رشدہ شاہین
( صحافی و محقق)
برصغیر کی تاریخ صوفی سنتوں کی مذہبی رواداری کی مثالوں سے بھری پڑی ہے۔ جب راقمہ اس فیچر کے لیے ثقافتی اصطلاح ’گنگا جمنی تہذیب‘ کا ماخذ کھنگالنے میں لگی تو تاریخی کتب کے اوراق پلٹتے ہوئے ایک ایسا واقعہ نظر سے گزرا، جہاں نہ صرف اس ثقافتی اصطلاح کے ماخذ کی ایک جھلک ملی بلکہ اس کی حقیقی روح بھی دکھائی دی۔واقعہ یوں ہے کہ ایک شام حضرت شیخ نظام الدین اولیاء اپنی خانقاہ کی چھت پر چہل قدمی کر رہے تھے۔ عین اسی وقت کچھ ہندو جمنا کے کنارے پوجا میں مشغول تھے۔ ایک مرید نے حضرت نظام الدین کی توجہ ان لوگوں کی طرف دلائی تو ان کی زبان سے برجستہ یہ مصرعہ نکلا:
ہر قوم راست راہے، دین و قبلہ گاہے
یعنی: ہر قوم سیدھے راستے پر ہے اور اس کا اپنا دین اور قبلہ ہے۔
ڈاکٹر محمد عمر کی کتاب ’ہندوستانی تہذیب کا مسلمانوں پر اثر‘ میں پروفیسر خلیق نظامی کے حوالے سے لکھا ہے: ’’اس مصرعے میں مذہبی رواداری کا ایک بے پایاں جذبہ سمٹ آیا ہے۔ ایک ایسے دور میں، جب مسلمانوں کا سیاسی اقتدار اپنے نصف النہار تک پہنچ چکا تھا، ایک مذہبی پیشوا کا یہ بے ساختہ ارشاد صرف مذہبی رواداری ہی کا مظہر نہیں بلکہ ایسی فکر کا بھی آئینہ دار ہے جس نے ہندوستان کی تہذیب کے جلوۂ صد رنگ کو سمجھ لیا ہو، اور جو یہاں کے تہذیبی نقشے میں ہر دین اور قبلہ گاہ کو دیکھنے کے لیے تیار ہو۔‘‘
غالباً اس واقعے کا تعلق 14ویں صدی کے صوفی بزرگ حضرت نظام الدین کی اسی خانقاہ سے ہے، جو انہوں نے غیاث پور کی بستی میں جمنا ندی کے عین کنارے قائم کی تھی۔ غیاث پور کی وہی بستی آج بستی حضرت نظام الدین کہلاتی ہے۔ اب اگرچہ اس خانقاہ سے جمنا کا دیدار ناممکن ہے، کیوں کہ گزری صدیوں کے دوران نہ صرف جمنا نے اپنا رخ قدرے مشرق کی جانب بدل لیا بلکہ دوسری طرف شہر پھیلتا گیا اور متھرا روڈ، مقبرۂ ہمایوں اور ریلوے و شاہراہوں کے بنیادی ڈھانچے نے اس تاریخی منظرنامے کو بھی بدل دیا۔ آج جمنا کا موجودہ بہاؤ درگاہ کے احاطے سے تقریباً دو سے تین کلومیٹر دور ہے۔
محققین اس سمیت صوفی سنتوں کی مذہبی رواداری کے ان گنت واقعات کو گنگا جمنی تہذیب کے آغاز اور اس کی بنیادی روح سے تعبیر کرتے ہیں۔ حضرت خواجہ معین الدین چشتی کی سرزمین یعنی ’اجمیر‘ میں جنم لینے والے مغل شہزادے دارا شکوہ نے اپنی شہرۂ آفاق کتاب ’مجمع البحرین‘ یعنی ’دو سمندروں کا سنگم‘ میں صوفیانہ فکر اور ویدانتی فلسفے کے درمیان ان مقامات کی تلاش کی جہاں بظاہر دو الگ فکری دھارے ایک دوسرے سے آ ملتے ہیں۔ یوں گنگا اور جمنا کے کناروں پر پروان چڑھنے والی وہ تہذیبی آمیزش، جس نے بعد ازاں ثقافتی اصطلاح ’گنگا جمنی تہذیب‘ کا لباس زیب تن کیا، کو سمجھنے کے لیے دارا شکوہ کا یہ تصور ایک دلچسپ مگر اہم فکری پس منظر فراہم کرتا ہے۔
دارا شکوہ نے اپنی کتاب میں ہندو فلسفے کے تصورِ مہا پُرش کا ذکر کرتے ہوئے گنگا، جمنا اور سرسوتی کو اس کائناتی وجود کی ’اہم رگیں‘ قرار دیا ہے۔ مہا پُرش کے تصور میں پوری کائنات کو ایک عظیم انسانی وجود سے تعبیر کیا گیا ہے، جس کے مختلف اعضا میں کائنات کے عناصر سمائے ہوئے ہیں اور ندیاں اس کی رگوں کی مانند ہیں۔ گنگا، جمنا اور سرسوتی کو اس کی نمایاں رگیں قرار دیا جانا خاص طور پر قابلِ غور ہے۔

ثقافتی اصطلاح ’گنگا جمنی تہذیب‘
جیسا کہ ہم نے اوپر دیکھا کہ ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان میل جول اور رواداری کا عمل صدیوں پرانا ہے، لیکن اگر محض ’گنگا جمنی تہذیب‘ کی ثقافتی اصطلاح کے استعمال اور اس کے زبان زدِ عام ہونے کی تاریخ کھنگالی جائے تو وہ ہمیں 19ویں صدی کے وسط اور آخری دہائیوں میں ملتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس مخصوص لفظی اصطلاح کا استعمال اودھ کے نوابوں کے دور اور برطانوی دور میں شروع ہوا۔یہ اصطلاح بنیادی طور پر اودھ کے خطے، یعنی وسطی اتر پردیش، کی شاعرانہ زبان اور مشترکہ ثقافت سے نکلی بتائی جاتی ہے۔ نوابینِ اودھ، بالخصوص نواب واجد علی شاہ کے دور میں، یہ استعارہ ہندو مسلم یکجہتی اور باہمی میل جول کو ظاہر کرنے کے لیے زیادہ نمایاں طور پر استعمال ہونے لگا، جہاں ہولی کی ’جوگین‘ اور بسنت کی رنگینی سب کی مشترکہ خوشی کا حصہ ہوتی تھی۔تاہم 1857ء کی جنگِ آزادی کے آس پاس، جب انگریزوں کی ’تقسیم کرو اور حکومت کرو‘ کی پالیسی کا ذکر ملتا ہے، تو ہندوستانی دانشوروں اور ادیبوں نے دونوں برادریوں کو جوڑے رکھنے کے لیے بھی اس اصطلاح کا استعمال کیا۔
اردو ادب کے معروف ناقد، محقق اور مصنف پروفیسر علی احمد فاطمی نے ’آواز دی وائس‘ سے گفتگو میں کہا کہ ثقافتی اصطلاح ’گنگا جمنی تہذیب‘ محض ایک خیالی تصور نہیں بلکہ اس کے پیچھے ایک ٹھوس تاریخی اور تہذیبی تناظر موجود ہے۔بقولِ ان کے: ’’الہ آباد (جو آج پریاگ راج کہلاتا ہے) پہلے سنتوں اور پنڈتوں کا شہر تھا، پھر یہاں مسلم صوفیاء آئے اور خانقاہیں بنیں۔ اسی شہر میں تری وینی سنگم کے مقام پر جمنا، گنگا سے ملتی ہے۔ یہ صرف دو ندیوں کا سنگم نہیں ہے بلکہ دو زبانوں، دو مذاہب اور دو ثقافتوں کا بھی سنگم ہے۔ اس ملاپ اور آس پاس کے رواداری کے ماحول نے اسے گنگا جمنی تہذیب کا نام دیا۔‘‘
مورخ اور بنارس ہندو یونیورسٹی کے شعبۂ تاریخ کے سابق پروفیسر محمد عارف نے ’آواز دی وائس‘ کو بتایا کہ ’گنگا جمنی تہذیب‘ باہمی بھائی چارے، میل جول، تنوع اور ساجھی وراثت کی ایک علامت بن چکی ہے۔ یہ ایک ملی جلی اور ہندوستانی تہذیب کی علامت ہے، جہاں ہر ایک کی اپنی شناخت ہو اور معاشرہ پریم، محبت اور ہم آہنگی پر مبنی ہو۔وہ کہتے ہیں: ’’یہ اصطلاح خاص طور پر اودھ کے بیلٹ کے لیے استعمال ہوتی رہی ہے۔ گنگا اور جمنا ندیوں کو لے کر اودھ اور الہ آباد (جو اودھ کا ہی ایک حصہ ہے) اور پورا وسطی اتر پردیش، یہ وہ علاقے ہیں جہاں میل جول کی یہ روایات پیدا ہوئیں اور پھلی پھولیں۔ دھیرے دھیرے یہ اصطلاح ایک دوسرے کی شناخت کو تسلیم کرنے اور پریم، محبت کی پہچان بن گئی۔‘‘
یہ پوچھے جانے پر کہ کیا پریاگ راج میں تری وینی سنگم اور آس پاس کے اضلاع میں وہ باہمی بھائی چارہ آج بھی قائم ہے جو ’گنگا جمنی تہذیب‘ کی بنیاد بنا، پروفیسر عارف نے زور دے کر کہا کہ ہاں، یہ روایت آج بھی جاری ہے اور برقرار ہے۔انہوں نے اودھ کی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ اس علاقے میں میل جول کی بڑی روایات رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا: ’’یہیں ملک محمد جائسی، رس خان، رحیم اور واجد علی شاہ جیسی شخصیات ابھریں۔ اودھ میں صدیوں سے مندر اور مسجد ایک ساتھ نظر آئے اور نوابوں نے کافی میل محبت دکھائی۔ یہ پوری ثقافتی شناخت دھیرے دھیرے پروان چڑھی۔ آج یہ اصطلاح صرف الہ آباد، بنارس یا اودھ ہی نہیں بلکہ پورے ملک میں بھائی چارے کا استعارہ بن چکی ہے۔ میں خود، میرے ساتھی اور ملک میں موجود کروڑوں لوگ آج بھی ان میل جول کی روایات کو برقرار رکھے ہوئے ہیں اور اس پر لگاتار بات چیت ہو رہی ہے۔‘‘
مشترکہ تہذیب کی صورتیں اور بقا
پروفیسر علی احمد فاطمی کا کہنا ہے کہ آج کے تناظر میں ’گنگا جمنی تہذیب‘ دراصل اس ’کمپوزٹ کلچر‘ کا نام ہے جو مختلف قوموں، زبانوں اور ثقافتوں کے باہمی میل جول سے وجود میں آتا ہے۔ ان کے مطابق، تاریخی طور پر دیکھیں تو ہندوستان میں اکثریت اور اقلیت ہمیشہ ایک دوسرے سے اثرات لیتی رہی ہیں اور یہی باہمی اثرپذیری مشترکہ تہذیب کی بنیاد ہے۔ وہ جلسہ، جلوس، تعزیہ، عرس، میلہ اور قوالی جیسی روایات کی مثال دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ان میں سے بہت سی چیزیں ہندوستانی سماجی اور ثقافتی ماحول میں ہونے والے باہمی تبادلے کا نتیجہ ہیں۔ ان کے بقول، کسی کے انتقال کے بعد تیجا، بیسواں، چالیسواں اور برسی جیسی رسومات بھی اسی ’سماجی اور ثقافتی تبادلے‘ کی مثالیں ہیں، جن کا مقصد دور دراز سے آنے والے عزیزوں کو ایک ساتھ جمع ہونے کا موقع دینا تھا۔
یہ باہمی اثرات صرف رسوم و رواج تک محدود نہیں رہے بلکہ لباس اور تعمیرات میں بھی نظر آتے ہیں۔ پروفیسر فاطمی کے مطابق الہ آباد کے تعزیوں کی بناوٹ دسہرے کی چوکیوں سے مشابہت رکھتی ہے، جبکہ عید کی سوئیوں سے لے کر دیوالی اور ہولی کی خوشیوں میں ایک دوسرے کے ساتھ شریک ہونا اسی ثقافتی آمیزش کی مثال ہے۔ ان کے مطابق شیروانی بھی مسلمانوں کا مخصوص لباس نہیں تھا بلکہ راجپوتوں اور ٹھاکروں کے لباس سے مسلمانوں میں آیا۔
اسی ساجھی وراثت کے موجودہ منظرنامے پر بات کرتے ہوئے پروفیسر محمد عارف کہتے ہیں کہ آج بھی گنگا جمنی تہذیب سے جڑی روایتوں کو زندہ رکھنے کی کوششیں جاری ہیں۔ ان کے مطابق سوشل میڈیا پر نفرت کے مقابلے میں ’پریم اور سدبھاؤ‘ کی بات کرنے والی ہزاروں پوسٹس سامنے آ رہی ہیں، جبکہ محققین تاریخ کے ان پہلوؤں کو بھی دوبارہ سامنے لا رہے ہیں جو ہندوؤں اور مسلمانوں کے باہمی تعلق کی مثالیں پیش کرتے ہیں۔پروفیسر عارف اردو ادب، صوفی اور بھکتی لٹریچر، پریم چند، کبیر اور گورکھ ناتھ کو نئے سرے سے پڑھے جانے اور اردو کتابوں کے ہندی تراجم کا بھی ذکر کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک یہ سب اس بات کی علامت ہے کہ ساجھی وراثت صرف ماضی کا حوالہ نہیں بلکہ آج بھی مطالعے، تحقیق اور عوامی گفتگو کے ذریعے زندہ رکھی جا رہی ہے۔