صرف 60 الفاظ میں خبر کا انقلاب، اِن شارٹس کے بانی اظہر اقبال کی کہانی

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 26-10-2026
صرف 60 الفاظ میں خبر کا انقلاب، اِن شارٹس کے بانی اظہر اقبال کی کہانی
صرف 60 الفاظ میں خبر کا انقلاب، اِن شارٹس کے بانی اظہر اقبال کی کہانی

 



زیبا نسیم : ممبئی
بڑی سے بڑی خبر ۔ صرف ساٹھ الفاظ میں ۔ایک تجربہ تھا جسے اب دنیا ’’ان شاٹس ‘‘ کے نام سے جانتی ہے،ایک نوجوان دماغ کی دین ۔ جس نے اس بات کو محسوس کیا کہ  دنیا اب بہت مصروف ہے ، دنیا کو پر لگ چکے ہیں،ہر کوئی اپنی دنیا میں مگن ہے۔ایسے میں خبروں کا ’عرق‘ پیش کرنے کا فیصلہ ایک نیا تجربہ تھا ۔اس کا سہرا اظہر اقبال کے سر بندھتا ہے ۔ جنہوں نے 2013 میں ایک ایسا تجربہ شروع کیا، جس نے بعد میں خبر پڑھنے کے انداز کو بدل کر رکھ دیا۔ فیس بک کے ایک معمولی سے صفحے نیوز اِن شارٹس سے شروع ہونے والا یہ سفر آج اِن شارٹس کی صورت میں ایک بڑی ڈیجیٹل کمپنی بن چکا ہے۔
بہار کے ایک نوجوان کا بڑا خواب
اظہر اقبال کا تعلق بہار کے کشن گنج سے ہے۔ ان کی پرورش ایک متوسط طبقے کے خاندان میں ہوئی۔ بچپن سے ہی انہیں نئی چیزیں سیکھنے اور علم حاصل کرنے کا شوق تھا۔ تعلیم کے میدان میں انہوں نے نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور آئی آئی ٹی کے مشترکہ داخلہ امتحان میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد 2009 میں آئی آئی ٹی دہلی میں داخلہ لیا۔آئی آئی ٹی دہلی میں وہ ریاضی اور کمپیوٹر سائنس سے متعلق مربوط اعلیٰ تعلیمی پروگرام میں زیر تعلیم رہے۔ لیکن آئی آئی ٹی میں تعلیم کے دوران ہی انہیں احساس ہوا کہ ان کے خواب صرف روایتی تعلیم اور ملازمت تک محدود نہیں ہیں۔اس سوچ کے ساتھ انہوں نے خوابی تعلیم  گاہ کو الوادعکہہ دیا ۔ اظہر اقبال 18 جنوری 1992 کو پیدا ہوئے۔ بچپن ہی سے ان میں کچھ بڑا کرنے کی خواہش نمایاں تھی۔ ان کی موجودہ مالی کامیابی بھی اسی عزم کی عکاس ہے- جس کی2023 کے ریکارڈ کے مطابق سالانہ آمدنی کا تخمینہ 114143 امریکی ڈالر لگایا گیا تھا۔
فیس بک سے بسمہ اللہ
سال 2013 میں اظہر اقبال نے اپنے ساتھی طالب علموں انونے ارونَو اور دیپت پرکاشٹھا کے ساتھ مل کر فیس بک پر نیوز اِن شارٹس کے نام سے ایک صفحہ شروع کیا۔ خیال بہت سادہ تھا لیکن اس کی ضرورت بہت بڑی تھی۔ اہم خبروں کو منتخب کیا جائے۔ انہیں آسان زبان میں مختصر انداز میں لکھا جائے، قارئین کو اصل خبر تک پہنچنے کے لیے ذریعہ بھی فراہم کردیا جائے۔ان کا مقصد یہ تھا کہ خبر جاننے کے لیے لوگوں کو طویل مضامین پڑھنے میں زیادہ وقت صرف نہ کرنا پڑے۔ ایک ایسے دور میں جب معلومات کی رفتار بڑھ رہی تھی اور لوگوں کے پاس وقت کم ہوتا جارہا تھا یہ تصور بہت سے قارئین کے لیے پرکشش ثابت ہوا۔
ٹائمز انٹرنیٹ کے پروگرام نے دی نئی سمت
اظہر اقبال اور ان کے ساتھیوں کے سفر میں ایک اہم موڑ اس وقت آیا جب ان کے منصوبے کو ٹائمز انٹرنیٹ گروپ کی حمایت سے چلنے والے نوخیز کاروباری اداروں کے تربیتی پروگرام ٹی لیبز میں جگہ ملی۔یہ موقع تینوں نوجوانوں کے لیے صرف مالی مدد کا ذریعہ نہیں تھا بلکہ انہیں کاروبار قائم کرنے۔ ادارہ چلانے اور ایک خیال کو قابل عمل کمپنی میں تبدیل کرنے کے بارے میں سیکھنے کا موقع بھی ملا۔اس کے ساتھ نیوزاِن شارٹس کا تصور آگے بڑھا، بعد میں اِن شارٹس کے نام سے ایک مکمل پلیٹ فارم کی شکل اختیارکرگیا۔ یہی وہ مرحلہ تھا جب ایک فیس بک صفحہ آہستہ آہستہ ایک بڑے کاروباری منصوبے میں تبدیل ہونے لگا۔
اِن شارٹس کی باضابطہ تشکیل
ابتدائی تجربے کی کامیابی کے بعد اظہر اقبال اور ان کے ساتھیوں نے اپنے منصوبے کو باضابطہ کاروبار میں تبدیل کیا۔ اِن شارٹس کا مقصد ابتدا ہی سے واضح تھا۔ صارف کو کم سے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ ضروری خبری معلومات فراہم کرنا۔مصروف افراد کے لیے یہ ایک ایسا ذریعہ بن گیا جس کے ذریعے وہ مختلف شعبوں کی اہم خبروں پر مختصر نظر ڈال سکتے تھے۔
اِن شارٹس کی بڑھتی ہوئی مقبولیت نے سرمایہ کاروں کی توجہ بھی حاصل کی۔ ابتدائی مرحلے میں ٹی لیبز سے 2013 میں 10 لاکھ روپے کی مالی مدد ملی۔ اس کے بعد کمپنی نے مختلف سرمایہ کاری مراحل میں بڑی رقم حاصل کی۔ 2015 میں ہونے والی سرمایہ کاری کے بعد کمپنی کی ترقی کو مزید رفتار ملی جبکہ بعد کے برسوں میں بین الاقوامی سرمایہ کاروں کی توجہ بھی اس پلیٹ فارم کی طرف بڑھی۔مختلف اطلاعات کے مطابق کمپنی نے متعدد سرمایہ کاروں سے کروڑوں ڈالر کی سرمایہ کاری حاصل کی جس میں ٹائیگر گلوبل اور ٹائمز انٹرنیٹ جیسے نام بھی شامل رہے۔
کروڑوں صارفین تک رسائی
جو خیال ایک فیس بک صفحے سے شروع ہوا تھا وہ چند برسوں میں لاکھوں اور پھر کروڑوں صارفین تک پہنچ گیا۔ اِن شارٹس کے کروڑوں  فعال صارفین اور بڑی تعداد میں ڈاؤن لوڈ اس بات کی علامت بنے کہ مختصر خبروں کی ضرورت محض ایک عارضی رجحان نہیں تھی۔اس کامیابی نے خبر رسانی کے ڈیجیٹل میدان میں ایک نئے انداز کو مضبوط کیا۔ لوگوں نے یہ محسوس کیا کہ ہر خبر کو سمجھنے کے لیے طویل وقت درکار نہیں ہوتا۔ اگر معلومات کو درست انتخاب اور جامع انداز کے ساتھ پیش کیا جائے تو کم الفاظ بھی بہت کچھ بتا سکتے ہیں۔
عوام سے رابطے کا پلیٹ فارم
اِن شارٹس کی کامیابی کے بعد اظہر اقبال اور ان کی ٹیم نے اپنی سرگرمیوں کو صرف مختصر خبروں تک محدود نہیں رکھا۔ کمپنی نے مقامی سطح پر لوگوں کو اپنے آس پاس ہونے والے واقعات سے جوڑنے کے لیے پبلک نامی پلیٹ فارم کو بھی وسعت دی۔اس طرح کمپنی نے ایک طرف اِن شارٹس کے ذریعے قومی اور بین الاقوامی خبروں کو مختصر انداز میں لوگوں تک پہنچانے کا سلسلہ جاری رکھا۔ دوسری طرف پبلک کے ذریعے مقامی خبروں اور عوامی رابطے کے لیے ایک نیا پلیٹ فارم فراہم کیا۔
ان شاٹس سے شارک ٹینک تک
اِن شارٹس کے قیام اور اس کی ترقی میں اظہر اقبال کی قیادت کا اہم کردار رہا۔ طویل عرصے تک انہوں نے کمپنی کی انتظامی قیادت کی اور بعد میں چیئرمین کی حیثیت سے اپنی ذمہ داری سنبھالی جبکہ دیپت پرکاشٹھا نے انتظامی سربراہ کی ذمہ داری سنبھالی۔یہ تبدیلی کمپنی کے اس سفر کی بھی علامت تھی جس میں تین طالب علموں کا منصوبہ ایک ایسے ادارے میں تبدیل ہوچکا  تھا۔
اظہر اقبال کی کاروباری کامیابی نے انہیں عوامی سطح پر بھی ایک نمایاں شخصیت بنادیا۔ وہ شارک ٹینک ہندستان کے تیسرے دور میں سرمایہ کاروں کے پینل کا حصہ بنے۔اس پروگرام کے ذریعے انہیں ملک بھر سے آنے والے نئے کاروباری افراد اور نوجوان بانیوں سے براہ راست رابطے کا موقع ملا۔ ایک ایسے شخص کے لیے جو خود ایک طالب علم کی حیثیت سے فیس بک پر ایک چھوٹا سا تجربہ شروع کرچکا تھا اب دوسرے نوجوانوں کے کاروباری خوابوں کا جائزہ لینا اور انہیں سرمایہ کاری اور رہنمائی فراہم کرنا ایک منفرد مرحلہ تھا۔
نوجوان کاروباری افراد کے لیے ایک مثال
اظہر اقبال کو مختلف قومی اور بین الاقوامی سطح کے اعزازات اور فہرستوں میں جگہ ملی ہے۔ انہیں بزنس ورلڈ 40 انڈر 40۔ فارچون ہندستان 40 انڈر 40۔ بزنس ورلڈ ینگ انٹرپرینیور ایوارڈ۔ فوربس ہندستان 30 انڈر 30 اور فوربس ایشیا 30 انڈر 30 جیسی فہرستوں اور اعزازات سے بھی وابستہ کیا جاتا رہا ہے۔تاہم ان کی کہانی کی اصل اہمیت صرف اعزازات یا مالی کامیابی میں نہیں ہے۔ ان کی سب سے بڑی شناخت شاید یہ ہے کہ انہوں نے ایک ایسے مسئلے کو پہچانا جس کا سامنا کروڑوں لوگ روزانہ کرتے تھے۔لوگ خبروں سے باخبر رہنا چاہتے تھے لیکن ان کے پاس وقت کم تھا۔
ایک سفر ۔ ایک مثال
اظہر اقبال کی کہانی ابھی مکمل نہیں ہوئی۔ فیس بک کے ایک چھوٹے صفحے سے شروع ہونے والا سفر اِن شارٹس اور پبلک جیسے بڑے پلیٹ فارموں تک پہنچ چکا ہے۔ آئی آئی ٹی دہلی کی ادھوری تعلیم سے لے کر ایک کامیاب کاروباری شخصیت بننے اور پھر شارک ٹینک ہندستان میں نوجوانوں کے کاروباری خوابوں کی رہنمائی کرنے تک ان کے سفر نے کئی مرحلے طے کیے ہیں۔
بہار کے ایک نوجوان سے لے کر ہندستان کے نمایاں نوخیز کاروباری افراد میں شامل ہونے تک اظہر اقبال کا سفر جذبے۔ جدوجہد۔ مستقل مزاجی اور ایک خیال پر یقین کی کہانی ہے۔ انہوں نے یہ ثابت کیا کہ اگر انسان کے پاس کچھ نیا کرنے کی خواہش ہو اور وہ ناکامی اور غیر یقینی صورتحال سے خوفزدہ نہ ہو تو فیس بک کے ایک چھوٹے سے صفحے سے شروع ہونے والا سفر بھی کروڑوں لوگوں کی زندگی کا حصہ بن سکتا ہے۔