مرودگندھا دکشت
ادب کا کوئی خاندانی پس منظر نہیں۔ گھر میں کتابیں پڑھنے کا رواج بھی نہیں۔ لیکن ایک نوجوان کے دل میں زبان اور کتابوں کے لیے ایسا جنون پیدا ہوا کہ وہ کولہاپور کی گلیوں سے نکل کر جواہر لعل نہرو یونیورسٹی (جے این یو) تک پہنچا اور پھر روس کا سفر بھی کیا۔ یہ کہانی کسی ناول سے کم نہیں لگتی۔
یہ کہانی مہاراشٹر کے کولہاپور سے تعلق رکھنے والے ارشاد واڈگاؤنکر کی ہے جو روسی ادب کو براہ راست مراٹھی زبان میں منتقل کرنے کا اہم کام انجام دے رہے ہیں۔ ان کا سفر اس بات کی مثال ہے کہ اگر کسی انسان کے اندر علم حاصل کرنے کی لگن ہو تو محدود وسائل اور ناموافق حالات بھی اس کی راہ میں مستقل رکاوٹ نہیں بن سکتے۔
.webp)
کتابوں سے پہلے کا بچپن
ارشاد کا آبائی گھر کولہاپور کے سموار پیتھ علاقے میں واقع لُگڑی اول نامی محلے میں تھا۔ ان کے دادا وہاں پان اور انڈے فروخت کرنے کی ایک چھوٹی سی دکان چلاتے تھے۔ تقریباً 1996 میں خاندان نے اپنا وہ مکان فروخت کردیا اور لکش تیرتھ کالونی میں منتقل ہوگیا۔ارشاد کے والد نے چوتھی جماعت تک تعلیم حاصل کی ہے جبکہ ان کی والدہ چھٹی جماعت تک پڑھی ہیں۔ ان کے والد گزشتہ 30 برس سے زیادہ عرصے سے مہادوار روڈ پر مہالکشمی دھرم شالا کے سامنے ہاتھ گاڑی پر ہوزری کے کپڑے فروخت کرتے آرہے ہیں۔ خاندان کے بیشتر رشتہ دار بھی اسی کاروبار سے وابستہ ہیں۔تین بہن بھائیوں میں ارشاد کا نمبر دوسرا ہے۔ ان کے بڑے بھائی نے ایم ایس سی کی ڈگری حاصل کی ہے اور گوا میں ملازمت کرتے ہیں جبکہ چھوٹے بھائی ایم کام مکمل کرچکے ہیں۔
جب کتابوں سے عشق ہوگیا
ارشاد نے ساتویں جماعت تک میونسپل کارپوریشن کے انا صاحب شندے اسکول میں تعلیم حاصل کی اور دسویں جماعت لکش تیرتھ کے مہاتما پھلے اسکول سے مکمل کی۔ اس وقت تک ان کا کتابوں سے کوئی خاص تعلق نہیں تھا۔ وہ بس چند کتابوں کے نام جانتے تھے جن میں ’بٹّاٹیچی چال‘ اور ’شیامچی آئی‘ شامل تھیں۔
لیکن شیو اجی پیتھ کے نیو کالج میں گیارہویں جماعت میں کامرس کے طالب علم کی حیثیت سے داخلہ لینے کے بعد ان کی زندگی میں ایک اہم تبدیلی آئی۔ کالج کی ’ٹی ایچ اپرادھ لائبریری‘ نے انہیں کتابوں کی دنیا سے روشناس کرایا۔
گنگادھر گڈگل کی ’بندو‘ سیریز اور سہا س شروالکر کے سسپنس ناول پڑھتے پڑھتے ان کے اندر مطالعے کا ایسا شوق پیدا ہوا جو وقت کے ساتھ ان کی زندگی کا بنیادی حصہ بن گیا۔بی کام کے پہلے سال میں ہی انہیں احساس ہوگیا کہ وہ انگریزی ادب پڑھنا چاہتے ہیں۔ چنانچہ انہوں نے کامرس چھوڑ کر آرٹس میں انگریزی ادب کے ساتھ بی اے کرنے کا فیصلہ کیا۔
یہ فیصلہ آسان نہیں تھا۔ لوگوں کا خیال تھا کہ کامرس سے آرٹس کی طرف جانا تعلیمی اعتبار سے پیچھے ہٹنے کے مترادف ہے۔ اس تبدیلی کی وجہ سے ان کا ایک تعلیمی سال بھی ضائع ہوا۔ تاہم انہوں نے کالج کے پرنسپل کو یہ بتا کر اجازت حاصل کرلی کہ وہ مہاراشٹر پبلک سروس کمیشن یعنی ایم پی ایس سی کے امتحانات کی تیاری کرنا چاہتے ہیں۔
اسی دوران انہوں نے مہالکشمی مارکیٹ کے سامنے واقع ایک پرانی کتابوں کی دکان ’چاند بک اسٹال‘ میں بھی تقریباً 2 سال تک جزوقتی کام کیا۔ وہاں آنے والے اساتذہ اور کتابوں کے شوقین افراد سے گفتگو نے ان کے اندر مطالعے کی دلچسپی کو مزید بڑھا دیا۔کبھی کبھی وہ اپنی اجرت کے پیسوں سے کتابیں خرید لیتے تھے۔ یوں کتابوں کی دکان میں کام کرنا ان کے لیے محض روزگار کا ذریعہ نہیں رہا بلکہ علم کی ایک نئی دنیا تک پہنچنے کا وسیلہ بن گیا۔
.webp)
دوستوئیفسکی نے روسی ادب سے محبت پیدا کی
بی اے کے دوران عالمی ادب کے نصاب میں انہیں دوستوئیفسکی۔ میکسم گورکی اور چیخوف جیسے روسی ادیبوں کے انگریزی تراجم پڑھنے کا موقع ملا۔’غریب لوگ‘۔ ’سفید راتیں‘ اور ’جرم اور سزا‘ جیسی کتابوں نے ان پر گہرا اثر ڈالا۔ روسی ادب سے ان کی محبت بڑھتی گئی اور دوستوئیفسکی ان کے پسندیدہ ادیب بن گئے۔بعد میں شیواجی یونیورسٹی سے انگریزی ادب میں ایم اے کرتے ہوئے انہیں وہاں کے شعبۂ غیر ملکی زبانوں کے بارے میں معلوم ہوا۔ اب ان کی خواہش تھی کہ وہ اپنے پسندیدہ روسی ادیبوں کو اصل زبان میں پڑھیں۔ اسی مقصد سے انہوں نے روسی زبان سیکھنے کا فیصلہ کیا۔
ابتدا میں انہوں نے 4 ماہ تک صرف قواعد اور کتابوں کی مدد سے روسی زبان سیکھنے کی کوشش کی۔ لیکن عملی گفتگو کی مشق نہ ہونے کے سبب انہیں زبان سمجھنے میں دشواری پیش آئی اور انہوں نے پڑھائی چھوڑ دی۔اس وقت بعض اساتذہ نے انہیں مشورہ دیا کہ سوویت یونین کے خاتمے کے بعد روس پیچھے رہ گیا ہے اس لیے روسی کے بجائے جرمن زبان سیکھنا زیادہ بہتر ہوگا۔
لیکن ارشاد کا مقصد محض کوئی غیر ملکی زبان سیکھنا نہیں تھا۔ وہ روسی ادب کو اس کی اصل زبان میں پڑھنا چاہتے تھے۔ چنانچہ انہوں نے دوبارہ کوشش شروع کی۔ سوشل میڈیا اور زبان سیکھنے والی ایپس کے ذریعے روسی دوست بنائے اور واٹس ایپ کے علاوہ آڈیو اور ویڈیو کالز پر ان سے گفتگو کرنے لگے۔اس عملی مشق نے ان کی روسی بولنے کی صلاحیت کو بہتر بنایا۔ ساتھ ہی انہوں نے انگریزی میں ایم اے کے دوران روسی زبان میں سرٹیفکیٹ۔ ڈپلومہ اور ہائر ڈپلومہ بھی مکمل کیا۔
.webp)
مشکلات سے جوجھتے ہوئے جے این یو تک کا سفر
2015 میں ارشاد کی والدہ کو برین اسٹروک ہوا۔ ان کی بیماری کے دوران ارشاد کو ایم اے کے دوسرے سال کی تعلیم چھوڑنی پڑی۔بعد میں انہوں نے 2 سال تک ایک انگریزی میڈیم اسکول میں انگریزی کے استاد کی حیثیت سے کام کیا۔ اس کے ساتھ مسابقتی امتحانات کی تیاری کرنے والے طلبہ کو پڑھایا اور اسپوکن انگلش کی کلاسیں بھی لیں۔کچھ عرصے بعد انہیں یونیورسٹی میں ایک بڑے تحقیقی منصوبے کے تحت ریسرچ اسسٹنٹ کے طور پر کام کرنے کا موقع ملا۔ اس سے ان کی تعلیمی زندگی دوبارہ آگے بڑھنے لگی۔
انہوں نے روسی زبان میں ایم اے مکمل کیا اور نیٹ کا امتحان بھی کامیابی سے پاس کیا۔ روسی زبان کے مضمون میں وہ اپنی یونیورسٹی کے پہلے طالب علم بنے جنہیں این ایف او بی سی (جے آر ایف) فیلوشپ حاصل ہوئی۔کورونا وبا کے دوران آن لائن ویبینارز اور روسی زبان کے اولمپیاڈ میں شرکت نے انہیں اس زبان کے ذریعے دستیاب وسیع امکانات سے روشناس کرایا۔
پی ایچ ڈی میں داخلے کے لیے انہوں نے حیدرآباد کی انگریزی اور غیر ملکی زبانوں کی یونیورسٹی (ای ایف ایل یو)۔ شانتی نکیتن اور جے این یو کے داخلہ امتحانات دیے۔ جیسے ہی انہیں معلوم ہوا کہ جے این یو میں ان کا انتخاب ہوگیا ہے تو انہوں نے اپنی توجہ وہیں مرکوز کردی۔جے این یو میں گزارے گئے ساڑھے 3 سال ان کے لیے بے حد اہم ثابت ہوئے۔ وہاں انہیں ایک نئی علمی فضا اور مختلف تجربات سے گزرنے کا موقع ملا۔ انہوں نے ایک سمسٹر کے دوران روسی زبان کے قواعد کا مضمون بھی پڑھایا۔
.webp)
’بھورا‘ کتاب نے گھر سے نکلنے کا حوصلہ دیا
کولہاپور کے عام باشندوں کی طرح ارشاد کو بھی اپنے شہر اور گھر سے گہری وابستگی تھی۔ ان کے لیے گھر چھوڑ کر کہیں اور جانا آسان فیصلہ نہیں تھا۔کورونا وبا کے دوران ان کی جمع پونجی ختم ہوچکی تھی۔ وہ کسی سے مالی مدد بھی نہیں مانگنا چاہتے تھے اور اسی وقت پی ایچ ڈی کے لیے گھر سے باہر نکلنے کا مرحلہ بھی سامنے تھا۔ایسے نازک وقت میں دوستوں کی مدد سے انہوں نے شرد باوسکر کی کتاب ’بھورا‘ خریدی اور پڑھی۔
اس کتاب نے ان کے سوچنے کا انداز بدل دیا۔ وہ سوچنے لگے کہ اگر راویر جیسے مقام سے تعلق رکھنے والا ایک نوجوان سماجی اور ثقافتی وسائل کی کمی کے باوجود اتنا آگے جاسکتا ہے تو پھر وہ خود کیوں نہیں؟ وہ تو کولہاپور جیسے تاریخی اور ثقافتی ورثے سے مالا مال شہر سے تعلق رکھتے ہیں جسے راجہ شاہو مہاراج کی میراث حاصل ہے۔
اسی خیال نے انہیں گھر سے نکلنے اور جے این یو تک پہنچنے کا حوصلہ دیا۔بعد میں انہیں ترجمانی کے ایک کام کے سلسلے میں ملائیشیا جانے کا موقع بھی ملا۔ یہ ان کی زندگی کا ایک اہم سنگ میل تھا کیونکہ وہ اپنے خاندان کے پہلے فرد تھے جنہوں نے بیرون ملک کا سفر کیا۔
تراجم سے روس کے سفر تک
چیخوف کی سادہ روسی زبان اور ان کی کہانیوں سے متاثر ہوکر ارشاد نے ’کاواڈسے‘ کے نام سے ایک بلاگ شروع کیا۔ اس کے ذریعے انہوں نے روسی زبان کی مختصر کہانیوں کا براہ راست مراٹھی میں ترجمہ کرنا شروع کیا۔بلاگ پر دوستوں اور اساتذہ کی جانب سے حوصلہ افزا ردعمل ملا تو انہوں نے چیخوف کی کہانیوں کا ترجمہ شدہ مجموعہ شائع کرنے کا فیصلہ کیا۔
سوویت دور کی پرانی کتابوں کی یادوں کو تازہ کرتے ہوئے ان کا پہلا افسانوی مجموعہ ’رادوگا‘ یعنی قوس قزح 2023 میں ڈائمنڈ پبلی کیشنز سے شائع ہوا۔اس کے بعد انہوں نے وارڈن پرکاشن کے لیے میخائل بلگاکوف کے ناول ’ہارٹ آف اے ڈاگ‘ اور دوستوئیفسکی کی کتاب ’وائٹ نائٹس‘ کا مراٹھی میں ترجمہ کیا۔
’ہارٹ آف اے ڈاگ‘ پہلی مرتبہ مراٹھی زبان میں ان کے ترجمے کے ذریعے قارئین تک پہنچی۔ دوسری جانب ’وائٹ نائٹس‘ کا ترجمہ کرنا ان کے لیے خاص اہمیت رکھتا تھا کیونکہ اسی کتاب نے ان کے اندر روسی ادب سے محبت پیدا کی تھی۔ان کی ترجمہ کردہ کتاب ’ہارٹ آف اے ڈاگ‘ کو اس سال انتر بھارتی کی جانب سے دیے جانے والے باوقار بال شاستری جامبھے کر ترجمہ ایوارڈ کے لیے بھی نامزد کیا گیا ہے۔
حال ہی میں انہیں روس کے ادارے ’انسٹی ٹیوٹ فار لٹریری ٹرانسلیشنز‘ سے نوبیل انعام یافتہ ادیب ایوان بونین کے ناول ’دی ولیج‘ کا ترجمہ کرنے کے لیے گرانٹ ملی۔ اسی ادارے کی دعوت پر وہ ستمبر کے پہلے ہفتے میں ایک کانفرنس میں شرکت کے لیے روس گئے۔وہاں انہوں نے ’ہارٹ آف اے ڈاگ‘ کو مراٹھی میں منتقل کرنے کے دوران پیش آنے والی مشکلات اور سیاسی طنز کے ترجمے کے مسائل پر اپنا تحقیقی مقالہ پیش کیا۔
فی الحال ارشاد اپنی پی ایچ ڈی کے آخری مراحل میں ہیں۔ ان کی تحقیق کا موضوع معاصر روسی ادب کے ایسے ناول ہیں جن میں نوعمر لڑکوں اور لڑکیوں کی نفسیاتی اور فکری بلوغت کے سفر کو بیان کیا گیا ہے۔ اس موضوع میں اکیسویں صدی کے روسی ادب پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔چونکہ انہیں مراٹھی زبان جاننے والا کوئی مناسب تحقیقی رہنما نہیں مل سکا اس لیے انہوں نے ترجمے پر پی ایچ ڈی کرنے کے بجائے اس موضوع کا انتخاب کیا۔پی ایچ ڈی کے ساتھ ساتھ وہ آزادانہ طور پر ترجمے اور ترجمانی کے منصوبوں پر بھی کام کررہے ہیں۔
.webp)
کتابوں کے لیے جدوجہد اور زبان سے بدلی زندگی
ارشاد کے والد کو کتابوں سے خاص دلچسپی نہیں تھی۔ جب ان کے دو کمروں کے گھر میں ایک کمرہ کتابوں سے بھرنے لگا تو والد ناراض ہونے لگے۔ وہ اکثر کہتے تھے کہ ان کتابوں کو کہیں اور لے جاؤ۔بی اے کے زمانے میں ایک دن ارشاد نے جھنجھلا کر اپنی 5 سے 6 بوریاں کتابوں سے بھریں اور گھر چھوڑ دیا۔ انہوں نے یہ کتابیں اپنے دوستوں اور اساتذہ کے گھروں میں رکھ دیں۔اس کے بعد کئی برس تک وہ اپنی کتابیں رشتہ داروں اور جاننے والوں کے گھروں میں محفوظ رکھتے رہے۔
حال ہی میں شادی کے بعد جب وہ ایک بڑے گھر میں منتقل ہوئے تو انہوں نے خود ایک کتابوں کی الماری تیار کی۔ پھر اپنی تمام کتابیں واپس لائے اور اپنے ہاتھوں سے گھر میں ایک ذاتی لائبریری سجائی۔گزشتہ سال ارشاد نے رجسٹرڈ شادی کی۔ مذہبی رسومات کے بجائے قانونی طریقے سے شادی کرنے کا ان کا فیصلہ خاندان کے لیے بھی منفرد تھا کیونکہ یہ ان کے خاندان کی پہلی رجسٹرڈ شادی تھی۔
کئی زبانوں کے شناسا ارشاد
ارشاد کے گھر میں دکنی مراٹھی بولی جاتی ہے۔ ان کی اہلیہ پربھنی سے تعلق رکھتی ہیں اور ان کے گھر میں بھی دکنی زبان بولی جاتی ہے۔ تاہم کولہاپور اور پربھنی میں بولی جانے والی دکنی میں خاصا فرق ہے۔ اسی لیے دونوں میاں بیوی آپس میں معیاری مراٹھی میں گفتگو کرتے ہیں۔ارشاد کہتے ہیں۔’’اسی وجہ سے بہت سے لوگ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ شاید ہماری شادی دو مختلف مذاہب کے لوگوں کے درمیان ہوئی ہے۔ لیکن مراٹھی ہم دونوں کی مادری زبان ہے اور ہمیں اس پر فخر ہے۔‘
کئی زبانوں کے سفر سے گزرنے والے ارشاد زبان کے بارے میں ایک اہم بات کہتے ہیں۔
’’زبان صرف کتابوں سے نہیں سیکھی جاتی بلکہ لوگوں سے۔ ان کی ثقافت سے۔ ان کی تاریخ سے اور یہاں تک کہ ان کے کھانے پینے سے بھی سیکھی جاتی ہے۔ روسی زبان سیکھتے ہوئے میں نے روسی ثقافت اور سوویت تاریخ کو بھی جانا۔ روس کے بارے میں میری وہ محدود سوچ ختم ہوگئی جو لینن۔ اسٹالن۔ ریڈ اسکوائر۔ جنگوں یا پوتن تک سمٹی ہوئی تھی۔‘‘
روسی زبان نے ارشاد کی زندگی میں مثبت تبدیلی پیدا کی۔ کبھی شرمیلے اور کم گو رہنے والے ارشاد اب زیادہ خوش مزاج ہوگئے ہیں اور لوگوں سے کھل کر گفتگو کرتے ہیں۔ ان کے مطابق روسی زبان سیکھنے نے انہیں نہ صرف ایک نئی ثقافت سے متعارف کرایا بلکہ ان کی شخصیت کو بھی نیا اعتماد دیا۔وہ ہنستے ہوئے کہتے ہیں۔’’انسان کے دل تک پہنچنے کا راستہ اس کی زبان سے ہوکر گزرتا ہے۔‘‘
کولہاپور کی تنگ گلیوں سے شروع ہونے والا ارشاد واڈگاؤنکر کا یہ سفر آج روسی ادب کی دنیا میں مراٹھی زبان کی شناخت کو مضبوط کررہا ہے۔ ان کی کہانی اس حقیقت کو نمایاں کرتی ہے کہ زبانیں صرف الفاظ سیکھنے کا ذریعہ نہیں ہوتیں بلکہ وہ انسان کے لیے نئی ثقافتوں۔ نئے خیالات اور نئے امکانات کے دروازے بھی کھولتی ہیں۔