ودوشی گور۔ نئی دہلی
صرف 23 سال کی عمر میں ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے والی کشمیر کی پہلی خاتون ناہیدہ منظور کا کہنا ہے کہ ہندوستان میں کوہ پیمائی میں دلچسپی رکھنے والی خواتین کی تعداد بہت کم ہے اور وہ اس صورتحال کو تبدیل کرنا چاہتی ہیں۔آواز دی وائس سے گفتگو کرتے ہوئے سری نگر کی رہنے والی ناہیدہ منظور نے کہا کہ خواتین کے لیے ایورسٹ جیسی بڑی چوٹیوں کو سر کرنا ضروری نہیں ہے۔ ان کے مطابق کوہ پیمائی کا مقصد پہاڑوں کو قریب سے محسوس کرنا اور ان کے تجربے سے گزرنا ہے۔ اس کے ذریعے انسان اپنی ذہنی اور جسمانی صلاحیتوں کو آزما سکتا ہے اور اپنی پوشیدہ صلاحیتوں کو دریافت کرسکتا ہے۔ناہیدہ نے کہا کہ مہم جوئی کا مقصد بنیادی طور پر منافع کمانا نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان کا ماننا ہے کہ ہندوستان کو مزید تربیت یافتہ کوہ پیماؤں کی ضرورت ہے جو لوگوں کو پہاڑوں کا تجربہ کرنے کی ترغیب دینے کو اپنی ذاتی ذمہ داری سمجھیں۔ وہ باقاعدگی سے مختلف تجربات رکھنے والے افراد کے گروپوں کے لیے مہمات اور طویل ٹریکنگ ٹرپس کی قیادت کرتی ہیں۔ ان کے مطابق ایسے سفر چیلنجنگ ہوسکتے ہیں کیونکہ شرکا کی رفتار برداشت اور اعتماد کی سطح میں کافی فرق ہوتا ہے۔ناہیدہ منظور پمپوری اینڈ ڈاٹرز ایڈونچر کی سربراہ ہیں۔ اس کمپنی کے ذریعے وہ ٹریکنگ مہمات اور مختلف آؤٹ ڈور سرگرمیوں کا اہتمام کرتی ہیں۔ناہیدہ کا کہنا ہے کہ ان کا اصول بہت سادہ ہے۔ کوئی بھی پیچھے نہیں چھوٹے گا۔

ٹریکنگ کی قیادت کرتے وقت وہ جان بوجھ کر گروپ کے سب سے پیچھے رہتی ہیں تاکہ سب سے سست رفتار شرکا پر بھی نظر رکھ سکیں۔ان کے لیے ان کے ساتھ سفر کرنے والے افراد کی ذمہ داری ان کی اپنی ہوتی ہے۔ ان کے نزدیک رفتار یا کسی مقام تک جلد پہنچنے کے مقابلے میں حفاظت زیادہ اہم ہے۔ناہیدہ منظور کے لیے پہاڑ محض ایسی منزلیں نہیں ہیں جنہیں فتح کیا جائے۔ ان کے نزدیک پہاڑ ایسی جگہیں ہیں جہاں انسان اپنی ہمت آزماتا ہے اور اپنی حدود کو آگے بڑھاتا ہے اور اپنی صلاحیتوں کے نئے امکانات تلاش کرتا ہے۔
سری نگر سے تعلق رکھنے والی تربیت یافتہ کوہ پیما ناہیدہ نے پہاڑوں سے بچپن کی دلچسپی کو ایڈونچر ٹریکنگ اور مزید نوجوانوں خصوصاً خواتین کو کوہ پیمائی کی طرف راغب کرنے والے پیشے میں تبدیل کردیا ہے۔ان کا اپنا سفر اس بات کی مثال ہے کہ جب تربیت خاندان کی حمایت اور عزم ایک ساتھ ہوں تو کیا کچھ ممکن ہوسکتا ہے۔بچپن میں سری نگر کے اپنے علاقے کے آس پاس ٹریکنگ کرنے سے لے کر ماؤنٹ ایورسٹ پر قدم رکھنے والی کشمیر کی پہلی خاتون بننے تک ناہیدہ نے بارہا ایسے میدانوں میں قدم رکھا ہے جہاں خواتین کی نمائندگی بہت کم رہی ہے۔

ان کا کام کشمیر میں ایڈونچر ٹورزم کو فروغ دینے تک بھی پھیل گیا ہے۔ 2024 میں انہوں نے پلوامہ کے اونتی پورہ علاقے کے برسوں گاؤں میں پیراگلائیڈنگ کا منصوبہ شروع کیا۔ اس کا مقصد مقامی لوگوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنا تھا۔حال ہی میں انہوں نے 4.745 میٹر بلند سن سیٹ پیک اور 4.300 میٹر بلند شین مین پیک کے علاوہ ماؤنٹ ہرموخ کو بھی سر کیا ہے۔ ماؤنٹ ہرموخ کشمیر کی نمایاں پہاڑی چوٹیوں میں شمار ہوتا ہے۔اکتوبر 2025 میں ناہیدہ نے ماؤنٹ ہرموخ کو سر کیا۔ کوہ پیمائی کی چوٹیوں کے رجسٹر کے مطابق انہوں نے 17 اکتوبر 2025 کو تقریباً 5.142 میٹر کی بلندی پر واقع اس چوٹی کو سر کیا تھا۔
اس کے بعد ماؤنٹ ایورسٹ کا مرحلہ آیا۔2019 میں ناہیدہ کشمیر وادی سے ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے والی پہلی خاتون بنیں۔ انہوں نے اپنی پہلی ہی ایورسٹ مہم میں شیرپا گائیڈ نیما کانچا کے ساتھ 8.848 میٹر بلند چوٹی تک رسائی حاصل کی۔یہ مہم صرف جسمانی طاقت کا امتحان نہیں تھی۔اس مہم کے لیے رقم کا انتظام کرنا بھی ایک بڑا چیلنج تھا۔

مہم پر تقریباً 30 لاکھ روپے خرچ ہونے کا اندازہ تھا۔ کافی اسپانسرشپ نہ ملنے کے بعد ناہیدہ نے آن لائن کراؤڈ فنڈنگ مہم شروع کی۔ کئی معاونین سرکاری عہدیداروں اور مختلف اداروں کی مدد سے بالآخر یہ مہم ممکن ہوسکی۔ایورسٹ پر کامیابی نے ناہیدہ کو کشمیر کی نوجوان خواتین کے لیے عزم اور حوصلے کی علامت بنا دیا۔ تاہم ناہیدہ نے چوٹی سر کرنے کو اپنے سفر کا اختتام نہیں سمجھا۔ اس کے بجائے یہ ان کے ایک بڑے مشن کا آغاز بن گیا۔اس سے قبل بھی وہ کئی اہم چوٹیوں کو سر کرچکی تھیں۔ ان میں ہماچل پردیش کی ماؤنٹ دیو ٹبہ اور جموں و کشمیر کی فرینڈشپ پیک ماؤنٹ مہادیو اور تاتاکوٹی پیک شامل ہیں۔
کوہ پیما کے طور پر ناہیدہ کا سفر اس وقت شروع ہوا جب انہوں نے پہاڑ پر چڑھنے کی باقاعدہ تربیت حاصل کرنے کے لیے اترکاشی کے نہرو انسٹی ٹیوٹ آف ماؤنٹینئرنگ میں داخلہ لیا۔ انہوں نے ایڈوانسڈ ٹریننگ مکمل کرنے کے ساتھ اسکیئنگ اور راک کلائمبنگ کے کورسز بھی کیے۔ان کی تربیت نے انہیں سکھایا کہ کوہ پیمائی صرف جسمانی طاقت کا نام نہیں ہے بلکہ یہ ذہنی برداشت اور نظم و ضبط کا بھی امتحان ہے۔

اسی طرح کشمیر کے پہاڑوں کے درمیان پلی بڑھی ناہیدہ نے چوٹیوں سے اپنی دلچسپی کو پیشے میں تبدیل کردیا۔ایک سابقہ انٹرویو میں ناہیدہ نے بتایا تھا کہ تربیت کے دوران وہ جان بوجھ کر زیادہ وزن اٹھاتی تھیں تاکہ اپنی برداشت میں اضافہ کرسکیں۔ اس سخت تیاری نے بالآخر انہیں خطے اور اس سے باہر کے کچھ انتہائی مشکل پہاڑوں کا سامنا کرنے کے قابل بنایا۔پہاڑوں کے ساتھ ناہیدہ کا تعلق بہت کم عمری میں قائم ہوگیا تھا۔ انہوں نے تقریباً 10 سال کی عمر میں ٹریکنگ شروع کی اور اپنے گھر کے آس پاس موجود پہاڑی علاقوں کی سیر کیا کرتی تھیں۔اسکول کے زمانے میں وہ ہمہ جہت صلاحیتوں کی حامل طالبہ تھیں اور انہوں نے بیڈمنٹن والی بال اور ٹیبل ٹینس سمیت کئی کھیلوں میں حصہ لیا۔ انہیں قومی سطح کی ٹیبل ٹینس چیمپئن شپ کے لیے بھی منتخب کیا گیا تھا لیکن وہ اس میں شرکت نہیں کرسکیں۔بالآخر کوہ پیمائی نے ان کی توجہ مکمل طور پر اپنی جانب مبذول کرلی۔
تین بہنوں میں دوسرے نمبر پر ناہیدہ سری نگر کے مضافات میں واقع زیوان میں پلی بڑھی ہیں۔ ان کا یہ یقین کہ ’’ایسا کچھ نہیں جو ایک لڑکی نہیں کرسکتی‘‘ ایسے خاندان کی وجہ سے مزید مضبوط ہوا جس نے تینوں بہنوں کو کھیلوں میں حصہ لینے اور اپنے خواب پورے کرنے کی ترغیب دی۔ان کے والد منظور احمد پمپوری نے ان کی کھیلوں سے متعلق دلچسپیوں کی حمایت میں اہم کردار ادا کیا۔ ناہیدہ نے کئی مواقع پر اپنے والدین کو اس بات کا کریڈٹ دیا ہے کہ انہوں نے انہیں روایتی راستوں سے ہٹ کر اپنے خوابوں کا تعاقب کرنے کی آزادی دی۔