ذہنی صحت سے اسلامی نفسیات تک، زلیخا شکور راجانی کا نوجوانوں کے لیے اہم پیغام

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 25-09-2026
ذہنی صحت سے اسلامی نفسیات تک، زلیخا شکور راجانی کا نوجوانوں کے لیے اہم پیغام
ذہنی صحت سے اسلامی نفسیات تک، زلیخا شکور راجانی کا نوجوانوں کے لیے اہم پیغام

 



 ثانیہ انجم

اوسطاً ایک اسکرول چند سیکنڈ تک ہی جاری رہتا ہے۔ اوسط انسانی خواہش چاہتی ہے کہ جواب ابھی مل جائے۔ ہم نے فوری تسکین کے گرد ایک ایسا معاشرہ تشکیل دے دیا ہے اور پھر حیران ہوتے ہیں کہ صبر۔ خود کو سمجھنا اور جذبات کو قابو میں رکھنا اتنا مشکل کیوں محسوس ہوتا ہے۔زلیخا شکور راجانی اس گفتگو کو ذرا ٹھہر کر آگے بڑھانا چاہتی ہیں۔وہ بنگلورو کے امید کاؤنسلنگ سینٹر میں کاؤنسلنگ اور روحانی نفسیات کی ماہر۔ کلینیکل ڈائریکٹر اور شعبہ اسلامی نفسیات کی سربراہ ہیں۔ راجانی نفسیات اور مذہب کے ایک ایسے امتزاج پر کام کرتی ہیں جو غیر معمولی ہونے کے ساتھ ساتھ تیزی سے متعلقہ بھی ہوتا جا رہا ہے۔ 8,000 سے زیادہ گھنٹوں کے کلینیکل تجربے کے ساتھ وہ کاؤنسلنگ۔ نفسیاتی آگہی۔ رہنمائی اور پیشہ ورانہ تربیت کے شعبوں میں کام کرتی ہیں۔ ساتھ ہی وہ اسلامی نفسیاتی نقطہ نظر سے انسان کو سمجھنے کے مفہوم کا بھی مطالعہ کر رہی ہیں۔

نوجوانوں کے لیے ان کا پیغام بظاہر بہت سادہ ہے۔ اپنی زندگی کو درست کرنے کی کوشش کرنے سے پہلے خود کو سمجھیں۔راجانی کے لیے نفسیات اور اسلامی نفسیات کی جانب سفر کسی ایک فیصلہ کن واقعے کا نتیجہ نہیں تھا۔ یہ دو ایسے رجحانات سے پروان چڑھا جو بچپن ہی سے ان کے اندر موجود تھے۔وہ کہتی ہیں۔ ’’اللہ مہربان رہا ہے۔ میں اللہ کی شکر گزار ہوں۔‘‘اسلامی ماحول میں پرورش پانے والی راجانی کا خاندان علما سے بھی قریب رہا۔ اس ماحول میں ان کے اندر اسلام کے ساتھ ساتھ نفسیات میں بھی دلچسپی پیدا ہوئی۔ وہ اپنی صلاحیتوں اور مواقع کو صلاحیہ کے تصور سے جوڑتی ہیں۔ یعنی وہ صلاحیتیں جو اللہ تعالیٰ کسی انسان کو عطا کرتا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ ان کا سفر ان مواقع سے تشکیل پاتا گیا جو انہیں وقت کے ساتھ میسر آتے رہے۔

یہ مواقع بالآخر انہیں ہندوستان سے باہر لے گئے۔ کیمبرج مسلم کالج میں انہوں نے اسلامی نفسیات کی تعلیم حاصل کی جہاں انہیں ایک منتخب بین الاقوامی گروپ کے ساتھ نظریاتی اور عملی دونوں پہلوؤں کو سمجھنے کا موقع ملا۔ بعد ازاں انہوں نے خلیل سینٹر کے ذریعے بھی تربیت حاصل کی۔ جس میں شکاگو اور استنبول میں اسلامی کلینیکل نفسیات کے تجربات شامل تھے۔ اس کے ساتھ انہوں نے تزکیہ تھراپی۔ اسلامی نفسیات اور ازدواجی کاؤنسلنگ میں خصوصی تربیت بھی حاصل کی۔ان کی تعلیمی قابلیت میں بنگلور یونیورسٹی سے نفسیات میں M.Sc اور ماؤنٹ کارمل کالج سے نفسیات۔ صحافت اور انگریزی ادب میں B.A شامل ہے۔

اسلامی نفسیات کے شعبے میں ان کا پیشہ ورانہ سفر تقریباً 5 سے 6 سال قبل زیادہ واضح شکل اختیار کرنے لگا۔ آج ان کا کام کلینیکل پریکٹس۔ تحقیق۔ نگرانی اور تربیت تک پھیلا ہوا ہے۔ وہ البَلاغ اکیڈمی میں فیسلیٹیٹر اور استاد کے طور پر بھی خدمات انجام دیتی ہیں۔ اس کے علاوہ انٹرنیشنل اسٹوڈنٹس آف اسلامک سائیکالوجی انڈیا کی ایگزیکٹو ایڈوائزری رکن بھی ہیں۔تاہم راجانی کے نزدیک اس شعبے کی بڑھتی ہوئی ضرورت کو ہندوستان میں ذہنی صحت کی صورت حال سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔وہ کہتی ہیں۔ ’’ہندوستان میں ذہنی صحت کا تصور بہت کمزور رہا ہے۔‘‘

اگرچہ نفسیات سے متعلق گفتگو میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ لیکن ان کے خیال میں ذہنی صحت کی دیکھ بھال کو تسلیم کرنے۔ قبول کرنے اور سمجھنے کے معاملے میں ہندوستان کو ابھی کافی سفر طے کرنا ہے۔ مسلم معاشروں کے حوالے سے وہ نفسیات اور ایمان کے درمیان تعلق کو اس انداز میں سمجھنے کی ایک اضافی گنجائش دیکھتی ہیں جو ثقافتی اور روحانی اعتبار سے بامعنی ہو۔وہ کہتی ہیں۔ ’’نفسیات اور ایمان کے حوالے سے بہت کچھ موجود ہے۔‘‘ ان کے مطابق ایسے طریقہ کار تیار کرنے کی وسیع گنجائش ہے جو مسلم معاشروں کی حقیقی زندگی کے تجربات سے ہم آہنگ ہوں۔تاہم آگہی باآسانی غلط فہمی میں بھی تبدیل ہو سکتی ہے۔ راجانی کا ماننا ہے کہ ذہنی صحت کے بارے میں معاشرے کے تصور کی تشکیل میں میڈیا کا اہم کردار ہے اور بعض اوقات یہی میڈیا ذہنی صحت سے متعلق غلط تصورات پیدا کرنے کا سبب بھی بنتا ہے۔

وہ کہتی ہیں۔ ’’ذہنی صحت کے بارے میں غلط فہمی پیدا کرنے میں میڈیا کا بہت اہم کردار ہے۔‘‘ان کے خیال میں سب سے بڑے مسائل میں سے ایک یہ ہے کہ لوگ اکثر پیشہ ورانہ مدد حاصل کرنے میں بہت دیر کر دیتے ہیں۔ زندگی کے بعض مراحل میں بروقت مدد کسی مسئلے کو مزید پیچیدہ ہونے سے روک سکتی ہے۔ لیکن اس ضرورت کو محسوس کرنا اب بھی عام نہیں ہے۔ان کے کلینیکل تجربے نے انہیں یہ دکھایا ہے کہ حقیقی تبدیلی کیسی نظر آ سکتی ہے۔ ان کے لیے سب سے زیادہ اطمینان بخش لمحات انتہائی انسانی نوعیت کے ہوتے ہیں۔ مثلاً کسی جوڑے کو اپنے اختلافات پر کام کرنے کے بعد دوبارہ ایک دوسرے کے قریب آتے دیکھنا۔ یا کسی ایسے شخص کو ماضی کے جبر کے اثرات سے نکل کر صحت مند انداز میں حالات کا سامنا کرتے دیکھنا۔

ہندوستان میں نسبتاً نئے شعبے کے لیے ایک اور بڑی رکاوٹ مناسب تربیت یافتہ ماہرین کی کمی ہے۔ راجانی کا ماننا ہے کہ کلینیکل کام اور تحقیق دونوں کے ذریعے اس شعبے کو ذمہ داری کے ساتھ وسعت دینا ضروری ہے۔وہ کہتی ہیں۔ ’’جتنے زیادہ لوگ ہوں گے اتنا ہی بہتر ہوگا۔‘‘نوجوانوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے ان کی تشویش مزید بڑھ جاتی ہے۔جن زی نے ایسے ماحول میں پرورش پائی ہے جو فوری پن کے گرد تشکیل دیا گیا ہے۔ سوشل میڈیا مسلسل موازنہ پیش کرتا ہے۔ تفریح جب چاہیں دستیاب ہے۔ کھانے۔ خریداری اور رابطے کے طریقے بھی تیزی سے سہولت اور فوری دستیابی پر مبنی ہوتے جا رہے ہیں۔ راجانی نوجوانوں میں اس کے نفسیاتی اثرات کو ایک بڑھتی ہوئی ’’جلدی‘‘ کے طور پر دیکھتی ہیں۔

وہ کہتی ہیں۔ ’’اس نسل میں بہت زیادہ عجلت ہے۔‘‘ وہ اسے صبر میں کمی اور جسے وہ ’’ڈوپامین ہائی جیک‘‘ کہتی ہیں اس سے جوڑتی ہیں۔ان کا حل ٹیکنالوجی یا جدید زندگی کو مسترد کرنا نہیں ہے بلکہ خود آگہی کو فروغ دینا ہے۔ ان کے خیال میں نوجوانوں کو اپنی عدم تحفظ کے احساسات۔ اپنی وابستگیوں اور اپنے نفس یعنی اندرونی خواہشات اور رجحانات کو سمجھنے کی ضرورت ہے جو ان کے رویے پر اثر انداز ہوتے ہیں۔سماجی موازنہ بھی ایک سنگین مسئلہ ہے۔ اپنی ظاہری شکل۔ کامیابیوں۔ تعلقات یا طرز زندگی کا مسلسل دوسروں کی زندگی کے ان منتخب اور خوب صورت آن لائن مناظر سے موازنہ کرنا جو حقیقت کی مکمل تصویر نہیں ہوتے۔ خاموشی سے خود اعتمادی اور اطمینان کو کم کر سکتا ہے۔

رشتے بھی تبدیل ہو رہے ہیں۔ راجانی میاں بیوی اور بچوں کے درمیان وابستگی کے مسائل۔ والدین کی ذمہ داریوں سے متعلق خدشات۔ خاندان میں بدلتے کردار اور حدود کے تعین سے متعلق مشکلات کی جانب اشارہ کرتی ہیں۔ ان کے مطابق یہ تبدیلیاں شناخت اور معاشرے میں خواتین کے مقام سے متعلق کئی مشکل سوالات پیدا کر رہی ہیں۔یہیں ان کی اسلامی نفسیات کی تفہیم محض روایتی تھراپی میں مذہبی اصطلاحات شامل کرنے سے آگے بڑھ جاتی ہے۔ ان کا کام انسان کو ایک وسیع حیاتیاتی۔ نفسیاتی۔ سماجی اور روحانی تناظر میں سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس میں نفسیاتی فہم کے ساتھ جسمانی اور سماجی حقیقتوں اور روحانی پہلوؤں کو بھی شامل کیا جاتا ہے۔

یہی فلسفہ کلینک سے باہر ان کے وسیع کام کی بنیاد بھی ہے۔ راجانی نوجوانوں کی ترقی۔ والدین کی تربیت۔ ازدواجی زندگی میں بہتری۔ نشے۔ جذباتی نظم و ضبط۔ خواتین کی نفسیات۔ لچک اور نفس جیسے موضوعات پر 100 سے زیادہ ورکشاپس۔ ریٹریٹس اور سیمینارز منعقد کر چکی ہیں۔انہوں نے روحانیت۔ نفسیات۔ کاؤنسلنگ اور نفسیاتی و سماجی بحالی کے موضوعات پر قومی اور بین الاقوامی فورمز میں بھی اظہار خیال کیا ہے۔ ان کا کام اب تیزی سے ثقافتی بنیادوں سے جڑے ذہنی صحت کے طریقہ کار تیار کرنے اور اسلامی نفسیات کے تحقیقی پہلو کو مضبوط بنانے پر مرکوز ہو رہا ہے۔ان کی حالیہ علمی سرگرمیاں بھی اسی سمت کی عکاسی کرتی ہیں۔ 2026 میں انہوں نے ’’اسکرین کے دور میں نفس کی دوبارہ تربیت۔ مسلم نوجوانوں میں رویوں سے متعلق نشے کے لیے TIIP فریم ورک‘‘ کے عنوان سے تحقیق پیش کی۔ اس تحقیق میں کلینیکل تجربات۔ نگرانی اور ٹیکنالوجی کے نوجوان مسلمانوں پر اثرات سے متعلق سوالات کو یکجا کیا گیا ہے۔

سال 2025 میں آل انڈیا مسلم ڈیولپمنٹ کونسل نے انہیں ’’40 انڈر 40 لیڈرز‘‘ میں بھی شامل کیا۔ یہ اعزاز ذہنی صحت سے متعلق گفتگو کو زیادہ قابل رسائی اور ثقافتی طور پر ہم آہنگ بنانے پر مرکوز ان کے سفر میں ایک اور اہم سنگ میل ہے۔تاہم شاید ان کا سب سے اہم مشورہ سب سے سادہ ہے۔وہ کہتی ہیں۔ ’’چیزوں کے بہت زیادہ خراب ہونے کا انتظار نہ کریں۔‘‘’’ایک بار کاؤنسلنگ سے رجوع کرنا بھی مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔‘‘راجانی کے لیے مدد طلب کرنا اس بات کی علامت نہیں کہ کوئی شخص ناکام ہو گیا ہے۔ یہ صرف اس بات کو سمجھنے کی ابتدا ہو سکتی ہے کہ انسان کے اندر کیا ہو رہا ہے۔اور ایک ایسی نسل میں جسے ہر چیز کو بہتر بنانے کی مسلسل ترغیب دی جاتی ہے۔ چاہے وہ کام کی صلاحیت ہو۔ ظاہری شکل ہو یا تعلقات۔ شاید ان کی سب سے اہم تجویز یہی ہے کہ کچھ دیر ٹھہریں اور اپنے اندر جھانکیں۔کیونکہ ان کے نزدیک ذہنی صحت صرف حالات سے نمٹنے کا طریقہ سیکھنے کا نام نہیں ہے۔ یہ ذہنی تحریک۔ ذاتی نشوونما۔ نفس کو سمجھنے۔ اپنے گہرے مقصد سے دوبارہ جڑنے اور اس سوال پر غور کرنے کا نام بھی ہے جس کا جواب کوئی الگورتھم ہمارے لیے نہیں دے سکتا۔   ہم آخر کس انسان میں تبدیل ہو رہے ہیں؟