مستقیم نداف کی انوکھی خدمت خلق۔ کاروبار کے منافع کا 50 فیصد غریبوں کے نام

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 22-10-2026
مستقیم نداف کی انوکھی خدمت خلق۔ کاروبار کے منافع کا 50 فیصد غریبوں کے نام
مستقیم نداف کی انوکھی خدمت خلق۔ کاروبار کے منافع کا 50 فیصد غریبوں کے نام

 



بھکتی چالک

یہ واقعہ تقریباً سات آٹھ ماہ پرانا ہے۔ موسلا دھار بارش ہو رہی تھی اور ایک جھونپڑی کی چھت سے پانی کی موٹی موٹی بوندیں ٹپک رہی تھیں۔ اس جھونپڑی میں 82 سالہ وتسلا کھوت اور ان کی 110 سالہ والدہ خوف اور سردی سے کانپ رہی تھیں۔ اس تاریک رات میں قدرت کا قہر ایسا ٹوٹا کہ ان کی جھونپڑی زمین بوس ہوگئی۔ ماں بیٹی کی یہ بے بسی دیکھ کر گاؤں کے رہنے والے مستقیم فاروق نداف پوری رات بے چین رہے۔

صبح ہوتے ہی مستقیم نے اپنی محنت کی کمائی سے اور دوستوں کی مدد سے چند ہی دنوں میں دونوں بزرگ خواتین کے لیے ٹین کی مضبوط چھت والا ایک مکان تیار کروا دیا۔ انہوں نے گھر میں پنکھے اور گیس کے چولہے کا انتظام کیا اور ساتھ ہی ایک سال کا راشن بھی فراہم کیا۔ اس طرح دونوں خواتین کو دوبارہ سر چھپانے کی جگہ مل گئی۔ سانگلی کے اشٹا علاقے سے تعلق رکھنے والے مستقیم کی زندگی میں خدمت خلق کا یہ پہلا تجربہ ایک اہم موڑ ثابت ہوا۔

اپنی پہلی مدد کی یادیں تازہ کرتے ہوئے مستقیم کہتے ہیں کہ جب میں نے ان ماں بیٹی کی مدد کی تو ان کی آنکھوں سے بہنے والے آنسو اور ان کی دعائیں میرے دل کو چھو گئیں۔ بس اسی لمحے سے میری سماجی خدمت کا سفر شروع ہوگیا۔ انسان اگر نیکی کی راہ میں ایک قدم آگے بڑھاتا ہے تو راستے خود بخود کھلتے چلے جاتے ہیں۔

کاروبار کی کمائی کا 50 فیصد ضرورت مندوں کے لیے

مستقیم کا کاروبار انہیں وراثت میں ملا ہے۔ ان کے دادا نے 1972 میں بھارت گاڑی کارخانہ کے نام سے گدے بنانے کا کاروبار شروع کیا تھا جسے اب مستقیم سنبھال رہے ہیں۔ انہوں نے اپنے والد کے زمانے سے چلے آرہے روئی کے گدے بنانے کے روایتی کاروبار کو بدلتے وقت کے تقاضوں کے مطابق جدید شکل دی ہے۔ آج وہ صوفے اور خوب صورت پردوں کے ساتھ جدید طرز کے گدے بھی تیار کرتے ہیں۔لیکن ان کے کاروبار کی سب سے منفرد بات یہ ہے کہ وہ اس سے حاصل ہونے والے مجموعی منافع کا 50 فیصد ضرورت مندوں کی خدمت پر خرچ کرتے ہیں۔اس بارے میں مستقیم کہتے ہیں کہ گدے اور صوفے بنانے کا ہمارا آبائی کاروبار ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں بغیر مانگے بہت کچھ عطا کیا ہے۔ اسی لیے میں نے فیصلہ کیا کہ اپنے کاروبار سے ہونے والی روزانہ کی کمائی کا 50 فیصد حصہ سماجی خدمت کے لیے الگ رکھوں گا۔

ایک دن کی بچی کو گود لے کر باپ کا فرض نبھایا

مستقیم کی ذاتی زندگی بھی آزمائشوں سے خالی نہیں رہی۔ اہلیہ سے علیحدگی کے فیصلے کے بعد انہوں نے ہمت نہیں ہاری بلکہ اپنے دونوں بچوں کی پرورش کی پوری ذمہ داری خود سنبھال لی۔مستقیم کا پہلے سے ایک بیٹا تھا۔ اسی دوران جب ان کی بہن کے گھر مسلسل چوتھی بیٹی پیدا ہوئی تو انہوں نے ایک جذباتی اور اہم فیصلہ کیا۔ بچی کی پیدائش کے محض ایک دن بعد ہی مستقیم نے اسے گود لے لیا اور اپنی بیٹی کی طرح اس کی پرورش شروع کردی۔اس فیصلے کے بارے میں مستقیم کہتے ہیں کہ میں نے ایک لمحہ بھی سوچے بغیر بچی کو گود لے لیا اور اس کی پرورش کی ذمہ داری قبول کرلی۔ وہ صرف ایک دن کی تھی جب میرے پاس آئی تھی اور اب میں ہی اس کی پرورش کر رہا ہوں۔

سماجی ذرائع ابلاغ کو غریبوں کی مدد کا ذریعہ بنایا

آج کل نوجوان سماجی ذرائع ابلاغ پر شہرت حاصل کرنے اور زیادہ سے زیادہ لوگوں کی توجہ حاصل کرنے کے لیے مختصر ویڈیوز بناتے ہیں۔ مستقیم نے بھی اس ذریعے کو اپنایا لیکن ان کا مقصد دوسروں سے بالکل مختلف تھا۔ایک دن وہ اپنے کمسن بیٹے کے ساتھ سڑک پر جا رہے تھے کہ بیٹے نے ایک معذور شخص کو دیکھ کر اس کی مدد کرنے کی خواہش ظاہر کی۔ اس واقعے نے مستقیم کے ذہن میں ایک نیا خیال پیدا کیا۔ انہوں نے سوچا کہ اگر وہ اکیلے کسی کی مدد کرنے کے بجائے اس عمل کی ویڈیو بنا کر لوگوں تک پہنچائیں تو اس سے حاصل ہونے والی آمدنی اور لوگوں کے تعاون کے ذریعے ہزاروں غریبوں کی مدد کی جا سکتی ہے۔اپنے اس سفر کے بارے میں مستقیم کہتے ہیں کہ غریبوں کی حالت دکھانے کے لیے محض ویڈیوز بنانے کا کیا فائدہ ہے۔ میرا اصل مقصد یہ تھا کہ انہی سماجی ذرائع ابلاغ سے آمدنی حاصل کی جائے اور پھر اس رقم سے ضرورت مندوں کے چہروں پر دوبارہ مسکراہٹ لائی جائے۔اسی سوچ کے تحت انہوں نے مختصر ویڈیوز کو خدمت خلق کا ذریعہ بنایا تاکہ ان سے حاصل ہونے والی آمدنی اور عوامی تعاون کو ضرورت مند افراد کی فلاح و بہبود پر خرچ کیا جا سکے۔

ہر ماہ مقررہ تاریخ پر ضرورت مندوں کے گھروں تک راشن

مستقیم کی سماجی خدمت کسی تہوار یا خاص موقع تک محدود نہیں ہے۔ انہوں نے اپنے گاؤں اور آس پاس کے علاقوں میں بے سہارا افراد اور معذوروں کے ساتھ انتہائی غریب خاندانوں کی ایک فہرست تیار کی ہے۔ ہر ماہ ایک مقررہ تاریخ کو وہ خود ان کے گھروں تک پہنچتے ہیں اور ایک ماہ کا راشن اور گیس کا سلنڈر فراہم کرنے کے ساتھ دیگر بنیادی ضروریات بھی پوری کرتے ہیں۔کسی کو پہیوں والی کرسی کی ضرورت ہو یا کسی معذور شخص کو تین پہیوں والی سائیکل درکار ہو یا پھر کسی غریب کے مکان کی مرمت کرانی ہو۔ مستقیم ہر ممکن مدد کے لیے تیار رہتے ہیں۔ ان کی خدمت کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ وہ مدد کرتے وقت کسی کا مذہب یا ذات نہیں دیکھتے۔اپنے کام کرنے کے طریقے کی وضاحت کرتے ہوئے مستقیم کہتے ہیں کہ سب سے پہلے میں خود اس شخص کے گھر جاتا ہوں اور اس کی حالت کا جائزہ لیتا ہوں تاکہ معلوم ہو سکے کہ اسے واقعی مدد کی ضرورت ہے یا نہیں۔ اس کے بعد ہر ماہ کی ایک تاریخ مقرر کر دی جاتی ہے۔ پھر اسی تاریخ کو میں خود اس کے گھر راشن اور گیس یا دوسری ضروری اشیا پہنچاتا ہوں۔

غربت اور بیماری کا کوئی مذہب نہیں ہوتا

آج کے معاشرے میں مذہب اور ذات پات کے نام پر ہونے والی سیاست مستقیم کو بہت تکلیف پہنچاتی ہے۔ ان کے مطابق انسان جب دنیا میں پیدا ہوتا ہے تو اس کے ساتھ کسی نہ کسی مذہب کی شناخت وابستہ کر دی جاتی ہے لیکن قدرت کی نظر میں تمام انسان برابر ہیں۔انسانیت کو سب سے بڑا مذہب سمجھ کر خدمت کرنے والے مستقیم نہایت سادہ الفاظ میں کہتے ہیں کہ غربت یا بیماری کسی پر حملہ کرنے سے پہلے یہ نہیں دیکھتی کہ وہ ہندو ہے یا مسلمان۔ میں مسلمان گھرانے میں پیدا ہوا تو مسلمان بن گیا اور آپ ہندو گھرانے میں پیدا ہوئے تو ہندو بن گئے۔ لیکن سب سے بڑا مذہب انسانیت ہے۔

وہ مزید کہتے ہیں کہ اگر ہم سب اپنی گلی یا محلے کے صرف ایک غریب انسان کی ذمہ داری اٹھا لیں تو سڑکوں پر کوئی بھیک مانگتا نظر نہیں آئے گا۔مستقیم نداف نے اپنے عمل سے ثابت کیا ہے کہ دنیا بدلنے کے لیے نہ کسی بڑے بجٹ کی ضرورت ہوتی ہے اور نہ ہی کسی اونچے عہدے کی۔ معاشرے میں مثبت تبدیلی لانے کے لیے صرف نیک نیتی اور دوسروں کے دکھ درد کو محسوس کرنے والا دل چاہیے۔ان کی زندگی اس حقیقت کی روشن مثال ہے کہ خدمت خلق محض دولت خرچ کرنے کا نام نہیں بلکہ دوسروں کی تکلیف کو اپنی تکلیف سمجھنے اور ان کی زندگی بہتر بنانے کے لیے عملی قدم اٹھانے کا نام ہے۔