کیا آپ مذہبی بھی ہو سکتے ہیں اور زندگی سے لطف بھی اٹھا سکتے ہیں؟

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 27-09-2026
کیا آپ مذہبی بھی ہو سکتے ہیں اور زندگی سے لطف بھی اٹھا سکتے ہیں؟
کیا آپ مذہبی بھی ہو سکتے ہیں اور زندگی سے لطف بھی اٹھا سکتے ہیں؟

 



 ایمان سکینہ

ایک عام خیال یہ ہے کہ مذہبی ہونے کا مطلب ایک سنجیدہ، پابندیوں بھری اور بے رونق زندگی گزارنا ہے۔ کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ انسان جتنا زیادہ مذہبی ہوتا جائے، اسے ہنسی مذاق، دوستی، سفر، کھیل، تقریبات اور زندگی کی سادہ خوشیوں سے اتنا ہی دور ہوجانا چاہیے۔ لیکن کیا واقعی اسلام ہمیں یہی تعلیم دیتا ہے؟ کیا آپ دن میں پانچ مرتبہ نماز ادا کرنے کے ساتھ فٹ بال کا میچ بھی دیکھ سکتے ہیں؟ کیا آپ حیا اور پردے کا خیال رکھتے ہوئے اچھا لباس پہن سکتے ہیں؟ کیا آپ اپنے ایمان کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے اپنے دوستوں کے ساتھ ہنس سکتے ہیں؟

جواب ہے: جی ہاں۔ آپ مذہبی بھی ہو سکتے ہیں اور زندگی سے لطف بھی اٹھا سکتے ہیں۔ اسلام انسان کو انسان ہونا چھوڑ دینے کا حکم نہیں دیتا۔ وہ اس حقیقت کو تسلیم کرتا ہے کہ انسان کو آرام، رفاقت، خوشی، تفریح اور ذہنی سکون کے لمحات کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسلام جس چیز کی تعلیم دیتا ہے، وہ لطف اور تفریح کو مکمل طور پر ترک کرنا نہیں، بلکہ صحت مند تفریح اور نقصان دہ حد سے تجاوز کے درمیان فرق کو سمجھنا ہے۔

قرآن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ دنیا کی نعمتیں خود بخود حرام نہیں ہوجاتیں:

"کہہ دیجیے: اللہ کی اس زینت کو کس نے حرام کیا ہے جو اس نے اپنے بندوں کے لیے پیدا کی ہے اور پاکیزہ رزق کو؟"

— قرآن، 7:32

یہ آیت ایک اہم نقطۂ نظر پیش کرتی ہے۔ زندگی کی جائز نعمتوں سے لطف اندوز ہونا بذاتِ خود کمزور ایمان کی علامت نہیں ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ ہم کس طرح لطف اٹھاتے ہیں، کہاں سے خوشی حاصل کرتے ہیں اور کیا یہ چیزیں ہمیں ایک متوازن اور ذمہ دار زندگی گزارنے میں مدد دیتی ہیں۔

نبی کریم ﷺ خوشی کے لمحات سے لطف اندوز ہوتے تھے

حضرت محمد ﷺ کی زندگی ہمیں دکھاتی ہے کہ مذہبی وابستگی اور عام انسانی خوشی ایک ساتھ موجود ہوسکتی ہیں۔ آپ ﷺ مسکراتے تھے، اپنے صحابہؓ سے خوش طبعی فرماتے تھے، اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ وقت گزارتے تھے، سفر کرتے تھے، سماجی مواقع میں شریک ہوتے تھے اور پاکیزہ و خوشگوار لمحات سے لطف اندوز ہوتے تھے۔آپ ﷺ نے اپنے صحابہؓ کو دنیا سے مکمل طور پر کنارہ کش ہونے کی تعلیم نہیں دی، بلکہ اعتدال اور توازن کا درس دیا۔

قرآن خود بھی انسانی زندگی میں توازن کی ضرورت کو تسلیم کرتا ہے:

"اور جو کچھ اللہ نے تمہیں دیا ہے، اس کے ذریعے آخرت کے گھر کو تلاش کرو اور دنیا میں اپنا حصہ فراموش نہ کرو۔"

— قرآن، 28:77

پیغام نہایت خوبصورت ہے: دنیا کی عارضی لذتیں آپ کو اپنے ابدی مقصد سے غافل نہ کردیں، لیکن یہ بھی ضروری نہیں کہ دنیا کی ہر خوشی کو غلط سمجھ لیا جائے۔

حلال تفریح کیسی ہونی چاہیے؟

حلال تفریح کا مطلب یہ نہیں کہ وہ بور یا بے مزہ ہو۔ درحقیقت زندگی سے لطف اندوز ہونے کے بے شمار ایسے طریقے ہیں جو اسلامی اقدار کا احترام کرتے ہوئے اختیار کیے جاسکتے ہیں۔

کھیل اور جسمانی سرگرمیاں

فٹ بال، کرکٹ، بیڈمنٹن، تیراکی، سائیکلنگ، ہائیکنگ، دوڑ، مارشل آرٹس اور دیگر جائز کھیل تفریح کے بہترین ذرائع ہوسکتے ہیں۔ یہ جسم کو صحت مند رکھنے کے ساتھ دوستی اور باہمی تعلقات کو بھی مضبوط بناتے ہیں۔

سفر اور نئی جگہوں کی سیر

نئے شہروں کی سیر، قدرتی مناظر سے لطف اندوز ہونا، تاریخی مقامات کو دیکھنا، اہلِ خانہ کے ساتھ روڈ ٹرپ پر جانا یا سمندر اور پہاڑوں کے قریب کچھ وقت گزارنا ذہن کو تازگی بخشتا ہے۔ قرآن بار بار لوگوں کو سفر کرنے اور اللہ کی تخلیق میں غور و فکر کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔

"زمین میں سفر کرو اور دیکھو کہ اس نے کس طرح تخلیق کی ابتدا فرمائی۔"

— قرآن، 29:20

خاندان کے ساتھ وقت

پکنک، گھر میں بورڈ گیمز کی شام، مل کر کھانا پکانا، رشتہ داروں سے ملنا، چائے پر گفتگو کرنا یا بچوں کو باہر لے جانا، روزمرہ کے عام لمحات کو خوبصورت یادوں میں تبدیل کرسکتا ہے۔

تخلیقی مشاغل

مطالعہ، تحریر، فوٹوگرافی، باغبانی، مصوری، خطاطی، دستکاری، کھانا پکانا اور دیگر جائز تخلیقی سرگرمیاں ذہنی سکون فراہم کرنے کے ساتھ مفید صلاحیتوں کو بھی پروان چڑھاتی ہیں۔

دوستوں کے ساتھ وقت

اچھی دوستی ایمان کی راہ میں رکاوٹ نہیں ہے۔ ایسے دوست جو مہربانی، سچائی، ترقی اور اچھے کردار کی ترغیب دیں، زندگی کو زیادہ خوشگوار اور ایمان کو مزید مضبوط بنا سکتے ہیں۔اصل مسئلہ تفریح نہیں، بلکہ اس میں حد سے تجاوز ہے، اسلام صرف اس لیے خوشی اور تفریح کی مذمت نہیں کرتا کہ انسان کو اس میں لطف آتا ہے۔ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب تفریح ایک جنون یا لت بن جائے۔اگر تفریح کی وجہ سے ہماری نمازیں چھوٹنے لگیں، والدین نظرانداز ہونے لگیں، ہماری ذمہ داریاں متاثر ہوں، نامناسب مواد ہماری زندگی کا حصہ بن جائے، ہم فضول خرچی کرنے لگیں یا اللہ کی یاد سے غافل ہوجائیں، تو سمجھ لینا چاہیے کہ کہیں نہ کہیں توازن بگڑ گیا ہے۔

قرآن خبردار کرتا ہے:

"کھاؤ اور پیو، لیکن اسراف نہ کرو۔ بے شک وہ اسراف کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔"

— قرآن، 7:31

یہ اصول تفریح پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ کوئی فلم، کھیل، چھٹی، مشغلہ یا سیر تفریح کا جائز ذریعہ ہوسکتا ہے، لیکن جب کوئی چیز ہماری زندگی کو کنٹرول کرنے لگے تو ہمیں اس پر دوبارہ غور کرنے کی ضرورت ہے۔

ایک متوازن مسلم زندگی میں عبادت اور کام، خاندان اور دوستوں، سنجیدگی اور مسکراہٹ، ذمہ داری اور تفریح، سب کے لیے جگہ ہوسکتی ہے۔

بعض اوقات لوگ مذہبی نظر آنے کی فکر میں اتنے آگے بڑھ جاتے ہیں کہ وہ فطری خوشی کی خوبصورتی ہی بھول جاتے ہیں۔ انہیں ہنسنے، چھٹی منانے، بچوں کے ساتھ کھیلنے، اچھا لباس پہننے یا دوستوں کے ساتھ وقت گزارنے پر بھی احساسِ جرم ہونے لگتا ہے۔مقصد مذہب اور تفریح میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا نہیں ہے۔ مقصد یہ سیکھنا ہے کہ اللہ کو یاد رکھتے ہوئے زندگی سے کس طرح لطف اٹھایا جائے۔

نماز ادا کریں، لیکن کھیلیں بھی۔ محنت کریں، لیکن آرام بھی کریں۔ دوسروں کی خدمت کریں، لیکن خود کو سانس لینے اور سکون کا وقت بھی دیں۔ اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ ہنسیں۔ سفر کریں۔ ورزش کریں۔ نئی چیزیں دریافت کریں۔ تخلیقی کام کریں۔ خوبصورت یادیں بنائیں۔بس اپنے دل کا تعلق اس ذات سے قائم رکھیں جس نے آپ کو ان نعمتوں سے لطف اندوز ہونے کی صلاحیت عطا کی ہے۔مذہبی ہونے کا مطلب زندگی سے دور ہوجانا نہیں، بلکہ زندگی کو ایک مقصد کے ساتھ جینا سیکھنا ہے۔ اور شاید تفریح کی سب سے خوبصورت صورت وہ ہے جس کے بعد دل میں کوئی پچھتاوا نہیں بلکہ صرف شکرگزاری باقی رہ جائے۔