نبیلہ خان: اسکیٹنگ رِنک سے بین الاقوامی طلائی تمغے کے خواب تک

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 01-10-2026
نبیلہ خان: اسکیٹنگ رِنک سے بین الاقوامی طلائی تمغے کے خواب تک
نبیلہ خان: اسکیٹنگ رِنک سے بین الاقوامی طلائی تمغے کے خواب تک

 



 ارسلا خان / نئی دہلی

علی گڑھ کی نبیلہ خان نے محض 14-15 برس کی عمر میں بڑے خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کی جدوجہد شروع کردی ہے۔ نبیلہ رولر اسکیٹنگ کی کھلاڑی ہیں، جن کی رفتار اور رِنک پر پھرتی ہر دیکھنے والے کو متاثر کرتی ہے۔ ’آواز دی وائس‘ سے خصوصی گفتگو میں نبیلہ نے بتایا کہ ان کا حتمی مقصد عالمی سطح پر ہندوستان کا نام روشن کرنا ہے۔ وہ جس مہارت کے ساتھ اپنے حریفوں کو پیچھے چھوڑتی ہیں، اس نے ان کے کوچ اور خاندان کو یقین دلایا ہے کہ وہ جلد ہی بین الاقوامی سطح پر ملک کے لیے اعزاز حاصل کریں گی۔

جب کسی کام کے لیے جذبہ حقیقی ہو تو آگے بڑھنے کی راہیں خود بخود کھلنے لگتی ہیں۔ یہ بات علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) میں بی ایس سی بایو کیمسٹری کی طالبہ نبیلہ خان پر پوری طرح صادق آتی ہے۔ ان کا سفر صرف پانچ برس کی عمر میں شروع ہوا، جب انہوں نے اپنے بڑے بھائی کو اسکیٹنگ کرتے دیکھا۔ آج یہی سفر انہیں رولر ڈربی میں قومی سطح تک لے آیا ہے۔

پانچ برس کی عمر میں شروع ہوا سفر

نبیلہ کے لیے اسکیٹنگ محض ایک کھیل یا مشغلہ نہیں بلکہ ان کی سب سے بڑی طاقت ہے۔ یہ کھیل انہیں زندگی میں ہر روز آگے بڑھنے کا حوصلہ دیتا ہے۔ پانچ برس کی عمر میں انہوں نے پہلی مرتبہ اسکیٹس پہنے اور اسکیٹنگ شروع کی۔ بڑے بھائی کو اسکیٹنگ کرتے دیکھ کر ان کے اندر بھی اس کھیل کو سیکھنے کا شوق پیدا ہوا۔رفتہ رفتہ اسکیٹنگ ان کا شوق بنی اور پھر جنون میں بدل گئی۔ ابتدا میں ملنے والے چھوٹے چھوٹے تمغوں اور ٹرافیوں نے ان کے اعتماد میں نمایاں اضافہ کیا۔ انہیں یقین ہونے لگا کہ وہ اس کھیل میں بہت آگے جاسکتی ہیں۔ نبیلہ کہتی ہیں کہ ان کے پورے سفر میں ان کے خاندان نے مضبوطی سے ان کا ساتھ دیا۔

معاون گھرانہ اور حوصلہ افزا والدین

نبیلہ کی والدہ طویل عرصے سے سماجی خدمت سے وابستہ ہیں۔ 2014 سے وہ ’’آشیانہ ویلفیئر سوسائٹی‘‘ نامی ایک این جی او چلا رہی ہیں۔ نبیلہ کے مطابق ان کی والدہ نے کھیلوں کے تئیں ان کے شوق کو سمجھا اور ہمیشہ ان کی حوصلہ افزائی کی۔ان کے والد کویت میں انجینئر کی حیثیت سے کام کرچکے ہیں اور اب ریٹائر ہوکر گھر پر رہتے ہیں۔ ان کے بڑے بھائی بھی ان کے لیے تحریک کا ذریعہ رہے ہیں۔ وہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے ماس کمیونیکیشن کی تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ نبیلہ ایسے ماحول میں پلی بڑھی ہیں جہاں تعلیم کے ساتھ خوابوں کی تکمیل کی بھی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔ اسی ماحول نے انہیں بے خوف ہوکر آگے بڑھنے کا اعتماد دیا۔ایک لڑکی کے لیے کھیلوں کی دنیا میں اپنی شناخت بنانا ہمیشہ آسان نہیں ہوتا۔ نبیلہ کو بھی اپنے سفر میں کئی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا۔ تاہم ان کے والدین نے کبھی ان کا ساتھ نہیں چھوڑا۔ خاندان نے ان کی کھیلوں کی صلاحیتوں پر اعتماد برقرار رکھا اور انہیں اپنی پسند کا راستہ منتخب کرنے کی آزادی دی۔

والد کی شاعری حوصلہ بڑھاتی ہے

نبیلہ اپنے والد کی جانب سے سنائے گئے ایک شعر کو اپنی سب سے بڑی تحریک کا ذریعہ سمجھتی ہیں۔ معروف شاعر احمد فراز کا یہ شعر انہیں خاص طور پر پسند ہے:

"جو میرے ضبط کا شیرازہ منتشر کردے،
میرے ستم کو بھی اب ایسا کوئی ستم گر دے۔"

یہ شعر انہیں سکھاتا ہے کہ مشکل سے مشکل حالات میں بھی خود پر قابو برقرار رکھا جائے اور اپنے کام پر توجہ مرکوز رکھی جائے۔

موہالی کیمپ نے کھیل کا سفر بدل دیا

نبیلہ کو اس وقت ایک بڑا موقع ملا جب انہوں نے موہالی میں 10 روزہ خصوصی تربیتی کیمپ میں شرکت کی۔ وہاں ان کی رفتار اور مستقل کارکردگی نے سلیکٹرز کی توجہ اپنی جانب مبذول کرلی۔اس کے بعد انہیں اترپردیش کی ٹیم میں جگہ ملی۔ نبیلہ نے نیشنل رولر ڈربی میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ اب تک وہ نیشنل رولر ڈربی میں پانچ تمغے جیت چکی ہیں، جن میں تین طلائی تمغے شامل ہیں۔راجستھان کے بیکانیر میں منعقدہ فیڈریشن کپ رولر اسکیٹنگ ڈربی چیمپئن شپ نبیلہ کے کیریئر کا سب سے یادگار مقابلہ رہا۔ اترپردیش کی ٹیم کی جانب سے کھیلتے ہوئے انہوں نے رِنک پر شاندار تال میل کا مظاہرہ کیا۔ پول مرحلے میں اترپردیش نے مضبوط تمل ناڈو کی ٹیم کو 44-11 سے شکست دی۔ اس کے بعد ٹیم کا مقابلہ فائنل میں میزبان راجستھان سے ہوا۔فائنل میں اترپردیش نے راجستھان کو 26-12 سے شکست دے کر طلائی تمغہ جیت لیا۔ نبیلہ کی رفتار، درست وقت پر فیصلہ لینے کی صلاحیت اور حکمت عملی نے اس تاریخی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا۔

ٹیم ورک اور حکمت عملی سب سے بڑی طاقت

رولر ڈربی میں صرف تیز اسکیٹنگ کافی نہیں ہوتی۔ ٹیم ورک، درست وقت کا تعین اور مؤثر حکمت عملی بھی اتنی ہی اہم ہوتی ہے۔ نبیلہ کہتی ہیں کہ میچ کے دوران وہ اپنی ساتھی کھلاڑیوں کے ساتھ بہترین تال میل برقرار رکھنے پر سب سے زیادہ توجہ دیتی ہیں۔ یہی حکمت عملی بیکانیر میں اترپردیش کی ٹیم کو طلائی تمغہ دلانے میں بھی مددگار ثابت ہوئی۔

تعلیم اور کھیل کے درمیان توازن

نبیلہ کی کہانی کا ایک قابل ذکر پہلو یہ بھی ہے کہ وہ کھیل کے ساتھ ساتھ تعلیم میں بھی اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کررہی ہیں۔ وہ اے ایم یو سے بایو کیمسٹری میں بی ایس سی کررہی ہیں۔ اسکیٹنگ کی مشق، ٹورنامنٹس اور کالج کی تعلیم کے درمیان توازن قائم کرنا آسان نہیں، لیکن نبیلہ کا ماننا ہے کہ مناسب وقت کے نظم و نسق کے ذریعے تعلیم اور کھیل دونوں کو کامیابی سے ساتھ لے کر چلا جاسکتا ہے۔یہی نہیں، نبیلہ دو مرتبہ NEET کا امتحان بھی پاس کرچکی ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کی توجہ صرف کھیلوں تک محدود نہیں بلکہ وہ اپنی تعلیم کو بھی اتنی ہی سنجیدگی سے لیتی ہیں۔ نبیلہ روزانہ اپنی فٹنس اور اسٹیمنا پر کام کرتی ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ ایک کھلاڑی کو ہر روز خود کو ثابت کرنا پڑتا ہے۔

نسلِ زیڈ کے لیے خاص پیغام

جنریشن زیڈ کا حصہ ہونے کے ناطے نبیلہ سوشل میڈیا پر بھی فعال ہیں۔ تاہم ان کے لیے سوشل میڈیا محض تفریح کا ذریعہ نہیں ہے۔ وہ اپنی نسل کے نوجوانوں کو بے خوف سمجھتی ہیں، جو اپنی الگ شناخت بنانا چاہتے ہیں۔نبیلہ کا ماننا ہے کہ نوجوانوں کو تنقید سے خوفزدہ ہونے کے بجائے اسے اپنی طاقت میں تبدیل کرنا چاہیے۔ اگر کوئی آپ کے کام پر سوال اٹھائے تو اسے دباؤ سمجھنے کے بجائے اپنی حوصلہ افزائی کا ذریعہ بنائیں۔ ساتھ ہی وہ نوجوانوں کو مشورہ دیتی ہیں کہ صرف اس لیے کوئی کام نہ کریں کہ کوئی دوسرا ان پر دباؤ ڈال رہا ہے۔

نگاہیں بین الاقوامی طلائی تمغے پر

پانچ برس کی عمر میں شروع ہونے والا نبیلہ کا سفر آج بہت سے لوگوں کے لیے مثال بن چکا ہے۔ ان کے نام کئی قومی تمغے ہیں، وہ اترپردیش کے لیے طلائی تمغہ جیت چکی ہیں اور تعلیم کے میدان میں بھی مسلسل آگے بڑھ رہی ہیں۔ لیکن ان کے خواب ابھی ختم نہیں ہوئے۔اسکیٹس پہن کر رِنک پر تیزی سے آگے بڑھنے والی یہ نوجوان کھلاڑی اب بین الاقوامی سطح پر ہندوستان کے لیے طلائی تمغہ جیتنے کی تیاری کررہی ہیں۔ خاندان کے اعتماد، والد کی رہنمائی، والدہ کی محبت اور اپنی محنت کے ساتھ نبیلہ خان پہلے ہی لاکھوں لڑکیوں کے لیے حوصلے اور عزم کی ایک مثال بن چکی ہیں۔