زویا جنت : تالاب سے سوئمنگ پول تک انتھک جدوجہد کی کہانی

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 09-10-2026
زویا جنت : تالاب  سے سوئمنگ پول تک  انتھک جدوجہد  کی کہانی
زویا جنت : تالاب سے سوئمنگ پول تک انتھک جدوجہد کی کہانی

 



شانتی پریا رائے چودھری / کولکاتا

کیچڑ اور کائی سے گھرا ہوا ایک چھوٹا سا تالاب۔ گاؤں کے دوسرے بچوں کی طرح زویا جنت نے بھی صرف 5 سال کی عمر میں اسی تالاب میں اتر کر تیرنا سیکھا تھا۔ تاہم تیراکی کی دنیا میں اس کے سفر کو آگے بڑھانے میں اس کی والدہ نسیمہ بی بی کا اہم کردار رہا جنہوں نے اپنے دونوں بچوں کو تیرنا سیکھنے کے لیے پانی میں اتارا تھا۔ بیٹا تو اس کھیل کو جاری نہ رکھ سکا لیکن بیٹی جنت نے تیراکی میں مہارت حاصل کرلی۔بچپن ہی سے جنت پانی میں صرف ہاتھ پاؤں چلانے تک محدود نہیں رہتی تھی بلکہ ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے وہ پانی سے باتیں کرتی ہو۔

اس کے والد شیخ مہتاب علی اور والدہ نسیمہ بی بی نے جلد ہی محسوس کرلیا کہ ان کی بیٹی کا تیراکی سے ایک خاص تعلق ہے۔ جب جنت تقریباً 9 یا 10 برس کی تھی تو اس کے والد کو ضلع سطح کے ایک کھلے پانی میں تیراکی کے مقابلے کے بارے میں معلوم ہوا۔ بغیر کسی باقاعدہ تربیت کے جنت نے اس مقابلے میں حصہ لیا۔ اس نے ایک سستا سا سوتی فراک پہن رکھا تھا۔ سب کو حیران کرتے ہوئے اس نے مقابلے میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔

اسی مقابلے میں مقامی کوچوں کی نظر جنت پر پڑی۔ انہوں نے اس کے اندر موجود عزم اور صلاحیت کو محسوس کیا۔بیٹی کی کامیابی سے متاثر ہوکر اس کے والدین نے فیصلہ کیا کہ اسے تیراکی کے میدان میں سنجیدگی سے آگے بڑھایا جائے۔ انہوں نے کولکاتا کے لیک گارڈنز میں واقع رابندر سروبر کے تیراکی کلب میں اس کا داخلہ کرا دیا۔ یہیں سے ایک مسابقتی تیراک کے طور پر جنت کے باقاعدہ سفر کا آغاز ہوا۔ آج جنت سابق قومی تیراک اور کوچ اکبر علی میر کی نگرانی میں بیہالا کی ایسٹرن ریلوے سوئمنگ اکیڈمی میں تربیت حاصل کر رہی ہے۔ ان کی رہنمائی میں وہ اب تک 6 جونیئر قومی تیراکی چیمپئن شپ میں حصہ لے چکی ہے اور ہر مقابلے میں مستقل طور پر اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔

کوچ کو روشن مستقبل کی امید

سابق بین الاقوامی تیراک اور کوچ اکبر علی میر کو اس ابھرتی ہوئی تیراک کے مستقبل سے بہت امیدیں ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ صرف 15 برس کی عمر میں زویا جنت نے اپنی غیر معمولی صلاحیت ثابت کردی ہے اور وہ پہلے ہی 6 جونیئر قومی مقابلوں میں حصہ لے چکی ہے۔میر کے مطابق جنت ان کی نگرانی میں سخت تربیت حاصل کر رہی ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ اس کا عزم اور محنت کرنے کی صلاحیت اسے بہت آگے لے جاسکتی ہے۔ وہ جنت میں قومی اور بین الاقوامی سطح پر بڑی کامیابیاں حاصل کرنے کی صلاحیت دیکھتے ہیں۔

مرکزی ودیالیہ سنگٹھن کے قومی تیراکی مقابلے میں جنت کی کارکردگی نے بھی اس کے کوچ کے اعتماد کو مزید مضبوط کیا ہے۔ اس نے 100 میٹر بٹر فلائی اور 200 میٹر انفرادی میڈلے مقابلوں میں پہلی پوزیشن حاصل کرکے ثابت کیا کہ وہ قومی سطح کے مقابلوں میں کامیابی سے مقابلہ کرسکتی ہے۔

ایک معمولی تالاب سے مسابقتی تیراکی تک

جنت کا تعلق کولکاتا کے لیک گارڈنز کے ایک مالی طور پر کمزور خاندان سے ہے۔ اس کے والد شیخ مہتاب علی ایک مقامی کیبل کمپنی میں کام کرتے ہیں اور چار افراد پر مشتمل یہ خاندان بڑی مشکل سے اپنے اخراجات پورے کرتا ہے۔جنت کے لیے معیاری تیراکی کا لباس اور مناسب غذائیت فراہم کرنا بھی اکثر ایک چیلنج رہا ہے۔

ایک چھوٹے تالاب میں تیراکی کی عادی اس کم عمر لڑکی کے لیے جدید سہولتوں سے آراستہ تیراکی کے تالاب میں خود کو ڈھالنا بھی آسان نہیں تھا۔ کڑاکے کی سردی میں صبح 4 بجے تالاب میں اترنا اور سخت غذائی معمول کے ساتھ شدید جسمانی تربیت حاصل کرنا اسے اکثر جسمانی اور ذہنی طور پر تھکا دیتا تھا۔وہ جدید تیراکی کے لباس اور چشمے سے بھی ناواقف تھی۔ اکیڈمی میں بعض بچے اس کے سادہ لباس کو دیکھ کر اسے گھورا کرتے تھے۔

لیکن کم عمری ہی سے جنت نے اپنا مقصد واضح کرلیا تھا۔ہر رات جب اس کے پٹھوں کا درد برداشت سے باہر ہونے لگتا تو وہ آنکھیں بند کرکے اپنے والدین کے خوابوں کے بارے میں سوچتی۔ اسے اپنا بچپن بھی یاد آتا جب وہ اسی چھوٹے سے تالاب میں تیرا کرتی تھی۔وہ جانتی تھی کہ جیتنے کے لیے کوئی دوسرا راستہ نہیں بلکہ صرف محنت ہی واحد راستہ ہے۔

محنت رنگ لانے لگی

جنت کی محنت نے آہستہ آہستہ نتائج دینا شروع کیے۔ اس نے مختلف جونیئر سطح کے ریاستی مقابلوں اور اسکولی کھیلوں میں کامیابیاں حاصل کرنا شروع کردیں۔ ہر مقابلے کے ساتھ اس کا وقت بہتر ہوتا گیا۔اس کی مسلسل عمدہ کارکردگی نے بالآخر اسے قومی سطح پر ایک باصلاحیت اور امید افزا کم عمر تیراک کے طور پر شناخت دلادی۔

قومی سطح پر جنت کی کامیابیاں

مرکزی ودیالیہ سنگٹھن قومی کھیل مقابلہ 2024-25

جنت نے قومی سطح کے تیراکی مقابلے میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کئی تمغے حاصل کیے۔

سونے کا تمغہ: 100 میٹر بٹر فلائی میں پہلی پوزیشن

سونے کا تمغہ: 200 میٹر انفرادی میڈلے میں پہلی پوزیشن

چاندی کا تمغہ: 50 میٹر بریسٹ اسٹروک میں دوسری پوزیشن

کانسی کا تمغہ: 4×100 میٹر فری اسٹائل ریلے میں تیسری پوزیشن

ایس جی ایف آئی کی انڈر 14 ٹیم کے لیے انتخاب

مرکزی ودیالیہ سنگٹھن کی قومی سطح کی شاندار کارکردگی کی بنیاد پر جنت کا انتخاب اسکول گیمز فیڈریشن آف انڈیا کے تحت انڈر 14 لڑکیوں کی تیراکی ٹیم کے لیے کیا گیا۔اسکولی سطح کی تربیت اور مسلسل محنت کے ساتھ مختلف مقابلوں میں حاصل کیے گئے متعدد تمغوں نے اسے انڈر 14 اور انڈر 15 عمر کے زمرے میں ایک امید افزا تیراک کے طور پر نمایاں کردیا ہے۔جنت اس وقت کولکاتا کے پی ایم شری مرکزی ودیالیہ بالی گنج میں نویں جماعت کی طالبہ ہے۔ تیراکی کے ساتھ ساتھ وہ اپنی تعلیم پر بھی پوری توجہ دینے کے لیے پُرعزم ہے۔اس کا سب سے بڑا خواب بین الاقوامی سطح پر ملک کی نمائندگی کرنا اور قومی تیراکی ٹیم کی رکن کی حیثیت سے عالمی مقابلوں میں حصہ لینا ہے۔جنت کے لیے کائی سے ڈھکے ایک چھوٹے سے تالاب سے شروع ہونے والا سفر اب ایک بہت بڑے خواب کا دروازہ کھول چکا ہے۔ وہ اپنے ملک کے لیے تیرنا چاہتی ہے اور عالمی سطح پر ملک کا نام روشن کرنا چاہتی ہے۔