ترون نندی / کولکاتا
آٹھویں جماعت میں بنگالی، ریاضی اور فزیکل سائنس میں فیل ہونے والے طالب علم نے یہ ثابت کردیا کہ اگر مقصد واضح ہو تو کامیابی حاصل کی جاسکتی ہے۔ بہت کم لوگوں نے تصور کیا ہوگا کہ آٹھویں جماعت میں ناکام ہونے والا ایک لڑکا ایک دن پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرے گا۔ جنوبی دیناج پور کے کشمنڈی علاقے کے چکداہ گاؤں کے میر اجُل اسلام وہ طالب علم ہیں جنہوں نے ثابت کیا کہ ناکامی زندگی کی راہ کا اختتام نہیں ہوتی۔
1995 میں ایک کسان خاندان میں پیدا ہونے والے میر اجُل اسلام کے لیے کامیابی کا سفر آسان نہیں تھا۔ ان کے والد لطیف الرحمن کی آمدنی محدود تھی،اجُلنہ والدہ مسورہ بی بی بطخیں اور مرغیاں پال کر خاندان کی مالی مدد کرنے کی کوشش کرتی تھیں۔ گھر کے اخراجات اور بچوں کی تعلیم کا خرچ پورا کرنا ہمیشہ ایک مشکل مرحلہ تھا۔
والدین کی تمام محنت کے باوجود جب میر اجُل کے آٹھویں جماعت کے نتائج سامنے آئے تو خاندان کے لیے یہ ایک بڑا دھچکا تھا۔ ناکامی کے بعد وہ بری طرح مایوس ہوگئے۔ اسی موقع پر ان کی والدہ نے ان کا حوصلہ بڑھایا۔ انہوں نے کہا، ’’کم از کم مادھیامک پاس کرلو۔‘‘ ماں کے یہ چند الفاظ میر اجُل کی زندگی کا رخ بدلنے والے ثابت ہوئے۔

آٹھویں میں ناکامی سے پی ایچ ڈی تک
آٹھویں جماعت کے نتائج کے بعد میر اجُل نے ایک واضح مقصد کے ساتھ بھرپور جدوجہد شروع کردی۔ پرانی کتابوں سے پڑھائی کرنا، کیچڑ سے بھری سڑکوں پر تین کلومیٹر پیدل چلنا اور 20 کلومیٹر دور ٹیوشن کے لیے سائیکل اور بس سے سفر کرنا ان کے روزمرہ معمول کا حصہ بن گیا۔
انہیں کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، لیکن کوئی بھی رکاوٹ ان کے عزم کو کمزور نہیں کرسکی۔ والدہ سے کیے گئے وعدے کو نبھاتے ہوئے میر اجُل نے مدرسہ نظام کی حدود سے آگے بڑھ کر مادھیامک اور ہائر سیکنڈری کے امتحانات فرسٹ ڈویژن سے پاس کیے۔ اس کے بعد انہوں نے عالیہ یونیورسٹی سے گریجویشن اور پوسٹ گریجویشن کیا، بی ایڈ کی ڈگری حاصل کی اور بالآخر پی ایچ ڈی بھی مکمل کرلی۔
تاہم ان کے سفر میں کامیابیوں سے زیادہ رکاوٹیں تھیں۔ ان کے خاندان میں اس سے پہلے کسی نے اعلیٰ تعلیم حاصل نہیں کی تھی۔ اس لیے میر اجُل کو بہت سی چیزیں اپنے تجربے سے سیکھنی پڑیں۔ انہیں یہ معلوم کرنا پڑا کہ تعلیمی مواقع کہاں دستیاب ہیں، ان کے لیے درخواست کیسے دی جاتی ہے اور کون سے ادارے مستقبل بنانے میں مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔


مالی مشکلات بھی ان کے سفر میں ایک بڑا چیلنج رہیں۔
ان کے ڈاکٹریٹ کے تحقیقی مقالے کا موضوع تھا: ’’قاضی نذرالاسلام: نثر نگار کی حیثیت سے ایک سماجی و ثقافتی مطالعہ‘‘۔
نذرالاسلام کی نثر نے متوجہ کیا
زیادہ تر لوگ قاضی نذرالاسلام کو بنیادی طور پر شاعر اور نغمہ نگار کے طور پر جانتے ہیں۔ تاہم میر اجُل کی خصوصی دلچسپی نذرالاسلام کی نثری تخلیقات میں پیدا ہوئی۔ یہی دلچسپی رفتہ رفتہ ان کی سوچ اور تحقیق کو ایک مختلف سمت میں لے گئی۔
نذرالاسلام کے مضامین، افسانوں، ناولوں، ڈراموں، تقاریر اور خطوط میں سماج، ثقافت، مساوات اور انسانیت کے جو تصورات نظر آتے ہیں، انہوں نے میر اجُل کو تحقیق کی جانب راغب کیا۔میر اجُل کا کہنا ہے کہ ان کا تحقیقی سفر بالکل ہموار نہیں تھا۔ تحقیق مکمل کرنے کے دوران انہیں کئی انتظامی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کے مطابق وائس چانسلر اور رجسٹرار کی مداخلت کے بعد بالآخر یہ مسائل حل ہوئے۔
ابتدا میں انہوں نے اپنی تحقیق چار برس میں مکمل کرنے کا منصوبہ بنایا تھا، لیکن اسے مکمل ہونے میں چھ برس سے زیادہ کا وقت لگ گیا۔ میر اجُل کے مطابق ان کا مقالہ ایک مرتبہ مسترد بھی کردیا گیا تھا۔کئی برس کے انتظار اور متعدد مشکلات پر قابو پانے کے بعد آخرکار وہ دن بھی آیا جس کا انہیں طویل عرصے سے انتظار تھا۔ 8 ستمبر 2026 کو انہوں نے اپنا وائوا مکمل کیا اور پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے کا خواب پورا کرلیا۔

پسماندہ طبقات کے طلبہ کی رہنمائی
تدریس اور تحقیق کے ساتھ ساتھ میر اجُل مختلف طلبہ اور سماجی سرگرمیوں سے بھی وابستہ رہے ہیں۔ آج وہ محروم اور معاشی طور پر کمزور طلبہ کو تعلیم کے حصول کی راہ تلاش کرنے میں مدد فراہم کررہے ہیں۔
میر اجُل کا سفر یہ ظاہر کرتا ہے کہ غربت یا ابتدائی ناکامی کسی شخص کے مستقبل کا فیصلہ نہیں کرتی۔ خود اعتمادی، مسلسل محنت اور عزم کے ذریعے مشکل سے مشکل رکاوٹ کو عبور کیا جاسکتا ہے اور کامیابی حاصل کی جاسکتی ہے۔