ڈاکٹر عظمٰی خاتون
حال ہی میں ہندوستانی عوامی حلقوں میں ایک ممتاز روایتی سنی رہنما کے خواتین کے بارے میں دیے گئے بعض بیانات پر بحث چھڑ گئی۔ اس ممتاز شخصیت نے ایک قدامت پسند دھڑے کی جانب سے جاری کیے گئے ایک متنازع سرکلر کا دفاع کیا، جس میں مقامی محلّوں اور مدارس کو ہدایت دی گئی تھی کہ مذہبی تقریبات کے دوران مردوں کے ساتھ خواتین کو عوامی اسٹیج پر پیش نہ کیا جائے یا ان کی نمائش نہ کی جائے۔ اس رجعت پسندانہ مؤقف کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے مذکورہ رہنما نے کہا کہ خواتین کو عوامی زندگی میں لانے سے ’’بڑی تباہی‘‘ پیدا ہوگی اور دعویٰ کیا کہ اسلام اس سے بچنے کے لیے سخت پردے کا پابند بناتا ہے۔
اس پدرانہ سوچ کے جواز میں ایک عجیب مثال بھی دی گئی، جس میں عورت کو ایک ’’سونے کے ہار‘‘ سے تشبیہ دی گئی جسے الماری، صندوق اور بھاری غلافوں میں بند کرکے رکھا جاتا ہے، جبکہ اس کے برعکس سڑک کے کنارے پڑے پتھر کے اوکھلی نما آلے سے مثال دی گئی جسے لوگ روندتے ہوئے گزر جاتے ہیں۔ اس جاگیردارانہ منطق کے مطابق اگر عورت کی خوبصورتی یا اس کی موجودگی کو کھلے عوامی ماحول میں چھوڑ دیا جائے تو ہر شخص اسے چھوئے گا، یہاں تک کہ اس کی قدر اور خوبصورتی ختم ہوجائے گی۔ ’’عزت اور تحفظ‘‘ کے نام پر پیش کیا جانے والا یہ پدرانہ تصور خواتین کو چار دیواری تک محدود رکھنے اور ان کی عوامی شناخت، پیشہ ورانہ خواہشات اور بنیادی آزادیوں سے محروم کرنے کا تقاضا کرتا ہے۔
ایسے رجعت پسندانہ بیانات، جو احترام کے خوش نما عنوان کے تحت خواتین کو مستقل طور پر گھریلو زندگی تک محدود کرنے کی کوشش کرتے ہیں، سخت تنقید کے مستحق ہیں۔ جب انہیں اسلامی اصولوں، قرآن کے بنیادی پیغام اور ابتدائی اسلامی تاریخ کے مستند شواہد کی روشنی میں دیکھا جائے تو اس نوعیت کی پدرانہ نگرانی اور پابندی اسلام کی بنیادی تعلیمات سے مطابقت نہیں رکھتی۔ یہ دعویٰ کہ اسلامی صحیفے لازماً خواتین کی مستقل محکومی یا علیحدگی کا حکم دیتے ہیں، مذہبی متون کی ایک ایسی تعبیر پر مبنی ہے جس میں انسانی اور پدرانہ تصورات شامل کردیئے گئے ہیں۔
روایتی مذہبی حلقے اکثر مخصوص پدرانہ احکامات کو نمایاں کرتے ہوئے اپنے ہی مذہب کے وسیع تر اخلاقی تصور کو نظر انداز کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ قرآن خواتین کو گھروں میں قید رکھنے یا مردوں کی مطلق بالادستی کی حمایت نہیں کرتا۔ اس کے بجائے اسلامی تعلیمات توحید، یعنی اللہ کی مطلق وحدانیت، پر زور دیتی ہیں، جو اس بات کو واضح کرتی ہے کہ کسی انسان کو محض جنس کی بنیاد پر دوسرے انسان پر اقتدار، ملکیت یا برتری کا دعویٰ کرنے کا حق حاصل نہیں۔خواتین کو نجی ملکیت یا گھریلو خدمت گار سمجھنا مذہب کی روحانی اساس کے منافی ہے۔ مزید یہ کہ حضرت محمد ﷺ کے عہدِ اول کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو خواتین کے وقار اور فعال کردار کے واضح شواہد ملتے ہیں۔ حضرت خدیجہؓ ایک کامیاب بین الاقوامی تاجر تھیں، جبکہ ام المؤمنین حضرت ام سلمہؓ اور حضرت نسیبہ بنت کعبؓ جیسی شخصیات نے ابتدائی اسلامی معاشرے کی تشکیل میں فعال کردار ادا کیا اور قانونی، مالی اور عوامی سطح پر اپنی خود مختاری کا مظاہرہ کیا۔

قرآن میں خواتین کی عوامی موجودگی
قدامت پسند حلقوں کی جانب سے قرآن کی اتھارٹی کا بار بار حوالہ دیا گیا، لیکن قرآن کا متن خود اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ خواتین کو عوامی زندگی سے کبھی مکمل طور پر خارج نہیں کیا گیا۔ قرآن کی بنیادی ہدایت باہمی حیا سے متعلق ہے، جو مردوں اور خواتین دونوں پر یکساں طور پر عائد ہوتی ہے۔مثال کے طور پر سورۃ النور کی آیت 30 میں پہلے مومن مردوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی عصمت کی حفاظت کریں، اس کے فوراً بعد آیت 31 میں مومن خواتین کو بھی یہی ہدایت دی گئی ہے اور پردے سے متعلق احکامات بیان کیے گئے ہیں۔اسی طرح مستند احادیث میں بھی مردوں کے لیے حیا کے واضح اصول بیان کیے گئے ہیں، جن میں رویوں کی حدود سے لے کر خود نمائی اور تکبر پر مبنی نمائش سے اجتناب تک شامل ہے۔ حیا کو کبھی صرف خواتین کی ذمہ داری نہیں بنایا گیا؛ یہ مردوں کے رویے اور جسمانی حدود پر بھی یکساں طور پر لاگو ہوتی ہے۔قرآن کی ان آیات یا کسی دوسرے مقام پر ایسی کوئی عمومی ہدایت موجود نہیں جو خواتین کو عوامی زندگی میں حصہ لینے سے منع کرتی ہو۔
مسلم دنیا میں خواتین کی قیادت
معاصر مسلم دنیا میں خواتین مسلسل قیادت کے میدان میں ان پابندیوں کے تصورات کو چیلنج کرتی رہی ہیں۔ پاکستان نے بے نظیر بھٹو کو وزیر اعظم منتخب کیا، جو کسی مسلم اکثریتی ملک کی پہلی خاتون سربراہِ حکومت بنیں۔ بنگلہ دیش میں بھی کئی دہائیوں سے خواتین نمایاں سیاسی قیادت کرتی رہی ہیں۔اسی طرح انڈونیشیا نے میگاوتی سوکارنوپوتری کو صدر منتخب کیا، جبکہ سنگاپور میں ایک باعمل مسلم خاتون حلیمہ یعقوب نے چھ سال تک ملک کی صدارت کی۔ ملائیشیا میں وان عزیزہ وان اسماعیل نے نائب وزیر کے طور پر خدمات انجام دیں۔
ہندوستان میں بھی مسلم خواتین نے سیاسی اور سماجی زندگی میں مسلسل رکاوٹیں عبور کی ہیں۔ ان میں تاریخی طور پر پارلیمنٹ کی رکن رہنے والی مائمونہ سلطان، دوسری اور تیسری لوک سبھا کی رکن، 1957 میں آسام سے منتخب ہونے والی مفیدہ احمد اور جموں و کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی شامل ہیں۔ موجودہ دور میں لوک سبھا رکن اقرا حسن، سینئر رہنما محسنہ قدوائی، اوڈیشہ کی رکن اسمبلی صوفیہ فردوس، دہلی حج کمیٹی کی چیئرپرسن کوثر جہاں اور سیاسی رہنما ڈاکٹر ثمینہ بیگم بھی مختلف شعبوں میں خواتین کی عوامی شرکت کی مثالیں ہیں۔
مزید برآں، مختلف مسلم معاشروں میں خواتین باقاعدگی سے دینی مدارس میں تدریس کرتی ہیں، مذہبی و فقہی آرا پیش کرتی ہیں، جج کے طور پر خدمات انجام دیتی ہیں اور پارلیمانوں کی رکن بھی بنتی ہیں۔جب طالبان جیسے انتہا پسند گروہ ثانوی تعلیم پر مکمل پابندی عائد کرتے اور خواتین کو عوامی زندگی میں خاموش کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو اسے خالص اسلامی طرزِ عمل قرار نہیں دیا جاسکتا۔ اس میں سخت گیر متنی تعبیرات کو قبائلی عزت اور سماجی کنٹرول کے محدود ضابطوں کے ساتھ ملایا جاتا ہے، جسے دنیا بھر کے بیشتر مسلم علما مسترد کرتے ہیں۔

تقاطعِ محرومیت اور روزمرہ کی جدوجہد
اس مذہبی سخت گیری کی حقیقی قیمت کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ محروم طبقات کے نقطۂ نظر سے معاملے کو دیکھا جائے۔ معاصر ہندوستان میں مکمل بااختیاری کی جانب سفر کے لیے ان تلخ حقیقتوں کا سامنا کرنا ضروری ہے جن سے پسماندہ مسلم خواتین دوچار ہیں۔ یہ خواتین مسلم آبادی کے ایک بڑے حصے کی نمائندگی کرتی ہیں۔پسماندہ مسلم خواتین کو عدم مساوات کے ’’تین گنا بوجھ‘‘ کا سامنا ہے۔ وہ صرف صنفی بنیاد پر نہیں بلکہ معاشی حیثیت اور برادری کے اندر موجود سماجی درجہ بندی میں اپنی کمزور پوزیشن کے باعث بھی محرومی کا شکار ہیں۔ایک پسماندہ مسلم خاتون کے لیے بااختیاری کوئی محض نظری بحث نہیں بلکہ بنیادی وقار، معیاری تعلیم اور معاشی بقا کے لیے روزانہ کی مسلسل جدوجہد ہے۔ جہاں مراعات یافتہ مذہبی رہنما آرام دہ پلیٹ فارموں سے خواتین کو گھروں تک محدود رکھنے کی بات کرتے ہیں، وہیں پسماندہ اور محنت کش خواتین صدیوں سے معاشی ضرورت کے باعث گھروں سے باہر کام کرتی آئی ہیں۔ وہ زرعی کھیتوں، تعمیراتی مقامات، دست کاری کے مراکز اور غیر رسمی مزدور منڈیوں میں کام کرتی رہی ہیں۔
یہ خواتین جسمانی محنت کا سب سے بھاری بوجھ اٹھانے کے ساتھ ساتھ اپنی برادری کے اندر اور باہر موجود پیچیدہ تعصبات کا بھی سامنا کرتی ہیں۔اسی لیے کسی حقیقی طور پر جامع سماجی تحریک میں پسماندہ مسلم خواتین کی آواز کو مرکز میں رکھنا ضروری ہے۔ اس کے لیے اشرافیائی ’’عزت و وقار کی سیاست‘‘ سے آگے بڑھنا ہوگا، جہاں صرف مراعات یافتہ آوازوں کو جگہ ملتی ہے۔ توجہ نچلی سطح کی قیادت، معاشی خود مختاری اور ایسے عملی وسائل پر ہونی چاہیے جو خواتین کو پابندیوں پر مبنی سماجی ڈھانچوں سے آزاد ہونے میں مدد دیں۔جب کوئی عورت معاشی طور پر خود کفیل ہوتی ہے تو اسے خاندان اور معاشرے میں اپنی حیثیت کے بارے میں گفت و شنید کرنے کی زیادہ طاقت حاصل ہوتی ہے۔ یہاں ہندوستانی آئین ایک مضبوط تحفظ اور معاونت فراہم کرتا ہے۔ آئین کی دفعات 14، 15 اور 21 قانون کے سامنے مساوات، صنفی امتیاز کی ممانعت اور ذاتی وقار کے ساتھ زندگی گزارنے کے حق کی ضمانت دیتی ہیں۔مذہبی آزادی کو کبھی بھی صنفی انصاف کو کمزور کرنے یا آئینی آزادیوں کو محدود کرنے کے لیے استعمال نہیں کیا جاسکتا۔
ترقی پسند مزاحمت اور سماجی اصلاح
روایتی مذہبی شخصیات، ان کے ادارہ جاتی اثر و رسوخ اور قومی قیادت کے ساتھ ان کے روابط سے متعلق جاری عوامی بحث کو مکمل تناظر میں سمجھنے کے لیے عالمی روایتی سنی علمی روایت کے وسیع تر سیاسی فلسفے کا جائزہ لینا ضروری ہے۔تصادم کی راہ اختیار کرنے والے انتہا پسند گروہوں کے برعکس، روایتی سنی علما نے تاریخی طور پر اخلاقی تربیت اور روحانی اصلاح پر توجہ دی ہے اور حکمرانی کو استحکام اور عوامی نظم و ضبط کے نقطۂ نظر سے دیکھا ہے۔ ہندوستانی جمہوری تناظر میں یہ عملی روایت ایسے آئینی نظام سے ہم آہنگ ہوسکتی ہے جو بنیادی حقوق اور انصاف کے مضبوط راستے فراہم کرتا ہے۔چنانچہ حقیقی پیش رفت خود کو سماج سے الگ کرنے کے بجائے جمہوری اصولوں کے اندر تعمیری شمولیت کے ذریعے حاصل کی جاسکتی ہے۔
اہم بات یہ ہے کہ ان رجعت پسندانہ مؤقف کو بلاچیلنج قبول نہیں کیا گیا، بلکہ ان کے خلاف ہندوستان کے مذہبی، سیاسی اور سماجی حلقوں کی جانب سے اصولی تنقید اور مزاحمت سامنے آئی۔ ترقی پسند آوازوں نے مذہبی اشرافیہ کی اس نگرانی اور پابندی کے بنیادی نقائص کو نمایاں کیا۔مثال کے طور پر ترواننت پورم کی پالم جمعہ مسجد کے چیف امام ڈاکٹر وی پی صہیب مولوی نے اپنے خطبۂ جمعہ میں ان بیانات کی سختی سے تردید کی۔ انہوں نے قرآن کی آیات اور احادیث کا حوالہ دیتے ہوئے واضح کیا کہ اسلام نے خواتین کو عوامی سرگرمیوں میں شرکت سے کبھی منع نہیں کیا۔
سیاسی رہنماؤں نے بھی مختلف جماعتوں کی سطح پر اس مؤقف کی مخالفت کی۔ اپوزیشن لیڈر وی ڈی ستیشن نے اس سوچ کو جدید معاشرے کے لیے ناموزوں قرار دیا، جبکہ کے کے شیلجا اور پی کے سری متھی نے اسے ایک فرسودہ جاگیردارانہ روایت قرار دے کر مسترد کیا۔اسی طرح سیاسی رہنما راجیو چندرشیکھر نے اس بات پر زور دیا کہ ہر عورت کو آئین کے تحت وقار کے ساتھ زندگی گزارنے اور قیادت کرنے کا مکمل حق حاصل ہے۔اس وسیع پیمانے پر ردعمل کے بعد قدامت پسند حلقوں نے بھی تحمل کی اپیل کی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سول سوسائٹی اور ترقی پسند مذہبی آوازیں خواتین کو سماج کے سائے میں دھکیلنے کی پدرانہ کوششوں کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔آخرکار مسلم خواتین کے لیے حقیقی سماجی ترقی اور صنفی انصاف آئینی تحفظات، نچلی سطح پر پسماندہ مسلم خواتین کی بااختیاری اور ابتدائی اسkلام کی حقیقی مساوات، رحم دلی اور ترقی پسند روح پر مبنی داخلی اصلاح کے امتزاج سے تشکیل پاتے ہیں۔
مصنف کے بارے میں : ڈاکٹر عظمٰی خاتون جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی کے شعبۂ اسلامیات میں پوسٹ ڈاکٹریٹ فیلو ہیں۔