منصور الدین فریدی : نئی دہلی
اگر آپ ذہنی طور پر مضبوط ہیں تو کوئی بھی معذوری رکاوٹ نہیں بن سکتی ۔
یہ الفاظ ہیں عبدالقادر اندور والا کے ،دونوں ہاتھوں سے محروم ایک تیراک ،جو پیرا ایشین گیمز 2026میں ملک کی نمائندگی کریں گے،جنہوں نے سات سال کی عمر میں زندگی میں آئے سب سے بڑےطوفان کو اپنے حوصلوں اور ہمت سے بونا بنا دیا ۔
دونوں ہاتھوں سے محروم مگر سوئمنگ پول میں تیز ترین تیراک بننے والے اس نوجوان کی کہانی آپ کو حیران کردے گی ، صرف سات سال کی عمر میں اپنے دونوں ہاتھ گنوائے لیکن آج وہ انٹر نیشنل تیراک ہیں۔ نیشنل اور انٹر نیشنل مقابلوں میں دھاک جمائی ، اب جاپان پیرا ایشین گیمز میں ملک کی نمائندگی کے لیے بھی منتخب ہوچکا ہے ۔ ایشین پیرا گیمز 2026 کا انعقاد 18 سے 24 اکتوبر 2026 تک جاپان کے ایچی پریفیکچر کے ناگویا شہر میں ہوگا۔ اس بین الاقوامی مقابلے میں 45 ممالک کے تقریباً 3600 سے 4000 کھلاڑی شرکت کریں گے اور مختلف کھیلوں میں میڈلز کے لیے مقابلہ کریں گے۔.webp)
.webp)
آوازدی وائس سے بات کرتے ہوئے بوہرہ برادری سے تعلق رکھنے والے عبدالقادر اندور والا بڑے فخریہ انداز میں کہتے ہیں کہ پاور فل مائنڈ سیٹ نے زندگی میں ڈوبنے سے بچایا ، کبھی ہار نہ ماننے کی عادت نے نئی اڑان دی ، جس کے سبب بغیر ہاتھوں کے مشکل نظر آنے والی زندگی اب نارمل ہوگئی ہے۔مدھیہ پردیش کے رتلام کے رہنے والے عبدالقادر اندور والا کے لیے سوئمنگ پول زندگی کی دوڑ کا ایسا میدان بن گیا ,جہاں انہوں نے اپنے حوصلے ،ہمت ،جذبے اور لگن کے سبب خود کو معذوری کے دائرے سے باہر لا کھڑا کیا۔اس جدوجہد اور کامیابی میں ایک اہم یا مرکزی کردار ان کے والد حسین اندور والا کا ہے جنہوں نے ایک بڑے حادثے کے باوجود بیٹے کو مایوسی کے بھنورمیں ڈوبنے سے بچایا ۔یہی وجہ ہے آج عبدالقادر پیرا سوئمنگ میں ہندوستان کی نمائندگی کر رہے ہیں اور بین الاقوامی مقابلوں میں میڈل جیت رہے ہیں۔
دس ہزار وولٹ کا بجلی کا جھٹکا
عبدالقادر اندور والا کی زندگی کو بجلی کے جھٹکے نے ہلا دیا تھا ،وہ بھی کوئی معمولی نہیں بلکہ 10 ہزار وولٹ کا جھٹکا تھا ۔ وہ آواز دی وائس کو بتاتے ہیں کہ یہ 2014بات ہے جب وہ بھوپال میں اپنے نانا کے گھر پر تھے، ،جہاں اس حادثہ میں دونوں ہاتھ بری طرح جھلس گئے۔ انفیکشن کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ڈاکٹروں نے دونوں بازو کاٹ دئیے،اس وقت عمر صرف 7 سال تھی ۔ زندگی میں اندھیرا چھا گیا تھا اس پر بھی مایوسی سوار ہورہی تھی مگر اہل خاندان کی حوصلہ افزائی نےاس تاریکی کو روشنی میں بدلنے میں اہم کردار ادا کیا ۔.webp)
حاثہ کے بعد کی زندگی
اس خوفناک حادثہ کے بعد ننھے سے عبدالقادر کے سامنے سب سے بڑا ابتدائی امتحان اپنے روزمرہ کے کام دوبارہ سیکھنا تھا۔ تعلیم کے پیش نظر ان میں لکھنا بھی بہت اہم تھا۔ انہوں نے ہاتھوں کے بجائے ٹانگوں سے لکھنے کی مشق شروع کی۔ محنت اور لگن کے سبب صرف 6 ماہ میں اس قابل ہوگئے کہ اپنی پیروں سے لکھ سکیں۔آواز دی وائس سے بات کرتے ہوئے، ان کے والد حسین اندور والا نے کہا کہ انہوں نے عہد کیا تھا کہ وہ کبھی اپنے بیٹے کو یہ احساس نہیں ہونے دیں گے، کہ وہ دوسروں سے کم ہے یا کچھ کرنے کے قابل نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے کبھی عبدالقادر کو معذور سمجھ کر اس کے ساتھ برتاؤ نہیں کیا۔ اگر کوئی اسے ترس کی نگاہ سے دیکھتا تو وہ اسے ایسا کرنے سے روکتے۔ یہی مثبت سوچ عبدالقادر کے لیے سب سے بڑی طاقت بن گئی۔ خود عبدالقادر بھی کہتے ہیں کہ وہ کبھی خوفزدہ نہیں ہوئے۔ ان کے والدین کا یہ یقین کہ وہ زندگی میں کچھ بھی حاصل کرسکتے ہیں ۔
مایوسی کفر ہے
عبدالقادر اندور والا کے ساتھ یہ حادثہ ان کے والد حسین اندور والا کے لیے کسی قیامت سے کم نہیں تھی۔ حسین گزشتہ 35 برس سے رتلام میں مقیم ہیں، پینٹ اور ہارڈویئر کا کاروبار کرتے ہیں۔ آواز دی وائس سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حادثہ کے بعد ایسا لگا گویاان کے بیٹے کی زندگی ختم ہوگئی ہو۔ لیکن مشکل کی اس گھڑی میں خاندان تنہا نہیں تھا۔ دوستوں۔ اہل محلہ اور اسکول کے ذمہ داران نے حسین اور ان کے خاندان کو حوصلہ دیا اور یقین دلایا کہ عبدالقادر کی تعلیم اور مستقبل کے سفر میں ان کا ساتھ دیا جائے گا۔عبدالقادر کے اسکول کے پرنسپل بھی ان کے گھر پہنچے اور والدین کو یقین دلایا کہ اسکول اس کی تعلیم کی مکمل ذمہ داری لے گا اور بارہویں جماعت تک اسے آگے بڑھانے میں مدد کرے گا۔اس دوران سوشل میڈیا پر انہیں پیرا اسپورٹس کی تصاویر ملیں،دیکھا کہ معذور بچے بھی میڈلز جیت رہے ہیں،جنہیں دیکھ کر مجھے لگا کہ میرے بیٹے کے لیے نئی راہ بن سکتی ہے۔ جس کے بعد عبدالقادر کو سوئمنگ میں لانے کا فیصلہ کیا۔ اس نے بہت جلد اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا لیا۔.webp)
کوچ راجا راٹھور نے نئی راہ دکھائی
عبدالقادر کے مطابق اس نئی شروعات میں ایک اورشخص ان کے لیے مسیحا بنا، جو راجا راٹھور ہیں ۔ جنہوں نے عبدالقادر کو تیراکی سکھانے کی پیش کش کی۔ ابتدا میں تیراکی کا مقصد علاج اور جسمانی بہتری تھا لیکن جلد ہی کوچ اور والدین کو محسوس ہوا کہ عبدالقادر میں غیر معمولی صلاحیت موجود ہے۔ راجا راٹھور نے عبدالقادر کو تیراکی کی تربیت دینا شروع کی، آج تک ان سے ایک روپیہ بھی فیس نہیں لی۔عبدالقادر نے بھی اپنی تمام تر توانائی تیراکی میں جھونک دی ۔ بغیر ہاتھوں کے پانی میں جسم کا توازن برقرار رکھنا ۔ سانس کو قابو میں رکھنا اور مقررہ رفتار سے تیرنا ان کے لیے ایک بڑا چیلنج تھا ۔ لیکن مسلسل مشق نے ان مشکلات کو آہستہ آہستہ ان کی طاقت میں بدل دیا۔آپ سوچئے کہ سات سال کی عمرمیں دونوں ہاتھ گنوانے کے بعد صرف ایک سال کے بعد بیلگام پیرا نیشنل گیمز میں میڈلز کی جھڑی لگا دی۔
نیشنل سے انٹرنیشنل مقابلوں تک
آواز دی وائس سے بات کرتے ہوئے عبدالقادر نے کہا کہ قومی سطح پروہ 23 گولڈ اور 3 سلور میڈلزجیت چکے ہیں،کئی قومی ریکارڈ قائم کرچکے ہیں۔قومی سطح پر اس کارکردگی کے سبب انٹر نیشنل مقابلوں تک پہنچ گئے۔ انہوں نے ہندوستان کی نمائندگی کرتے ہوئے ۲۰۲۴میں مصر میں سٹی پیرا سوئمنگ ورلڈ سیریز میں حصہ لیا اور شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے 50 میٹر بیک اسٹروک میں گولڈ اور 50 میٹر بٹر فلائی میں سلور میڈلز جیتے۔
عبدالقادر نے ایشین یوتھ پیرا گیمز 2025 میں بھی ہندوستان کی نمائندگی کی جہاں دبئی میں انہوں نے 3 گولڈ اور 1 برونز میڈلزجیت کر اپنی صلاحیت کا شاندار مظاہرہ کیا۔
ورلڈ پیرا سوئمنگ چیمپئن شپ 2025 میں بھی ہندوستان کی نمائندگی کی اور دنیا کے بہترین پیرا تیراکوں کے درمیان اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔
.webp)

اب اگلی منزل پیرا ایشین گیمز
عبدالقادر کے لیے سفر ابھی ختم نہیں ہوا۔ ان کی نظریں اب عالمی سطح کے مزید بڑے مقابلوں پر ہیں۔ 15اکتوبر سے جاپان میں منعقد پیرا ایشین گیمز کے لیے منتخب ہوچکے ہیں ۔ آواز دی وائس سے بات کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ وہ گجرات کے گاندھی نگر میں اسپورٹس اتھاریٹی آف انڈیا کمپلکس میں ٹریننگ حاصل کررہے ہیں ،ان کا نشانہ ایشین گیمز میں میڈل حاصل کرنے کا ہے ۔جس کے لیے سخت ٹریننگ جاری ہے ۔ صبح اور شام کئی گھنٹے تک سوئمنگ پول میں محنت کررہے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ ابھی تو سفر شروع ہوا ہے ان کی نظر پیرا اولمپکس گیمز پر ہے ۔
ایک دہائی قبل 10 ہزار وولٹ کے بجلی کے جھٹکے نے ان سے دونوں ہاتھ چھین لیے تھے۔ لیکن وہ حادثہ ان کے حوصلے کو نہیں چھین سکا۔ والدین کے یقین۔ کوچ کی بے لوث محنت اور اپنی مسلسل جدوجہد کے ذریعے عبدالقادر نے ثابت کردیا کہ جسمانی کمی انسان کے خوابوں کی راہ میں حتمی رکاوٹ نہیں ہوتی۔ان کے والد حسین اندور والا کا کہنا ہے کہ عبدالقادرکی کامیابی ان کی جدوجہد کا نتیجہ تو ہے لیکن اس کے ساتھ ان ہیں ہرکسی کی دعائیں ملیں۔ داودی بوہرہ برادری کے روحانی پیشواسیدنا مفضل سیف الدین سےکئی مرتبہ عبدالقادر نے ملاقات کی۔اسے دعائیں دیں اور سوئمنگ کی ٹریننگ کے تمام تر اخراجات کی ذمہ داری کمیونٹی کے ذمہ کی ۔
پیغام ہے جہاں تک پہنچے
بی بی ایس سکینڈ ائیر کے طالب علم عبدلقادر نے آواز دی وائس سے تفصیلی بات چیت میں کہا کہ اگر آپ ذہنی طور پر مضبوط ہیں تو کوئی بھی معذوری رکاوٹ نہیں بن سکتی ۔ایسی حالت میں ہار نہیں ماننا چاہیے ،آپ کو مسلسل محنت کرنے کو ترجیح دینے کی ضرورت ہوتی ہے ،ڈسپلن بھی ایک اہم پہلو ہوتا ہے جس کے بغیر زندگی ادھوری ہوتی ہے ۔ وہ بڑے فخریہ انداز میں کہتے ہیں کہ پاور فل مائنڈ سیٹ نے بہت مدد کی ۔کبھی ہار نہ ماننے کی عادت ہے جس کے سبب مشکل نظر آنے والی زندگی اب نارمل ہوگئی ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ نوجوانوں کے لیے یہی پیعام ہے کہ کبھی نا امید نہ ہوں ،نا امیدی کفر ہے ،جب آپ محنت کرتے ہیں،آپ میں جذبہ ہوتا ہے تو مشکل سے مشکل کام آسان ہوجاتا ہے