فن محض رنگوں اور کینوس کے امتزاج کا نام نہیں ہے۔ یہ ایک ایسا ذریعہ ہے جس کے ذریعے انسان اپنے جذبات کا اظہار کرتا ہے۔ اپنے تجربات دوسروں تک پہنچاتا ہے اور ایسے سوالات اٹھاتا ہے جنہیں الفاظ میں بیان کرنا ہمیشہ آسان نہیں ہوتا۔ کچھ لوگوں کے لیے فن محض ایک مشغلہ ہے تو کچھ کے لیے روزگار کا ذریعہ اور سماج سے جڑنے کا وسیلہ۔ لیکن غزالہ پروین کے لیے فن ان تمام چیزوں سے کہیں بڑھ کر ہے۔غزالہ پروین ایک مصورہ ہیں۔ وہ پرفارمنس آرٹسٹ ہونے کے ساتھ ساتھ آرٹ کی تدریس بھی کرتی ہیں۔ وہ اپنی تخلیقی صلاحیتوں کے ذریعے نہ صرف اپنے خیالات کا اظہار کرتی ہیں بلکہ نئی نسل کو بھی فن اور تخلیقی اظہار کی اہمیت سمجھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔
ان کا سفر اتر پردیش کے ایک گاؤں کے سرکاری اسکول سے شروع ہوا اور بالآخر جامعہ ملیہ اسلامیہ تک پہنچا۔ یہاں انہوں نے گریجویشن اور پوسٹ گریجویشن دونوں میں گولڈ میڈل حاصل کیے۔ وہ جاپان اور جنوبی کوریا میں ہونے والی آرٹ نمائشوں میں بھی شرکت کر چکی ہیں۔آج وہ اپنے فن کے ذریعے اس سوچ کو چیلنج کر رہی ہیں کہ نوجوانوں کے کیریئر کا فیصلہ ان کی ذاتی دلچسپی اور صلاحیت کے بجائے سماجی توقعات کے مطابق ہونا چاہیے۔

اپنے مرحوم استاد کو یاد کرتے ہوئے غزالہ بتاتی ہیں کہ انہوں نے سب سے پہلے ان کی فنکارانہ صلاحیتوں کو پہچانا اور انہیں سنجیدگی سے آگے بڑھنے کی ترغیب دی۔ وہ نہ صرف ان کی حوصلہ افزائی کرتے تھے بلکہ انہیں یہ سوچنے پر بھی آمادہ کرتے تھے کہ جب زیادہ تر نوجوان روایتی پیشوں کو ترجیح دیتے ہیں تو انہیں آرٹ کے شعبے میں اپنا مستقبل کیوں بنانا چاہیے۔غزالہ پڑھائی میں بھی اچھی تھیں اور خاص طور پر سائنس کے مضامین میں ان کی دلچسپی تھی۔ ان کے خاندان کی خواہش تھی کہ وہ ڈاکٹر بنیں کیونکہ ڈاکٹر کے پیشے کو ایک محفوظ اور باوقار مستقبل کی ضمانت سمجھا جاتا ہے۔ اس کے مقابلے میں آرٹ کو بطور پیشہ اختیار کرنے کا فیصلہ خاندان اور رشتہ داروں کے درمیان کئی سوالات پیدا کرتا تھا۔
والد کے انتقال کے بعد خاندان کے سامنے ان کی اعلیٰ تعلیم اور دہلی منتقل ہونے کے حوالے سے عملی مشکلات بھی تھیں۔ ایک گاؤں سے نکل کر دوسرے شہر میں تعلیم حاصل کرنا۔ اکیلے سفر کرنا اور اپنے مستقبل کی ذمہ داری خود اٹھانا آسان فیصلہ نہیں تھا۔جب انہیں جامعہ ملیہ اسلامیہ میں داخلہ ملا تو ان کے بھائی نے خاندان کو انہیں ایک موقع دینے کے لیے راضی کیا۔ بالآخر گھر والے مان گئے اور اس طرح غزالہ نے اپنے خواب کی جانب پہلا بڑا قدم اٹھایا۔غزالہ کے لیے کالج میں داخلہ محض ڈگری حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں تھا بلکہ یہ ان کی خودمختاری کے سفر کا آغاز بھی تھا۔بارہویں جماعت تک انہوں نے اپنے گاؤں کے سرکاری اسکول میں تعلیم حاصل کی تھی۔ دہلی کی ایک یونیورسٹی کا تعلیمی اور سماجی ماحول ان کے لیے بالکل نیا تھا۔ گاؤں سے ایک بڑے شہر میں منتقل ہونے کے بعد انہیں کئی نئے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا۔ اجنبی لوگوں کے درمیان اپنی جگہ بنانا۔ ایک نئے تعلیمی ماحول سے ہم آہنگ ہونا اور خود پر اعتماد پیدا کرنا ان کے لیے آسان نہیں تھا۔
وہ بتاتی ہیں کہ اس فرق کو ختم کرنے میں انہیں کئی سال لگے۔ گریجویشن مکمل ہونے تک وہ آہستہ آہستہ نئے ماحول سے مانوس ہو چکی تھیں۔ ان میں اپنے ہم جماعتوں سے بات چیت کرنے اور ان کے ساتھ تعلیمی سرگرمیوں میں حصہ لینے کا اعتماد بھی پیدا ہو گیا تھا۔جامعہ کے ہاسٹل میں قیام نے بھی ان کی شخصیت کو خودمختار بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ گھر سے دور رہنا۔ اپنے فیصلے خود کرنا اور روزمرہ کے معمولات کو سنبھالنا ان کی شخصیت کی تعمیر کا اہم حصہ بن گیا۔انہوں نے 2013 میں گریجویشن کے دوران گولڈ میڈل حاصل کیا اور 2015 میں پوسٹ گریجویشن میں بھی گولڈ میڈل اپنے نام کیا۔ یہ کامیابیاں محض تعلیمی اعزاز نہیں تھیں بلکہ ان لوگوں کے لیے ایک جواب بھی تھیں جو یہ سوال اٹھاتے تھے کہ کیا آرٹ میں بھی محفوظ مستقبل بنایا جا سکتا ہے۔
غزالہ اپنی کامیابی کا سہرا اپنے خاندان کو دیتی ہیں۔ ان کے والد ان کی بنائی ہوئی تصویروں کو بہت احتیاط سے محفوظ رکھتے تھے۔ وہ ان کی ڈرائنگ کی فائل اپنے تکیے کے پاس رکھتے اور دوستوں و مہمانوں کو فخر سے دکھاتے ہوئے کہتے تھے کہ یہ تصویریں ان کی بیٹی نے بنائی ہیں۔انہیں چوتھی یا پانچویں جماعت کا ایک واقعہ بھی یاد ہے۔ ایک مرتبہ ان کے والد نے انہیں ایک کتاب میں دیکھی ہوئی بس کی تصویر بنانے کے لیے کہا۔ انہوں نے اپنے بھائی کو بھی وہی تصویر بنانے کا چیلنج دیا۔ یہ ایک دوستانہ مقابلہ تھا۔ غزالہ نے بہت جلد اپنی تصویر مکمل کر لی جبکہ ان کے بھائی کو اسے بنانے میں کافی وقت لگا۔ان کی والدہ کا کردار بھی اتنا ہی اہم تھا۔ اگرچہ انہوں نے باقاعدہ تعلیم حاصل نہیں کی تھی لیکن وہ تعلیم کی اہمیت کو خوب سمجھتی تھیں۔ جب بھی غزالہ رات گئے تک پڑھائی کرتی تھیں تو ان کی والدہ ان کے پاس بیٹھ کر انہیں آگے بڑھنے کی ترغیب دیتی تھیں۔ امتحانات کے دنوں میں وہ اپنی بیٹی کے ساتھ جاگتی رہتی تھیں۔
غزالہ 12 بہن بھائیوں کے بڑے خاندان میں چھوٹی بیٹیوں میں سے ایک ہیں۔ اس خاندان میں 10 بہنیں اور 2 بھائی ہیں۔ ایسے بڑے گھرانے میں پرورش پاتے ہوئے انہوں نے رفتہ رفتہ اپنی انفرادی دلچسپیوں کے لیے جگہ بنائی۔ بچپن میں ان کی بنائی ہوئی تصویروں کو پسند تو کیا جاتا تھا لیکن آرٹ کو پیشہ بنانے کا فیصلہ آسان نہیں تھا۔انہیں اپنے رشتہ داروں اور جاننے والوں کو سمجھانا پڑا کہ پینٹنگ محض وقت گزاری کا ذریعہ نہیں بلکہ اس میں ایک بامعنی اور باعزت کیریئر بنانے کے مواقع بھی موجود ہیں۔ ان کی تعلیمی کامیابیوں اور بین الاقوامی سطح پر ملنے والے مواقع نے رفتہ رفتہ لوگوں کی سوچ بدلنے میں مدد کی۔
پرفارمنس آرٹ سے نئی شناخت
غزالہ کے فنکارانہ سفر میں ایک اہم موڑ اس وقت آیا جب ان کا تعارف پرفارمنس آرٹ سے ہوا۔یہ ان کے لیے بالکل نئی صنف تھی۔ 2014 میں جب وہ جامعہ ملیہ اسلامیہ میں پوسٹ گریجویشن کر رہی تھیں تو جاپان سے ایک فنکار جامعہ آئے۔ غزالہ انہیں اپنا استاد اور رہنما مانتی ہیں۔ انہی کے ذریعے انہیں پرفارمنس آرٹ کو سمجھنے اور اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو ایک نئی شکل میں پیش کرنے کا موقع ملا۔ابتدا میں وہ اس فن کے بارے میں بہت کم جانتی تھیں۔ وہ دلچسپی کے ساتھ اس فنکار کو کام کرتے ہوئے دیکھتی تھیں لیکن اس بات سے گھبراتی بھی تھیں کہ کہیں انہیں بھی سامعین کے سامنے پرفارم کرنے کے لیے نہ کہہ دیا جائے۔ اس وقت ان میں مائیک پر بولنے کا اعتماد بھی نہیں تھا۔ایک دن ان کے استاد نے طلبہ کو 2 منٹ کے لیے اپنا فن پیش کرنے کا موقع دیا۔ غزالہ کی ایک دوست نے ان کا نام بھی پیش کر دیا۔ جب ان کی باری آئی تو وہ سمجھ نہیں پا رہی تھیں کہ کیا کریں۔ اساتذہ۔ ناظرین اور کیمرے سب ان کی طرف دیکھ رہے تھے۔انہوں نے ایک سوٹ پہن رکھا تھا اور ان کے پاس دوپٹہ بھی تھا۔ اچانک انہوں نے اپنا دوپٹہ ہوا میں اچھال دیا اور اس کے زمین پر گرنے سے پہلے خود فرش پر لیٹ گئیں۔ دوپٹہ نیچے آیا تو اس نے ان کے پورے جسم کو ڈھانپ لیا۔

یہ چند لمحوں کی پیشکش ان کا پہلا پرفارمنس آرٹ بن گئی۔
اگرچہ یہ مظاہرہ بہت مختصر تھا لیکن اس نے ان کے لیے فن کے اظہار کی ایک نئی دنیا کا دروازہ کھول دیا۔ جاپانی فنکار کو ان کی یہ پرفارمنس پسند آئی۔ انہوں نے اس کی ویڈیو بنائی اور جاپان لے گئے جہاں اسے دکھایا گیا۔ جب وہ دوبارہ جامعہ آئے تو جاپان کے کچھ فنکاروں نے اس نوجوان لڑکی کے بارے میں پوچھا جس نے دوپٹے کے ساتھ یہ پرفارمنس پیش کی تھی۔غزالہ کے لیے یہ ردعمل حیران کن تھا۔ ایک ایسا تجربہ جسے انہوں نے بغیر کسی خاص منصوبہ بندی یا تیاری کے پیش کیا تھا غیر متوقع طور پر ان کے لیے نئی پہچان اور مواقع کا ذریعہ بن گیا۔وہ بتاتی ہیں کہ پینٹنگ اور پرفارمنس آرٹ بنیادی طور پر دو مختلف اصناف ہیں۔ پینٹنگ میں فنکار رنگوں۔ لکیروں اور شکلوں کے ذریعے اپنے خیالات اور جذبات کو کینوس پر پیش کرتا ہے۔ جبکہ پرفارمنس آرٹ میں فنکار کا اپنا جسم اظہار کا ذریعہ بن جاتا ہے۔اس میں فنکار اپنے جسم۔ مختلف اشیا۔ حرکات اور کسی خاص صورت حال کے ذریعے ایک خیال یا پیغام پیش کرتا ہے۔ روایتی تھیٹر کے برعکس پرفارمنس آرٹ کے لیے ضروری نہیں کہ مکالمے یا پہلے سے لکھی ہوئی کہانی موجود ہو۔ بعض اوقات فنکار کا جسم۔ اس کی حرکات اور اردگرد موجود اشیا مل کر ایک معنی پیدا کرتی ہیں۔غزالہ کے مطابق پرفارمنس آرٹ کو محض تھیٹر سمجھنا درست نہیں۔ اس میں کسی خیال یا جذبے کو ایک بصری اور جسمانی تجربے میں تبدیل کیا جاتا ہے جسے ناظرین اپنی سوچ اور سمجھ کے مطابق محسوس کرتے ہیں۔ان کے نزدیک یہ فن خاص اہمیت رکھتا ہے کیونکہ اس کے ذریعے وہ ان سماجی مسائل پر سوال اٹھا سکتی ہیں جو ان کے ذہن میں جگہ رکھتے ہیں۔ ان کی پرفارمنس میں جسم محض اظہار کا ذریعہ نہیں بلکہ خیالات اور سوالات کو سامنے لانے کا ایک طاقتور وسیلہ ہوتا ہے۔
گاؤں سے جاپان اور جنوبی کوریا تک کا سفر
جامعہ میں تعلیم کے دوران غزالہ کو بین الاقوامی سطح پر اپنے فن کو پیش کرنے کے مواقع ملے۔ ان کے اساتذہ نے ان کی صلاحیتوں کو پہچانا اور انہیں نئے پلیٹ فارم تلاش کرنے کی ترغیب دی۔ اسی سلسلے میں انہیں جاپان اور بعد میں جنوبی کوریا جانے کا موقع ملا۔ایک گاؤں سے بڑے شہر کی یونیورسٹی اور پھر بین الاقوامی آرٹ پلیٹ فارم تک پہنچنے کا سفر ان کی زندگی میں ایک بڑی تبدیلی کا سبب بنا۔وہ اپنے پورے خاندان میں بیرون ملک جانے والی پہلی لڑکی تھیں۔ جس نوجوان لڑکی کے آرٹ کی تعلیم حاصل کرنے کے فیصلے پر کبھی سوال اٹھائے گئے تھے وہ اب بین الاقوامی ناظرین کے سامنے اپنا فن پیش کر رہی تھی۔جاپان میں انہیں مختلف ممالک کے فنکاروں سے ملنے اور ان کے کام کو سمجھنے کا موقع ملا۔ اس تجربے نے انہیں سیکھنے۔ خیالات کے تبادلے اور اپنے فن کو ایک وسیع تناظر میں دیکھنے کا موقع فراہم کیا۔بیرون ملک سفر سے پہلے ان کے دل میں خوشی کے ساتھ گھبراہٹ بھی تھی۔ اکیلے سفر کرنا اور ایک اجنبی ماحول میں قدم رکھنا ان کے لیے نیا تجربہ تھا۔ تاہم مختلف ممالک کے فنکاروں کے درمیان اپنے فن کی پیشکش نے رفتہ رفتہ ان کا اعتماد بڑھایا۔
انہیں احساس ہوا کہ فن کی زبان کئی مرتبہ الفاظ اور جغرافیائی سرحدوں سے آگے نکل جاتی ہے۔ فنکار اپنے تجربات اور خیالات کو ایسے انداز میں پیش کر سکتے ہیں جنہیں مختلف ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے لوگ بھی سمجھنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔جاپان میں اپنی پرفارمنس کے دوران غزالہ نے ہندوستانی ثقافت۔ شادی اور خواتین کی زندگی سے جڑے موضوعات کو پیش کیا۔ ایک پرفارمنس میں انہوں نے دلہن کا روپ اختیار کیا۔ بندی اور دلہن کے روایتی لباس کے ذریعے انہوں نے ہندوستانی شادی کی ثقافت کے مختلف پہلوؤں کو اپنے فن کا حصہ بنایا۔لیکن ان کا مقصد محض روایتی رسم و رواج کی عکاسی کرنا نہیں تھا۔ اس پرفارمنس کے ذریعے انہوں نے شادی شدہ خواتین کی زندگی۔ پدرشاہی نظام اور سماج میں عورت کی حیثیت سے متعلق سوالات بھی اٹھائے۔ان کے فن میں نسائی نقطہ نظر نمایاں طور پر موجود ہے۔ وہ ان سماجی توقعات کا جائزہ لیتی ہیں جن کے تحت خواتین کو اپنی زندگی گزارنے کے لیے مخصوص حدود میں رہنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔اس طرح ان کا فن ہندوستانی ثقافت کی نمائندگی کرنے کے ساتھ ساتھ اس کے اندر موجود بعض سماجی تجربات اور حقیقتوں پر سوال بھی اٹھاتا ہے۔ وہ اپنی ثقافتی جڑوں سے وابستہ ہیں لیکن اسی ماحول میں خواتین کو درپیش مسائل کا جائزہ لینے سے بھی گریز نہیں کرتیں۔
غزالہ کے نزدیک اپنی ثقافت کی نمائندگی کا مطلب صرف اس کی خوبصورتی کو دنیا کے سامنے پیش کرنا نہیں ہے بلکہ اس کے اندر موجود مختلف تجربات اور سوالات کو سمجھنا اور بیان کرنا بھی ہے۔جاپان میں ان کے فن کو ملنے والی پذیرائی نے ان کے خاندان کو بھی فخر کا موقع دیا۔ ان کی والدہ اور بھائی اس بات سے خوش تھے کہ غزالہ نے اپنی پسند کا شعبہ اختیار کیا اور اپنی محنت کے ذریعے ایک الگ شناخت قائم کی۔جس خاندان نے کبھی انہیں ڈاکٹر بنتے ہوئے دیکھنے کا خواب دیکھا تھا اب وہ انہیں آرٹ کے ذریعے اپنی پہچان بناتے ہوئے دیکھ رہا تھا۔ غزالہ کا ماننا ہے کہ اگر وہ سائنس کے شعبے میں بھی آگے بڑھتیں تو شاید وہاں بھی کچھ حاصل کر لیتیں کیونکہ انہیں پڑھائی میں دلچسپی تھی اور وہ محنت کرنے کا جذبہ رکھتی تھیں۔ تاہم انہوں نے آرٹ کا انتخاب کیا اور اسی شعبے میں امکانات تلاش کرنے کا فیصلہ کیا۔ان کے اس سفر نے رشتہ داروں اور گاؤں کے لوگوں کے سامنے بھی ایک نئی مثال قائم کی۔ جو لوگ کبھی آرٹ کو محض شوق سمجھتے تھے اب وہ دیکھ سکتے تھے کہ اس شعبے میں تعلیم۔ پیشہ ورانہ کامیابی۔ روزگار اور بین الاقوامی سطح پر شناخت حاصل کرنے کے مواقع بھی موجود ہیں۔غزالہ کے لیے سوچ میں یہ تبدیلی صرف ان کی ذاتی کامیابی سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔ وہ چاہتی ہیں کہ ان کے تجربات دوسری لڑکیوں اور نوجوانوں کو بھی اپنی پسند کے شعبے میں آگے بڑھنے کی ترغیب دیں۔
ماں کے نام ایک پینٹنگ
غزالہ کا فن صرف عوامی پرفارمنس اور بین الاقوامی پلیٹ فارم تک محدود نہیں ہے۔ ان کے کچھ فن پارے ذاتی جذبات اور خاندانی رشتوں سے بھی گہرا تعلق رکھتے ہیں۔اپنی والدہ کے نام بنائی گئی ایک پینٹنگ ان کے دل کے بہت قریب ہے۔ انہوں نے حال ہی میں یہ فن پارہ اپنی والدہ کو تحفے میں دیا۔ اس کے ذریعے وہ اپنی والدہ کے تئیں شکرگزاری کا اظہار کرنا چاہتی تھیں جنہوں نے ان کی تعلیم اور زندگی کو سنوارنے میں اہم کردار ادا کیا۔اگرچہ ان کی والدہ نے باقاعدہ تعلیم حاصل نہیں کی تھی لیکن وہ اپنی بیٹی کی تعلیم کے لیے ہمیشہ پرعزم رہیں۔ جب بھی غزالہ رات گئے تک پڑھائی کرتی تھیں تو ان کی والدہ ان کے پاس بیٹھتی تھیں۔ انہیں حوصلہ دیتی تھیں اور امتحانات کے دنوں میں ان کے ساتھ جاگتی رہتی تھیں۔غزالہ کے لیے یہ محض بچپن کی یادیں نہیں ہیں بلکہ وہ قربانیاں اور جذباتی تعاون ہیں جنہوں نے انہیں اپنے خوابوں کی جانب بڑھنے میں مدد دی۔اس پینٹنگ کے ذریعے وہ اپنی والدہ کا شکریہ ادا کرنا چاہتی تھیں۔ ان کے والد نے فخر کے ساتھ دوسروں کو ان کی تصویریں دکھا کر ان کے فن پر اعتماد بڑھایا تھا جبکہ ان کی والدہ نے تعلیم اور آگے بڑھنے کے عزم میں ان کا ساتھ دیا۔ان دونوں تجربات نے انہیں یہ سکھایا کہ کسی بچے کی صلاحیت کو پہچاننا اور اسے مناسب مواقع فراہم کرنا اس کے مستقبل کو بدل سکتا ہے۔
فن ہی روزگار اور شناخت کا ذریعہ
آج غزالہ پروین آرٹ ٹیچر کے طور پر کام کر رہی ہیں اور اس کے ساتھ ایک آزاد فنکارہ کی حیثیت سے بھی اپنی تخلیقی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ وہ پینٹنگ کرتی ہیں۔ مختلف موضوعات پر نئے خیالات تیار کرتی ہیں اور پرفارمنس آرٹ پیش کرتی ہیں۔ ان کے پیشہ ورانہ کام میں کمرشل پروجیکٹس۔ خصوصی آرٹ ورک اور نمائشیں بھی شامل ہیں۔اس طرح آرٹ ان کے لیے محض ذاتی اظہار کا ذریعہ نہیں بلکہ ان کی پیشہ ورانہ زندگی کی بنیاد بھی ہے۔انہیں یاد ہے کہ اسکول کے زمانے میں ان کی بنائی ہوئی ایک چھوٹی سی پینٹنگ 500 روپے میں فروخت ہوئی تھی۔ یہ ان کے لیے ایک یادگار لمحہ تھا۔ بعد میں انہوں نے کمرشل اسائنمنٹس بھی حاصل کیے اور مختلف پروجیکٹس کے ذریعے اپنے کام کو آگے بڑھایا۔تاہم وہ اپنے سفر کو ابھی مکمل نہیں سمجھتیں۔ ان کا ماننا ہے کہ ابھی انہیں بہت کچھ سیکھنا اور حاصل کرنا باقی ہے۔
ان کا تجربہ اس تصور کو چیلنج کرتا ہے کہ آرٹ میں مالی مواقع محدود ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق کسی بھی شعبے میں کامیابی کے لیے صلاحیت۔ محنت۔ نظم و ضبط اور مسلسل سیکھنے کا جذبہ ضروری ہے۔ آرٹ میں بھی مواقع موجود ہیں لیکن ان کے بارے میں لوگوں میں بیداری پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔لوگوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ آرٹ کی باقاعدہ تعلیم اور پیشہ ورانہ تربیت روزگار کے کئی راستے کھول سکتی ہے۔مالی خودمختاری بھی ان کے سفر کا ایک اہم پہلو ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ اگر آج ان کے خاندان کا کوئی بچہ آرٹ کے شعبے میں آگے بڑھنا چاہے تو اسے اس طرح روکنا مشکل ہوگا جس طرح کبھی انہیں روکا جاتا تھا۔ ان کے خاندان نے ان کے تجربے سے یہ دیکھ لیا ہے کہ آرٹ بھی ایک پائیدار کیریئر بن سکتا ہے۔

نئی نسل کو آرٹ کی تعلیم کی ترغیب
غزالہ گیارہویں اور بارہویں جماعت کے طلبہ کو آرٹ کی تعلیم دیتی ہیں۔ اس دوران ان کی ملاقات ایسے کئی نوجوانوں سے ہوتی ہے جن میں تخلیقی صلاحیتیں موجود ہوتی ہیں لیکن انہیں اپنی دلچسپی کے مطابق مضامین منتخب کرنے کی آزادی نہیں ملتی۔ان کا کہنا ہے کہ بہت سے طلبہ فائن آرٹس کی تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں لیکن ان کے والدین انہیں اس کی اجازت نہیں دیتے۔ بعض والدین کا خیال ہے کہ آرٹ میں وقت صرف کرنے سے ان کے بچوں کے کیریئر کے امکانات محدود ہو سکتے ہیں۔ایسی صورت حال میں غزالہ طلبہ اور ان کے والدین دونوں سے بات کرتی ہیں۔ وہ انہیں سمجھانے کی کوشش کرتی ہیں کہ آرٹ کی تعلیم وقت کا ضیاع نہیں ہے بلکہ بچوں کو اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے کا موقع دیا جانا چاہیے۔وہ چاہتی ہیں کہ اسکولوں میں آرٹ کو اہمیت دی جائے اور اس شعبے میں دلچسپی رکھنے والے طلبہ کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ ان کے مطابق آرٹ کی تعلیم کے انتظامات اور ضروریات مختلف اسکولوں میں الگ ہو سکتے ہیں لیکن اسے سیکھنے کے ایک ضروری حصے کے طور پر تسلیم کیا جانا چاہیے۔ان کا کہنا ہے کہ ہر سال ان کے اسکول سے تقریباً 3 یا 4 طلبہ فائن آرٹس کے کورس مکمل کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک یہ ایک چھوٹی لیکن بامعنی کامیابی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ایسے طلبہ جن کی حوصلہ شکنی ہو سکتی تھی اب انہیں اپنی دلچسپی کی بنیاد پر کیریئر بنانے کا موقع مل رہا ہے۔
دیہی خواتین کی زندگی بھی فن کا موضوع
غزالہ کے تخلیقی کام کا تعلق دیہی خواتین کی زندگی سے بھی ہے۔ وقت کے ساتھ انہوں نے خواتین کے تجربات۔ ان کے روزمرہ کے حالات اور ان کی زندگی کو متاثر کرنے والے سماجی ڈھانچوں جیسے موضوعات پر کام کیا ہے۔انہیں خاص طور پر ایسے انسانی تجربات کو پیش کرنے میں دلچسپی ہے جنہیں اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے یا روزمرہ کی عام بات سمجھ کر اہمیت نہیں دی جاتی۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد صرف خوبصورت تصاویر بنانا نہیں بلکہ ناظرین کو ان حقیقتوں پر غور کرنے کی دعوت دینا بھی ہے جن کی عکاسی ان فن پاروں میں ہوتی ہے۔سماج میں خواتین کی حیثیت اور پدرشاہی سوچ سے متعلق سوالات بھی ان کے پرفارمنس آرٹ کا حصہ ہیں۔ جاپان میں دلہن کے روپ میں پیش کی گئی ان کی پرفارمنس اس کی ایک مثال ہے۔ انہوں نے ہندوستانی شادی سے جڑی علامتوں کو استعمال کرتے ہوئے شادی شدہ خواتین کی زندگی اور تجربات کو موضوع بنایا۔ان کا سفر ظاہر کرتا ہے کہ فن سماج سے الگ کوئی چیز نہیں ہے۔ ایک فنکار اپنے اردگرد کی دنیا سے ہی اپنے موضوعات اور تجربات حاصل کرتا ہے۔ غزالہ کے لیے اپنے گاؤں۔ خاندان اور آس پاس کی خواتین کے تجربات سے جڑے رہنا ان کے تخلیقی عمل کا ایک اہم حصہ ہے۔
نوجوانوں کے لیے غزالہ کا پیغام
غزالہ نوجوانوں کو مشورہ دیتی ہیں کہ وہ جس شعبے کا بھی انتخاب کریں اسے ایمانداری۔ لگن اور محنت کے ساتھ اپنائیں۔ ان کے نزدیک کامیابی کے لیے محنت ضروری ہے خواہ کوئی آرٹ کا انتخاب کرے۔ سائنس۔ انجینئرنگ۔ کامرس یا کسی دوسرے پیشے میں آگے بڑھنا چاہے۔مضامین کو اچھا یا برا قرار دینے کے بجائے نوجوانوں کو اپنی دلچسپی کو پہچاننا چاہیے اور یہ سوچنا چاہیے کہ وہ کس شعبے میں بہترین کارکردگی دکھا سکتے ہیں۔وہ خاص طور پر ان طلبہ کی حمایت کرتی ہیں جو آرٹ میں دلچسپی رکھتے ہیں لیکن خاندانی توقعات اور سماجی دباؤ کی وجہ سے اپنے خوابوں کو پورا نہیں کر پاتے۔ ان کا ماننا ہے کہ والدین کو اپنے بچوں کی دلچسپیوں کو سمجھنا چاہیے اور انہیں مناسب رہنمائی اور مواقع فراہم کرنے چاہئیں۔غزالہ کا سفر ابھی ختم نہیں ہوا ہے۔ ان کے مطابق انہیں ابھی بہت کچھ سیکھنا اور حاصل کرنا ہے۔ لیکن آج ان کے پاس تجربے سے حاصل ہونے والا اعتماد ہے۔ فن کے ذریعے اپنے خیالات دوسروں تک پہنچانے کی صلاحیت ہے اور نئی نسل کی رہنمائی کرنے کا موقع بھی ہے۔غزالہ پروین کی کہانی ایک اہم پیغام دیتی ہے کہ جب صلاحیت کو موقع ملتا ہے۔ محنت کو صحیح سمت ملتی ہے اور خاندان خوابوں کی حمایت کرتا ہے تو ایک گاؤں سے شروع ہونے والا معمولی سفر بھی بین الاقوامی سطح تک پہنچ سکتا ہے۔
