شانتی پریا رائے چودھری / کولکاتا
مغربی بنگال کے ضلع ہاوڑہ کے الوبیریا علاقے کے نم ڈیہی گاؤں کی طویل فاصلے تک تیراکی کرنے والی طاہرینہ نسرین اب نیوزی لینڈ کے کک اسٹریٹ کو عبور کرنے کی تیاری کر رہی ہیں۔ وہ اس سے قبل انگلش چینل عبور کر کے اپنی صلاحیت کا مظاہرہ کر چکی ہیں۔ اب ان کا ارادہ اگلے سال مارچ میں کک اسٹریٹ عبور کرنے کا ہے۔ اس مشکل مہم کے اخراجات پورے کرنے کے لیے وہ اسپانسر شپ حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
طاہرینہ کا تیراکی کا سفر اس وقت شروع ہوا جب ان کی عمر محض ڈھائی سال تھی۔ ان کی والدہ نے گھر کے سامنے موجود دو بڑے تالابوں میں انہیں تیراکی سکھائی۔ عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ تیراکی میں ان کی دلچسپی بھی بڑھتی گئی۔پانچویں جماعت میں پہنچنے کے بعد طاہرینہ نے اپنے والد کے ساتھ الوبیریا میونسپلٹی کے سوئمنگ پول میں باقاعدہ تربیت لینا شروع کی۔ بعد میں انہوں نے الوبیریا کے ایک سوئمنگ ٹریننگ سینٹر میں بھی مشق کی۔
ان کے والد شیخ افضل احمد خود بھی فٹ بال کے کھلاڑی رہے ہیں۔ انہوں نے 1970 کی دہائی میں کولکاتا کے میدان میں کمارٹولی کی جانب سے فٹ بال کھیلا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ تیراکی ہمیشہ سے ان کے خاندان کی تربیت کا حصہ رہی ہے۔شیخ افضل احمد نے بتایا کہ ان کے خاندان میں بچوں کو دو سے تین سال کی عمر میں گھر کے سامنے واقع تالاب میں تیراکی سکھائی جاتی ہے۔ طاہرینہ نے بھی اسی ماحول میں تیراکی سیکھی۔ 2005 سے انہوں نے مختلف تیراکی مقابلوں میں حصہ لینا شروع کیا اور اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے لگیں۔

سوئمنگ پول سے طویل فاصلے کی تیراکی تک
طاہرینہ نے رفتہ رفتہ ریاستی اور قومی سطح پر اپنی شناخت بنائی۔ ریاستی سطح پر 50 میٹر اور 100 میٹر اور 200 میٹر بیک اسٹروک مقابلوں میں ان کے نام ریکارڈ درج ہیں۔ قومی سطح پر وہ 22 میڈل جیت چکی ہیں۔ انہوں نے انڈو بنگلہ گیمز میں بھی حصہ لیا اور کامیابی حاصل کی۔2013 میں اپنے آخری قومی سطح کے مقابلے میں شرکت کے بعد طاہرینہ نے طویل فاصلے تک تیراکی پر توجہ مرکوز کرنے کا فیصلہ کیا۔ یہ سال ان کے کیریئر میں ایک اہم موڑ ثابت ہوا۔ انہوں نے کولکاتا کے بیلے گھاٹا علاقے میں واقع سبھاش سروبر میں مسعود الرحمان کی نگرانی میں تربیت شروع کی۔2014 میں انہوں نے 81 کلومیٹر طویل تیراکی مقابلے میں تیسری پوزیشن حاصل کی۔ اس مقابلے میں اتنا طویل فاصلہ طے کرنے والی خواتین تیراکوں میں ان کا شمار ہونے لگا۔طاہرینہ نے 2012 میں محکمہ انکم ٹیکس میں ملازمت اختیار کی تھی۔ انگلش چینل عبور کرنے کے خواب کی ابتدا کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ 2013 میں ان کے کوچ نے ان سے پوچھا تھا کہ کیا وہ انگلش چینل عبور کر سکتی ہیں۔طاہرینہ کے مطابق انہوں نے جواب دیا کہ وہ ایسا کر سکتی ہیں۔ یہ کہنے کے بعد انہوں نے اپنے مقصد کے لیے تیاری شروع کر دی۔ 2013 سے ان کی تربیت کا محور انگلش چینل عبور کرنا بن گیا۔ ان کا معمول یہ تھا کہ صبح 9 بجے گھر سے نکلتی تھیں اور دفتر میں کام کرنے کے بعد تیراکی کی مشق کے لیے بیلے گھاٹا پہنچ جاتی تھیں۔
کوچ کی موت سے خواب ٹوٹنے کا خطرہ
26 اپریل 2015 کو طاہرینہ کی زندگی میں ایک بڑا صدمہ آیا۔ ان کے کوچ مسعود الرحمان کا انتقال ہو گیا۔ اس سانحے سے وہ اس قدر متاثر ہوئیں کہ انگلش چینل عبور کرنے کا خواب تقریباً ترک کرنے والی تھیں۔ تاہم ان کے والدین نے ان کی حوصلہ افزائی کی اور انہیں بتایا کہ انگلش چینل عبور کرنا ہی ان کے کوچ کے لیے بہترین خراج عقیدت ہوگا۔اس سفر میں ایک اور بڑی رکاوٹ بھی سامنے آئی۔ آخری وقت میں کولکاتا میں برطانوی ہائی کمشنر نے ان کی ویزا درخواست مسترد کر دی۔ طاہرینہ نے تقریباً امید چھوڑ دی تھی لیکن چند سینئر اولمپین کھلاڑیوں کی مدد سے انہیں چینل عبور کرنے کے لیے درکار اجازت مل گئی۔بالآخر 3 ستمبر 2015 کو وہ تاریخی لمحہ آ گیا۔ طاہرینہ نے دوپہر 3 بج کر 25 منٹ پر پانی میں اتر کر تیراکی شروع کی اور شام 4بج کر 3 منٹ پر انگلش چینل عبور کر لیا۔اس کامیابی کے بعد طاہرینہ نے اپنے کوچ کے الفاظ یاد کرتے ہوئے کہا کہ مسعود سر اکثر کہتے تھے کہ کسی کھلاڑی کو حقیقی چیمپئن اسی وقت کہا جا سکتا ہے جب اس کی کامیابی ملک کو فخر محسوس کرائے۔ طاہرینہ کے مطابق انہیں آج بھی اس بات پر فخر ہے کہ وہ اپنے کوچ کی اس بات کو سچ ثابت کر سکیں۔

کئی سمندری راستے عبور کیے
انگلش چینل عبور کرنا طاہرینہ کے لیے محض آغاز تھا۔ اس کے بعد انہوں نے کھلے پانی میں تیراکی کے کئی مشکل چیلنج مکمل کیے۔23 نومبر 2018 کو انہوں نے سوئم بنگال چینل سولو کراس 3 گھنٹے 9 منٹ میں مکمل کر کے ریکارڈ قائم کیا۔ 15 دسمبر 2019 کو سوئم بنگال چینل ڈبل کراس 8 گھنٹے 13 منٹ میں مکمل کیا۔ 11 اگست 2022 کو انہوں نے آبنائے جبرالٹر 4 گھنٹے 23 منٹ میں عبور کی۔ 9 جنوری 2026 کو دھرم تار گیٹ وے سوئم 9 گھنٹے 19 منٹ میں مکمل کیا۔
کک اسٹریٹ اگلا بڑا چیلنج
اب بنگال کی یہ طویل فاصلے کی تیراک اگلے بڑے چیلنج کی تیاری کر رہی ہیں۔ ان کا منصوبہ ہے کہ اگلے سال مارچ میں نیوزی لینڈ کے کک اسٹریٹ کو عبور کریں۔ مجوزہ راستہ پکٹن سے ویلنگٹن تک ہے اور اس کی لمبائی تقریباً 22 کلومیٹر ہے۔تاہم اس مہم میں صرف جسمانی صلاحیت ہی آزمائش نہیں ہوگی بلکہ اخراجات کا انتظام بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔طاہرینہ نے اپنی کئی بڑی مہمات کے اخراجات زیادہ تر خود برداشت کیے ہیں۔ انگلش چینل عبور کرنے پر تقریباً 12 لاکھ روپے خرچ ہوئے تھے جبکہ آبنائے جبرالٹر عبور کرنے پر تقریباً 8 لاکھ روپے کی لاگت آئی تھی۔ان اخراجات کے لیے انہوں نے اپنے والد کے کاروبار کی بچت اور بینک قرضوں کے علاوہ اپنی آمدنی کا ایک حصہ بھی استعمال کیا۔

ان کے مطابق ان مہمات کے لیے نہ تو حکومت اور نہ ہی نجی اداروں کی جانب سے کوئی قابل ذکر مالی مدد ملی۔مالی مشکلات کے باوجود طاہرینہ اپنے ارادے پر قائم ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر اس مہم کے لیے انہیں اسپانسر شپ مل جائے تو بہتر ہوگا۔ وہ اس سلسلے میں ہر ممکن کوشش کر رہی ہیں۔اس دوران ایک حوصلہ افزا پیش رفت بھی ہوئی ہے۔ الوبیریا کی کھیلوں کی تنظیم فرینڈز انٹرپرائز نے طویل انتظار کے بعد طاہرینہ کو اس مشکل مہم کے لیے مالی مدد دینے کا وعدہ کیا ہے۔ تنظیم نے مستقبل میں بھی ان کی مدد جاری رکھنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔اب طاہرینہ کی نظریں انگلش چینل اور آبنائے جبرالٹر سے آگے نیوزی لینڈ کے کک اسٹریٹ پر مرکوز ہیں۔ وہ امید رکھتی ہیں کہ اگلے سال مارچ میں اس چیلنج کو مکمل کر کے اپنی کامیابیوں کی فہرست میں ایک اور اہم سنگ میل کا اضافہ کریں گی۔