ہندوستان نے میری روح کو سنوارا اور میرے مزاج میں نرمی پیدا کی: مارسیل مسعود بصیریان

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 28-09-2026
ہندوستان نے میری روح کو سنوارا اور میرے مزاج میں نرمی پیدا کی: مارسیل مسعود بصیریان
ہندوستان نے میری روح کو سنوارا اور میرے مزاج میں نرمی پیدا کی: مارسیل مسعود بصیریان

 



عامر سہیل وانی/سری نگر

مارسیل مسعود بصیریان عالمی شہرت یافتہ ایرانی نژاد امریکی استاد، محقق اور مقرر ہیں۔ وہ مولانا رومی کے صوفیانہ تصورات اور شاعری کو مغربی دنیا تک پہنچانے کے حوالے سے وسیع پیمانے پر معروف ہیں۔ حال ہی میں کشمیر کے دورے کے دوران انہوں نے کشمیری محقق، مصنف اور شاعر امیر سہیل وانی سے جلال الدین رومی (مولانا) کی تبدیلی کی طاقت اور اس منفرد روحانی توانائی پر گفتگو کی جو بصیریان کی زندگی کو ہندوستان کی سرزمین سے جوڑتی ہے۔

مارسیل مسعود بصیریان اور امیر سہیل وانی کے درمیان گفتگو کے اقتباسات:

آپ نے کئی دہائیاں مولانا رومی کے گہرے صوفیانہ نظامِ فکر کو مغربی دنیا تک پہنچانے میں صرف کی ہیں۔ کیا آپ ہمیں اس سرزمین کے بارے میں بتا سکتے ہیں جس نے آپ کی پرورش کی—فارس میں آپ کی ابتدائی زندگی اور وہ ابتدائی چنگاری جس نے آپ کو اس راستے پر گامزن کیا؟

اپنی ابتدا کے بارے میں بات کرنا ایک طویل اور مسلسل جلاوطنی کی داستان بیان کرنے کے مترادف ہے، جو بالآخر مجھے اپنے باطن میں اپنے گھر تک واپس لے آئی۔ میری پیدائش فارس (ایران) کی اس تاریخی اور شاعری یمیں ڈوبی ہوئی سرزمین پر ہوئی۔ بچپن میں صوفیانہ عرفان اور کلاسیکی فارسی شاعری کی بازگشت میرے لیے محض علمی موضوعات نہیں تھے؛ وہ اس فضا کا حصہ تھے جس میں ہم سانس لیتے تھے۔

تاہم، جس ’’چنگاری‘‘ کا آپ ذکر کر رہے ہیں، وہ عموماً اس وقت پیدا نہیں ہوتی جب انسان آسودگی میں ہو۔ یہ حرکت، بے دخلی اور خدا کے لیے ایک گہری اور درد بھری طلب کے ذریعے پیدا ہوئی۔ ایران سے نکلنا، آسٹریلیا کا سفر کرنا اور مختلف ثقافتوں میں زندگی گزارنے سے مجھے احساس ہوا کہ انسانی حالت ایک گہری روحانی بے وطنی کا شکار ہے۔ رومی کی آواز نے مجھے سہارا دیا۔ جب مولانا (رومی) بانسری کے بارے میں کہتے ہیں کہ اسے نَے زار سے کاٹ دیا گیا ہے اور وہ جدائی کی تڑپ میں فریاد کرتی ہے، تو میرے لیے یہ محض شاعری نہیں تھی—یہ میری زندگی تھی۔ مجھے احساس ہوا کہ میری زندگی کا کام اس فریاد کو محض ایک ثقافتی ورثے کے طور پر نہیں بلکہ ہر بھٹکتی ہوئی روح کی ایک عالمگیر حقیقت کے طور پر سمجھنا اور بیان کرنا ہے۔

اب جب میں آپ کے سفر پر نظر ڈالتا ہوں تو ایک دلچسپ باب فوراً میری توجہ اپنی جانب مبذول کراتا ہے: ہندوستان۔ آپ نے اپنی زندگی کا ایک اہم اور تشکیل دینے والا دور ہندوستان میں گزاراتھا۔ ہندوستان نے آپ کے روحانی ارتقا کو کس طرح تشکیل دیا اور آج برصغیر سے یہ تعلق آپ کے لیے کیا معنی رکھتا ہے؟

امیر، ہندوستان محض نقشے پر ایک جگہ نہیں ہے؛ یہ انسانی شعور کی ایک بالکل مختلف جہت ہے۔ جب میں ہندوستان پہنچا تو مجھے فوراً ایک ناقابلِ بیان روحانی ہم آہنگی کا احساس ہوا۔ برصغیر کی مٹی کے ذرے ذرے میں ایک مخصوص، بے ساختہ اور زندہ عقیدت رچی بسی ہے۔

ہندوستان میں مقدس اور روزمرہ زندگی کے درمیان حد نہایت خوبصورتی سے شفاف ہے۔ وہاں گزارے ہوئے وقت نے مجھے عشقِ الٰہی کے عملی اظہار کو دیکھنے کا موقع دیا۔ خواہ کسی صوفی مزار کے پُرسکون ماحول میں بیٹھنا ہو، ہندوستان کی روایتی روحانیت کی شدید عقیدت کا مشاہدہ کرنا ہو، یا ان طالبِ حق لوگوں سے ملنا ہو جنہوں نے مطلق سچائی کی خاطر سب کچھ ترک کردیا تھا، ہندوستان نے مجھے مٹھاس اور صبر سکھایا۔ اس نے رومی کے پیغام کے بارے میں میری سمجھ کو وسعت دی۔

مصنف مارسیل مسعکود بصیریان کے ساتھ

رومی ہمیں بتاتے ہیں کہ الٰہی جوہر کی روشنی تلاش کرنے کے لیے جامد اور سخت عقیدے سے آگے دیکھو۔ ہندوستان اس پیچیدگی کو اپنی زندگی میں پیش کرتا ہے۔ اس ملک نے میری روح کے لیے ایک ایسی بھٹی کا کام کیا جس نے میرے مزاج کی سختیوں کو نرم کیا اور میری صوفیانہ سمجھ کو گہرائی سے مضبوط بنیاد فراہم کی، اس سے پہلے کہ میں مغرب میں قدم رکھ کر وہاں تعلیم دینے کا آغاز کرتا۔

کشمیر سے مشاہدہ کرتے ہوئے، جہاں فارسی اور ہندوستانی روحانی دھارے اس قدر روانی سے ایک دوسرے سے ملتے ہیں، آپ کا تجربہ مجھ پر گہرا اثر ڈالتا ہے۔ آج آپ پام اسپرنگز، کیلیفورنیا میں رہتے ہیں اور ان قدیم سچائیوں کو ایک انتہائی جدید اور تیز رفتار مغربی سامعین تک پہنچا رہے ہیں۔ آپ فارسی زبان میں رومی کا کلام پڑھنے اور اس کے روحانی مفاہیم کو انگریزی میں منتقل کرنے کے درمیان بڑی آسانی سے سفر کرنے کی غیر معمولی صلاحیت کے لیے معروف ہیں۔ جدید مغربی زبان میں ’’وجود کے دھویں‘‘ کو منتقل کرنے میں کیا مشکلات پیش آتی ہیں؟ کیا آپ محسوس کرتے ہیں کہ مغرب کے متلاشیانِ حق مشرق کے لوگوں سے کچھ مختلف تلاش کر رہے ہیں؟

امیر، انسانی دل ایک ہی زبان میں فریاد کرتا ہے، خواہ وہ سری نگر، تہران یا کیلیفورنیا میں دھڑکتا ہو۔ بنیادی چیلنج یہ ہے کہ جدید مغربی معاشرہ حد سے زیادہ عقلی اور لین دین پر مبنی ہوچکا ہے۔ اس کے برعکس رومی مکمل سپردگی کا مطالبہ کرتے ہیں—حساب کتاب کرنے والی انا کا فنا ہونا۔

جب میں فارسی میں رومی کا کلام پڑھتا ہوں تو اس کی نحوی ساخت میں ایک موسیقیت اور ایک فطری ذکر موجود ہوتا ہے، جو اپنے اندر ایک روحانی تاثیر رکھتا ہے۔ جب اسے انگریزی میں ترجمہ کیا جاتا ہے تو اگر احتیاط نہ برتی جائے تو ایک کائناتی محبت نامہ محض خود مدد کے مشورے یا رومانوی جذباتیت تک محدود ہو سکتا ہے۔ اسی لیے میری ویب سائٹ یا سوشل میڈیا جیسے پلیٹ فارمز پر میرا کام اصل متن کی روحانی گہرائی کو برقرار رکھنے پر مرکوز ہے۔ میں اپنے مغربی طلبہ سے کہتا ہوں: رومی یہاں آپ کی انا کو آرام پہنچانے کے لیے نہیں ہیں؛ وہ آپ کے گھر میں آگ لگانے آئے ہیں تاکہ آپ ان کھنڈرات کے نیچے چھپے خزانے کو دریافت کرسکیں۔ مغربی متلاشیانِ حق حقیقی پن کے لیے بے حد پیاسے ہیں۔ وہ جدید زندگی کی سطحیت سے تھک چکے ہیں، اور جب وہ مولانا کے حقیقی وژن کی خام اور بے ساختہ شراب کا ذائقہ چکھتے ہیں تو ان میں حیران کن تبدیلی رونما ہوتی ہے۔

آج کے ان نوجوان متلاشیانِ حق کے لیے آپ کا کیا پیغام ہے جو شناخت کے بحران، عالمی بے یقینی اور کسی مستقل حقیقت کی طلب کے درمیان الجھے ہوئے ہیں؟

میرا پیغام سادہ ہے اور یہی وہ بنیادی تعلیم ہے جو مولانا نے مجھے پوری زندگی دی ہے: اپنے باہر مت دیکھو۔ بیرونی دنیا میں جو اضطراب آپ دیکھ رہے ہیں، وہ دراصل انسانی دلوں کے اجتماعی بے سکونی کا محض عکس ہے۔

ہر بے دخلی، ہر دل شکستگی اور الجھن کا ہر لمحہ دراصل ایک الٰہی دعوت ہے۔ طلب کے درد سے فرار اختیار نہ کرو۔ جیسا کہ رومی نے مشہور طور پر کہا ہے، ’’زخم وہ جگہ ہے جہاں سے روشنی تمہارے اندر داخل ہوتی ہے۔‘‘ اپنے باطن کی طرف رخ کرو، عبادت و عقیدت کے لیے ایک پُرسکون جگہ پیدا کرو اور یاد رکھو کہ تمہاری حقیقی اصل جغرافیہ یا دنیاوی شناختوں سے متعین نہیں ہوتی۔ تم الٰہی سورج کی ایک کرن ہو۔ اس تعلق کو تلاش کرو اور پھر دنیا چاہے کتنی ہی شدت سے کیوں نہ ہلے، تم ثابت قدم رہو گے۔

اب آپ پام اسپرنگز، کیلیفورنیا میں رہتے ہیں، جہاں آپ وسیع صحرائی منظرنامے سے گھرے ہوئے ہیں۔ میں آپ کے ماحول کے بارے میں سوچنے پر مجبور ہوں۔ صحرا تاریخی طور پر انبیاء، صوفیا اور زاہدوں کی تربیت گاہ رہا ہے۔ کیلیفورنیا کے صحرا کی خاموشی آپ کے موجودہ غوروفکر کے معمولات اور رومی کے مطالعے پر کس طرح اثرانداز ہوتی ہے؟

امیر، آپ نے ایک خوبصورت حقیقت کی طرف اشارہ کیا ہے۔ صحرا ایک گہرا استاد ہے کیونکہ وہ انسان کو وہم اور فریب سے پاک کردیتا ہے۔ یہاں کوئی خلفشار نہیں ہوتا؛ یہ انسان کو مجبور کرتا ہے کہ وہ براہِ راست آسمان کی وسعت اور زمین کی خالی پن کو دیکھے، جو بہت جلد باطن کی وسعت میں تبدیل ہوجاتا ہے۔

جب میں یہاں پام اسپرنگز کے صحرائی منظرنامے کو دیکھتا ہوں تو مجھے مسلسل مولانا کے ان اشعار کی یاد آتی ہے جو خالی پن اور خدا پر مکمل بھروسے، یعنی توکل، کے بارے میں ہیں۔ شہر میں انسانی تعمیرات انا کو یہ یقین دلاتی ہیں کہ وہ طاقتور ہے، لیکن صحرا انسان کو فوراً عاجز کردیتا ہے۔ میرے لیے یہ ماحول ایک قدرتی عبادت گاہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ اس خاموشی کی فراہمی کرتا ہے جو ان متون کی باریک سرگوشیوں کو سننے کے لیے ضروری ہے جن کا میں مطالعہ کرتا ہوں۔ یہ مجھے رومی کی کسی ایک رباعی کے ساتھ گھنٹوں بیٹھنے کا موقع دیتا ہے، بغیر اس کے کہ جدید صنعتی زندگی کا شور غوروفکر کی اس ڈور کو توڑ دے۔ صحرا صرف مجھے گھیرے ہوئے نہیں ہے؛ یہ اس اندرونی وسعت کو برقرار رکھنے میں میری مدد کرتا ہے جو ان تعلیمات کو دوسروں تک حقیقی روح کے ساتھ پہنچانے کے لیے ضروری ہے۔

ایک ایسے دور میں جب فوری تسکین کے لیے تیار کیے گئے انتہائی مختصر اور ضرورت سے زیادہ ایڈٹ شدہ مواد کا غلبہ ہے، صوفیانہ متون اس کے بالکل برعکس چیز کا تقاضا کرتے ہیں—سست روی، گہری سماعت اور صبر۔ آپ اس کشمکش سے کیسے نمٹتے ہیں؟ آپ جدید، تیز رفتار الگورتھم کو ایسے پیغام کی ترسیل کے لیے کیسے استعمال کرتے ہیں جو مکمل سکون و سکونت کا تقاضا کرتا ہے؟

یہ ایک نہایت نازک توازن قائم کرنے کی کوشش ہے، امیر۔ ایک طرف ذریعۂ ابلاغ فطری طور پر پیغام کی مزاحمت کرتا ہے۔ ڈیجیٹل دنیا تیزی سے مواد استعمال کرنے کی حوصلہ افزائی کرتی ہے، جبکہ تصوف سست روی کے ساتھ جذب کرنے کا تقاضا کرتا ہے۔ اگر کوئی شخص میرے ویڈیو کو رقص کے کسی رجحان اور سیاسی بحث کے درمیان اسکرول کرتے ہوئے دیکھتا ہے تو سیاق و سباق انتہائی بکھرا ہوا ہوتا ہے۔

تاہم، میں ان ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو آخری منزل کے طور پر نہیں بلکہ ایک ڈیجیٹل خانقاہ—ایک دروازے یا دعوت—کے طور پر دیکھتا ہوں۔ سوشل میڈیا پر میرا مقصد ناظر کے لیے ایک ایسا بصری اور صوتی ’’توقف کا بٹن‘‘ پیدا کرنا ہے جو اسے ایک لمحے کے لیے رکنے پر مجبور کرے۔ جب میں فارسی میں رومی کا کلام پڑھتا ہوں تو اس کی ردھم بھری لے خود ایک طرح کی صوتی تھراپی بن جاتی ہے، جو مسلسل اسکرولنگ کی افراتفری سے پیدا ہونے والی توانائی کو توڑ دیتی ہے۔ میں کوشش کرتا ہوں کہ پیشکش صاف، خوبصورت اور مکمل طور پر لفظ کے جوہر پر مرکوز ہو۔ اگر ساٹھ سیکنڈ کی ایک مختصر ویڈیو کسی ناظر کے اندر ایک لمحے کے لیے الٰہی طلب کی کسک پیدا کرسکتی ہے تو اس نے اپنا مقصد پورا کردیا۔ وہ ایک بیج بوتی ہے۔ پھر یہی بیج طالبِ حق کو اپنا فون بند کرنے، طویل لیکچرز کے لیے ویب سائٹ دیکھنے یا شاعری کی کوئی کتاب اٹھانے کی طرف لے جاتا ہے۔ ہمیں اپنے دور کے اوزاروں کو اپنے دور کی بیماریوں کا علاج کرنے کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔

مشرقی تصوف میں روایتی طور پر مرشد اور مرید کا تعلق مطلق نوعیت کا ہوتا ہے۔ جدید مغربی تصورِ حیات میں، جہاں انفرادی آزادی اور ذاتی خودمختاری کو بہت اہمیت حاصل ہے، کسی روحانی رہنما کے سامنے مکمل سپردگی کے تصور کو اکثر غلط سمجھا جاتا ہے یا اسے شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ آپ ایسے سامعین کے سامنے روحانی رہنمائی کی ضرورت کو کیسے بیان کرتے ہیں جو بنیادی طور پر انتہائی آزاد مزاج ہیں؟

مغرب میں تعلیم دیتے ہوئے یہ شاید سب سے بڑی ثقافتی رکاوٹ ہے۔ جدید انا ’’سپردگی‘‘ کا لفظ سنتے ہی فوراً آزادی، اختیار یا انفرادیت کے کھو جانے کا خوف محسوس کرتی ہے۔ وہ روحانی سپردگی کو نفسیاتی محکومی سمجھنے کی غلطی کرتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اقبال کے پسندیدہ سنسکرت شاعر بھرتری ہری

جب میں مغربی متلاشیانِ حق سے رومی اور شمس کے تعلق کے بارے میں بات کرتا ہوں تو میں رہنما کے تصور کو ایک نئے انداز میں پیش کرتا ہوں۔ حقیقی روحانی رہنما کوئی آمر نہیں ہوتا؛ وہ ایک آئینہ ہوتا ہے۔ شمس نے رومی کو کسی اور شخص میں تبدیل نہیں کیا؛ انہوں نے علمی عہدوں، سماجی توقعات اور اس مذہبی و کلامی زرہ کو جلا کر راکھ کردیا جس نے رومی کو اپنی اندرونی روشنی دیکھنے سے روک رکھا تھا۔

میں اپنے طلبہ سے کہتا ہوں کہ آزاد انفرادیت دراصل ایک بہت چھوٹا اور محدود پنجرہ ہے۔ حقیقی آزادی اس وقت ملتی ہے جب آپ اس پنجرے سے باہر نکلتے ہیں۔ رہنما محض وہ شخص ہے جو پنجرے کے باہر کھڑا ہے، چابی اپنے ہاتھ میں لیے ہوئے، اور آپ کو یاد دلاتا ہے کہ آپ کے پر ہیں۔ ’’کسی اختیار کے سامنے سپرد ہونے‘‘ کے تصور سے توجہ ہٹا کر ’’سچائی کے آئینے کے ساتھ ہم آہنگ ہونے‘‘ پر مرکوز کرنے سے جدید متلاشیانِ حق یہ سمجھنا شروع کردیتے ہیں کہ روحانی رہنمائی پابندی نہیں بلکہ آزادی کا اعلیٰ ترین عمل ہے۔