ایمان ثکینہ
جب لوگ ’’مہاجر‘‘ یا ’’پناہ گزیں‘‘ کا لفظ سنتے ہیں تو اکثر ان کے ذہن میں ایسے افراد کا تصور آتا ہے جو جنگ، ظلم و ستم یا سیاسی تشدد سے بچ کر اپنے گھر چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہوں۔ لیکن نقل مکانی کرنے والے لوگوں کا ایک اور بڑھتا ہوا طبقہ بھی ہے، جن کے گھر کسی ایسی وجہ سے چھن رہے ہیں جو شاید نظر نہیں آتی، لیکن اس کے تباہ کن اثرات اتنے ہی شدید ہیں: موسمیاتی تبدیلی۔
سمندر کی بڑھتی ہوئی سطح، طویل خشک سالی، تباہ کن سیلاب، شدید گرمی اور روزگار کے ذرائع کے ختم ہونے کے باعث خاندان ان علاقوں کو چھوڑنے پر مجبور ہو رہے ہیں جہاں ان کے آباؤ اجداد نسلوں سے آباد رہے ہیں۔ ایسے لوگوں کو اب تیزی سے موسمیاتی مہاجرین (Climate Refugees) کہا جاتا ہے۔
اسلام کے لیے یہ سوال صرف ہجرت یا موسمیاتی تبدیلی کا نہیں ہے۔ یہ اس بات کا سوال بھی ہے کہ جب کمزور اور بے سہارا لوگ ہمارے دروازے پر آ پہنچیں تو ہم ان کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہیں۔
زمین اللہ کی امانت ہے
قرآن بار بار انسانوں کو یاد دلاتا ہے کہ زمین اللہ کی امانت ہے۔ ہم اس کے مطلق مالک نہیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
’’اور وہی ہے جس نے تمہیں زمین میں جانشین بنایا۔‘‘
— قرآن، 6:165
زمین کا جانشین یا نگہبان ہونا ایک ذمہ داری بھی عائد کرتا ہے۔ جب ماحولیاتی تباہی لوگوں کو بے گھر کر دیتی ہے تو اس کے نتائج صرف ماحولیاتی نہیں رہتے، بلکہ یہ انصاف، ہمدردی اور انسانی وقار کے سوال بھی بن جاتے ہیں۔
قرآن زمین میں فساد اور تباہی پھیلانے کی سختی سے مذمت کرتا ہے:
’’اور زمین میں اس کی اصلاح کے بعد فساد نہ پھیلاؤ۔‘‘
— قرآن، 7:56
موسمیاتی تبدیلی کے متعدد اسباب ہیں اور اسے کسی ایک فرد یا برادری کے اعمال تک محدود نہیں کیا جاسکتا۔ تاہم اسلامی اصول واضح ہے کہ انسانوں کو نقصان پہنچانے سے بچنا چاہیے اور ان چیزوں کی حفاظت کرنی چاہیے جو انہیں امانت کے طور پر سونپی گئی ہیں۔
جب کسی کا گھر ہی چھن جائے تو؟
لیکن جب کوئی شخص اپنا گھر پہلے ہی کھو چکا ہو تو پھر کیا ہوتا ہے؟
اسلام میں ان لوگوں کا خیرمقدم کرنے کی ایک طویل روایت موجود ہے جو اپنے گھر چھوڑنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ حضرت محمد ﷺ کی مکہ سے مدینہ ہجرت کی تاریخ خود ایک اہم سبق پیش کرتی ہے۔ مکہ سے ہجرت کرنے والے مسلمانوں کو مہاجرین کہا گیا، جبکہ مدینہ کے ان لوگوں کو جنہوں نے ان کا استقبال کیا اور ان کی مدد کی، انصار کہا گیا۔
قرآن انصار کی سخاوت کی تعریف کرتے ہوئے فرماتا ہے:
’’اور وہ اپنی جانوں پر دوسروں کو ترجیح دیتے ہیں، اگرچہ خود محتاج ہوں۔‘‘
— قرآن، 59:9
یہ آیت بے گھر اور نقل مکانی کرنے والے لوگوں کے ساتھ ایک غیر معمولی رویے کی عکاسی کرتی ہے۔ انصار نے نئے آنے والوں کو محض ایسے باہر کے لوگوں کے طور پر نہیں دیکھا جو خوراک، گھروں، روزگار یا وسائل میں ان کے حریف ہوں۔ انہوں نے انہیں ضرورت مند انسانوں کے طور پر دیکھا۔
آج بھی اس سبق کی معنویت برقرار ہے۔
سیلاب کے باعث بے گھر ہونے والا خاندان صرف اس لیے کسی کا ماں، باپ، بچہ یا دادا دادی ہونا نہیں چھوڑ دیتا کہ اس نے ایک سرحد عبور کرلی ہے۔ خشک سالی کے باعث اپنی زمین کھو دینے والا کسان اپنا وقار نہیں کھوتا۔ بڑھتے ہوئے پانی کے باعث گھر چھوڑنے پر مجبور ہونے والا بچہ بھی ایسا ہی بچہ ہے جو تحفظ، تعلیم، خوراک اور محبت کا مستحق ہے۔
قرآن اہلِ ایمان کو انصاف کے لیے کھڑے ہونے کا حکم دیتا ہے:
’’بے شک اللہ انصاف اور حسنِ سلوک کا حکم دیتا ہے۔‘‘
— قرآن، 16:90
بے گھر اور نقل مکانی کرنے والے لوگوں کی میزبانی کا مطلب یہ ضروری نہیں کہ ہر فرد ذاتی طور پر کسی مہاجر خاندان کو اپنے گھر میں جگہ دے۔ حکومتوں، معاشروں، فلاحی اداروں، مساجد اور بین الاقوامی تنظیموں کی اپنی اپنی ذمہ داریاں ہیں۔
لیکن عام مسلمان بھی اپنا کردار ادا کرسکتے ہیں۔ وہ خوراک اور کپڑے عطیہ کرسکتے ہیں، ہنگامی پناہ گاہوں کی مدد کرسکتے ہیں، بچوں کی تعلیم جاری رکھنے میں تعاون کرسکتے ہیں، روزگار کے مواقع فراہم کرسکتے ہیں، لوگوں میں شعور بیدار کرسکتے ہیں یا کم از کم یہ فیصلہ کرسکتے ہیں کہ بے گھر اور نقل مکانی کرنے والے لوگوں کو شک اور تحقیر کی نظر سے نہیں دیکھیں گے۔
اسلام میں مہمان نوازی صرف کسی مہمان کو کھانا پیش کرنے کا نام نہیں۔ یہ اس کی انسانیت کو تسلیم کرنے کا نام بھی ہے۔
مہاجرین کی مدد اور زمین کی حفاظت
موسمیاتی نقل مکانی کا چیلنج ہمیں یہ بھی یاد دلاتا ہے کہ ہمدردی کو روک تھام کے ساتھ جوڑنا ضروری ہے۔ ہم جنگلات کو تباہ کرتے، پانی ضائع کرتے، دریاؤں کو آلودہ کرتے اور وسائل کا غیر ذمہ دارانہ استعمال کرتے رہیں اور پھر یہ توقع رکھیں کہ کمزور طبقات اس کے نتائج برداشت کرتے رہیں گے، یہ ممکن نہیں۔
مہاجرین کی دیکھ بھال اور کرۂ ارض کی حفاظت ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ذمہ داریاں ہیں۔
شاید سب سے اہم سبق یہ ہے کہ کسی انسان کی قدر و قیمت اس کے پاسپورٹ پر درج مقام سے طے نہیں ہوتی۔ وہ مہاجر، پناہ گزیں، دیہاتی، کسان یا غیر ملکی ہونے سے پہلے ایک انسان ہے، جسے اللہ نے پیدا کیا ہے۔
قرآن کہتا ہے:
’’اور بے شک ہم نے اولادِ آدم کو عزت بخشی۔‘‘
— قرآن، 17:70
یہ عزت پوری انسانیت کے لیے ہے۔
موسمیاتی مہاجرین کا سوال
موسمیاتی مہاجرین ہمیں مجبور کرتے ہیں کہ ہم جغرافیائی حدود سے آگے دیکھیں اور ایک گہرا سوال کریں:
جب کسی دوسرے انسان کا گھر ہی ختم ہوجائے تو ہم کیسے انسان بنتے ہیں؟
اسلام ہمیں رحم، انصاف، ذمہ داری اور مہمان نوازی کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ اگر موسمیاتی تبدیلی کے باعث نقل مکانی ہمارے عہد کے بڑے انسانی مسائل میں سے ایک بن جاتی ہے تو یہ اصول مسلمانوں کی رہنمائی کرسکتے ہیں کہ وہ نہ صرف بے گھر ہونے والے لوگوں کی مدد کریں بلکہ اس زمین کے بہتر نگہبان بھی بنیں جو ہم سب کے لیے مشترکہ ہے۔