احسان فاضلی / سری نگر
جب معاشرہ نوجوانوں میں منشیات کی لت کے بڑھتے ہوئے مسئلے سے نبرد آزما ہے ایسے میں وسطی کشمیر کے ضلع بڈگام کے علاقے بیروہ سے تعلق رکھنے والے ایک نوعمر لڑکے نے اپنی محرومی کو ایک مشن میں بدل دیا ہے۔ زاہد منظور منشیات کے استعمال کے خلاف بیداری پیدا کرنے کی ایک توانا آواز بن کر ابھرے ہیں۔ زاہد پیدائشی طور پر صرف ایک ٹانگ رکھتے ہیں اور ان دنوں جموں و کشمیر بورڈ آف اسکول ایجوکیشن کے دسویں جماعت کے امتحان میں شریک ہیں۔ محض 16 سال کی عمر میں انہوں نے اپنی صلاحیتوں کے ذریعے منشیات کے خلاف جدوجہد میں نمایاں شناخت حاصل کرلی ہے۔ سائیکل چلانے سے لے کر رقص اور مارشل آرٹس تک مختلف سرگرمیوں میں اپنی مہارت کا مظاہرہ کرنے والے زاہد گزشتہ ایک دہائی سے کشمیر کے مختلف علاقوں میں سفر کرکے لوگوں کو منشیات کے نقصانات سے آگاہ کر رہے ہیں۔ ان کی مسلسل کوششوں کا نتیجہ ہے کہ آج وہ ملک گیر منشیات مخالف مہم ’نشہ مکت بھارت ابھیان‘ سے بھی وابستہ ہیں۔
زاہد منظور نے آواز دی وائس سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ جب وہ ابتدائی جماعتوں میں زیر تعلیم تھے تو دوسرے بچے ان سے دور رہنا پسند کرتے تھے۔ وہ ضلع بڈگام کے علاقے بیروہ میں واقع گورنمنٹ ہائی اسکول میرا پورہ کے طالب علم ہیں۔ جسمانی معذوری کے باوجود زاہد کو بچپن ہی سے مختلف سرگرمیوں میں دلچسپی تھی۔ ان کے ذہن میں ہمیشہ یہ سوال رہتا تھا کہ جب دوسرے بچے بغیر کسی معذوری کے روزمرہ کے تمام کام انجام دے سکتے ہیں تو وہ ایسا کیوں نہیں کرسکتے۔ اسی سوچ نے ان کے اندر آگے بڑھنے کا حوصلہ پیدا کیا۔ ان کے عزم اور صلاحیتوں کو دیکھتے ہوئے بچپن ہی سے انہیں مختلف مواقع اور سہولتیں ملنے لگیں جنہوں نے ان کی شخصیت کو نکھارنے میں اہم کردار ادا کیا۔
زاہد کا تعلق ایک غریب شال باف خاندان سے ہے۔ ان کا آبائی علاقہ بیروہ مگام کے قریب واقع ہے جو کشمیر کی نفیس اور قدیم دست بافی کی روایات کے لیے مشہور ہے۔ ان کے والدین ابتدا میں ان کی جسمانی حالت کے حوالے سے فکرمند رہتے تھے اور انہیں یہ سمجھ نہیں آتا تھا کہ ان کی مناسب رہنمائی کس طرح کی جائے۔ گاؤں کے کئی لوگ یہ کہتے تھے کہ زاہد زندگی میں کچھ نہیں کر پائیں گے۔ تاہم ان کے دادا چاہتے تھے کہ بچے کی صلاحیتوں کو صحیح سمت دی جائے اور اس کی ایسی تربیت ہو جو مستقبل میں اس کے لیے فائدہ مند ثابت ہو۔ دادا کی اسی توجہ اور حوصلہ افزائی نے زاہد کی زندگی میں مثبت تبدیلی کی بنیاد رکھی۔


منشیات کے خلاف مہم شروع کرنے کا خیال زاہد کے ذہن میں اس وقت آیا جب ایک روز وہ اپنے تربیت کار کے گھر سے واپس آرہے تھے۔ راستے میں دھان کے کھیتوں سے گزرتے ہوئے انہوں نے نوجوان لڑکوں کے ایک گروہ کو منشیات استعمال کرتے دیکھا۔ یہ منظر دیکھ کر وہ خوف زدہ ہوگئے اور وہاں سے نکل کر اپنے استاد کے پاس پہنچے۔ استاد سے اس واقعے کا ذکر کرنے پر انہیں یہ بات سمجھ میں آئی کہ اصل معذوری ان لوگوں میں ہے جو منشیات کے عادی ہوکر اپنی زندگی تباہ کرلیتے ہیں۔ اس واقعے نے ان کے اندر ایک نئی سوچ پیدا کی۔ انہوں نے محسوس کیا کہ اگر وہ جسمانی معذوری کے باوجود بہت سے کام انجام دے سکتے ہیں تو صحت مند نوجوان منفی عادتوں میں مبتلا ہونے کے بجائے مثبت سرگرمیوں میں حصہ کیوں نہیں لے سکتے۔ اسی احساس نے انہیں منشیات کے خلاف بیداری پیدا کرنے کی تحریک دی۔
اب تک زاہد سو سے زیادہ پروگراموں میں شرکت کرچکے ہیں جہاں وہ اسکولوں کی صبح کی اسمبلیوں میں بچوں کو منشیات کے مضر اثرات سے آگاہ کرتے ہیں۔ ان کی کوشش ہے کہ نوجوانوں کو منشیات کی تباہ کاریوں سے بچایا جائے اور انہیں تعلیم اور مثبت سرگرمیوں کی طرف راغب کیا جائے۔ زاہد صرف تقریروں اور آگاہی پروگراموں تک محدود نہیں ہیں بلکہ انہوں نے اپنے استاد محمد یوسف کے ساتھ مل کر منشیات کے خلاف بیداری پیدا کرنے کے لیے 48 منٹ کی ایک فلم بھی تیار کی ہے۔ تقریباً دو سال قبل بنائی گئی اس فلم میں منشیات کی لت کے مضر اثرات اور اس کے تباہ کن نتائج کو اجاگر کیا گیا ہے۔ یہ فلم اب وادی کشمیر کے مختلف اسکولوں میں دکھائی جارہی ہے تاکہ طلبہ کو اس برائی سے دور رہنے کی ترغیب دی جاسکے۔
زاہد کی صلاحیتوں کو پہلی مرتبہ پہچان اس وقت ملی جب ان کے دادا انہیں 2014 میں ناربل کے مڈل اسکول میں خصوصی ضرورتوں کے حامل بچوں میں معاون آلات تقسیم کرنے کے لیے منعقدہ ایک کیمپ میں لے گئے۔ اس وقت زاہد کی عمر تقریباً پانچ سال تھی۔ اس کیمپ میں حکومت کے جامع تعلیمی پروگرام کے تحت معذور بچوں کے لیے وہیل چیئرز اور چلنے پھرنے میں مدد دینے والے آلات سمیت سہ پہیہ سائیکلیں اور سماعت کے آلات تقسیم کیے جارہے تھے۔ اس کے علاوہ بچوں کی مختلف ضروریات کے مطابق خصوصی تعلیمی سامان اور ٹانگوں کو سہارا دینے والے آلات بھی فراہم کیے جارہے تھے۔


اسی موقع پر قریبی علاقے ناربل کے بوائز ہائی اسکول مکامہ سے وابستہ استاد محمد یوسف پری نے زاہد کی صلاحیتوں کو بھانپ لیا۔ وہ اب ضلع سطح پر اس پروگرام کے رابطہ کار ہیں۔ زاہد کی دلچسپی اور مختلف کاموں کو سیکھنے کے شوق نے انہیں خاص طور پر متاثر کیا۔ محمد یوسف پری کے مطابق زاہد کو چلنے میں مدد دینے والا ایک آلہ فراہم کیا جانا تھا لیکن جیسے ہی انہوں نے اس پر ہاتھ رکھا تو پورے اعتماد کے ساتھ اسے چلانے لگے۔ انہوں نے بتایا کہ زاہد نے اس آلے کی مدد سے موقع پر ہی دوڑ لگانا شروع کردی۔ ان کے اندر اس کام کا غیر معمولی شوق دیکھ کر استاد نے ان کے دادا کو بتایا کہ بچے کو مناسب رہنمائی کی ضرورت ہے۔ دادا اپنے پوتے کی صلاحیتوں کو دیکھ کر بہت خوش ہوئے۔
محمد یوسف پری نے زاہد کی باقاعدہ تربیت شروع کی اور انہیں اس آلے کے استعمال کے ساتھ سائیکل چلانے سمیت دوسری سرگرمیوں کی مشق بھی کرائی۔ زاہد نے بہت کم وقت میں سائیکل چلانا سیکھ لیا۔ اس کے بعد انہیں مارشل آرٹس اور ہوا میں اچھل کر کیے جانے والے حملوں کی تربیت بھی دی گئی۔ اپنی مضبوط قوت ارادی اور مسلسل محنت کے باعث انہوں نے ان سرگرمیوں میں بھی مہارت حاصل کرلی۔
زاہد کی صلاحیتوں کو وسیع پیمانے پر پہچان 2017 میں ملی جب سمگر شکشا کے تحت انہیں باصلاحیت معذور طلبہ میں شامل کیا گیا۔ اس کے بعد انہیں ضلع اور ریاستی سطح کے مختلف مقابلوں میں شرکت کے مواقع ملنے لگے۔ وہ 2017 سے ہر سال اڈیشہ میں منعقد ہونے والے انجلی بین الاقوامی بچوں اور نوجوانوں کے میلے میں شرکت کرتے آرہے ہیں۔ اگلے ماہ وہ اس میلے کے 26ویں سالانہ پروگرام میں بھی شرکت کرنے والے ہیں۔ اس میلے میں بنگلہ دیش اور نیپال سمیت پڑوسی ممالک کے شرکا بھی حصہ لیتے ہیں۔ زاہد نے اپنی صلاحیتوں کے ذریعے ان تقریبات میں بھی نمایاں شناخت بنائی ہے۔


اس کے علاوہ وہ جموں میں ہر سال 3 دسمبر کو منعقد ہونے والے عالمی یوم معذوراں کی ریاستی سطح کی تقریبات میں بھی شرکت کرتے ہیں۔ اس دن کو معذور افراد کا عالمی دن بھی کہا جاتا ہے اور اس کا مقصد خصوصی ضرورتوں کے حامل افراد کی صلاحیتوں کو تسلیم کرنا اور ان کے حقوق کے بارے میں بیداری پیدا کرنا ہے۔زاہد کو ایک موقع پر بالی ووڈ کے ایک رقاص سے تربیت حاصل کرنے کا موقع بھی ملا۔ ان کے استاد محمد یوسف پری کے مطابق زاہد اب ایک اچھے رقاص بن چکے ہیں اور دوسروں کو بھی رقص کی تربیت دیتے ہیں۔ اپنی صلاحیتوں کے بل پر وہ ایک ماہر رقاص کی حیثیت سے آگے بڑھ رہے ہیں اور اس کے ساتھ اپنی تعلیم بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔
زاہد منظور کی کہانی اس بات کی مثال ہے کہ جسمانی معذوری کسی انسان کے عزم اور صلاحیتوں کے راستے میں لازمی رکاوٹ نہیں بنتی۔ انہوں نے اپنی زندگی کے تجربات کو دوسروں کے لیے پیغام بنا دیا ہے۔ آج وہ نہ صرف اپنی صلاحیتوں کے ذریعے لوگوں کو متاثر کر رہے ہیں بلکہ نوجوانوں کو منشیات سے دور رہنے اور ایک بہتر زندگی اختیار کرنے کی ترغیب بھی دے رہے ہیں۔ ان کی جدوجہد یہ پیغام دیتی ہے کہ مضبوط ارادے اور درست رہنمائی کے ساتھ مشکلات کو معاشرے کی بھلائی کے لیے ایک طاقت میں بدلا جاسکتا ہے۔