تائیکوانڈو کے میدان سے سماجی تبدیلی تک منتہا کا سفر

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 03-11-2026
تائیکوانڈو کے میدان سے سماجی تبدیلی تک منتہا  کا سفر
تائیکوانڈو کے میدان سے سماجی تبدیلی تک منتہا کا سفر

 



اونیکا مہیشوری : نئی دہلی 

کشمیر کی ایک عام سی لڑکی نے جب تائیکوانڈو کی تربیت شروع کی تھی تو شاید اس نے سوچا بھی نہیں تھا کہ یہی سفر آگے چل کر اسے خواتین کے حقوق، نوجوانوں کے مستقبل اور امن کی آواز بننے کی راہ دکھائے گا۔منتہابابا کی کہانی محض ایک کھلاڑی کی کامیابی کی داستان نہیں بلکہ ان سماجی رکاوٹوں سے جدوجہد کی کہانی ہے جن کا سامنا کشمیر سمیت ملک کے کئی حصوں میں لڑکیوں کو کرنا پڑتا ہے۔ایک گفتگو میں اپنی شناخت کا تعارف کراتے ہوئےمنتہانے بتایا کہ وہ کشمیر کے ایک چھوٹے سے علاقے میں پلی بڑھیں۔ بچپن میں انہیں اپنے اردگرد ہونے والے واقعات کی زیادہ سمجھ نہیں تھی۔ وہ خاندان اور معاشرے سے جو کچھ سنتی تھیں اسی کے مطابق آگے بڑھتی رہیں۔ تاہم کم عمری ہی سے ان کے دل میں اپنے معاشرے کے لیے کچھ کرنے کی خواہش موجود تھی۔

ان کا پہلا تعارف سماجی سرگرمیوں سے نہیں بلکہ کھیلوں سے ہوا۔منتہاکے مطابق وہ 5 مرتبہ قومی سطح پر گولڈ میڈل جیت چکی ہیں۔ انہوں نے تائیکوانڈو اور دیگر مارشل آرٹس کی تربیت حاصل کی۔ کھیل نے ان کی زندگی کو نئی سمت دی لیکن عمر بڑھنے کے ساتھ خاندان اور معاشرے کی جانب سے سوالات بھی بڑھنے لگے۔دسویں گیارہویں اور بارہویں جماعت کے دوران انہیں بار بار یہ سننا پڑا کہ کھیل لڑکوں کے لیے ہیں اور لڑکیوں کا ان میں کوئی مستقبل نہیں۔ انہیں پڑھائی پر توجہ دینے کا مشورہ دیا گیا جبکہ ان کی دلچسپی کھیلوں میں زیادہ تھی۔ ایک طرف وہ کھیل کے میدان میں میڈل جیت رہی تھیں تو دوسری طرف انہیں یہ سمجھانے کی کوشش کی جارہی تھی کہ کھیل کو اپنا کیریئر بنانا ان کے لیے مناسب نہیں ہے۔تاہممنتہانے ہمت نہیں ہاری۔ انہوں نے آہستہ آہستہ اپنے خاندان کو قائل کیا اور کھیل کا سفر جاری رکھا۔ اسی جدوجہد نے انہیں یہ سوچنے پر مجبور کیا کہ اگر ایک لڑکی کو کھیلوں میں آگے بڑھنے کے لیے اتنی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو کشمیر کی ان لڑکیوں کی صورت حال کیا ہوگی جنہیں مواقع اور رہنمائی دونوں آسانی سے میسر نہیں ہیں۔ یہیں سے ان کی زندگی کا ایک نیا باب شروع ہوا۔

منتحا نے اپنی اکیڈمی کے ساتھ مل کر دور دراز علاقوں کی لڑکیوں کے لیے تربیتی کیمپ منعقد کرنے شروع کیے۔ انہوں نے اپنی اکیڈمی اور کشمیر کی خواتین کے درمیان رابطے کا ذریعہ بننے کی کوشش کی۔ ان کے مطابق وہ کشمیر کے مختلف علاقوں میں 250 سے زائد لڑکیوں کو تائیکوانڈو کی تربیت دے چکی ہیں۔ان تربیتی پروگراموں کا مقصد صرف کھیلوں میں صلاحیت پیدا کرنا نہیں تھا بلکہ خود حفاظتی تربیت کو ایک ایسے وسیلے کے طور پر استعمال کرنا تھا جس سے خاندانوں کو اپنی بیٹیوں کو تربیت دینے کے لیے آمادہ کیا جاسکے۔منتہاکا ماننا ہے کہ جب بات خود دفاع کی ہو تو خاندانوں کے لیے لڑکیوں کو تربیت دلانے کا فیصلہ کرنا نسبتاً آسان ہوجاتا ہے۔ اس کے بعد ان لڑکیوں میں خود اعتمادی خود انحصاری اور اپنے فیصلے خود کرنے کی صلاحیت پیدا کرنے کی کوشش کی جاسکتی ہے۔

دور دراز علاقوں میں کام کے دوران انہوں نے کیرن اوڑی پہلگام اور کشمیر کے دیگر علاقوں کا دورہ کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ دیہی علاقوں میں تعلیم اور بیداری کی صورت حال میں تبدیلی آئی ہے لیکن سماجی سوچ بدلنے میں وقت لگتا ہے۔ کئی مرتبہ لڑکیوں کے سامنے سب سے بڑی رکاوٹ مواقع کی کمی نہیں بلکہ یہ سوال ہوتا ہے کہ لوگ کیا کہیں گے۔اسی تجربے نےمنتہاکو کھیلوں سے سماجی سرگرمیوں کی جانب راغب کیا۔ انہوں نے خواتین کے لیے ’خاتون انیشی ایٹو‘ کے نام سے ایک پہل شروع کی اور خواتین سے متعلق مسائل پر آواز اٹھانا شروع کیا۔ ان کے نزدیک سوال صرف یہ نہیں تھا کہ کوئی لڑکی کھلاڑی کیوں نہیں بن سکتی بلکہ یہ بھی تھا کہ لڑکیوں کو ان آزادیوں سے کیوں محروم رکھا جائے جو لڑکوں کو عام طور پر حاصل ہوتی ہیں۔

منتحا نے سری نگر میں کشمیر کی ایسی خواتین کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کی کوشش کی جنہوں نے اپنے اپنے شعبوں میں نمایاں کام کیا ہے۔ ان کا مقصد ایسی خواتین کو سامنے لانا تھا جو دوسری لڑکیوں کے لیے مثال بن سکیں۔ ان کا پیغام واضح تھا کہ اگر ایک خاتون مشکل حالات کے باوجود آگے بڑھ سکتی ہے تو دوسری خواتین بھی اپنے خواب پورے کرنے کی کوشش کرسکتی ہیں۔تاہممنتہاکے لیے خواتین کے مسائل صرف صنفی امتیاز تک محدود نہیں رہے۔ کشمیر کے سماجی اور سیاسی حالات نے ان کے کام کا دائرہ مزید وسیع کردیا۔ وہ دہشت گردی نوجوانوں کے مستقبل روزگار بنیادی ڈھانچے اور پالیسی سے متعلق مسائل کو بھی کشمیر کی ترقی سے جوڑ کر دیکھتی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ کشمیر میں خواتین کے مسائل کو سمجھنے کے لیے وہاں کے وسیع تر سماجی ماحول کو سمجھنا ضروری ہے۔ ان کے مطابق دہشت گردی کے اثرات صرف حفاظتی نظام تک محدود نہیں رہتے بلکہ خاندانوں بچوں اور خصوصاً خواتین کی زندگیوں کو بھی متاثر کرتے ہیں۔منتحا نے اپنے کام کو اب صرف خواتین تک محدود نہیں رکھا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ کشمیر کے مردوں اور نوجوانوں کو بھی اس تبدیلی کا حصہ بنانا ضروری ہے۔ ان کی خصوصی توجہ نوجوانوں پر ہے کیونکہ ان کے مطابق طویل عرصے تک تشدد اور انتہا پسندانہ نظریات کا اثر نئی نسل کی سوچ پر پڑ سکتا ہے۔

دہشت گردی کے خلاف ان کا موقف واضح ہے۔ انہوں نے اپنے تجربات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے ایسے لوگوں سے بھی بات کی ہے جو ماضی میں دہشت گردی یا اس سے وابستہ نیٹ ورک کا حصہ رہے تھے اور بعد میں اس راستے سے نکلنے کی کوشش کررہے تھے۔ ان کے مطابق بعض نوجوانوں کو کم عمری میں ایسے نظریات سے متاثر کیا جاتا ہے جن کے نتائج انہیں پوری زندگی بھگتنے پڑ سکتے ہیں۔انہوں نے ایک ایسے نوجوان کی مثال بھی دی جس نے بتایا کہ تشدد سے متعلق سرگرمیوں میں ملوث ہونے کی وجہ سے اسے جیل جانا پڑا اور اس کے میڈیکل داخلہ امتحان نیٹ سے وابستہ امکانات متاثر ہوئے۔منتہاکے مطابق بعد میں اس نوجوان کو سماجی اور ذاتی سطح پر بھی سنگین مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کے نزدیک ایسی کہانیاں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ نوجوانوں کو تشدد کا راستہ اختیار کرنے سے پہلے ہی صحیح رہنمائی مواقع اور امید فراہم کرنا ضروری ہے۔

منتحا کا ماننا ہے کہ کئی دہائیوں سے قائم سماجی اور ذہنی تصورات کو چند برسوں میں تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔ ان کے مطابق امن کوئی ایسی منزل نہیں جسے ایک مرتبہ حاصل کرکے چھوڑ دیا جائے بلکہ یہ مسلسل جاری رہنے والا عمل ہے۔ اس کی ابتدا انسان کے اپنے اندر سے ہوتی ہے اور پھر یہ خاندان معاشرے اور پوری برادری تک پہنچتا ہے۔وہ یہ بھی مانتی ہیں کہ کشمیر کی خواتین پہلے سے ہی مضبوط ہیں۔ ان کے مطابق ضرورت انہیں خود اعتمادی دینے کی نہیں بلکہ ان کے اندر موجود اعتماد اور صلاحیت کو آگے بڑھانے کی ہے۔ جن خواتین نے ذاتی سانحات اور مشکل حالات کے باوجود اپنے خاندانوں کو سنبھالا ہے ان میں جدوجہد کرنے کی صلاحیت پہلے سے موجود ہے۔ چھوٹی چھوٹی کوششیں اس صلاحیت کو مزید نکھارنے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہیں۔

منتحا کے سامنے چیلنج صرف روایتی سوچ تک محدود نہیں ہیں۔ وہ بتاتی ہیں کہ عوامی زندگی میں سرگرم خواتین کو کئی مرتبہ تنقید بدنامی اور ذاتی حملوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان کے مطابق جب کوئی خاتون آگے بڑھتی ہے تو اسے روکنے کے لیے اس کے کردار پر سوال اٹھائے جاسکتے ہیں اور اسے مختلف ناموں سے پکارا جاسکتا ہے۔ تاہم ان کا ماننا ہے کہ ایسے دباؤ کے سامنے ہتھیار ڈالنا کسی مسئلے کا حل نہیں ہے۔ان کے الفاظ میں اگر کوئی خاتون رک جاتی ہے تو یہ اس کے لیے ایک چیلنج بن جاتا ہے اور اگر وہ آگے بڑھتی رہتی ہے تو چیلنج ان لوگوں کے لیے ہوتا ہے جو اسے روکنا چاہتے ہیں۔سوشل میڈیا بھیمنتہاکے لیے اسی جدوجہد کا ایک اہم ذریعہ بن چکا ہے۔ وہ طویل عرصے سے کشمیر سے متعلق مختلف مسائل پر لکھتی اور بولتی رہی ہیں۔ ان کے مطابق سوشل میڈیا نے انہیں کشمیر کی ایسی کہانیاں ملک کے دیگر حصوں تک پہنچانے کا موقع دیا جنہیں اکثر وسیع عوامی بحث میں جگہ نہیں مل پاتی۔

منتحا بابا کی قیادت میں چلنے والا ’خاتون انیشی ایٹو‘ خواتین کو بااختیار بنانے ہنر مندی کو فروغ دینے اور امن کے قیام پر توجہ مرکوز کرتا ہے۔ اس پہل کے ذریعے خواتین میں خود اعتمادی پیدا کرنے عملی مہارتیں سکھانے اور انہیں اپنی برادریوں میں فعال کردار ادا کرنے کے مواقع فراہم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔اس پروگرام کے ذریعے سماجی ذمہ داری خواتین کی قیادت اور معاشرے کے مختلف طبقات کے درمیان بامعنی مکالمے کے حوالے سے بیداری پیدا کرنے کا کام بھی کیا جارہا ہے۔گزشتہ چند برسوں کے دورانمنتہابابا نے قومی سطح کے متعدد پلیٹ فارمز اور مشترکہ پروگراموں میں شرکت کی ہے۔ ان پروگراموں میں امن کی تعلیم ماہواری سے متعلق صحت کی بیداری ذہنی صحت اور منشیات کے خلاف مہم جیسے اہم سماجی موضوعات پر توجہ دی گئی۔

اس یقین کے ساتھ کہ چھوٹی آوازیں بھی بامعنی تبدیلی لاسکتی ہیںمنتہابابا سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کا فعال استعمال کرتی ہیں۔ ان کی کوشش ہے کہ مختلف برادریوں کے درمیان سچائی جواب دہی اور ہمدردی کو فروغ دیا جائے۔ان کا مشن خاص طور پر نوجوانوں اور خواتین کو امن قیادت اور مثبت سماجی تبدیلی کے لیے کردار ادا کرنے کی ترغیب دینا ہے۔منتحا کے لیے تبدیلی کسی ایک تقریر کسی ایک پروگرام یا کسی ایک مہم سے نہیں آئے گی۔ اس کے لیے مسلسل محنت درکار ہے۔ لڑکیوں کو مواقع فراہم کرنے سے لے کر نوجوانوں کو بہتر مستقبل کا راستہ دکھانے تک اور معاشرے میں قائم پرانے تصورات کو چیلنج کرنے سے لے کر تشدد کے خلاف مکالمے کو فروغ دینے تک یہ ایک طویل سفر ہے۔

کشمیر کے بارے میں ان کی سوچ میں مشکلات ضرور ہیں لیکن امید بھی اتنی ہی واضح ہے۔ وہ مانتی ہیں کہ تبدیلی کی رفتار سست ہوسکتی ہے۔ زخم بھرنے میں وقت لگ سکتا ہے اور امن کا راستہ طویل ہوسکتا ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ کوشش چھوڑ دی جائے۔یہی وجہ ہے کہمنتہاکا سفر محض ایک کھلاڑی یا سماجی کارکن کی ذاتی کہانی نہیں رہ جاتا بلکہ یہ اس نسل کی کہانی بن جاتا ہے جو اپنے ماضی کی مشکلات کو تسلیم کرتے ہوئے مستقبل کو ایک نئی سمت دینے کی کوشش کررہی ہے۔اس کوشش کے مرکز میں ایک واضح پیغام ہے کہ کشمیر کی بیٹیاں اب رکنے والی نہیں ہیں۔