چار طلائی تمغوں سے ادبی شناخت تک، زہرا نقوی کا سفر اور خواتین کے حقوق کی جدوجہد

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 06-11-2026
چار طلائی تمغوں سے ادبی شناخت تک، زہرا نقوی کا سفر اور خواتین کے حقوق کی جدوجہد
چار طلائی تمغوں سے ادبی شناخت تک، زہرا نقوی کا سفر اور خواتین کے حقوق کی جدوجہد

 



اونیکا مہیشوری ۔ نئی دہلی 

ادب اور معاشرے میں جب بھی مادریت کا ذکر ہوتا ہے تو عموماً ماں کی ایک مثالی اور روایتی تصویر پیش کی جاتی ہے۔ تاہم مصنفہ، شاعرہ اور آزاد صحافی زہرا نقوی اس روایتی تصور کو چیلنج کرتے ہوئے پوری بے باکی سے اپنی بات رکھتی ہیں۔ ان کا واضح مؤقف ہے کہ معاشرہ خواتین کو یہ باور کرانے پر مجبور کرتا ہے کہ ان کی سب سے بڑی اور بنیادی شناخت ماں ہونا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ان کی پہلی اور اصل شناخت ایک آزاد انسان کی ہے۔ گزشتہ ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے صنفی مساوات، ادب اور سماجی و سیاسی موضوعات پر مسلسل لکھنے والی زہرا نقوی کی تحریریں خواتین کو محض بیٹی، بیوی یا ماں کے محدود رشتوں میں دیکھنے کے بجائے ان کی مکمل انسانی شناخت کے ساتھ قبول کرنے کی وکالت کرتی ہیں۔

زہرا نقوی کی تخلیقی اور علمی زندگی کا ایک بڑا حصہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے وابستہ رہا ہے جہاں انہوں نے شعبۂ صحافت میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 4 طلائی تمغے حاصل کیے۔ تاہم علی گڑھ ان کے لیے محض اسناد حاصل کرنے کا مرکز نہیں تھا بلکہ یہاں ان کے خیالات کو وسعت ملی اور تخلیقی صلاحیتوں کو اظہار کا بھرپور موقع ملا۔ اسکول کے زمانے سے ہی شاعری کرنے والی زہرا نے جامعہ میں ڈرامے، موسیقی اور تخلیقی تحریر سے گہری دلچسپی لی۔ استقبالیہ تقریب میں پڑھی گئی ان کی نظم ’او عبداللہ‘ آج بھی ان کے ابتدائی تخلیقی اظہار کی یادگار ہے۔ ویمنز کالج سے وابستہ اپنی یادوں کو تازہ کرتے ہوئے وہ اساتذہ اور طالبات کے درمیان قائم محبت اور اپنائیت کے رشتے کا ذکر کرتی ہیں۔ ان کے نزدیک تعلیم کا حقیقی مقصد صرف روزگار حاصل کرنا نہیں بلکہ آزادانہ طور پر سوچنے اور دنیا کو اپنے نقطۂ نظر سے سمجھنے کی صلاحیت پیدا کرنا ہے۔

زہرا کے طرزِ تحریر کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ وہ آدھی رات سے صبح کی پہلی کرن نمودار ہونے تک لکھنا پسند کرتی ہیں۔ ایک ماں کی حیثیت سے دن بھر کی مصروفیات اور بھاگ دوڑ کے بعد رات کے پُرسکون لمحات ہی انہیں لکھنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ وہ دن بھر ذہن میں آنے والے خیالات اپنے فون کے نوٹس میں محفوظ کرتی رہتی ہیں اور جب لکھنے بیٹھتی ہیں تو دنیا سے بے نیاز ہوکر پوری طرح اپنی تحریر میں ڈوب جاتی ہیں۔ ان کے قلم کا بنیادی مقصد سچ کی تلاش اور اسے بلا جھجک بیان کرنا ہے۔ ان کے مضامین اور کالم ’انڈین ایکسپریس‘، ’دی ہندو‘، ’ریڈرز ڈائجسٹ‘، ’دی وائر‘، ’آؤٹ لک‘، ’دی کوئنٹ‘، ’فنانشل کرانیکل‘، ’چائلڈ میگزین‘ اور ’ویمنز ویب‘ سمیت متعدد معتبر قومی و بین الاقوامی اشاعتی اداروں میں شائع ہوتے رہے ہیں۔

ان کی پہلی یادداشتوں پر مبنی کتاب ’دی ریلیکٹنٹ مدر: اے اسٹوری نو ون وانٹس ٹو ٹیل‘ کو ’ہے ہاؤس‘ نے شائع کیا ہے۔ اس کتاب میں مادریت کے اس پہلو کو موضوع بنایا گیا ہے جس سے معاشرہ اکثر نظریں چراتا ہے۔ یہ کتاب ان کی زندگی کے تین برسوں کے تجربات پر مبنی ہے اور اس میں بیٹے کے حمل سے لے کر ابتدائی مادریت تک کے سفر کو بیان کیا گیا ہے۔ یہ ایک ایسی نوجوان خاتون کی داستان ہے جو نئی ذمہ داریوں اور اپنے ذاتی خوابوں کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ معاشرہ ماں سے ہر طرح کی قربانی کی توقع رکھتا ہے لیکن زہرا اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہیں کہ ماں بننے کے تجربے میں محبت کے ساتھ تھکن، جھنجھلاہٹ، ذہنی دباؤ، تنہائی اور اپنی شناخت کھو دینے کا خوف بھی شامل ہوتا ہے۔ ان احساسات کا تجربہ کسی خاتون کو بری ماں نہیں بناتا کیونکہ ماں بھی آخرکار ایک انسان ہے جس کی اپنی حدود، خواہشات اور ضروریات ہوتی ہیں۔

زہرا نقوی کا واضح مؤقف ہے کہ بچے کی پیدائش کے بعد کسی خاتون کی اپنی دنیا ختم نہیں ہوجانی چاہیے۔ وہ شادی، ازدواجی قربت، معاشی خودمختاری اور خواتین کے پیشہ ورانہ مستقبل جیسے موضوعات پر کھل کر لکھتی ہیں۔ ان کے مطابق پیشہ ورانہ زندگی صرف آمدنی حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ خودداری اور اپنی شناخت قائم رکھنے کا وسیلہ بھی ہے۔ اسی طرح وہ تعلیم کو محض ڈگری حاصل کرنے تک محدود نہیں سمجھتیں بلکہ اسے اپنی زندگی کے فیصلے خود کرنے کی آزادی قرار دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کسی معاشرے کی ترقی کا اندازہ صرف قومی آمدنی یا ٹیکنالوجی کی ترقی سے نہیں لگایا جانا چاہیے بلکہ صنفی مساوات اور سماجی انصاف کی صورت حال کو بھی اس کا پیمانہ بنانا ضروری ہے۔

اپنی فکری وابستگی اور معیاری تحریروں کے باعث زہرا نقوی کو قومی اور بین الاقوامی سطح پر کئی اعزازات حاصل ہوئے ہیں۔ انہیں 2020 اور 2021 کے لیے ’آئی این ایس پی آئی آر ای رائٹر آف دی ایئر‘ ایوارڈ سے نوازا گیا۔ اس کے علاوہ اتر پردیش کی 100 متاثر کن مسلم خواتین کی ’آر بی ٹی سی‘ فہرست میں بھی ان کا نام شامل کیا گیا۔ وہ ریاست کی کامیاب خواتین پر مبنی راجیہ سبھا ٹی وی کی ایک دستاویزی فلم کا حصہ بھی رہ چکی ہیں۔

زہرا نقوی کی تحریریں قارئین کے سامنے ایک بنیادی سوال رکھتی ہیں کہ کیا ہمارا معاشرہ خواتین کو ان کی حقیقی شناخت کے ساتھ قبول کرنے کے لیے تیار ہے؟ ایسی شناخت جو وہ خود اپنے خیالات اور اپنے الفاظ کے ذریعے تشکیل دیتی ہیں۔