سارا عزیز _ قلم کی طاقت سے سامنے لا رہی ہیں دبے ہوئے حقائق

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 28-09-2026
 سارا عزیز _  قلم کی طاقت سے سامنے لا رہی ہیں دبے ہوئے حقائق
سارا عزیز _ قلم کی طاقت سے سامنے لا رہی ہیں دبے ہوئے حقائق

 



رپورٹ: شمپی چکرورتی پورکایستھ

کسی خبر کا سرخیوں میں آنے کے لیے ہمیشہ روشنی میں کھڑا ہونا ضروری نہیں ہوتا۔ کبھی کبھی اندھیرے کی طرف دیکھنے سے ہی صحافت کا حقیقی سفر شروع ہوتا ہے۔ ان لوگوں کی کہانیاں تلاش کرنا جو معاشرے کے اندھیروں میں دب کر رہ گئی ہیں، دستاویزات کی تہوں میں چھپی حقیقتوں کو سامنے لانا اور طاقتور لوگوں کو ناگوار گزرنے والے سوالات پوچھنے سے بھی پیچھے نہ ہٹنا، یہ وہ راستہ ہے جسے کولکاتا کی نوجوان صحافی سارا عزیز نے محض 23 سال کی عمر میں اپنا لیا۔

سال 2025 میں برطانیہ کے معروف دی پریس ایوارڈز میں سارا عزیز کو ’ینگ جرنلسٹ آف دی ایئر‘ (سال کی بہترین نوجوان صحافی) کے زمرے میں ’ہائیلی کمنڈڈ‘ (خصوصی ستائش) سے نوازا گیا۔ 22 مئی کو منعقد ہونے والی تقریب میں انہیں یہ اعزاز حاصل ہوا۔ اس وقت ان کی عمر محض 23 سال تھی۔ کولکاتا سے شروع ہونے والا ان کا صحافتی سفر اب بین الاقوامی ذرائع ابلاغ تک پہنچ چکا تھا۔

سارا نے صحافت کا آغاز زیادہ عرصہ پہلے نہیں کیا۔ 2023 میں کولکاتا میں گریجویشن کے دوران ہی انہوں نے فری لانس صحافی کے طور پر کام شروع کر دیا تھا۔ لوریٹو کالج میں انگریزی ادب کی تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی دلچسپی تحقیقاتی صحافت میں بڑھتی گئی۔ بعد ازاں انہوں نے کولمبیا یونیورسٹی کے گریجویٹ اسکول آف جرنلزم سے صحافت میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔

ان کے صحافتی سفر میں دی گارجین، دی ٹیلی گراف، ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ، دی کرسچین سائنس مانیٹر، وائس آف امریکہ اور دی ٹائمز جیسے عالمی شہرت یافتہ اخبارات اور میڈیا اداروں کے نام شامل ہیں۔

تاہم سارا کی شناخت کا سب سے اہم پہلو ان کے کام کا موضوع ہے۔ وہ ان کہانیوں کو سامنے لاتی ہیں جو عام طور پر خبروں کے ہجوم میں کہیں گم ہو جاتی ہیں۔ روہنگیا پناہ گزینوں کی زندگی، جیلوں میں قید خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی، انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں اور خواتین کی صحت جیسے موضوعات ان کی تحقیقاتی صحافت کا مرکز رہے ہیں۔ ان کی توجہ ہمیشہ معاشرے کے کمزور اور محروم طبقات کی زندگی اور ان کے تجربات پر رہی ہے۔

فروری 2024 میں دی گارجین میں شائع ہونے والی ان کی ایک تحقیقاتی رپورٹ میں مغربی بنگال کی جیلوں میں قید خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی کے الزامات کو اجاگر کیا گیا تھا۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ مرد اور خواتین قیدیوں کو الگ رکھنے کے انتظامات کے باوجود مختلف جیلوں میں خواتین کی حفاظت کے حوالے سے سنگین سوالات موجود ہیں۔ اس رپورٹ کے لیے سارا نے خود زمینی سطح پر معلومات جمع کی تھیں۔ ان کی کھینچی ہوئی تصاویر بھی رپورٹ میں شائع کی گئی تھیں۔

اس کے بعد روہنگیا پناہ گزینوں کے حالات پر ان کی تحقیق کو بین الاقوامی سطح پر مزید اہمیت حاصل ہوئی۔ بنگلہ دیش میں روہنگیا پناہ گزینوں کی صورت حال پر وائس آف امریکہ کے لیے رپورٹنگ کرتے ہوئے انہوں نے براہ راست پناہ گزینوں سے بات چیت کی۔ یہی کام بعد میں ان کے ایوارڈ کی بنیاد بننے والے اہم کاموں میں شامل ہوا۔

روہنگیا پناہ گزینوں کے حوالے سے ان کی صحافتی کوششیں یہیں تک محدود نہیں رہیں۔ جنوری 2025 میں دی گارجین میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں انہوں نے بنگلہ دیش اور میانمار کی سرحد پر پھنسے روہنگیا پناہ گزینوں کی صورت حال کو اجاگر کیا۔ اس رپورٹ میں زمینی حقائق، پناہ گزینوں کے بیانات اور سرکاری پالیسیوں کے اثرات کو سامنے لانے کی کوشش کی گئی تھی۔

ان کی ایک اور تحقیقاتی رپورٹ نے بھی بین الاقوامی صحافتی حلقوں کی توجہ حاصل کی۔ دی ٹیلی گراف میں شائع ہونے والی اس رپورٹ میں دہلی میں بھارتی حکام کی تحویل میں موجود ایک روہنگیا بچے کی موت کے حوالے سے سوالات اٹھائے گئے تھے۔ اس ملٹی میڈیا تحقیق میں بچے کے علاج اور حراست کے حالات کے ساتھ ساتھ بھارت میں روہنگیا پناہ گزینوں کی گرفتاری اور مبینہ بدسلوکی کے وسیع تر مسئلے کو بھی اجاگر کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔

ان ہی تحقیقاتی رپورٹوں کی بنیاد پر سارا عزیز کو 2025 کے دی پریس ایوارڈز میں ’ینگ جرنلسٹ آف دی ایئر‘ کے زمرے میں خصوصی ستائش سے نوازا گیا۔

اپنی لنکڈ اِن پوسٹ میں اس اعزاز کا ذکر کرتے ہوئے سارا نے لکھا کہ یہ اعزاز دی ٹیلی گراف اور دی گارجین میں ان کی تحقیقاتی صحافت کے اعتراف میں دیا گیا ہے۔ انہوں نے اس موقع پر اپنی والدہ، بہن، نانی، اساتذہ، ساتھیوں اور لوریٹو کالج اور کولمبیا یونیورسٹی کے اساتذہ کا شکریہ ادا کیا۔

انہوں نے خصوصی طور پر ان روہنگیا افراد کا بھی ذکر کیا جنہوں نے اپنی زندگی کے تجربات ان پر اعتماد کرتے ہوئے بیان کیے تھے۔

سارا کی اس پوسٹ کا ایک پہلو خاص طور پر قابلِ ذکر ہے۔ انہوں نے لکھا کہ صحافت کے مشکل دور میں ایک صحافی کو مزید مضبوط اور ثابت قدم ہونے کی ضرورت ہوتی ہے۔

انہیں ایوارڈ وصول کرنے کے لیے برطانیہ جانا تھا، لیکن امریکہ میں ان کے اسٹوڈنٹ ویزا سے متعلق ایک مسئلے کی وجہ سے آخری وقت میں انہیں اپنا سفر منسوخ کرنا پڑا۔ اس کے باوجود یہ ایوارڈ ان کے لیے محض ایک ٹرافی نہیں بلکہ صحافتی سفر میں ایک اہم کامیابی اور اعتراف کی علامت ہے۔

سارا کی شخصیت کا ایک اور دلچسپ پہلو بھی ہے۔ وہ صرف صحافی ہی نہیں بلکہ شاعرہ اور مصورہ بھی ہیں۔ معروف ادارے پوئٹری فاؤنڈیشن کے پروفائل میں انہیں بھارتی شاعرہ، صحافی اور مصورہ کے طور پر متعارف کرایا گیا ہے۔ ان کی شاعری بھی اس ادارے میں شائع ہو چکی ہے۔

کولکاتا کے ایک کالج میں تعلیم حاصل کرنے والی جس نوجوان لڑکی نے صحافت کی دنیا میں قدم رکھا تھا، چند ہی برسوں میں اس کی تحریریں دنیا کے معروف ترین میڈیا اداروں تک پہنچ گئیں۔ لیکن کامیابی کے باوجود ان کی صحافت کا بنیادی مقصد تبدیل نہیں ہوا۔ آج بھی وہ ایسے لوگوں کی کہانیاں تلاش کر رہی ہیں جن کی آواز اکثر طاقت کے دباؤ میں دب کر رہ جاتی ہے۔

اپنی پیشہ ورانہ شناخت کے حوالے سے سارا نے بتایا ہے کہ ان کی دلچسپی تحقیقاتی صحافت اور قومی و بین الاقوامی اہمیت کے حامل انسانی حقوق کے مسائل پر کام کرنے میں ہے۔ خواتین کی صحت، روہنگیا پناہ گزینوں کا بحران، انسانی اسمگلنگ اور قبائلی برادریوں کے مسائل جیسے موضوعات پر بھی وہ کام کر چکی ہیں۔

سارا کا یہ سفر محض کولکاتا کی ایک نوجوان صحافی کو بین الاقوامی ایوارڈ ملنے کی کہانی نہیں ہے، بلکہ یہ صحافت کی اس نئی نسل کی عکاسی بھی کرتا ہے جو ڈیجیٹل میڈیا کے استعمال کے ساتھ ساتھ زمینی سطح پر لوگوں تک پہنچنا چاہتی ہے، دستاویزات کی مدد سے حقیقت تلاش کرنا چاہتی ہے اور مشکل سوالات اٹھانے سے گریز نہیں کرتی۔

کولکاتا سے شروع ہونے والا سارا عزیز کا یہ سفر اب بہت آگے بڑھ چکا ہے۔ ان کی عمر ابھی کم ہے اور مستقبل میں انہیں طویل سفر طے کرنا ہے۔ تاہم وہ اب تک یہ ثابت کر چکی ہیں کہ صحافت کی طاقت صرف خبروں کو تیزی سے لوگوں تک پہنچانے میں نہیں بلکہ کبھی کبھی ایسی کہانیوں کو تلاش کرنے میں بھی ہوتی ہے جنہیں کوئی سننا نہیں چاہتا۔