکری تحریکوں سے روشناس کرایا جانا چاہیے۔ انہیں یہ سیکھنا چاہیے کہ کسی مذہبی یا سیاسی گروہ کو سچائی پر اجارہ داری حاصل نہیں اور اختلاف کا مطلب نفرت کی دعوت نہیں ہے۔ ہندوستان میں فکری تکثیریت کی ایک بھرپور روایت موجود ہے۔ کلاسیکی اسلامی علما کی اخلاقی تعلیمات۔ مولانا رومی اور ابن عربی کی آفاقی انسان دوستی اور بھکتی و صوفی روایت مذہب کی تنگ نظر اور دوسروں کو خارج کرنے والی تشریحات کے مقابلے میں اہم متبادل پیش کرتی ہیں۔ جامعات کو ایسی روایات کو فروغ دینا چاہیے جو ہمدردی۔ فکری انکساری۔ بقائے باہمی اور انسانی وقار کے احترام کی تعلیم دیتی ہیں۔

مدینہ یونیورسٹی کے بارے میں سامنے آنے والی یہ رپورٹ ہندوستان کے اعلیٰ تعلیمی نظام کے لیے بیداری کا پیغام ہونی چاہیے۔ جامعات کو انتہا پسندانہ لٹریچر کو محض کتب خانے کی عام کتابوں میں سے ایک سمجھنے کی روش ترک کرنی چاہیے۔ ان کی ذمہ داری ہے کہ نوجوان ذہنوں کو ایسے مواد سے محفوظ رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کریں جو جنونیت کی ستائش کرتا ہو۔ فرقہ وارانہ عداوت کو جائز ٹھہراتا ہو یا مذہبی عقیدے کو سیاسی نفرت میں تبدیل کرتا ہو۔ ایسے نظریات کے تشدد میں تبدیل ہونے کا انتظار کرنے کے بعد اصلاحی اقدامات کرنا ادارہ جاتی ذمہ داری میں سنگین کوتاہی کے مترادف ہوگا۔

کسی یونیورسٹی کی ذمہ داری محض کتابیں فراہم کرنے اور ڈگریاں دینے تک محدود نہیں ہوتی۔ اسے ایسی ذہنی صلاحیتوں کو پروان چڑھانا چاہیے جو آزادانہ غور و فکر۔ اخلاقی فیصلہ سازی اور پرامن بقائے باہمی کی بنیاد پر استوار ہوں۔ متنازع خیالات کا جائزہ لینے کی آزادی کا تحفظ ضروری ہے لیکن ایسے لٹریچر کو ادارہ جاتی سرپرستی فراہم کرنا یا اسے فروغ دینا کسی تعلیمی ادارے کی مجبوری نہیں ہوسکتی جو معاشرتی ہم آہنگی کے لیے خطرہ بنے۔

ہندوستان کی جامعات کو علمی آزادی اور نظریاتی انتہا پسندی کے درمیان ایک واضح اور غیر مبہم حد قائم کرنی چاہیے۔ انہیں مصنف یا مذہبی وابستگی سے قطع نظر انتہا پسندانہ۔ گروہی تعصب اور فرقہ وارانہ نفرت پر مبنی لٹریچر کی منظم نشان دہی کرکے اس پر پابندی عائد کرنی چاہیے۔ تعلیمی نظام کو جنونیت کی آماج گاہ نہیں بننے دینا چاہیے۔ جو کتابیں نفرت کی تعلیم دیتی ہیں۔ تشدد کی ستائش کرتی ہیں اور پرامن بقائے باہمی کو نقصان پہنچاتی ہیں ان کے لیے کسی جمہوری معاشرے کے کتب خانوں اور تعلیمی نصاب میں کوئی جائز جگہ نہیں ہونی چاہیے۔