ترون نندی۔ کولکاتا
والد ایک چھوٹے کسان ہیں اور والدہ آنگن واڑی مرکز میں معاون کے طور پر کام کرتی ہیں۔ گھر کے معاشی حالات ہمیشہ مشکل رہے لیکن ان تمام رکاوٹوں کے باوجود مغربی بنگال کے جنوبی 24 پرگنہ ضلع کے بھانگر علاقے میں واقع پھول باڑی کی 19 سالہ طاہرہ خاتون نے قومی اور بین الاقوامی سطح پر تمغے جیت کر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔آج طاہرہ کا سب سے بڑا خواب یہ ہے کہ وہ ایک دن ہندوستانی ٹیم کی وردی پہن کر اور اپنے ملک کا پرچم تھام کر اولمپکس کے دوڑ کے میدان میں اتریں اور ملک کا نام روشن کریں۔
طاہرہ اپنے خاندان کے ساتھ بھانگر کے ایک چھوٹے سے مکان میں رہتی ہیں۔ گھر کی معاشی مشکلات ان کی روزمرہ زندگی کا حصہ ہیں۔ والد معمولی کاشت کاری کرتے ہیں جبکہ والدہ آنگن واڑی مرکز میں معاون کی حیثیت سے کام کرتی ہیں۔ خاندان میں چار بچے ہیں اور آمدنی اتنی محدود ہے کہ ہر روپیہ سوچ سمجھ کر خرچ کرنا پڑتا ہے۔ لیکن اسی معمولی آمدنی والے گھر سے نکل کر طاہرہ نے بین الاقوامی کھیلوں کی دنیا میں اپنی شناخت قائم کی ہے۔بھانگر کے پھول باڑی علاقے سے تعلق رکھنے والی اس نوجوان کھلاڑی نے اپنی کامیابیوں سے مغربی بنگال کی کھیلوں کی تاریخ میں ایک نیا باب رقم کیا ہے۔ قومی اور بین الاقوامی مقابلوں میں کئی کامیابیاں حاصل کرنے کے بعد اب ان کی نظریں اولمپکس پر مرکوز ہیں۔

والد نے غربت کو بیٹی کے خوابوں کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننے دیا
طاہرہ کے والدین بتاتے ہیں کہ انہیں بچپن ہی سے کھیل کود میں گہری دلچسپی تھی۔ ان کے والد میر طیب علی نے اپنی بیٹی کی صلاحیتوں کو پہچان لیا تھا اور فیصلہ کیا کہ وہ اسے دوڑ کے میدان میں آگے بڑھنے کا پورا موقع دیں گے۔جب طاہرہ پرائمری اسکول میں پڑھتی تھیں تو ان کے والد نے انہیں کھیلوں کے ایک اسکول میں داخل کرا دیا تاکہ ان کی صلاحیتوں کو مناسب تربیت کے ذریعے نکھارا جا سکے۔ یہی وہ مرحلہ تھا جہاں سے طاہرہ کے ایک کھلاڑی بننے کے سفر کا آغاز ہوا۔تاہم صرف صلاحیت ہونا کافی نہیں تھا۔ کھیلوں کی تربیت اور ضروری سامان کے ساتھ سفر اور مختلف مقابلوں میں شرکت کے لیے بھی رقم درکار تھی۔ محدود آمدنی والے خاندان کے لیے ان اخراجات کا انتظام کرنا ایک بڑا چیلنج تھا۔اس کے باوجود میر طیب علی نے اپنی استطاعت کے مطابق ہر ممکن کوشش کی تاکہ بیٹی کی تربیت اور کھیلوں کا سلسلہ جاری رہے۔ انہوں نے کبھی معاشی تنگی کو طاہرہ کے خوابوں کے راستے میں حائل نہیں ہونے دیا۔
ان کی محنت اور بیٹی کی لگن جلد ہی رنگ لانے لگی۔
سال 2018 میں طاہرہ نے قومی سطح کے اسکولی مقابلوں میں کانسے کا تمغہ جیت کر اپنی صلاحیتوں کا پہلا بڑا ثبوت دیا۔ یہ کامیابی ان کے کھیلوں کے سفر میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوئی۔اس کے بعد کامیابیوں کا سلسلہ آگے بڑھتا گیا۔ سال 2021 سے 2026 کے درمیان طاہرہ نے کھیلو انڈیا اور قومی جونیئر فیڈریشن کے مقابلوں سمیت مختلف ریاستی اور قومی مقابلوں میں مجموعی طور پر 12 تمغے حاصل کیے۔ان تمغوں میں سونے اور چاندی کے علاوہ کانسے کے تمغے بھی شامل ہیں۔لیکن ان کامیابیوں کے پیچھے برسوں کی سخت محنت اور مسلسل تربیت کے ساتھ محدود وسائل میں زندگی گزارنے کی جدوجہد بھی شامل تھی۔ ہر تمغہ طاہرہ کے عزم اور ان کے خاندان کی قربانیوں کی ایک الگ داستان بیان کرتا ہے۔

قومی کامیابیوں کے بعد بین الاقوامی مقابلے میں سونے کا تمغہ
قومی سطح پر اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرنے کے بعد طاہرہ کو بین الاقوامی مقابلوں میں ہندوستان کی نمائندگی کرنے کا موقع ملا۔انہوں نے ہانگ کانگ میں منعقدہ 20 سال سے کم عمر کھلاڑیوں کی ایشیائی ایتھلیٹکس چیمپئن شپ میں خواتین کی چار ضرب 400 میٹر کی اجتماعی دوڑ میں ہندوستانی ٹیم کی نمائندگی کی۔اس مقابلے میں طاہرہ نے اپنی ساتھی کھلاڑیوں کے ساتھ شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سونے کا تمغہ حاصل کیا۔ چار رکنی ہندوستانی ٹیم کی دیگر تین کھلاڑیوں کا تعلق اتر پردیش اور مہاراشٹر کے ساتھ پنجاب سے تھا۔
اس طرح بھانگر کے ایک عام کسان گھرانے کی 19 سالہ بیٹی ان چار کھلاڑیوں میں شامل تھی جنہوں نے بین الاقوامی مقابلے میں ہندوستان کو سونے کا تمغہ دلایا۔طاہرہ نے اپنی کامیابی سے نہ صرف اپنے خاندان اور علاقے بلکہ پورے ملک کا نام روشن کیا۔ بین الاقوامی میدان میں ہندوستان کا پرچم بلند کرنے والی اس نوجوان کھلاڑی کی کامیابی پر مغربی بنگال میں بھی خوشی کا اظہار کیا گیا۔تاہم بین الاقوامی کامیابی کے باوجود ان کی مشکلات پوری طرح ختم نہیں ہوئیں۔ بعض دوسری ریاستوں میں تمغے جیتنے والے کھلاڑیوں کو سرکاری اعزازات اور انعامات مل رہے تھے جبکہ طاہرہ کو مغربی بنگال میں اسی نوعیت کی سرکاری پذیرائی کے لیے انتظار کرنا پڑا۔ اس صورت حال نے ان کے مستقبل کے حوالے سے کئی سوالات بھی پیدا کیے۔

بالآخر ان کا انتظار ختم ہوا
قومی یوم کھیل کے موقع پر نبانا میں منعقدہ ایک تقریب میں ریاست کے دیگر کامیاب کھلاڑیوں کے ساتھ طاہرہ خاتون کو بھی اعزاز سے نوازا گیا۔ہندوستان کے لیے بین الاقوامی سطح پر سونے کا تمغہ جیتنے کے اعتراف میں مغربی بنگال حکومت نے انہیں 12 لاکھ 50 ہزار روپے کا نقد انعام دیا۔اس سرکاری اعزاز نے نوجوان کھلاڑی کے حوصلوں کو نئی بلندی عطا کی اور انہیں اپنے مستقبل کے خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کے لیے مزید محنت کرنے کا حوصلہ ملا۔
تعلیم کے ساتھ کھیلوں کی سخت تربیت بھی جاری
طاہرہ سال 2022 سے کولکاتا کے سالٹ لیک علاقے میں اسپورٹس اتھارٹی آف انڈیا کے تحت سرکاری خرچ پر تربیت حاصل کر رہی ہیں۔کھیلوں کی تربیت کے ساتھ انہوں نے اپنی تعلیم کا سلسلہ بھی جاری رکھا ہوا ہے۔ وہ اس وقت باراسات کی آداماس یونیورسٹی میں سیاسیات کے شعبے میں گریجویشن کے دوسرے سال کی طالبہ ہیں۔ان کی روزمرہ زندگی سخت جسمانی تربیت اور مقابلوں کی تیاری کے ساتھ پڑھائی میں گزرتی ہے۔تعلیم اور کھیلوں کے درمیان توازن برقرار رکھتے ہوئے مغربی بنگال کی یہ نوجوان کھلاڑی مسلسل آگے بڑھ رہی ہیں۔ وہ اچھی طرح جانتی ہیں کہ بین الاقوامی سطح پر اپنی جگہ برقرار رکھنے کے لیے ہر روز اپنی کارکردگی کو مزید بہتر بنانا ضروری ہے۔طاہرہ کے نزدیک بین الاقوامی کھلاڑی بننے کے لیے صرف قدرتی صلاحیت کافی نہیں ہے بلکہ نظم و ضبط اور مسلسل مشق کے ساتھ تعلیم اور اپنے مقصد پر توجہ برقرار رکھنا بھی ضروری ہے۔

اب اولمپکس میں ہندوستان کا پرچم بلند کرنے کی خواہش
طاہرہ کی کامیابی اس بات کی مثال ہے کہ اگر صلاحیتوں کو مناسب مواقع ملیں اور خاندان کا تعاون حاصل ہو تو معاشی مشکلات بھی کامیابی کی راہ نہیں روک سکتیں۔ایک چھوٹے کسان کی بیٹی نے اپنے عزم اور محنت سے ثابت کیا ہے کہ بڑے خواب دیکھنے کے لیے بڑے گھرانے میں پیدا ہونا ضروری نہیں۔ اصل اہمیت انسان کے حوصلے اور اس کی مسلسل جدوجہد کی ہوتی ہے۔
آج بھانگر کی 19 سالہ طاہرہ خاتون کی منزل پہلے سے کہیں زیادہ بڑی ہے۔ وہ مزید تیز دوڑنا چاہتی ہیں اور کامیابی کی نئی بلندیوں تک پہنچنا چاہتی ہیں۔ان کی خواہش ہے کہ ایک دن وہ ہندوستانی ٹیم کی وردی پہن کر اولمپکس کے میدان میں دوڑیں اور دنیا کے سب سے بڑے کھیلوں کے مقابلے میں اپنے ملک کی نمائندگی کریں۔یہی خواب انہیں ہر روز مزید محنت کرنے اور آگے بڑھنے کا حوصلہ دیتا ہے۔ ایک کسان کی بیٹی کا یہ سفر اب بھی جاری ہے اور اس کی اگلی منزل اولمپکس ہے۔