بپلَب دیب / ہوجائی
عزم اور مسلسل محنت کے ساتھ کوئی بھی مقصد حاصل کیا جاسکتا ہے۔ اس بات کو ایک بار پھر ثابت کرتے ہوئے آسام کے ضلع ہوجائی کی بیٹی نے جوڈیشل سروس کے امتحان میں کامیابی حاصل کرکے پورے ضلع کا نام روشن کیا ہے۔ محض 27 سال کی عمر میں نیل باغان کی محسنہ امتیاز لسکر ضلع ہوجائی کی پہلی مسلم خاتون جج بننے جا رہی ہیں۔ یہ کامیابی ضلع کی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ہے۔ اس کے ساتھ ہی وہ آسام کی کم عمر ترین مسلم خواتین ججوں میں بھی شامل ہوگئی ہیں۔محسنہ نے گوہاٹی ہائی کورٹ کے زیر اہتمام آسام جوڈیشل سروس امتحان 2026 میں نمایاں کامیابی حاصل کی ہے۔ ان کا انتخاب گریڈ 3 جوڈیشل سروس کے لیے ہوا ہے۔ جاری کردہ نتائج کے مطابق آسام بھر میں میرٹ کی بنیاد پر منتخب ہونے والے 22 امیدواروں میں محسنہ نے چھٹی پوزیشن حاصل کی ہے۔ اب وہ فرسٹ کلاس جوڈیشل مجسٹریٹ کی حیثیت سے خدمات انجام دیں گی۔ یہ عہدہ عدالتی خدمات کا ایک اہم منصب ہے۔
ان کی یہ کامیابی صرف ان کے ذاتی کیریئر کا اہم سنگ میل نہیں ہے بلکہ اجمل تعلیمی اداروں کے لیے بھی باعث فخر ہے۔ محسنہ کا اجمل لا کالج سے تعلق پہلے ایک طالبہ کی حیثیت سے قائم ہوا اور بعد میں وہیں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر ان کا پیشہ ورانہ سفر آگے بڑھا۔ اب عدالتی خدمات میں شمولیت کے ساتھ ان کی زندگی کا ایک نیا اور اہم باب شروع ہونے جا رہا ہے۔اپنی کامیابی کے بارے میں محسنہ امتیاز لسکر نے کہا کہ جب سے انہوں نے اجمل لا کالج میں داخلہ لیا تھا تب سے جج بننا ان کا خواب تھا۔

انہوں نے کہا کہ سب سے پہلے وہ مولانا بدرالدین اجمل صاحب اور سراج الدین اجمل صاحب کا شکریہ ادا کرنا چاہتی ہیں جنہوں نے مالی طور پر کمزور خاندانوں اور دور دراز علاقوں کے طلبہ کو معیاری تعلیم حاصل کرنے کے مواقع فراہم کیے۔ انہوں نے اپنے اساتذہ اور رہنماؤں کا بھی شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ان کی رہنمائی کی بدولت ہی وہ اس مقام تک پہنچ سکی ہیں۔محسنہ نے 2023 میں اجمل لا کالج سے ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کی۔ اس کے بعد انہوں نے گوہاٹی یونیورسٹی سے ایل ایل ایم کی تعلیم مکمل کی۔ سال 2025 میں ایل ایل ایم کے امتحان میں انہوں نے فرسٹ کلاس کے ساتھ پہلی پوزیشن حاصل کی۔
تعلیمی میدان میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے کے بعد محسنہ نے تدریس کے شعبے میں بھی اپنی شناخت قائم کی۔ وہ اس وقت اجمل لا کالج میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر خدمات انجام دے رہی ہیں۔تعلیم اور تدریس کے میدان میں کامیابی کے بعد محسنہ نے عدالتی خدمات میں داخلے کا ہدف مقرر کیا۔ آسام جوڈیشل سروس امتحان میں کامیابی حاصل کرکے انہوں نے اپنا دیرینہ خواب پورا کرلیا ہے۔
گریڈ 3 جوڈیشل سروس میں فرسٹ کلاس جوڈیشل مجسٹریٹ کے طور پر ان کا انتخاب ان کے پیشہ ورانہ سفر کی ایک اہم کامیابی ہے۔ قانونی تعلیم سے تعلیمی امتیاز تک۔ تدریس سے عدالتی خدمات تک کا ان کا سفر کئی اعتبار سے قابل ذکر ہے۔محسنہ کی کامیابی کی خبر پھیلتے ہی اجمل خاندان کے ساتھ اجمل تعلیمی اداروں کے عہدیداروں۔ عملے۔ اساتذہ اور طلبہ میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔

ان کی کامیابی کا جشن منانے کے لیے 24 ستمبر کو اجمل لا کالج کے احاطے میں ایک خصوصی اعزازی تقریب منعقد کی گئی۔ تقریب سے قبل کالج کے طلبہ نے جلوس کی شکل میں محسنہ امتیاز لسکر کا استقبال کیا۔جوڈیشل سروس کا امتحان پاس کرنے کے بعد اپنی مادر علمی میں ان کی واپسی ایک خاص موقع تھا۔ اس مرتبہ وہ صرف ایک کامیاب سابق طالبہ کے طور پر نہیں بلکہ کالج کی موجودہ اسسٹنٹ پروفیسر کی حیثیت سے بھی وہاں موجود تھیں۔ طلبہ کے لیے یہ لمحہ خاص طور پر خوشی کا باعث بنا۔بعد ازاں کالج کے احاطے میں مرکزی اعزازی تقریب منعقد ہوئی جہاں کالج انتظامیہ نے محسنہ کو ان کی نمایاں کامیابی کے اعتراف میں اعزاز سے نوازا۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اجمل فاؤنڈیشن کے منیجنگ ڈائریکٹر ڈاکٹر خسروالاسلام نے محسنہ کو مبارک باد دی۔ ان کی ثابت قدمی۔ محنت اور تعلیمی قابلیت کی تعریف کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ محسنہ کی کامیابی آنے والی نسلوں کے طلبہ کے لیے مشعل راہ ثابت ہوگی۔دریں اثنا اجمل فاؤنڈیشن کے ٹرسٹیز مولانا بدرالدین اجمل اور سراج الدین اجمل نے بھی محسنہ امتیاز لسکر کو اس قابل فخر کامیابی پر دلی مبارک باد اور نیک خواہشات پیش کیں۔

نیل باغان کی بیٹی محسنہ کی کامیابی ضلع ہوجائی کے طلبہ اور نوجوانوں کے لیے ایک مثبت پیغام رکھتی ہے۔ خاص طور پر قانون کی تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کے لیے ان کا سفر ایک عملی مثال ہے کہ کس طرح تعلیم کے بعد تدریس اور پھر عدالتی خدمات تک پہنچا جاسکتا ہے۔محسنہ امتیاز لسکر کی کہانی محض ایک مسابقتی امتحان پاس کرنے کی داستان نہیں ہے۔ یہ نیل باغان سے شروع ہونے والے اس سفر کی کہانی ہے جس میں تعلیم۔ علمی امتیاز اور تدریس کے بعد انہوں نے عدالتی خدمات میں قدم رکھا ہے۔ ان کی اس کامیابی نے ہوجائی کی ایک نوجوان خاتون کو ضلع کی عدالتی تاریخ کے ایک اہم مقام پر لا کھڑا کیا ہے۔