دیب کشور چکرورتی: مغربی بنگال کے ضلع مرشد آباد کا ایک چھوٹا سا قصبہ سالار۔ مصروف بازار۔ مانوس چہرے اور عام لوگوں کی روزمرہ زندگی۔ لیکن اس سادگی کے درمیان ایک غیر معمولی خواب خاموشی سے پروان چڑھ رہا تھا۔ ایک ایسا خواب جس کی ابتدا آسمان کی طرف دیکھنے سے ہوئی اور جس نے بالآخر ہندوستانی خلائی تحقیقی ادارے اسرو (ISRO) کے دروازے تک پہنچا دیا۔
سالار کے محمد ممتاز الحسن کی کہانی محض ایک ملازمت حاصل کرنے کی کہانی نہیں ہے۔ یہ ایک عام خاندان کے بیٹے کی غیر معمولی کامیابی کا قصہ ہے۔ یہ ان کے والدین کی خاموش قربانیوں اور بار بار کوشش کرنے کے حوصلے کی داستان ہے۔ سب سے بڑھ کر یہ اس بات کی مثال ہے کہ ایک چھوٹے قصبے میں پرورش پانے والا نوجوان بھی بڑے خواب دیکھ سکتا ہے۔دی انڈین ایکسپریس میں 27 مئی 2025 کو شائع ہونے والی ایک بنگالی رپورٹ کے مطابق ممتاز الحسن نے اسرو میں اسپیس انجینئر کی ملازمت حاصل کی۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ انہیں 5 مئی کو تقرری نامہ موصول ہوا۔ یہ خبر پھیلتے ہی ان کے خاندان اور سالار کے لوگوں نے ان کی کامیابی کا جشن منایا۔
تقرری نامہ بظاہر کاغذ کے چند صفحات پر مشتمل ہوتا ہے۔ لیکن ان صفحات کے پیچھے برسوں کی محنت اور انتظار کے ساتھ کئی خواب بھی پوشیدہ ہوتے ہیں۔ممتاز الحسن کے والد محمد اصغر علی سالار کے رجسٹری آفس میں نقل نویس کے طور پر کام کرتے ہیں۔ ان کی والدہ ایک اسکول میں پیرا ٹیچر ہیں۔ ان کا تعلق کسی صنعت کار یا اعلیٰ سرکاری افسر کے خاندان سے نہیں ہے۔ یہ ایک عام آمدنی والا گھرانہ ہے۔ اس کے باوجود والدین نے ہمیشہ اپنے بیٹے کو بڑے خواب دیکھنے کی ترغیب دی۔
بتایا جاتا ہے کہ ممتاز الحسن کو بچپن ہی سے پڑھائی میں دلچسپی تھی۔ جب ان کے خاندان کو ان کی کامیابی کی خبر ملی تو ان کے والد اپنے آنسوؤں پر قابو نہ رکھ سکے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ خبر سن کر وہ جذباتی ہوگئے تھے۔ خاندان نے اپنی محدود استطاعت کے اندر رہتے ہوئے بیٹے کی تعلیم اور کامیابی کے لیے ہر ممکن کوشش کی تھی۔شاید ان آنسوؤں میں صرف خوشی ہی نہیں تھی۔ ان میں بیٹے کے بچپن کی یادیں بھی شامل تھیں۔ وہ گھنٹے بھی تھے جو اس نے پڑھائی کی میز پر گزارے تھے۔ امتحانات سے پہلے کی بے چینی بھی تھی۔ مستقبل کی فکر بھی تھی اور وہ طویل انتظار بھی جس کا اختتام بالآخر کامیابی کی صورت میں ہوا۔ان کا بیٹا اب اسرو کا تقرری نامہ ہاتھ میں لیے کھڑا تھا۔ایک باپ کے لیے اس سے بڑا انعام اور کیا ہوسکتا ہے؟

مسلسل محنت اور کوشش کی کامیابی
ممتاز الحسن کی کامیابی ایک دن میں حاصل نہیں ہوئی۔ ابتدا میں انہوں نے ایک نجی کمپنی میں کام کیا اور ساتھ ہی سرکاری ملازمتوں کے امتحانات کی تیاری جاری رکھی۔ انہوں نے کئی امتحانات میں شرکت کی۔ بار بار کوشش کی اور مناسب موقع کا انتظار کیا۔ بالآخر اسرو میں ملازمت کا موقع مل گیا۔ان کی کہانی کو اہم بنانے والی بات یہی ہے۔ جب ہم کسی شخص کی کامیابی کے بارے میں سنتے ہیں تو عموماً ہماری نظر صرف آخری منظر پر جاتی ہے۔ تقرری نامہ۔ خوشی مناتا ہوا خاندان اور مسکراتے ہوئے چہرے۔لیکن اس سے پہلے کا طویل سفر نظروں سے اوجھل رہتا ہے۔ صبح سویرے اٹھ کر پڑھنا۔ رات گئے تک تیاری کرنا۔ بار بار امتحانات میں شرکت کرنا۔ نتائج کا انتظار کرنا اور مستقبل کے بارے میں غیر یقینی صورت حال سے گزرنا۔
ممتاز الحسن کا سفر بھی اسی طرح کی ان دیکھی جدوجہد سے عبارت رہا۔
اپنی کامیابی کے بارے میں بات کرتے ہوئے ممتا ز الحسن نے کہا کہ انہوں نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا کہ وہ اس مقام تک پہنچ جائیں گے۔ تقرری نامہ ملنے کے بعد وہ اپنے جذبات کو الفاظ میں بیان نہیں کر پا رہے تھے۔لیکن انہیں ایک بات پر پورا یقین ہے کہ محنت کا کوئی متبادل نہیں۔ اگر انسان اپنے مقصد پر توجہ مرکوز رکھے اور مسلسل کوشش کرتا رہے تو بالآخر کامیابی حاصل ہوسکتی ہے۔یہ بات سننے میں عام سی لگتی ہے لیکن جب کوئی شخص اپنے تجربے کی بنیاد پر اسے بیان کرتا ہے تو اس کے معنی مزید گہرے ہوجاتے ہیں۔ممتاز الحسن جانتے ہیں کہ صرف خواب دیکھنا کافی نہیں ہوتا۔ خواب کو روزانہ کی محنت میں تبدیل کرنا پڑتا ہے۔ جب یہ کوشش بالآخر مطلوبہ نتیجہ دے تو جذبات پر قابو رکھنا مشکل ہوجاتا ہے۔ ممتا ز الحسن نے بھی بتایا کہ اس لمحے وہ اپنے آنسو نہیں روک سکے۔

چھوٹے قصبے کی کامیابی جو دوسروں کے لیے مثال بن گئی
کسی نوجوان کو ملازمت ملنا ہر خاندان کے لیے خوشی کا موقع ہوتا ہے۔ لیکن اسرو جیسے ادارے میں ملازمت حاصل کرنے سے اس خوشی کا دائرہ کہیں زیادہ وسیع ہوگیا ہے۔سالار کے لوگ اب ممتا ز الحسن کو اپنے درمیان کا ایک ایسا نوجوان سمجھتے ہیں جس نے اپنے قصبے کا نام روشن کیا ہے۔چھوٹے قصبوں سے سامنے آنے والی کامیابیوں کی کہانیوں میں ایک خاص کشش ہوتی ہے۔ ایک شخص کی کامیابی بہت سے دوسرے لوگوں کو خواب دیکھنے کا حوصلہ دے سکتی ہے۔
ممکن ہے کہ اب کوئی اسکول کا طالب علم سائنس میں زیادہ دلچسپی لینے لگے۔ کوئی باپ مالی مشکلات کے باوجود اپنے بچے کی تعلیم جاری رکھنے کا فیصلہ کرے۔ کوئی ماں اپنی بیٹی سے کہے کہ تم بھی یہ کر سکتی ہو۔اور کوئی نوجوان خاموشی سے سوچے کہ اگر ممتا ز الحسن سالار سے اسرو تک پہنچ سکتے ہیں تو وہ بھی کوشش کرسکتا ہے۔ہم اکثر یہ سمجھتے ہیں کہ بڑے خوابوں کے لیے بڑے شہر۔ جدید سہولتیں یا بااثر لوگوں سے تعلقات ضروری ہیں۔ ممتا ز الحسن کی کہانی اس سوچ کو چیلنج کرتی ہے۔انہوں نے ثابت کیا ہے کہ کسی قصبے کا چھوٹا ہونا خوابوں کی وسعت کا تعین نہیں کرتا۔ضلع مرشد آباد کے سالار سے تعلق رکھنے والا نوجوان بھی خلائی تحقیق کے میدان میں جانے کا خواب دیکھ سکتا ہے۔ مشکل امتحانات میں مقابلہ کرسکتا ہے۔ ناکامیوں کے بعد دوبارہ کوشش کرسکتا ہے اور بالآخر اسرو کا تقرری نامہ حاصل کرسکتا ہے۔بلاشبہ یہ سفر آسان نہیں ہوتا۔ دور دراز علاقوں کے طلبہ کو مواقع اور تعلیمی سہولتوں تک رسائی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس لیے ممتا ز الحسن کی کامیابی کو صرف ان کی انفرادی صلاحیت کا نتیجہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔ یہ خاندان کی حمایت۔ تعلیم۔ مسلسل محنت اور دستیاب مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی صلاحیت کی بھی کہانی ہے۔
سالار سے ہندوستان کے خلائی پروگرام تک
ہندوستان کا خلائی پروگرام مسلسل وسعت اختیار کر رہا ہے۔ ایسے میں ملک کو سائنس دانوں اور انجینئروں کی نئی نسل کی ضرورت ہے۔ اسرو کے مختلف مشنوں میں کام کرنے والے سائنس دانوں اور انجینئروں نے خلائی ٹیکنالوجی کے میدان میں ہندوستان کی صلاحیتوں کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ضلع مرشد آباد کے سالار سے تعلق رکھنے والے ممتا ز الحسن کو بھی اب اس بڑے سفر کا حصہ بننے کا موقع ملا ہے۔انہیں کیا ذمہ داریاں سونپی جائیں گی۔ وہ کن منصوبوں پر کام کریں گے اور ان کا پیشہ ورانہ سفر انہیں کہاں تک لے جائے گا۔ ان سوالوں کے جواب وقت کے ساتھ سامنے آئیں گے۔لیکن ان کی زندگی کا ایک اہم باب پہلے ہی لکھا جاچکا ہے۔ایک عام خاندان کے بیٹے نے یہ دکھا دیا ہے کہ خوابوں کی کوئی جغرافیائی سرحد نہیں ہوتی۔ممتا ز الحسن کو اسرو کا تقرری نامہ مل چکا ہے لیکن کئی معنوں میں ان کا نیا سفر اب شروع ہوا ہے۔ سالار کے اس گھر سے جہاں انہوں نے کبھی اپنے مستقبل کے خواب دیکھے تھے۔ وہ اب ہندوستان کی خلائی تحقیق کی وسیع دنیا میں قدم رکھنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ان کے پیچھے والدین کی دعائیں اور سالار کے لوگوں کی محبت ہوگی۔

اور ان کے سامنے پھیلا ہوگا وسیع آسمان۔
ان کے والد نے یہ امید بھی ظاہر کی ہے کہ جب ان کا بیٹا اپنے پیشہ ورانہ سفر میں مستحکم ہوجائے گا تو وہ اپنے آبائی قصبے کے لوگوں کے لیے بھی کچھ کرے گا۔شاید یہی ممتا ز الحسن کی کہانی کا سب سے خوب صورت پہلو ہے۔کامیابی کا حقیقی مفہوم اس وقت مزید گہرا ہوجاتا ہے جب وہ صرف ایک شخص کی زندگی نہیں بدلتی بلکہ دوسروں کو بھی خواب دیکھنے کا حوصلہ دیتی ہے۔سالار نے انہیں اپنی جڑیں دیں۔ والدین نے انہیں حوصلہ دیا۔ محنت نے انہیں راستہ دکھایا اور اب یہی سفر انہیں اسرو کے آسمانوں کی جانب لے جا رہا ہے۔ممتا ز الحسن کی کہانی محض ایک نوجوان کی پیشہ ورانہ کامیابی کی داستان نہیں ہے۔ یہ بنگال کے دور دراز علاقوں میں رہنے والے ان بے شمار نوجوانوں کے خوابوں کی نمائندگی کرتی ہے جو اس یقین کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں کہ آسمان بھلے ہی بہت دور ہو لیکن اس تک پہنچنے کا سفر زمین سے ہی شروع ہوتا ہے۔سالار کی مٹی سے اٹھ کر ممتا ز الحسن نے اب خلائی تحقیق کی وسیع دنیا کی جانب اپنے سفر کا آغاز کردیا ہے۔