عبدالحمید: کھیتوں میں مزدوری اور امامت سے یو جی سی میں عربی کے قومی ٹاپر تک

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 12-10-2026
کھیتوں میں مزدوری اور امامت سے یو جی سی نیٹ میں عربی کے قومی ٹاپر تک، عبدالحمید کی متاثر کن جدوجہد
کھیتوں میں مزدوری اور امامت سے یو جی سی نیٹ میں عربی کے قومی ٹاپر تک، عبدالحمید کی متاثر کن جدوجہد

 



 ترون نندی / کولکاتا

دل میں خوابوں کی دنیا بسائے عبدالحمید ہر صبح اپنے والد کے ساتھ کھیتوں میں زرعی کام کرنے جایا کرتے تھے۔ کبھی گائے بکریاں چرانے کی ذمہ داری ہوتی تو کبھی گھاس کاٹنے میں مصروف رہتے۔ لیکن جب بھی تھوڑا سا وقت ملتا، وہ اپنی کتابیں کھول کر پڑھائی میں لگ جاتے۔

بعد میں اسی نوجوان نے مسجد میں امام کی ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے یو جی سی نیٹ (UGC-NET) امتحان کی تیاری کی۔ جب نتیجہ سامنے آیا تو خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ عبدالحمید نے عربی مضمون میں پورے ملک میں سب سے زیادہ نمبر حاصل کیے تھے۔آج مغربی بنگال کے ضلع بیر بھوم میں نلہاٹی تھانے کے تحت واقع گاؤں کھکورا کے رہنے والے عبدالحمید پورے گاؤں کی توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔

یو جی سی نیٹ جون 2026 کے نتائج کے مطابق حمید نے عربی مضمون میں 300 میں سے 266 نمبر حاصل کیے اور 100 پرسنٹائل حاصل کرتے ہوئے ملک بھر میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔ اس مضمون میں مجموعی طور پر 1649 امیدواروں نے امتحان دیا تھا۔ انہوں نے جونیئر ریسرچ فیلوشپ (JRF) اور اسسٹنٹ پروفیسر کے عہدے کے لیے بھی اہلیت حاصل کی۔

مشکلات سے بھرا بچپن

عبدالحمید کی زندگی میں مالی تنگی ہمیشہ ایک بڑا مسئلہ رہی۔ ان کے والد عبدالتواب معمولی تنخواہ پر تدریسی خدمات انجام دیتے تھے اور ساتھ ہی کھیتی باڑی کرکے خاندان کی کفالت کرتے تھے۔مالی مشکلات کے باوجود والد کی خواہش تھی کہ ان کے بچوں کی تعلیم کسی بھی صورت میں متاثر نہ ہو۔ عبدالحمید نے کم عمری ہی سے والد کے ساتھ کھیتوں میں کام کیا، لیکن اپنی پڑھائی پر بھی پوری توجہ برقرار رکھی۔

ان کی تعلیمی زندگی کا آغاز مدرسے سے ہوا، جہاں انہوں نے قرآن مجید بھی حفظ کیا۔ اس کے بعد انہوں نے عالیہ یونیورسٹی سے عربی میں گریجویشن مکمل کیا اور پھر دہلی کی جامعہ ملیہ اسلامیہ سے پوسٹ گریجویشن کی ڈگری حاصل کی، جس میں انہیں 8.75 سی جی پی اے حاصل ہوا۔

ان کے تعلیمی سفر کا ہر مرحلہ جدوجہد سے عبارت تھا۔ اعلیٰ تعلیم کے لیے دہلی آنا خاص طور پر مشکل ثابت ہوا، کیونکہ رہائش اور روزمرہ اخراجات کے لیے رقم کا انتظام کرنا آسان نہیں تھا۔ کبھی وہ تین دوسرے طلبہ کے ساتھ ایک کمرے میں رہتے، تو کبھی اخراجات کم کرنے کے لیے دوستوں کے ساتھ مل کر کھانا خود پکاتے تھے، تاکہ تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا جا سکے۔

یو جی سی نیٹ کی تیاری کے لیے مہنگی کوچنگ سے گریز

یو جی سی نیٹ کا امتحان ابتدا میں عبدالحمید کا بنیادی ہدف نہیں تھا۔ انہوں نے فروری 2026 میں اس امتحان کی باقاعدہ تیاری شروع کی۔اس وقت وہ ایک مدرسے میں تدریس کے فرائض انجام دینے کے ساتھ مسجد میں امامت بھی کر رہے تھے۔ بعد میں انہوں نے اپنی ملازمت چھوڑ دی تاکہ پڑھائی کے لیے زیادہ وقت نکال سکیں۔

انہوں نے کسی مہنگے کوچنگ پروگرام میں داخلہ نہیں لیا۔ چند کتابیں، یوٹیوب پر دستیاب کلاسیں، خود تیار کردہ نوٹس اور گزشتہ برسوں کے سوالیہ پرچوں کا تجزیہ ہی ان کی تیاری کا بنیادی ذریعہ بنے۔29 جون کو انہوں نے سوری میں قائم ایک امتحانی مرکز پر یو جی سی نیٹ کا امتحان دیا۔ اس کے بعد نتیجے کا طویل انتظار شروع ہوا۔بالآخر 28 اگست کو جب نتائج کا اعلان ہوا تو عبدالحمید اپنے اسکور کارڈ کو دیکھ کر حیران رہ گئے۔ انہیں یقین نہیں آ رہا تھا کہ ان کی محنت نے اتنی بڑی کامیابی کی شکل اختیار کر لی ہے۔

عربی میں 100 پرسنٹائل، 1649 امیدواروں میں پہلی پوزیشن۔

جیسے ہی ان کی کامیابی کی خبر پھیلی، لوگ انہیں مبارک باد دینے کے لیے پہنچنے لگے۔ جو نوجوان کبھی اپنے والد کے ساتھ کھیتوں میں زرعی کام کرنے جایا کرتا تھا، آج اس نے پورے گاؤں کا سر فخر سے بلند کر دیا تھا۔کھکورا گاؤں کے لیے مٹی سے جڑے اس نوجوان کی کامیابی اجتماعی فخر اور خوشی کا باعث بن گئی ہے۔

اب ایک بڑا خواب

عبدالحمید کا اگلا ہدف اس سے بھی بڑا ہے۔ وہ عربی زبان میں تحقیق کرنا چاہتے ہیں اور دہلی یونیورسٹی یا جواہر لعل نہرو یونیورسٹی (جے این یو) سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے کے خواہش مند ہیں۔ان کا ماننا ہے کہ زندگی میں مواقع محدود ہو سکتے ہیں، لیکن اس وجہ سے انسان کو اپنے خوابوں یا محنت کرنے کے عزم کو محدود نہیں کرنا چاہیے۔