سر سید کے تعلیمی خواب سے راجپوتانہ میں علم کی روشنی تک: راجستھان میں تعلیم کا اجالا

ایم آئی ظاہر- جے پور-جودھپور
تاریخ کی کچھ تحریکیں اپنے جغرافیہ سے کہیں زیادہ وسیع ہوتی ہیں۔ ان کا آغاز کسی ایک شہر میں ہوتا ہے، لیکن ان کی روشنی نسلوں، زبانوں اور خطوں تک پھیل جاتی ہے۔ علی گڑھ کی تعلیمی تحریک بھی ایسی ہی ایک تاریخی پہل تھی۔ سر سید احمد خان نے جس دور میں علم، سائنس، عقلیت اور جدید تعلیم کی وکالت کی، وہ ہندوستانی سماج کے لیے غیر معمولی تبدیلیوں کا زمانہ تھا۔ ان کا بنیادی پیغام تھا کہ کسی سماج کی ترقی کے لیے صرف ماضی کی عظمت کافی نہیں ہوتی، اسے اپنے عہد کے علم، تحقیق اور نئے چیلنجوں سے بھی واقف ہونا پڑتا ہے۔
احساسِ برتری میں جو لوگ یہ سمجھتے اور کہتے ہیں کہ راجستھان ایک بنجر زمین ہے اور راجستھان کے لوگوں کے ذہن بھی بنجر ہیں، وہ راجستھان میں تعلیم کے بارے میں الف بے بھی نہیں جانتے۔ ان کی دھند کی جالی صاف کرنا بہت ضروری ہے۔ یہ بات کسی دلیل سے نہیں بلکہ باقاعدہ حوالوں سے ثابت کرنے کی سعی کی گئی ہے۔ ممکن ہے کہ کچھ نکات چھوٹ سکتے ہیں، لیکن یہ حق ہے کہ راجستھان نے اعلیٰ تعلیم کے معاملے میں ملک اور بیرونِ ملک جھنڈے گاڑ دیے ہیں۔
راجپوتانہ (اب راجستھان) میں اس پیغام کی کہانی یک رخی نہیں ہے۔ یہاں ریاستوں کی سرپرستی، مقامی تعلیمی کوششیں، دینی مدارس، جدید کلیات، ادبی تنظیمیں اور مختلف یونیورسٹیوں سے جڑے اہلِ علم مل کر تعلیم کا ماحول تیار کرتے رہے۔ اسی وسیع تناظر میں علی گڑھ کی وراثت اور سر سید کی سوچ کا مطالعہ اہم ہو جاتا ہے۔
جمنا کے ساحل کے سر سید احمد خان کی تحریک کا چشمہ
17 اکتوبر 1817 کو دہلی میں پیدا ہونے والے سر سید احمد خان 19 ویں صدی کے عظیم مصلحین میں شمار ہوتے ہیں۔
24 مئی 1875 کو علی گڑھ میں مدرسۃ العلوم کی بنیاد رکھی۔ 7 جنوری 1877 کو محمڈن اینگلو اورینٹل کالج کا باقاعدہ افتتاح ہوا۔ اور 1920 میں یہی ادارہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی بنا۔ یہ تاریخی تسلسل اہم ہے، کیونکہ عام طور پر 1875 کو ہی کالج کے قیام کا سال لکھ دیا جاتا ہے۔
راجپوتانہ اور علی گڑھ کا تاریخی رشتہ
برطانوی دور میں راجپوتانہ کئی ریاستوں، درباروں اور مقامی تعلیمی نظاموں پر مشتمل علاقہ تھا۔ جے پور، جودھپور، اجمیر، ادے پور اور کوٹہ جیسے شہروں کی اپنی تاریخی اور فکری روایات تھیں۔ علی گڑھ تحریک اور راجپوتانہ کے تعلق کو تین سطحوں پر سمجھا جا سکتا ہے:
1. جدید تعلیم کے نظریات کا پھیلاؤ
2. علی گڑھ سے تعلیم یافتہ افراد کی علاقائی خدمات
3. اردو اور فارسی ادب کے ذریعے ثقافتی و فکری رشتہ
حوالہ برائے برطانوی دور: راجستھان اسٹیٹ آرکائیوز، بیکانیر میں محفوظ راجپوتانہ ایجنسی ریکارڈ، ریاستوں کی انتظامی رپورٹس اور محکمہ تعلیم کی دستاویزات اس کی بنیادی ماخذ ہیں۔ بیکانیر آرکائیوز کے مطابق راجپوتانہ 20 سے زائد ریاستوں پر مشتمل تھا۔ راجپوتانہ کے تمام جدید تعلیمی اداروں کو براہِ راست علی گڑھ تحریک کا نتیجہ ماننا تاریخی طور پر درست نہیں ہوگا۔ کئی اداروں کی اپنی آزاد تاریخ اور مقامی بانی رہے ہیں۔
1928 اجمیر کا تاریخی اجلاس
راجستھان میں علی گڑھ تحریک کے اثر کا سب سے بڑا دستاویزی ثبوت 1928 میں اجمیر میں منعقد ہونے والا آل انڈیا محمڈن ایجوکیشنل کانفرنس کا اجلاس ہے۔ یہ اجلاس 42 سال کے وقفے کے بعد اجمیر میں منعقد ہوا جس کی صدارت سر شاہ سلیمان نے کی۔
یہ اجلاس راجستھان کی تعلیمی تاریخ میں سنگِ میل ہے، کیونکہ اس میں پہلی بار راجستھان کے مسلمانوں کی جدید، پیشہ ورانہ اور روایتی تعلیم پر زور دیا گیا، مسلم خواتین کی تعلیم کے لیے اہم قراردادیں منظور کی گئیں اور برطانوی حکومت اور راجپوتانہ کی نوابی ریاستوں (ٹونک سمیت) کو یہاں کے مسلمانوں کی ابتر تعلیمی حالت کی طرف متوجہ کیا گیا۔
راجستھان میں اردو تحقیق کے دو ستون
1. مولانا احترام الدین شاغل:
جے پور کی قدیم ادبی تاریخ کے اہم نام۔ 1901 میں شروع ہونے والے رسالہ 'قوم' کے قیمتی نسخے آپ کے اور منشی معین الدین قریشی کے پاس محفوظ رہے۔ آپ بزمِ ادب جے پور کے رکن تھے اور جواہرِ سخن (1914) جیسے رسائل کی مجلسِ جائزہ میں شامل تھے۔
2. ڈاکٹر ابوالفیض عثمانی:
ٹونک سے تعلق رکھنے والے ممتاز محقق۔ ان کی دو کتابیں راجستھان کی تاریخ کے لیے کلیدی ہیں:
- راجستھان میں اردو زبان و ادب 1857ء تک (1992) - ناشر: راجستھان اردو اکادمی، جے پور۔ ریختہ پر دستیاب، 216 صفحات۔ یہ 1857 سے پہلے راجستھان میں اردو کے آغاز پر مستند ترین تحقیق ہے۔
- راجستھان میں فارسی زبان و ادب کے لیے غیر مسلم حضرات کی خدمات (1984/1988) - ناشر: مولانا ابوالکلام آزاد عربی فارسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ، ٹونک۔
راجستھان میں اردو درس و تدریس کی جامعاتی تاریخ
راجستھان یونیورسٹی، جے پور: 1947 میں قائم ہونے والی ریاست کی قدیم ترین یونیورسٹی۔ یہاں شعبہ اردو و فارسی قائم ہے۔ پروفیسر ناصرہ بصری یہاں صدرِ شعبہ رہ چکی ہیں اور اب ریٹائر ہو گئی ہیں۔
موہن لال سکھاڑیہ یونیورسٹی، ادے پور: یہاں شعبہ اردو کا قیام 1962 میں یونیورسٹی کے قیام کے ساتھ ہی عمل میں آیا۔ اس شعبہ کی تحقیق کا خاص موضوع 'راجستھان میں بولی جانے والی مقامی بولیوں پر اردو زبان کے اثرات' ہے۔
دیگر جامعات: مہارشی دیانند سرسوتی یونیورسٹی اجمیر، کوٹہ یونیورسٹی، مہاراجہ گنگا سنگھ یونیورسٹی بیکانیر، جے نارائن ویاس یونیورسٹی جودھپور کے الحاق شدہ کالجوں میں بھی اردو پڑھائی جاتی ہے۔ قومی تعلیمی کمیشن اور قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کی اسکیموں کے تحت ان جامعات میں اردو ڈپلومہ اور سرٹیفکیٹ کورسز بھی چلائے جا رہے ہیں۔ آج راجستھان میں بہت سارے پرائیویٹ تعلیمی ادارے بھی قائم ہیں۔
ٹونک عربی فارسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ - راجستھان کا علمی خزانہ
مولانا ابوالکلام آزاد عربی فارسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ، ٹونک، راجستھان میں اردو، عربی، فارسی مخطوطات کا سب سے بڑا مرکز ہے۔ اس کی مطبوعات:
- خزینۃ المخطوطات (7 جلدیں) - عربی، فارسی، اردو مخطوطات کی وضاحتی فہرست
- قصرِ علم - ٹونک کے کتب خانوں اور ان کے نوادر کا تعارف (1980)
- Journal of Arabic Persian Research Institute - 1980 سے مسلسل
علامہ رمزی اٹاوی اور علی گڑھ کی ادبی گونج
اصل نام ظہور احمد، کنیت ابوالاسرار اور تخلص رمزی۔ پیدائش 1 دسمبر 1912، اٹاوہ۔ سیماب اکبر آبادی کے شاگرد۔ 1932 میں جودھپور آئے، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے انگریزی ادب میں ایم اے کیا۔ اردو اور ہندی میں بھی اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ رمزی اٹاوی کا کلام بھارتیہ گیان پیٹھ کی کتابوں میں شامل ہے۔ حفیظ جالندھری، عبدالماجد دریابادی، ماہر القادری، نیاز فتح پوری، سہیل احمد صدیقی، شین کاف نظام اور ڈاکٹر رفیعہ نوشین نے اپنے مضامین میں عظیم شاعر اور مفکر بتاتے ہوئے ان کی شاعرانہ عظمت کا لوہا مانا ہے۔ رمزی اٹاوی کو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، خدا بخش لائبریری پٹنہ اور ہمدرد یونیورسٹی دہلی کے مشترکہ زیرِ اہتمام 1986 میں دہلی میں منعقد سارک (SAARC) کے سیمینار میں بطورِ خاص مدعو کیا گیا تھا۔ جہاں انہوں نے ساؤتھ ایشیا کے ادبا، شعراء اور مفکرین سے خطاب کیا تھا۔
ان کی زندگی سے متعلق معلومات کے مستند حوالے پاکستان سے شائع معروف شاعر شرف الدین یکتا جودھپوری کی کتاب 'بہارِ سخن'، راجستھان اردو اکادمی سے شائع معروف شاعر و نقاد شین کاف نظام کی مرتبہ کتاب 'معاصر شعرائے جودھپور'، قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے منچ پر شائع جودھپور کے معروف نستعلیق نگار اکمل نعیم صدیقی کے تحقیقی مقالہ میں ملتے ہیں۔ رمزی اٹاوی 1942 میں جودھپور ریڈیو کے اردو شعبہ سے وابستہ رہے، بعد میں راجستھان اردو اکادمی کی اولین جنرل کونسل کے رکن رہے۔
سر سید اور علی گڑھ تحریک پر نظم - راجپوتانہ کی ادبی تاریخ کا اہم باب
بود سید در حقیقت قافلہ سالارِ قوم
کرد بالا در جہاں از علم و فن معیارِ قوم
یعنی: سر سید حقیقت میں اپنی قوم کے قافلے کے رہنما تھے، جنہوں نے دنیا میں علم و ہنر کے ذریعے اپنی قوم کا معیار بہت بلند کر دیا۔ اپنی اس خواب و خیال اور فکر و غور کو رمزی اٹاوی نے ایک تعلیمی تحریک بنایا۔
حوالہ: اس موضوع پر 2021 میں راجپوتانہ اردو ریسرچ اکادمی، جے پور سے شائع ہونے والی شاہد احمد جمالی کی کتاب 'ابوالاسرار رمزی اٹاوی بحیثیت شاعر اور نثر نگار' ایک اہم تحقیقی ماخذ ہے۔
دبستانِ آزاد: جودھپور میں مولانا آزاد کے افکار کی ادبی گونج
مولانا ابوالکلام آزاد نے ہندوستانی سماج میں تعلیم، قومی یکجہتی اور سائنسی طرزِ فکر کو خاص اہمیت دی۔ پروفیسر کنہیا لال راجپوروہت و پروفیسر ظہور خان مہر کے مطابق علامہ رمزی اٹاوی نے جودھپور میں مولانا آزاد کی سوچ کو آگے بڑھانے کے لیے اپنے گھر کے باہر 'دبستانِ آزاد' کا بورڈ لگا کر ایک تعلیمی تحریک شروع کی تھی۔
مارواڑ میں تعلیمی بیداری: مسلم ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر سوسائٹی کا سفر (1929)
مارواڑ مسلم ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر سوسائٹی کی تاریخ 1929 سے شروع ہوتی ہے۔ ادارے کی سرکاری ویب سائٹ کے مطابق جودھپور کے اس وقت کے حکمران مہاراجہ امید سنگھ نے 21 نومبر 1929 کو مسلم برادری کے لیے مناسب اسکول کی عمارت فراہم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس کے بعد سوسائٹی قائم ہوئی۔ مہاراجہ امید سنگھ اس کے سرپرست، اس وقت کے ڈائریکٹر تعلیم اے۔ پی۔ کاکس صدر اور مہدی حسن سکریٹری بنے۔ رحمت اللہ خان اور وحید اللہ خان جیسے مقامی افراد بھی اس ابتدائی کوشش میں شامل تھے۔ جودھپور کے پہلے کلکٹر وحید اللہ خان علامہ رمزی اٹاوی کے قدردان اور اس تحریک میں ان کے پیروکار تھے۔
سال واقعہ تفصیل
1929 سوسائٹی کا قیام مہاراجہ امید سنگھ کا اعلان
1934 اسکول کی عمارت کی تعمیر بنیادی ڈھانچہ مکمل
1981 نئے کیمپس کا سنگِ بنیاد 2 جنوری 1981
1988 مولانا آزاد اسکول کا افتتاح 11 ستمبر 1988، وزیرِ اعلیٰ شیو چرن ماتھر، رکنِ پارلیمان اشوک گہلوت موجود
2006 ٹیچرز ٹریننگ کالج معلمین کی تربیت
2013 مولانا آزاد یونیورسٹی، جودھپور راجستھان ریاستی ایکٹ نمبر 35، 8000 سے زائد طلبہ
راجستھان میں آج بھی زندہ ہے علی گڑھ کی وراثت
شہر اہم تعلیمی حوالہ حیثیت
جے پور مولانا قمر واحدی، جامعہ ہدایت، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اولڈ بوائز ایسوسی ایشن شاخ درج
جودھپور رمزی اٹاوی، مولانا آزاد یونیورسٹی ادارہ جاتی
اجمیر شعرائے اجمیر (1987) ادبی
ادے پور موہن لال سکھاڑیہ یونیورسٹی، ڈاکٹر ثروت خان جامعاتی
کوٹہ اردو دستاویزات، اولڈ بوائز ایسوسی ایشن تاریخی
ٹونک اردو-فارسی ورثہ، عربی فارسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ تحقیقی
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اولڈ بوائز ایسوسی ایشن - جے پور و کوٹہ میں وراثت
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اولڈ بوائز ایسوسی ایشن کی دستیاب شاخوں کی فہرست میں جے پور شاخ درج ہے۔ اس کے روحِ رواں اعظم بیگ ہیں (4/747، جواہر نگر، جے پور)۔ ان کے مطابق وہ تقریباً 31 برس سے (یعنی 1995 سے) اس تنظیم سے جڑے ہیں۔ اس کے علاوہ اظہر احسان نے بھی تقریباً 8-9 سال قبل ایک اور رجسٹرڈ ایسوسی ایشن شروع کی تھی۔ اظہر احسان نے بتایا تھا کہ 1979 میں جب وہ جے پور آئے تو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اولڈ بوائز ایسوسی ایشن قائم تھی، اس وقت راجستھان اردو اکادمی کے صدر نشین انعام الحق اور ٹونک کے کیپٹن خلیل اس میں شامل تھے۔
کوٹہ میں بھی اس ایسوسی ایشن کی شاخ عبدالقدیر صاحب چلا رہے ہیں جو پہلے جے پور میں رہتے تھے۔ جودھپور میں ڈاکٹر امان اللہ و ڈاکٹر صدیقی نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اولڈ بوائز ایسوسی ایشن قائم کی تھی اور رمزی اٹاوی کا استقبالیہ جشن بھی منایا تھا۔ مارواڑ مسلم ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر سوسائٹی اور راجستھان اردو اکادمی کے مشترکہ زیرِ اہتمام 2013 میں مولانا ابوالکلام آزاد مسلم اسکول میں رمزی صدی کا انعقاد کیا گیا تھا۔ جس میں تب اکادمی کے صدر رہے ڈاکٹر حبیب الرحمن نیازی اور ڈاکٹر جمیل احمد کاظمی نے بطورِ مہمانانِ خصوصی شرکت کی تھی۔ معروف مصنف اور اسلامی اسکالر ڈاکٹر اختر الواسع جب مولانا آزاد یونیورسٹی کے وائس چانسلر تھے تو اس وقت اس یونیورسٹی میں ڈاکٹر عزیز اللہ شیرانی کی نگرانی میں رمزی اٹاوی پر پی ایچ ڈی کی گئی۔
اہم بات یہ ہے کہ دہلی جمنا کنارے کے سر سید اور اٹاوہ جمنا کنارے کے رمزی اٹاوی کی تعلیمی تحریک سے صحرا گلزار ہو گیا۔ پہلے وحید اللہ خان اور بعد میں محمد عتیق نے اس تعلیمی تحریک کو جلا بخشی۔ ابھی چند روز قبل ہی مہم فاؤنڈیشن اور شاہین اکادمی کی جانب سے جودھپور کے زنانہ گارڈن میں تعلیمی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ جس میں سر سید ثانی بیدر کے ڈاکٹر عبدالقدیر نے راجستھان میں تعلیمی بیداری کے لیے کیے گئے کاموں کی تعریف کی۔ غور طلب ہے کہ پورے راجستھان میں جودھپور جتنے بڑے اور زیادہ مسلم ادارے نہیں ہیں۔ یہ سر سید کی مشعل سے صحرا کو گلزار کرنے والے عظیم شاعر اور مفکر رمزی اٹاوی کی تعلیمی بیداری مہم کا ثمرہ ہے۔ آج علیگ برادری راجستھان کے مختلف شہروں میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اولڈ بوائز ایسوسی ایشن اور اپنے اپنے تعلیمی اداروں میں یومِ سر سید مناتی ہے۔
اہم تحقیقی ماخذ و حوالہ جات:
1. علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے سرکاری تاریخی ریکارڈ
2. شاہد احمد جمالی - ابوالاسرار رمزی اٹاوی بحیثیت شاعر و نثر نگار (2021) - راجپوتانہ اردو ریسرچ اکادمی، جے پور
3. مارواڑ مسلم ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر سوسائٹی کے ادارہ جاتی ریکارڈ (1929)
4. مولانا آزاد یونیورسٹی، جودھپور - ریاستی ایکٹ 2013
5. راجستھان اردو اکادمی و راجپوتانہ اردو ریسرچ اکادمی (ریختہ پر 24 کتب)
6. راجستھان اسٹیٹ آرکائیوز، بیکانیر - راجپوتانہ ایجنسی ریکارڈ
7. اکمل نعیم صدیقی - رمزی اٹاوی پر تحقیقی مقالہ - قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان - جودھپور کے معروف نستعلیق نگار اور شاعر
8. راجستھان یونیورسٹی، شعبہ اردو و فارسی
9. موہن لال سکھاڑیہ یونیورسٹی، ادے پور، شعبہ اردو (1962)
10. ریختہ - ڈاکٹر عزیز اللہ شیرانی (16 کتب)، ڈاکٹر ابوالفیض عثمانی (216 صفحات)
11. مولانا ابوالکلام آزاد عربی فارسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ، ٹونک - مطبوعات