یونیسیف یوتھ ایڈووکیٹ ناہید آفرین۔ سریلی آواز سے بچوں کے حقوق کی محافظ

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 24-09-2026
یونیسیف یوتھ ایڈووکیٹ ناہید آفرین۔ سریلی آواز سے بچوں کے حقوق کی  محافظ
یونیسیف یوتھ ایڈووکیٹ ناہید آفرین۔ سریلی آواز سے بچوں کے حقوق کی محافظ

 



ارسلا خان۔ نئی دہلی

گلوکاری کے ساتھ یونیسیف انڈیا کے تعاون سے کم عمری کی شادی۔ بچوں کے حقوق۔ بچوں کی غذائیت۔ ذہنی صحت اور موسمیاتی تبدیلی جیسے مسائل پر کام کرنا کسی چیلنج سے کم نہیں ہے۔ تاہم آسام کی ناہید آفرین نے یہ چیلنج قبول کیا ہے۔ ناہید آفرین کی پیدائش آسام کے بشوناتھ چاریالی میں فاطمہ انصاری اور انور انصاری کے گھر ہوئی۔وہ بتاتی ہیں کہ صرف 23 سال کی عمر میں انہوں نے اپنی شناخت صرف ایک مشہور گلوکارہ کے طور پر نہیں بنائی بلکہ یونیسیف انڈیا کے ساتھ بچوں اور سماج سے جڑے اہم مسائل پر کام کرنے والی نوجوان آواز کے طور پر بھی اپنی پہچان قائم کی ہے۔ وہ کم عمری کی شادی۔ بچوں کے حقوق۔ بچوں کی غذائیت۔ ذہنی صحت۔ موسمیاتی تبدیلی اور STEM میں لڑکیوں کی شرکت جیسے مسائل پر مسلسل بیداری پیدا کرنے کے لیے کام کر رہی ہیں۔

ایک طرف ان کی آواز موسیقی کی دنیا میں اپنی شناخت بنا رہی ہے تو دوسری طرف یہی آواز ان سماجی مسائل کو اٹھانے کا کام کر رہی ہے جن کا اثر بچوں اور نوجوانوں کے مستقبل پر پڑتا ہے۔ آئیے جانتے ہیں کہ اتنی کم عمر میں ناہید آفرین نے کس طرح اپنی شناخت بنائی اور سماج کے لیے کیا کام کیے۔وہ بتاتی ہیں کہ اس وقت وہ سینٹ زیویئرز کالج ممبئی سے سائیکالوجی میں MA کر رہی ہیں۔ ان کے خاندان میں 4 افراد ہیں۔ وہ خود۔ ان کا چھوٹا بھائی۔ والدہ اور والد۔

آسام کی رہنے والی ناہید آفرین کو بچپن سے ہی موسیقی میں خاص دلچسپی تھی۔ اسکول کے زمانے میں ہی انہوں نے اپنی صلاحیت کے بل پر کئی کامیابیاں حاصل کیں اور آسام کا نام روشن کیا۔ناہید آفرین کو پہلی بڑی شناخت 2015 میں انڈین آئیڈل جونیئر سے ملی جہاں وہ سیکنڈ رنر اپ رہیں۔ ان کی آواز نے کم عمری میں ہی انہیں ملک بھر کے ناظرین تک پہنچا دیا۔ اس کے بعد انہوں نے اپنی گلوکاری کا سفر بالی ووڈ تک پہنچایا۔ 2016 میں سوناکشی سنہا کی فلم ’’اکیرا‘‘ سے انہوں نے بالی ووڈ میں پلے بیک سنگنگ کا آغاز کیا۔ اس کے بعد ناہید نے بالی ووڈ کی کئی فلموں اور مختلف فنکاروں کے لیے اپنی آواز دی اور ایک نوجوان گلوکارہ کے طور پر اپنی الگ شناخت بنائی۔ تاہم ناہید کی کہانی صرف گلوکاری تک محدود نہیں رہی۔

وہ بتاتی ہیں کہ ناہید کی زندگی میں ایک بڑی تبدیلی 2018 میں آئی جب یونیسیف انڈیا نے انہیں شمال مشرقی ہندوستان کے لیے ’’چائلڈ رائٹس چیمپئن‘‘ کے طور پر منتخب کیا۔ اس وقت ناہید ابھی اسکول کی طالبہ تھیں۔ اتنی کم عمر میں بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے کا موقع ملنا اپنے آپ میں ایک بڑی کامیابی تھی۔انہوں نے بچوں سے متعلق مسائل کو سمجھنے اور سماج میں ان کے بارے میں بیداری بڑھانے کی سمت میں کام شروع کیا۔وہ بتاتی ہیں کہ جن سماجی مسائل پر انہوں نے کام کیا ان میں کم عمری کی شادی ایک اہم مسئلہ رہا ہے۔ کم عمری میں شادی بچوں خصوصاً لڑکیوں کی تعلیم اور مستقبل پر گہرا اثر ڈال سکتی ہے۔ ناہید نے کم عمری کی شادی کے خلاف بیداری مہمات میں حصہ لیا اور لوگوں تک یہ پیغام پہنچانے کی کوشش کی کہ بچوں کو کم عمری میں شادی کے بجائے تعلیم حاصل کرنے اور اپنے خواب پورے کرنے کا موقع ملنا چاہیے۔

سال 2018 میں یونیسیف انڈیا نے آسام اسمبلی میں کم عمری کی شادی کے حوالے سے ایک پروگرام منعقد کیا تھا۔ اس میں سماج پر کم عمری کی شادی کے منفی اثرات اور اسے روکنے کے طریقوں پر گفتگو ہوئی۔ ناہید بھی اس مسئلے سے متعلق مہمات کا حصہ رہیں اور 2020 تک کم عمری کی شادی کے خلاف سرگرمیوں میں فعال رہیں۔ناہید کا سماجی سفر صرف کم عمری کی شادی تک محدود نہیں رہا۔ انہوں نے بچوں اور نوجوانوں سے متعلق کئی اہم مسائل کو اپنی آواز دی۔ ان میں بچوں کے حقوق۔ ذہنی صحت۔ موسمیاتی کارروائی۔ اختراع اور STEM میں لڑکیوں کی شرکت جیسے مسائل شامل ہیں۔

خاص طور پر لڑکیوں کو سائنس۔ ٹیکنالوجی۔ انجینئرنگ اور ریاضی جیسے شعبوں میں آگے بڑھانے کی ضرورت پر بھی ان کی توجہ رہی ہے۔ ان کا پیغام واضح ہے کہ لڑکیوں کو بھی تعلیم اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں آگے بڑھنے کے یکساں مواقع ملنے چاہئیں۔ناہید کے سماجی کام کو 2023 میں ایک نئی شناخت ملی۔ انہیں یونیسیف انڈیا کے علاقائی دفتر سے فون آیا اور بتایا گیا کہ انہیں یونیسیف انڈیا یوتھ ایڈووکیٹ کے طور پر نامزد کیا گیا ہے۔ یہ ان کے لیے ایک بڑی ذمہ داری تھی۔ ہندوستان کی مختلف ریاستوں سے بہت کم نوجوانوں کو اس کردار کے لیے منتخب کیا گیا تھا۔اس ذمہ داری کے ذریعے ناہید بچوں اور نوجوانوں سے متعلق مسائل کو سامنے لانے۔ بیداری بڑھانے اور سماج میں مثبت تبدیلی کے لیے کام کر رہی ہیں۔

ناہید دیہی علاقوں میں بچوں کی صحت اور غذائیت سے متعلق مسائل کو بھی اہم سمجھتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بہت سے دیہی خاندانوں میں بچوں کی پیدائش کے بعد ان کی غذائیت اور صحت کے حوالے سے مناسب معلومات نہیں ہوتیں۔ خاص طور پر دودھ پلانے اور ابتدائی غذائیت کی اہمیت کے بارے میں بیداری کی کمی نظر آتی ہے۔یونیسیف انڈیا یوتھ ایڈووکیٹ کے طور پر ناہید ایسے خاندانوں اور برادریوں تک درست معلومات پہنچانے اور بچوں کی بہتر صحت کے لیے بیداری بڑھانے کی سمت میں کام کر رہی ہیں۔ناہید کا کہنا ہے کہ سماج کو تبدیل کرنے کے لیے عمر کا زیادہ ہونا ضروری نہیں ہے بلکہ ضروری ہے بلند سوچ۔

آج کے دور میں بچوں اور نوجوانوں کی ذہنی صحت بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ تعلیم۔ خاندان۔ رشتوں اور مستقبل کو لے کر بڑھتا ہوا دباؤ نوجوانوں کو متاثر کر رہا ہے۔ ناہید بچوں اور نوجوانوں سے متعلق مسائل پر کام کرتے ہوئے ذہنی صحت کے بارے میں بیداری کو بھی اہم سمجھتی ہیں۔ان کی کوشش ہے کہ نوجوان اپنی پریشانیوں کو چھپانے کے بجائے ان کے بارے میں بات کریں اور ضرورت پڑنے پر مدد حاصل کریں۔

ناہید آفرین کی خاص بات یہی ہے کہ انہوں نے اپنی مقبولیت کو صرف موسیقی تک محدود نہیں رکھا۔ ایک طرف وہ ایک معروف گلوکارہ ہیں تو دوسری طرف یونیسیف کے ساتھ بچوں کے حقوق اور سماجی مسائل پر کام کر رہی ہیں۔ ان کی آواز تفریح کے پلیٹ فارم سے نکل کر ان مسائل تک پہنچ رہی ہے جن کا براہ راست تعلق بچوں اور نوجوانوں کے مستقبل سے ہے۔23 سال کی عمر میں ناہید آفرین کا سفر یہ بتاتا ہے کہ سماج کے لیے کام کرنے کے لیے عمر کا زیادہ ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر سوچ اور ارادہ مضبوط ہو تو کم عمری میں بھی تبدیلی کی شروعات کی جاسکتی ہے۔ ناہید نے اپنی گلوکاری سے شناخت بنائی لیکن یونیسیف کے ساتھ بچوں اور سماج کے لیے کام کرکے انہوں نے اپنی شناخت کو ایک نئی سمت دی۔

:::