راجیو نارائن
جب فاریہ اور سہہ زبیر نے اپنے بھائی زین کو بھینگے پن کے مسئلے سے دوچار دیکھا تو ان کے ذہن میں سوالات اٹھنے لگے۔ یہی سوالات انہیں اپنے گھر کی حدود سے کہیں آگے لے گئے۔ ان کی تلاش بالآخر ’’اسٹرابی کیور‘‘ تک پہنچی جو مصنوعی ذہانت کی مدد سے تیار کیا گیا ایسا منصوبہ ہے جس کا مقصد آنکھوں کی جانچ کو آسان بنانا اور علاج کو زیادہ قابل رسائی بنانا ہے۔ یوں ایک ذاتی مسئلہ ایک ایسے خیال میں تبدیل ہوگیا جس کا مقصد بہت سے دوسرے لوگوں کی مدد کرنا تھا۔
بات ان کے بھائی کی آنکھوں سے شروع ہوئی تھی۔ فاریہ اور سہہ کے لیے مصنوعی ذہانت کا سفر کسی برم نویسی کی جماعت سے نہیں بلکہ ان کے بھائی زین سے شروع ہوا۔ زین بھینگے پن کے مرض میں مبتلا تھا جس میں دونوں آنکھیں درست طور پر ایک سمت میں نہیں رہتیں۔بچپن میں بینائی کے مسائل سے دوچار بہت سے خاندانوں کی طرح ان دونوں بہنوں کو بھی ایک ایسے مسئلے کا سامنا تھا جس کے بارے میں وہ پوری طرح واقف نہیں تھیں۔ تاہم انہیں یہ ضرور معلوم ہوا کہ ایسے مسائل کی جتنی جلد تشخیص اور علاج ہوجائے اتنا ہی مستقل بینائی کے مسائل سے بچنے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔
دونوں بہنوں نے اس مسئلے کو مزید گہرائی سے سمجھنے کی کوشش شروع کی۔ اس دوران انہیں اندازہ ہوا کہ مسئلہ صرف ان کے خاندان تک محدود نہیں ہے۔ بھینگے پن کو ابتدائی مرحلے میں پہچاننا بعض اوقات قریبی رشتہ داروں کے لیے بھی مشکل ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ آنکھوں کی جانچ اور علاج کی سہولت ہر جگہ یکساں طور پر دستیاب نہیں۔ اس کے اثرات صرف بینائی تک محدود نہیں رہتے۔ آنکھوں کی نمایاں خرابی بچوں کے اپنے بارے میں تصور کو بھی متاثر کرسکتی ہے اور اس بات کو بھی کہ دوسرے لوگ انہیں کس نظر سے دیکھتے ہیں۔
سوالات بڑھتے گئے۔ کیا آنکھوں کی جانچ کو آسان بنایا جاسکتا ہے؟ کیا ٹیکنالوجی خاندانوں کو کسی مسئلے کی جلد شناخت میں مدد دے سکتی ہے؟ کیا علاج کی سہولت گھر پر زیادہ آسانی سے دستیاب ہوسکتی ہے؟ انہی سوالات نے بالآخر ’’اسٹرابی کیور‘‘ کو جنم دیا۔دونوں بہنوں کے تیار کردہ اس منصوبے میں ابتدائی جانچ میں مدد کے لیے اسمارٹ فون کے کیمرے کا استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ آنکھوں کی مشقیں اور پیش رفت کا ریکارڈ رکھنے کی سہولت بھی شامل ہے جبکہ کم قیمت گھریلو علاجی آلہ بھی اس منصوبے کا حصہ ہے۔ جو کچھ ایک خاندانی مسئلے کے طور پر شروع ہوا تھا وہ اسی کیفیت کا سامنا کرنے والے بہت سے دوسرے لوگوں کی مدد کی کوشش میں تبدیل ہوگیا۔ کسی مسئلے کو دیکھنے اور پھر اسے حل کرنے کے لیے کچھ بنانے کا فیصلہ کرنے کے درمیان کا یہی سفر ان دونوں بہنوں کی کہانی کا بنیادی حصہ ہے۔
مسئلے سے منصوبے تک
فاریہ اور سہہ نے کسی بڑی ٹیکنالوجی کمپنی کے وسائل کے ساتھ اپنا سفر شروع نہیں کیا تھا۔ ان کے پاس تجسس تھا۔ تحقیق کرنے کا جذبہ تھا اور سیکھنے کی آمادگی تھی۔ انہیں نہ صرف مسئلے کو سمجھنا تھا بلکہ اس ٹیکنالوجی کو بھی جاننا تھا جو اس کے حل میں مددگار ہوسکتی تھی۔ انہیں صارفین کی ضروریات کو سمجھنا تھا۔ اپنے مفروضوں کو آزمانا تھا۔ اپنی مصنوعات تیار کرنی تھی اور ایسے لوگوں کے سامنے اپنے خیال کی وضاحت کرنا سیکھنا تھا جو اس سے پہلے اس کے بارے میں کچھ نہیں جانتے تھے۔
یہ کسی بھی شخص کے لیے ایک بڑا قدم ہے۔ ان نوجوان خواتین کے لیے تو یہ سفر اور بھی بڑا تھا جو ابھی اپنے مستقبل کی بنیاد مضبوط کررہی تھیں۔ ’’اسٹرابی کیور‘‘ بھی کسی تنہائی میں تیار نہیں ہوا۔ دونوں بہنیں اس وسیع تر تجربے کا حصہ بن گئیں جس نے یہ دکھایا کہ جب نوجوان خواتین کو مصنوعی ذہانت تک رسائی کے ساتھ رہنمائی اور اپنے ذاتی تجربے سے جڑے مسائل کا حل تلاش کرنے کا اعتماد دیا جائے تو کیا کچھ ممکن ہے۔ان کی کہانی محض ایک طبی درخواست کی کہانی نہیں ہے۔ یہ اس بات کی کہانی ہے کہ جب کسی نوجوان خاتون کو کسی مانوس مسئلے کو دیکھ کر یہ سوال کرنے کی حوصلہ افزائی ملے کہ ’’اگر میں اسے حل کرنے کی کوشش کروں تو کیا ہوگا؟‘‘ تو اس کے بعد کیا کچھ ہوسکتا ہے۔
ہزار سوالات
یہی سوال مصنوعی ذہانت کے منصوبوں کے لیے قائم کیے گئے اس تیز رفتار پروگرام کی بنیاد میں بھی موجود ہے جو یونیسیف کے جنریشن اَن لمیٹڈ اور ٹیکنوویشن کی مشترکہ کاوش ہے۔ اس سال 60 ممالک سے ایک ہزار سے زیادہ نوجوان خواتین نے اس پروگرام میں حصہ لیا۔ ان میں سے 200 سے زیادہ نے 12 ہفتوں پر مشتمل پروگرام مکمل کیا اور قابل استعمال مصنوعات تیار کیں۔ انہوں نے اپنے منصوبوں کی عملی نمائش کے لیے ویڈیوز بنائیں اور اپنے خیالات پیش کیے۔ بالآخر 11 منصوبوں کو حتمی فہرست کے لیے منتخب کیا گیا اور 19 سے 24 سال کی عمر رکھنے والی ان منصوبوں کی بانی خواتین نے گوگل میں اپنے خیالات پیش کیے۔

اس پروگرام کا دائرہ اہم ہے اور اس کے پیچھے موجود سوچ بھی اتنی ہی اہم ہے۔
یونیسیف کے جنریشن اَن لمیٹڈ میں عالمی حل کے سینئر مشیر تھامس مائیکل کیے کے مطابق پروگرام میں جان بوجھ کر ایسی نوجوان خواتین کو تلاش کیا گیا جنہوں نے پہلے ہی اپنے اردگرد موجود مسائل کی نشاندہی کرلی تھی اور انہیں حل کرنے کے لیے کچھ کرنا چاہتی تھیں۔ان کے مطابق ان نوجوان خواتین نے ثابت کیا ہے کہ ثابت قدمی اور شراکت داری کی طاقت کیا ہوتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پروگرام کا طریقہ سادہ تھا۔ ایسی نوجوان لڑکیوں اور خواتین تک پہنچنا جنہوں نے اپنے مقامی مسائل کی نشاندہی کی ہو اور تبدیلی لانے کی خواہش رکھتی ہوں۔ اس پروگرام اور مصنوعی ذہانت کے وسائل کی مدد سے انہوں نے واقعی ایسا کرکے دکھایا۔
فاریہ اور سہہ کے لیے اس کا مطلب یہ تھا کہ ایک انتہائی ذاتی مسئلے کو ٹیکنالوجی کی شکل دی جائے۔ تاہم دوسری نوجوان خواتین کے لیے مسائل مختلف تھے۔میکسیکو سے تعلق رکھنے والی امبر ہرنانڈیز اور فاطمہ گایتان نے مثال کے طور پر ’’کونکورا‘‘ تیار کیا۔ یہ منصوبہ ایک ایسے مسئلے سے متعلق ہے جس سے دنیا بھر میں لاکھوں نوجوان دوچار ہیں۔ ملازمت دینے والے تجربہ طلب کرتے ہیں جبکہ نوجوانوں کے لیے اس وقت تک تجربہ حاصل کرنا ممکن نہیں ہوتا جب تک کوئی انہیں پہلا موقع نہ دے۔مسائل مختلف تھے۔ ممالک مختلف تھے۔ لیکن جذبہ ایک ہی تھا۔
کچھ بنانے کا ہنر
اس پروگرام کی اہمیت کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ خیال اور حتمی پیشکش کے درمیان نوجوان خواتین کیا سیکھتی ہیں۔ بہت سی شرکا کو برم نویسی۔ مصنوعات کی تیاری۔ صارفین کی ضروریات جاننے یا اپنے منصوبے پیش کرنے کا کوئی تجربہ نہیں تھا۔ 12 ہفتوں کے دوران انہوں نے یہ سیکھا کہ اپنے خیال کو ایسی چیز میں کیسے تبدیل کیا جائے جسے وہ خود تیار کرسکیں۔ لوگوں کے سامنے پیش کرسکیں اور اس کے بارے میں سوالات کے جواب دے سکیں۔
ٹیکنوویشن کی چیف لرننگ اینڈ انوویشن افسر ربیکا اینڈرسن کہتی ہیں کہ اتنے مختصر عرصے میں ان نوجوان خواتین کو اپنے منصوبوں کے ساتھ آگے بڑھتے دیکھنا پروگرام کے سب سے زیادہ حوصلہ افزا پہلوؤں میں سے ایک تھا۔ ان کے مطابق یہ دیکھنا دلچسپ تھا کہ نوجوان خواتین نے مختصر مدت میں اپنے منصوبوں کے ساتھ کس طرح ترقی کی۔وہ یہ بھی کہتی ہیں کہ پروگرام کی کامیابی کو صرف حتمی فہرست میں شامل 11 ٹیموں کی بنیاد پر دیکھنا درست نہیں ہوگا۔ ان کے مطابق پروگرام مکمل کرنے والی 200 سے زیادہ تمام ٹیموں نے کامیابی حاصل کی ہے۔
یہ فرق اہم ہے۔ اس پروگرام کا مقصد صرف اگلی کامیاب نئی کمپنی تلاش کرنا نہیں ہے۔ اس کا مقصد ایسی نوجوان خواتین کی ایک نسل تیار کرنا بھی ہے جو ٹیکنالوجی کو مختلف انداز سے دیکھیں۔ وہ صرف ٹیکنالوجی استعمال کرنے والی نہ ہوں بلکہ اسے اپنے مسائل کے حل اور نئے امکانات پیدا کرنے کے لیے استعمال کرسکیں۔
مصنوعی ذہانت سے آگے
شاید یہی وہ سب سے قیمتی چیز ہے جو فاریہ اور سہہ ’’اسٹرابی کیور‘‘ کے ذریعے حاصل کررہی ہیں۔ ان کا منصوبہ مستقبل میں بدل سکتا ہے۔ ٹیکنالوجی تبدیل ہوسکتی ہے۔ طبی توثیق۔ مالی وسائل۔ ضابطے اور عملی نفاذ اس بات کا فیصلہ کریں گے کہ یہ منصوبہ آخرکار کہاں تک پہنچتا ہے۔ لیکن دونوں بہنیں پہلے ہی ایک اہم مرحلہ عبور کرچکی ہیں۔ انہوں نے اپنے گھر میں ایک مسئلہ دیکھا اور اسے وہیں چھوڑنے سے انکار کردیا۔
یہی بات مصنوعی ذہانت کے منصوبوں سے متعلق اس وسیع تجربے کو بھی دلچسپ بناتی ہے۔ عام طور پر مصنوعی ذہانت پر گفتگو کمپیوٹنگ کی طاقت۔ سرمایہ کاری۔ خودکاری اور روزگار کے گرد گھومتی ہے۔ یہ تمام عوامل ٹیکنالوجی کے مستقبل کی تشکیل میں اہم کردار ادا کریں گے۔ لیکن مصنوعی ذہانت کی ایک اور کہانی بھی زمین سے جڑی سطح پر لکھی جارہی ہے۔ یہ کہانی ان نوجوان خواتین کی ہے جو ان مسائل کو جانتی ہیں کیونکہ وہ خود ان کے ساتھ زندگی گزار رہی ہیں۔
زبیر بہنوں کے لیے یہ سفر ایک بھائی کی آنکھوں سے شروع ہوا تھا۔ کسی اور جگہ یہ سفر ملازمت کی درخواست۔ ایک جماعت۔ ایک کھیت۔ ایک طبی مرکز یا ایسے مسئلے سے شروع ہوسکتا ہے جسے لوگ برسوں سے اس لیے قبول کرتے آئے ہوں کہ انہیں اسے حل کرنے کا کوئی راستہ نظر نہیں آتا۔اگر اس مسئلے کو دیکھنے والی نوجوان خاتون کو وسائل۔ رہنمائی اور یہ اعتماد دے دیا جائے کہ وہ پوچھ سکے ’’کیوں نہیں؟‘‘ تو مصنوعی ذہانت محض لوگوں پر مسلط کی جانے والی ٹیکنالوجی نہیں رہتی بلکہ ایسی ٹیکنالوجی بن جاتی ہے جسے لوگ خود اپنی ضروریات کے مطابق تشکیل دے سکتے ہیں۔شاید یہی مصنوعی ذہانت کا زیادہ دلچسپ مستقبل ہے۔
مصنف تجربہ کار صحافی اور ابلاغی امور کے ماہر ہیں۔