اسپتال کے بستر سے سماجی خدمت تک، پروین خان کی جدوجہد اور عزم کی کہانی

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 04-11-2026
اسپتال کے بستر سے سماجی خدمت تک، پروین خان کی جدوجہد اور عزم کی کہانی
اسپتال کے بستر سے سماجی خدمت تک، پروین خان کی جدوجہد اور عزم کی کہانی

 



فرحان اسرائیلی / جے پور

راجستھان کے ضلع سیکر کی رہنے والی پروین خان کی زندگی 14 برس کی عمر میں ایک حادثے کے بعد بدل گئی۔ وہ دسویں جماعت کی طالبہ تھیں۔ ایک صبح گھر میں دودھ گرم کرتے ہوئے اچانک ان کے دوپٹے میں آگ لگ گئی۔ آگ بجھانے کی کوشش میں ان کا تقریباً 70 فیصد جسم جھلس گیا۔ انہیں تشویش ناک حالت میں جے پور کے سوائی مان سنگھ اسپتال میں داخل کرایا گیا۔ متعدد سرجریوں اور طویل علاج کے باعث ان کی تعلیم بھی متاثر ہوئی۔علاج کے دوران پروین نے اسپتال میں ایسے مریضوں کو دیکھا جو مالی مشکلات کے باعث دوائیں اور ضروری علاج حاصل نہیں کر پا رہے تھے۔ کسی کے پاس تیمارداری کے لیے خاندان کا کوئی فرد نہیں تھا تو کوئی بنیادی ضروریات کے لیے بھی دوسروں کا محتاج تھا۔ ان حالات نے ان کے دل پر گہرا اثر ڈالا اور انہوں نے عہد کیا کہ صحت یاب ہونے کے بعد ضرورت مندوں کی مدد کریں گی۔

آج 30 سالہ پروین خان اپنے اسی عہد کو پورا کرنے میں مصروف ہیں۔ انہوں نے اپنی والدہ مہر خان کے نام پر ’مہر فاؤنڈیشن‘ قائم کی ہے۔ اس کے ذریعے وہ برن سروائیورز کی مدد کرنے کے علاوہ ضرورت مندوں کو کھانا فراہم کرنے اور لڑکیوں کو ہنر سکھاکر خود کفیل بنانے جیسے کام کر رہی ہیں۔

اسپتال کے تجربات نے دکھائی خدمت کی راہ

پروین کا خاندان تقریباً 25 برس سے جے پور میں مقیم ہے۔ حادثے کے بعد ان کا علاج 3 سے 4 سال تک جاری رہا۔ وہ دسویں جماعت کا آخری امتحان نہیں دے سکیں اور ان کے ہاتھوں کی سرجری کا سلسلہ 2019 تک جاری رہا۔ ایک سرجری اب بھی باقی ہے جسے وہ فی الحال درد کے خوف سے ملتوی کیے ہوئے ہیں۔اسپتال میں ان کی ملاقات ایک ایسی لڑکی سے ہوئی جو تیزاب کے حملے کا شکار ہوئی تھی اور اس کے ساتھ صرف اس کی ضعیف والدہ تھیں۔ اسی طرح انہوں نے 6 ماہ کے ایک بچے کو بھی دیکھا جس کے والدین مالی مشکلات کے باعث ڈاکٹر کی تجویز کردہ دوائیں خریدنے سے قاصر تھے۔پروین بتاتی ہیں کہ انہوں نے اپنے والد غلام نبی کو ضرورت مند مریضوں کی مالی مدد کرتے دیکھا تھا۔ وہ دواؤں اور زخموں کی پٹی کے اخراجات میں بھی تعاون کرتے تھے۔ ان تجربات نے پروین کو احساس دلایا کہ مریضوں کو طبی علاج کے ساتھ مالی اور جذباتی سہارے کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔وہ کہتی ہیں کہ اسی دوران انہوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی اور صحت یاب ہونے کے بعد دوسروں کی مدد کرنے کا عہد کیا۔ ان کا علاج کرنے والے ڈاکٹر وکاس ککڑ نے بھی انہیں مشورہ دیا تھا کہ صحت یاب ہونے کے بعد ایسا کام کریں جس سے والدین کا نام روشن ہو۔ یہ بات آج بھی انہیں یاد ہے۔

کاروبار سے فاؤنڈیشن تک کا سفر

سال 2013 میں پروین کی شادی جے پور کے عمران خان سے ہوئی۔ شادی کے بعد انہوں نے تعلیم دوبارہ شروع کی اور بارہویں جماعت مکمل کی۔ سال 2018 میں سونے اور چاندی کی ٹریڈنگ کا کاروبار شروع کیا جو اب تھوک اور خوردہ دونوں سطحوں پر جاری ہے۔کاروبار مستحکم ہونے کے بعد انہوں نے سماجی خدمت کے لیے ادارہ قائم کرنے کا فیصلہ کیا۔ سال 2019 میں ’مہر فاؤنڈیشن‘ کا رجسٹریشن کرایا گیا۔ پروین کے مطابق ادارے کے ضروری رجسٹریشن مکمل ہیں اور ہر سال اس کا آڈٹ بھی کرایا جاتا ہے۔فاؤنڈیشن کا نام انہوں نے اپنی والدہ مہر خان کے نام پر رکھا ہے۔ ان کے کاروبار کے نام بھی مہر ٹریڈنگ اور مہر جیولری ہیں جبکہ گھر کا نام مہر ہاؤس ہے۔ ادارے کا دفتر جے پور کے عامر علاقے میں کنڈا چوراہے کے قریب دہلی ہائی وے روڈ پر واقع ہے۔

پروین اپنے کاروبار کی آمدنی کا ایک حصہ سماجی کاموں پر خرچ کرتی ہیں۔ ان کے مطابق اب تک فاؤنڈیشن کے بیشتر اخراجات وہ اپنی جیب سے برداشت کرتی رہی ہیں جبکہ بعض معاونین بھی مالی تعاون کرتے ہیں۔

اسپتالوں میں کھانا اور کورونا کے دوران خدمت

فاؤنڈیشن نے ابتدا میں جے پور کے ریسٹورنٹ مالکان سے رابطہ کیا اور وہاں بچ جانے والا محفوظ کھانا جمع کرکے اسپتالوں میں مریضوں اور ان کے تیمارداروں تک پہنچانا شروع کیا۔ کبھی 30 تو کبھی 50 افراد کے لیے کھانے کا انتظام ہوتا تھا۔ ہفتے میں ایک دن ٹیم خود بھی دال چاول یا کڑھی چاول تیار کرکے تقسیم کرتی تھی۔سال 2020 میں کورونا وبا کے دوران اس کام کا دائرہ بڑھایا گیا۔ پروین کے مطابق فاؤنڈیشن نے صبح تقریباً 100 اور شام کو مزید 100 افراد کے کھانے کا انتظام کیا۔ یہ سلسلہ 2 ماہ تک جاری رہا۔پروین کا کہنا ہے کہ بیماری کے دوران مریضوں کے اہل خانہ علاج کی پریشانیوں میں اپنی بنیادی ضروریات بھی نظر انداز کردیتے ہیں۔ ایسے میں ایک وقت کا کھانا بھی ان کے لیے بڑی راحت ثابت ہوسکتا ہے۔

ایک اور حادثہ اور نئی آزمائش

سال 2021 میں پروین اور ان کے خاندان کو ایک اور سنگین حادثے کا سامنا کرنا پڑا۔ وہ اپنے شوہر عمران کے ساتھ ایکٹیوا پر دہلی ہائی وے سے گزر رہی تھیں کہ ان کے مطابق غلط سمت سے آنے والی ایک کار نے انہیں ٹکر مار دی۔اس وقت ان کی بیٹی کی عمر 5 سے 6 سال اور بیٹا محض 6 ماہ کا تھا۔ حادثے میں عمران شدید زخمی ہوگئے اور تقریباً 25 دن کوما میں رہے۔ ان کی دونوں ٹانگوں میں راڈ ڈالنی پڑی جبکہ پروین کی کمر کی ہڈی بھی شدید متاثر ہوئی۔ ڈاکٹروں نے ان کے مفلوج ہونے کا خدشہ ظاہر کیا تھا۔پروین کے مطابق اب ان کا پورا خاندان صحت مند ہے۔ وہ اسے اللہ تعالیٰ کی مہربانی اور لوگوں کی دعاؤں کا نتیجہ قرار دیتی ہیں۔

500 سے زائد لڑکیوں کو سلائی کی تربیت

صحت میں بہتری کے بعد پروین نے خواتین اور لڑکیوں کو خود کفیل بنانے کے لیے عامر علاقے میں سلائی مراکز قائم کیے۔ اس مقصد کے لیے ایک بڑا احاطہ کرائے پر لیا گیا جہاں 25 سے 30 سلائی مشینیں لگائی گئیں اور تربیت کے لیے استانی مقرر کی گئی۔پروین کے مطابق ان مراکز میں 500 سے زائد لڑکیوں کو مفت سلائی سکھائی جاچکی ہے۔ جن لڑکیوں نے اس ہنر کو روزگار بنانا چاہا انہیں گھر بیٹھے کام دلانے کی کوشش بھی کی گئی۔ان کا ماننا ہے کہ ضرورت مند خاندانوں کی لڑکیوں کو ہنر سکھانا انہیں معاشی طور پر خود مختار بنانے کا مؤثر ذریعہ ہے۔

برن سروائیورز کے لیے خصوصی کوشش

مہر فاؤنڈیشن کے کاموں میں آگ سے جھلسنے والے افراد کی مدد کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ پروین خود بھی برن سروائیور ہیں اور جانتی ہیں کہ ایسے حادثات کے اثرات صرف جسمانی زخموں تک محدود نہیں رہتے بلکہ متاثرہ افراد کے اعتماد اور سماجی زندگی کو بھی متاثر کرتے ہیں۔ان کے مطابق سوائی مان سنگھ اور دیگر اسپتالوں سے مریضوں کی معلومات ملنے پر ان کی ٹیم ضرورت مند خاندانوں سے رابطہ کرتی تھی۔ بعض اوقات حادثے کے بعد متاثرہ لڑکی کو اس کا خاندان بھی بوجھ سمجھنے لگتا ہے۔ ایسے حالات میں علاج کے اخراجات کے ساتھ اس کا اعتماد بحال کرنا بھی ضروری ہوتا ہے۔پروین اب تک تقریباً 12 لڑکیوں کی کاؤنسلنگ کرچکی ہیں اور وہ آج بھی ان کے رابطے میں ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ خود ایسے حالات سے گزرنے والا شخص متاثرین کی تکلیف کو بہتر طور پر سمجھ سکتا ہے اور انہیں دوبارہ زندگی شروع کرنے کا حوصلہ دے سکتا ہے۔

علاج اور روزگار میں بھی تعاون

فاؤنڈیشن نے جے پور میں مفت دواؤں کی تقسیم کے کیمپ منعقد کیے ہیں۔ ضرورت پڑنے پر ٹیم کے ارکان خون عطیہ کرنے بھی پہنچتے ہیں۔ پروین خود بھی 2 مرتبہ ایسے افراد کو خون دے چکی ہیں جن سے ان کا کوئی خاندانی تعلق نہیں تھا۔نائی کی تھڑی اور مرلی پورہ سمیت مختلف بستیوں میں کیمپ لگاکر لوگوں کو سرکاری اسکیموں کی معلومات بھی فراہم کی گئیں۔ پروین کے مطابق فاؤنڈیشن نے 3 کینسر مریضوں کے علاج میں مدد کی اور بعد میں انہیں پھل اور سبزیوں کے ٹھیلے لگواکر روزگار سے جوڑنے میں تعاون کیا۔ اس کے علاوہ کئی نوجوانوں کو نجی کمپنیوں میں ملازمت دلانے کی کوشش بھی کی گئی۔مہاراشٹر میں مقیم ایک معاون نے مریضوں کے علاج اور ضروری سامان کے لیے تقریباً 3 سے 4 لاکھ روپے کی مدد فراہم کی ہے۔ پروین کے مطابق ملک کے مختلف شہروں میں تقریباً 250 افراد فاؤنڈیشن سے وابستہ ہیں۔ ان میں ممبئی دہلی گروگرام احمد آباد اور کولہاپور کے لوگ شامل ہیں۔پروین فاؤنڈیشن کی بانی اور صدر ہیں جبکہ ان کے شوہر عمران خان نائب صدر ہیں۔ دیپیندر سنگھ راؤ سکریٹری اور عادل خان نائب سکریٹری کی ذمہ داری سنبھالتے ہیں۔

کینسر مریضوں کی مدد اور اسکول قائم کرنے کا خواب

پروین کی والدہ مہر خان نے انہیں ہمیشہ ادب اور اخلاق کے ساتھ کام کرنے کی تلقین کی۔ حالیہ دنوں میں انہوں نے سوشل میڈیا پر بھی اپنی سرگرمیاں شیئر کرنا شروع کی ہیں۔ انسٹاگرام پر انہوں نے ایک ویڈیو پوسٹ کی جس میں سڑک کے کنارے کچرے میں پڑی مورتیوں کو صاف کرکے احترام کے ساتھ مناسب جگہ پر رکھا گیا تھا۔ انہوں نے لوگوں سے اپیل کی کہ پرانی یا ٹوٹی ہوئی مورتیوں کو کچرے میں نہ پھینکیں کیونکہ ہر شخص کے مذہبی جذبات اور عقیدت کا احترام ضروری ہے۔ ان کے مطابق اس ویڈیو کو تقریباً 45 سے 50 ہزار لوگوں نے دیکھا۔اب پروین کینسر مریضوں کی مدد کے لیے کام کا دائرہ وسیع کرنا چاہتی ہیں۔ اس کی ایک ذاتی وجہ بھی ہے۔ ان کے ایک چچازاد بھائی کا 22 سال کی عمر میں کینسر کے باعث انتقال ہوگیا تھا۔ اس واقعے نے انہیں گہرے صدمے سے دوچار کردیا۔

ان کا ایک اور خواب تعلیم کے شعبے میں اسکول یا اکیڈمی قائم کرنا ہے۔ اس مقصد کے لیے انہیں زمین اور مالی تعاون کی ضرورت ہے۔پروین کی زندگی میں 2 بڑے حادثات پیش آئے۔ پہلے آگ نے ان کا تقریباً 70 فیصد جسم جھلسا دیا اور پھر سڑک حادثے نے خاندان کو مشکلات سے دوچار کردیا۔ اس کے باوجود انہوں نے ضرورت مندوں کی مدد کا عہد نہیں چھوڑا۔آج مہر فاؤنڈیشن کے ذریعے ان کی کوشش ہے کہ کوئی مریض پیسوں کی کمی کے باعث دواؤں سے محروم نہ رہے۔ کوئی ضرورت مند بھوکا نہ سوئے اور کسی لڑکی کو ہنر اور روزگار کے مواقع کی کمی کے باعث خود کفیل بننے کا موقع نہ گنوانا پڑے۔ اسپتال کے بستر پر کیا گیا ان کا وعدہ آج بھی ان کی سماجی خدمت کی بنیاد بنا ہوا ہے۔