حمزہ شیخ: ڈوڈہ کا ’ریسکیو مین‘، جس نے زندگی بچانے اور لاپتہ افراد کو تلاش کرنے کو مشن بنا لیا

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 30-09-2026
حمزہ شیخ: ڈوڈہ کا ’ریسکیو مین‘، جس نے زندگی بچانے اور لاپتہ افراد کو تلاش کرنے کو مشن بنا لیا
حمزہ شیخ: ڈوڈہ کا ’ریسکیو مین‘، جس نے زندگی بچانے اور لاپتہ افراد کو تلاش کرنے کو مشن بنا لیا

 



اونیکا مہیشوری / نئی دہلی

جموں و کشمیر کے ڈوڈہ کے رہنے والے حمزہ شیخ ان لوگوں میں شامل ہیں جنہوں نے دوسروں کی جان بچانے اور لاپتہ افراد کی لاشیں تلاش کرنے کو اپنی زندگی کا مشن بنا لیا ہے۔ تقریباً 28-29 سالہ حمزہ گزشتہ کئی برسوں سے چناب اور جموں و کشمیر کے دیگر دریاؤں میں ریسکیو آپریشنز کا حصہ رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں جموں و کشمیر کا ’’ریسکیو مین‘‘ کہا جاتا ہے۔حمزہ کو دوسروں سے ممتاز کرنے والی بات یہ ہے کہ وہ انتہائی مشکل حالات میں بھی دریاؤں میں اترنے سے گریز نہیں کرتے۔ پانی اکثر برف کی طرح سرد ہوتا ہے، بہاؤ تیز ہوتا ہے اور گہرائی بھی خاصی زیادہ ہوسکتی ہے۔ اس کے باوجود جیسے ہی کسی حادثے کی خبر ملتی ہے، حمزہ جائے وقوعہ تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔

چناب میں حادثات اور غریب خاندانوں کی مشکلات

جموں و کشمیر کے پہاڑی علاقوں سے گزرنے والے دریا دیکھنے میں خوبصورت لگتے ہیں، لیکن یہ انتہائی خطرناک بھی ہوسکتے ہیں۔ چناب اور وادی کے دیگر دریاؤں میں پانی کی سطح اچانک بڑھ جانا اکثر جان لیوا ثابت ہوا ہے۔ جب کوئی شخص دریا کے تیز بہاؤ میں بہہ جاتا ہے تو سب سے بڑا چیلنج اسے تلاش کرنا ہوتا ہے۔حمزہ کے مطابق دور دراز علاقوں میں گہرے پانی میں تلاش کرنے کی صلاحیت رکھنے والے ماہر غوطہ خور آسانی سے دستیاب نہیں ہوتے۔ ایسے حالات میں حادثے کے بعد دوسرے علاقوں یا ریاستوں سے نجی غوطہ خوروں کو بلانا پڑتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ نجی غوطہ خور ایک آپریشن کے لیے تقریباً 2 سے 2.5 لاکھ روپے تک وصول کرسکتے ہیں۔

مالدار خاندان شاید اتنی رقم کا انتظام کرلیں، لیکن غریب خاندانوں کے لیے اتنی بڑی رقم جمع کرنا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔ نتیجتاً کئی خاندان اپنے لاپتہ عزیز کی تلاش کی امید میں طویل عرصے تک دریا کے کنارے انتظار کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔حمزہ نے اس درد کو بہت قریب سے دیکھا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ انہوں نے ریسکیو کے کام کو کبھی روزگار یا آمدنی کا ذریعہ نہیں بنایا۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ ضرورت مند خاندانوں کو یہ خدمت مفت فراہم کرنا چاہتے ہیں۔

بچپن کا ایک سانحہ جس نے زندگی بدل دی

حمزہ کا دریا سے تعلق بچپن ہی سے رہا ہے۔ ان کا گھر ایک دریا کے قریب تھا اور بہتے ہوئے پانی کی آواز ان کی روزمرہ زندگی کا حصہ تھی۔ لیکن جب وہ تقریباً 10 برس کے تھے تو دریا نے ان کے خاندان کو ایسا صدمہ دیا جسے وہ آج تک نہیں بھول سکے۔

ان کے ایک کزن چناب کے تیز بہاؤ میں بہہ گئے۔ خاندان نے انہیں تلاش کرنے کی بھرپور کوشش کی۔ حمزہ کے مطابق ان کا خاندان تقریباً دو سے تین برس تک چناب کے کناروں پر انہیں تلاش کرتا رہا، لیکن ان کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔حمزہ نے ایک بچے کو کھونے اور پھر اس کی لاش تک نہ مل پانے کا درد دیکھا۔ بعد میں یہی تجربہ ان کی زندگی کے مشن کی سب سے بڑی وجوہات میں سے ایک بن گیا۔ جب بھی کوئی شخص دریا میں بہہ جاتا، حمزہ کو اپنا بچپن کا صدمہ یاد آجاتا۔

حمزہ کی خاندانی زندگی بھی دریا سے گہری وابستگی رکھتی تھی۔ کم عمری ہی سے وہ دریا سے ریت نکالنے جیسے جسمانی محنت والے کام کرتے تھے۔ مسلسل پانی میں اترنے اور بھاری ریت اٹھانے سے رفتہ رفتہ ان کی تیراکی اور سانس روکنے کی صلاحیت مضبوط ہوتی گئی۔

صرف 11 برس کی عمر میں انہوں نے دریا میں ایک نامعلوم شخص کی لاش دیکھی۔ اس واقعے نے ان کے ذہن پر گہرا اثر ڈالا۔ حمزہ نے سوچا کہ مرنے والا بھی کسی کا بیٹا، کسی کا بھائی یا کسی کا عزیز ہوگا۔ اگر اس کی لاش خاندان تک پہنچ جائے تو کم از کم اہل خانہ کو آخری رسومات ادا کرنے کا موقع تو مل سکتا ہے۔انہوں نے پانی سے لاش نکالی۔ یہی واقعہ ان کے ریسکیو سفر کا آغاز بن گیا۔ اس کے بعد علاقے میں جب بھی دریا میں کوئی حادثہ پیش آتا، حمزہ جائے وقوعہ تک پہنچنے کی کوشش کرتے۔

50 فٹ کی گہرائی تک بغیر آکسیجن سلنڈر کے غوطہ

حمزہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے جدید اسکوبا آلات یا آکسیجن سلنڈر کے بغیر گہرے پانی میں غوطہ لگانے کی تربیت خود حاصل کی ہے۔ وہ تقریباً 50 فٹ کی گہرائی تک فری ڈائیونگ کرچکے ہیں۔

کچھ ریسکیو آپریشنز میں انہیں کئی دن تک مسلسل تلاش کرنا پڑا۔ بعض معاملات میں وہ13 دن تک ایک ہی آپریشن میں مصروف رہے۔ان کے مطابق وہ گزشتہ تقریباً 15 سے 16 برس سے ڈوڈہ اور وادیٔ چناب میں اس طرح کی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ایک طویل عرصے تک ان کا کام مقامی علاقے تک محدود رہا اور بہت کم لوگ ان کے بارے میں جانتے تھے۔

کشمیر پہنچنے کے بعد نئی شناخت

تقریباً آٹھ ماہ قبل حمزہ چناب ویلی سے وادیٔ کشمیر پہنچے۔ اس وقت وادی کے دریاؤں میں پانی کی سطح بلند تھی اور کئی مقامات سے حادثات کی اطلاعات سامنے آرہی تھیں۔حمزہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے کسی باقاعدہ امدادی کال کا انتظار نہیں کیا۔ جہاں انہیں محسوس ہوا کہ ان کی مدد کی ضرورت ہے، وہ پانی میں اتر گئے۔جب کشمیر کے لوگوں نے انہیں تیز بہتے اور برف جیسے ٹھنڈے پانی میں ریسکیو کرتے دیکھا تو ان کے کام کو وسیع پیمانے پر پہچان ملی۔ انہیں ’’ریسکیو مین‘‘ کے نام سے جانا جانے لگا۔ حمزہ کہتے ہیں کہ وہ اپنے علاقے میں برسوں سے یہ کام کررہے تھے، لیکن کشمیر آنے کے بعد لوگوں سے ملنے والی پذیرائی نے انہیں نئی توانائی دی۔

ریسکیو کے لیے ایک روپیہ بھی وصول نہیں کرتے

حمزہ کی کہانی کا ایک اہم پہلو ریسکیو آپریشنز کے لیے معاوضہ نہ لینا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے کبھی پیسوں کے لیے ریسکیو آپریشن نہیں کیا۔ ان کے مطابق جب کسی خاندان کا فرد ڈوب جاتا ہے تو نجی غوطہ خوروں کی فیس غریب خاندانوں پر بڑا مالی بوجھ بن سکتی ہے۔ان تجربات کی وجہ سے انہوں نے فیصلہ کیا کہ ضرورت مند خاندان بغیر کسی معاوضے کے انہیں مدد کے لیے بلا سکیں۔ وہ اس کام کو نہ ملازمت سمجھتے ہیں اور نہ کاروبار۔ ان کے لیے یہ ایک جذباتی اور انسانی ذمہ داری ہے۔حمزہ کہتے ہیں کہ جب تک ان کے جسم میں طاقت ہے، وہ لوگوں کو تلاش کرنے اور بچانے کے لیے دریاؤں میں اترتے رہیں گے۔ ان کے لیے ریسکیو آپریشن صرف کسی شخص کو پانی سے باہر نکالنے کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک پورے خاندان کی امید سے جڑا ہوا عمل ہے۔

موت کا خوف اور مذہبی عقیدہ

تیز اور بے قابو دریا میں اترنا فطری طور پر خطرناک ہے۔ جب حمزہ سے موت کے خوف کے بارے میں پوچھا جاتا ہے تو وہ اپنے مذہبی عقیدے کا حوالہ دیتے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ ان کا یقین ہے کہ اگر کوئی شخص انسانیت کی خدمت کرتے ہوئے جان دیتا ہے تو وہ اپنے اعمال اور نیت کے ساتھ اللہ کے سامنے پیش ہوگا۔ حمزہ کے مطابق وہ ریسکیو آپریشن نہ مالی فائدے کے لیے کرتے ہیں اور نہ شہرت کے لیے۔ ان کے لیے نیت سب سے اہم ہے۔ یہی یقین انہیں خطرناک پانی میں اترنے کا حوصلہ دیتا ہے۔

ماں کا خوف فخر میں بدل گیا

ابتدا میں حمزہ کی والدہ بھی ان کے کام سے خوفزدہ رہتی تھیں۔ ایک ماں کے لیے اپنے بیٹے کو تیز بہتے دریا میں اترتے دیکھنا آسان نہیں ہوتا۔ لیکن وقت کے ساتھ ان کا نقطۂ نظر بدلتا گیا۔کشمیر میں حمزہ کے ریسکیو آپریشنز کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر سامنے آئیں۔ ان کی والدہ نے دیکھا کہ لوگوں کی جانب سے حمزہ کو کس طرح حمایت اور احترام مل رہا ہے۔ آہستہ آہستہ ان کا خوف فخر میں بدل گیا۔حمزہ کے مطابق ان کی والدہ اب سمجھتی ہیں کہ کشمیر میں انہیں اپنے ہی لوگوں کے درمیان خاندان جیسا تعلق اور اپنائیت ملی ہے۔

لاش ملنے سے خاندان کو انتظار کا اختتام ملتا ہے

ریسکیو آپریشن ہمیشہ کسی زندگی کو بچانے پر ختم نہیں ہوتا۔ بعض اوقات غوطہ خوروں کو کسی شخص کی لاش تلاش کرنا پڑتی ہے۔ ایسے حالات میں کامیابی کا مطلب کسی زندگی کو واپس لانا نہیں بلکہ خاندان کو اپنے عزیز کی آخری جھلک دیکھنے اور اس کی آخری رسومات ادا کرنے کا موقع فراہم کرنا ہوتا ہے۔حمزہ کہتے ہیں کہ وہ کسی مرنے والے کو دوبارہ زندگی نہیں دے سکتے، لیکن لاش تلاش کرنے سے خاندان کا طویل انتظار ختم ہوسکتا ہے۔ اہل خانہ اپنے مذہب اور روایات کے مطابق آخری رسومات ادا کرسکتے ہیں۔ ان کے نزدیک یہ ریسکیو کام کا ایک اہم انسانی پہلو ہے۔

کشمیر کے نوجوانوں سے متاثر

حمزہ کشمیر کے نوجوانوں کے جذبۂ خدمت کی بھی تعریف کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جیسے ہی کسی حادثے کی خبر ملتی ہے، مقامی لوگ اکثر مدد کے لیے فوراً پہنچ جاتے ہیں۔ بعض نوجوان تیرنا بھی نہیں جانتے، لیکن جذبات اور مدد کرنے کی خواہش کے تحت دریا تک پہنچ جاتے ہیں۔تاہم ایسے حالات میں بغیر تربیت کے پانی میں اترنا خود جان لیوا ہوسکتا ہے۔ اپنے تجربے کی بنیاد پر حمزہ کا ماننا ہے کہ مدد کرنے کی خواہش اہم ہے، لیکن ریسکیو آپریشن کے لیے مناسب تربیت اور آلات بھی اتنے ہی ضروری ہیں۔وہ کشمیر کے لوگوں کی جانب سے ملنے والے اعتماد کو ایک ذمہ داری سمجھتے ہیں۔

ایس ڈی آر ایف میں موقع اور جدید آلات کے خواہاں

حمزہ کی خدمات کے پیش نظر سوشل میڈیا پر کچھ لوگ جموں و کشمیر انتظامیہ سے مطالبہ کررہے ہیں کہ انہیں اسٹیٹ ڈیزاسٹر ریسپانس فورس (SDRF) کے ساتھ کام کرنے کا موقع دیا جائے اور جدید غوطہ خوری کے آلات فراہم کیے جائیں۔

حمزہ کا کہنا ہے کہ اب تک انہیں انتظامیہ کی جانب سے کوئی نمایاں مدد یا باقاعدہ اعزاز نہیں ملا۔ ان کا خیال ہے کہ اگر انہیں سرکاری نظام کے تحت کام کرنے کا موقع ملتا ہے تو بہتر آلات، واضح طریقۂ کار اور منظم نظام کے ذریعے ریسکیو آپریشن زیادہ محفوظ اور مؤثر انداز میں انجام دیے جاسکتے ہیں۔تاہم وہ واضح کرتے ہیں کہ سرکاری ملازمت ان کے مشن کو جاری رکھنے کی شرط نہیں ہے۔ ملازمت سے انہیں بہتر آلات، منظم نظام، تربیت اور مضبوط پروٹوکول دستیاب ہوسکتے ہیں، لیکن اگر انہیں سرکاری عہدہ نہ بھی ملا تو وہ اپنا کام نہیں روکیں گے۔

سفر ابھی جاری ہے

حمزہ شیخ کی کہانی کسی ایک ریسکیو آپریشن کی داستان نہیں ہے۔ یہ ایک ایسے طویل سفر کی کہانی ہے جو بچپن کے ایک خاندانی سانحے سے شروع ہوا اور اب انسانیت کی خدمت کے مشن میں تبدیل ہوچکا ہے۔

گفتگو ختم ہونے کے بعد بھی حمزہ کے پاس رکنے کا وقت نہیں تھا۔ وہ ایک اور ریسکیو آپریشن کے لیے روانہ ہونے کی تیاری کررہے تھے۔ کچھ لوگ دریا کے قریب ان کا انتظار کررہے تھے۔ ڈوڈہ کا یہ نوجوان اپنے تجربے، تیراکی کی مہارت اور خطرہ مول لینے کی آمادگی کو ان خاندانوں تک پہنچنے کے لیے استعمال کرتا ہے، جن کے لیے کسی عزیز کو تلاش کرنا زندگی کا سب سے بڑا سوال بن جاتا ہے۔

کوئی نہیں جانتا کہ چناب کا پانی کب پرسکون ہوگا اور نہ ہی یہ پیش گوئی کی جاسکتی ہے کہ دریا کب اچانک بپھر جائے گا۔ لیکن حمزہ شیخ نے اپنا فیصلہ کرلیا ہے۔ جب بھی کسی کا عزیز پانی میں لاپتہ ہوگا، وہ اپنی استطاعت کے مطابق اسے تلاش کرنے کے لیے دریا میں اترنے کی کوشش کریں گے۔ان کے لیے یہ کام آمدنی کا ذریعہ نہیں، بلکہ اس درد کا جواب ہے جس کا سامنا انہوں نے خود بچپن میں کیا تھا۔