نئی دہلی: ہندوستان اور اسرائیل نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پاکستان اور بیلاروس کی جانب سے پیش کی گئی اس تجویز کے خلاف ووٹ دیا ہے، جس میں علاقائی اور ذیلی علاقائی سطح پر روایتی ہتھیاروں پر کنٹرول کی بات کہی گئی ہے۔ ہندوستان نے اس کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ملکوں کی سلامتی سے متعلق تشویش صرف ان کی علاقائی سرحدوں تک محدود نہیں رہتی۔ ’عمومی اور مکمل تخفیف اسلحہ: علاقائی اور ذیلی علاقائی سطح پر روایتی ہتھیاروں پر کنٹرول‘ کے عنوان سے پیش کی گئی اس تجویز کو پیر کے روز اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی پہلی کمیٹی نے منظوری دے دی۔ اس کے حق میں 180 ووٹ پڑے، جبکہ 2 ملکوں نے مخالفت کی۔
کسی بھی ملک نے ووٹنگ میں حصہ لینے سے گریز نہیں کیا۔ 193 رکنی اقوام متحدہ میں ہندوستان اور اسرائیل ہی وہ 2 ملک تھے جنہوں نے اس تجویز کے خلاف ووٹ دیا۔ ہندوستان کے ووٹ کی وضاحت کرتے ہوئے اقوام متحدہ میں ہندوستان کے مستقل مشن کے فرسٹ سکریٹری انمول شیر بیدی نے کہا کہ روایتی ہتھیاروں پر کنٹرول ایک عالمی مسئلہ ہے۔ جنرل اسمبلی کی پہلی کمیٹی میں ہندوستان کے موقف کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ’’ہم اس بات سے پوری طرح اتفاق نہیں کرتے کہ اس مسئلے پر پیش رفت بنیادی طور پر علاقائی اور ذیلی علاقائی تناظر ہی میں ہونی چاہیے۔‘
‘ انہوں نے کہا کہ ہندوستان نے اپنے سابقہ موقف کے مطابق اس تجویز کے خلاف ووٹ دیا ہے۔ ہندوستان نے اس تجویز میں اقوام متحدہ کے کمیشن برائے تخفیف اسلحہ سے یہ درخواست کرنے پر بھی سوال اٹھایا کہ وہ ایسے اصول تیار کرنے پر غور کرے جو روایتی ہتھیاروں پر علاقائی معاہدوں کے لیے ایک خاکے کا کام دے سکیں۔ انمول شیر بیدی نے کہا، ’’ہم نے اس درخواست کو کچھ حیرت کے ساتھ دیکھا ہے۔‘‘ انہوں نے بتایا کہ اقوام متحدہ کا کمیشن 1993 میں علاقائی تخفیف اسلحہ سے متعلق رہنما اصول اور سفارشات، 1999 میں روایتی ہتھیاروں پر کنٹرول اور تخفیف اسلحہ سے متعلق رہنما اصول اور 2017 میں روایتی ہتھیاروں کے شعبے میں اعتماد سازی کے عملی اقدامات سے متعلق سفارشات پہلے ہی اتفاق رائے سے منظور کر چکا ہے۔
بیدی نے کہا، ’’اس کا مطلب یہ ہے کہ اسی موضوع پر اسی کمیشن میں اتفاق رائے سے 3 نتائج پہلے ہی سامنے آ چکے ہیں، لیکن اب اسی کمیشن سے دوبارہ نئے سرے سے کام شروع کرنے کو کہا جا رہا ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا، ’’ہم یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ جس موضوع پر پہلے ہی تفصیل سے غور کیا جا چکا ہے، اس پر دوبارہ بحث کی ضرورت کیوں ہے، جب تک کہ اس کا مقصد اقوام متحدہ کے تخفیف اسلحہ کے نظام کو مصروف رکھنا نہ ہو۔‘‘ بیدی نے علاقائی یا ذیلی علاقائی سطح پر دفاعی صلاحیتوں کے درمیان توازن قائم رکھنے کے تجویز کے تصور پر بھی اعتراض کیا۔ انہوں نے کہا، ’’اس میں یہ فرض کر لیا گیا ہے کہ ملکوں کی سلامتی سے متعلق تشویش ان کی علاقائی سرحدوں پر ہی ختم ہو جاتی ہے۔ ایسا نہیں ہے۔‘‘ انہوں نے کہا، ’’جیسا کہ سب جانتے ہیں، سلامتی سے متعلق خدشات محدود طور پر متعین علاقوں اور ذیلی علاقوں سے کہیں آگے تک پھیلے ہوتے ہیں۔
اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ کسی علاقے یا ذیلی علاقے میں توازن قائم رکھنے کا تصور غیر حقیقی معلوم ہوتا ہے۔‘‘ پاکستان اور بیلاروس کی اس تجویز میں کہا گیا ہے کہ روایتی ہتھیاروں پر کنٹرول کی کوششیں بنیادی طور پر علاقائی اور ذیلی علاقائی سطح پر ہونی چاہئیں، کیونکہ سرد جنگ کے بعد کے دور میں امن اور سلامتی کو درپیش زیادہ تر خطرات ایک ہی علاقے یا ذیلی علاقے کے ملکوں کے درمیان پیدا ہوتے ہیں۔ تجویز میں علاقائی امن اور سلامتی کو مضبوط بنانے کے لیے ایسے معاہدوں کو فروغ دینے کی خواہش بھی ظاہر کی گئی ہے، جن کا مقصد ہتھیاروں اور فوجی طاقت کو ممکنہ حد تک کم سے کم سطح پر رکھنا ہو۔
ہندوستان نے جنوبی ایشیا کے تناظر میں روایتی ہتھیاروں پر کنٹرول سے متعلق تجاویز کا ذکر کرنے والے ایک پیراگراف کے خلاف بھی الگ سے ووٹ دیا۔ اس پیراگراف میں دنیا کے مختلف علاقوں میں کی جانے والی کوششوں کا خاص طور پر ذکر کیا گیا تھا۔ ان میں لاطینی امریکہ کے بعض ملکوں کے درمیان مشاورت اور ’’جنوبی ایشیا کے تناظر میں روایتی ہتھیاروں پر کنٹرول کی تجاویز‘‘ بھی شامل تھیں۔ اس میں علاقائی سلامتی کے لیے روایتی ہتھیاروں پر کنٹرول کی اہمیت کو بھی تسلیم کیا گیا تھا۔ تجویز میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’’فوجی اعتبار سے اہم ملکوں اور زیادہ فوجی صلاحیت رکھنے والے ملکوں کی علاقائی سلامتی کے معاہدوں کو فروغ دینے میں خصوصی ذمہ داری ہے۔‘‘