حسین: شہد کے ایک چھتے سے کامیاب کاروباری تک

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 06-10-2026
 حسین: شہد کے ایک چھتے سے کامیاب کاروباری  تک
حسین: شہد کے ایک چھتے سے کامیاب کاروباری تک

 



 گوہاٹی: سرکاری ملازمت کے انتظار میں وقت گزارنے کے بجائے آسام کے ایک 22 سالہ نوجوان نے شہد کی مکھیوں کی پرورش کو روزگار کا ذریعہ بنا لیا۔ محض ایک بی ہائیو باکس سے شروع ہونے والا ان کا چھوٹا سا تجربہ آج ایک کامیاب کاروبار میں تبدیل ہوچکا ہے۔ بیکی حسین ہر سال تقریباً 1.5 ٹن خالص اور قدرتی شہد تیار کرتے ہیں اور اس سے سالانہ لاکھوں روپے کی آمدنی حاصل کر رہے ہیں۔

وہ صرف شہد فروخت نہیں کرتے بلکہ آسام سے باہر بھی شہد کی مکھیاں، بی کیپنگ باکس اور دیگر ضروری سامان فراہم کرتے ہیں۔ اس طرح انہوں نے نہ صرف اپنے لیے روزگار پیدا کیا بلکہ دوسرے نوجوانوں کے لیے بھی خود روزگاری کی ایک مثال قائم کی ہے۔بیکی حسین کا تعلق آسام کے مغربی حصے میں واقع کامروپ ضلع کے بائی ہاٹا چاریالی کے قریب بیہڈیا گاؤں سے ہے۔

سرکاری ملازمت کے بجائے اپنا کاروبار شروع کیا

بیکی حسین نے ابتدائی طور پر مکھی پالنے کی باقاعدہ تربیت کھادی اینڈ ولیج انڈسٹریز بورڈ، مکلموا اور محکمہ زراعت، خانپارا سے حاصل کی۔ انہوں نے کئی مرتبہ سرکاری ملازمت حاصل کرنے کی کوشش کی، لیکن بعد میں انہیں احساس ہوا کہ کامیابی کا بہتر راستہ اپنا کاروبار شروع کرنا ہوسکتا ہے۔اس وقت مارکیٹ میں ملاوٹ شدہ اور کیمیکل ملے شہد کی دستیابی عام تھی۔ بیکی نے فیصلہ کیا کہ وہ لوگوں کو خالص اور قدرتی شہد فراہم کریں گے۔

بیکی حسین نے آواز دی وائس سے خصوصی گفتگو میں کہا کہ آج کے دور میں خالص اور قدرتی شہد آسانی سے دستیاب نہیں ہے۔ صارفین قدرتی شہد خریدنا چاہتے ہیں، لیکن اکثر انہیں ایسا شہد خریدنا پڑتا ہے جس میں کیمیکل ملے ہوتے ہیں۔ میں نے اسی مسئلے کو دور کرنے اور لوگوں کو صحت بخش اور خالص شہد فراہم کرنے کے مقصد سے شہد کی مکھیوں کی پرورش کا کاروبار شروع کیا۔‘‘

صرف 2200 روپے سے سفر شروع کیا

بیکی نے اپنے کاروبار کا آغاز محض 2200 روپے کی سرمایہ کاری سے کیا اور اس رقم سے ایک بی کیپنگ باکس خریدا۔ابتدائی دن ان کے لیے آسان نہیں تھے۔ کبھی مکھیاں چھتے سے اڑ جاتیں تو کبھی شہد کے چھتے تباہ ہوجاتے۔ لیکن انہوں نے ہمت نہیں ہاری۔وہ کہتے ہیں کہ ’’شروع میں کئی مرتبہ مکھیاں اڑ جاتی تھیں۔ ان واقعات سے مجھے بہت دکھ ہوتا تھا، لیکن میں سوچتا رہا کہ اگر صبر اور محنت کے ساتھ کام جاری رکھا تو ایک دن ضرور کامیابی ملے گی۔ان کی محنت رنگ لائی اور آج بیکی حسین کے پاس تقریباً 75 بی کیپنگ باکس ہیں۔ خشک موسم میں ان کی تعداد بڑھ کر 150 سے 200 تک پہنچ جاتی ہے۔ عام طور پر ہر باکس میں آٹھ شہد کے چھتے ہوتے ہیں۔وہ ان چھتوں کے ایک حصے کو الگ کرکے نئی کالونی تیار کرتے ہیں اور اس طرح شہد کی مکھیوں کی تعداد بتدریج بڑھاتے ہیں۔

دیسی اور اطالوی مکھیوں سے شہد کی پیداوار

بیکی بنیادی طور پر مقامی نسل Apis cerana indica سے شہد تیار کرتے ہیں۔ خشک موسم میں جب شہد کی پیداوار بڑھ جاتی ہے تو وہ مغربی بنگال اور بہار سے Apis mellifera ligustica نامی اطالوی نسل کی مکھیاں بھی خریدتے ہیں۔

دونوں نسلوں کے فرق کے بارے میں وہ بتاتے ہیں کہ دیسی مکھیاں ایک باکس سے تقریباً 8 سے 10 کلوگرام شہد دیتی ہیں، جبکہ اطالوی نسل کی مکھیاں ایک باکس سے 30 سے 40 کلوگرام تک شہد پیدا کرسکتی ہیں۔تاہم اطالوی نسل آسام کے مرطوب مون سون موسم میں زیادہ دیر تک زندہ نہیں رہ پاتی، جبکہ مقامی مکھیاں یہاں کے قدرتی ماحول سے بہتر طور پر مطابقت رکھتی ہیں۔بیکی کے مطابق مون سون کے دوران قدرتی خوراک کی کمی کے باعث اطالوی نسل کی بڑی تعداد میں مکھیاں مر جاتی ہیں، اس لیے انہیں ہر سال نئی مکھیاں خریدنی پڑتی ہیں۔

’نارتھ ایسٹ ہنی‘ کے نام سے اپنا برانڈ

بیکی حسین صرف اپنے برانڈ ’نارتھ ایسٹ ہنی‘ کے نام سے شہد فروخت نہیں کرتے بلکہ شہد کی مکھیاں، بی کیپنگ باکس اور دیگر ضروری سامان بھی فراہم کرتے ہیں۔وہ سرکاری محکموں، غیر سرکاری تنظیموں (NGOs) اور فارمر پروڈیوسر آرگنائزیشنز (FPOs) کو بھی شہد اور بی کیپنگ کا سامان سپلائی کرتے ہیں۔ان کے پاس مختلف اقسام کا شہد دستیاب ہے، جن میں ملٹی فلورا، سرسوں، لیچی، جامن اور آسام لیموں کا شہد شامل ہے۔وہ آسام کے علاوہ اروناچل پردیش، ناگالینڈ اور میگھالیہ جیسی ریاستوں میں بھی بی کیپنگ کا سامان فراہم کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ شہد کی مکھیوں کی پرورش میں دلچسپی رکھنے والے افراد کو تربیت بھی دیتے ہیں۔

حکومت سے بھی ملی مدد

بیکی کے مطابق انہیں کھادی بورڈ سے 10 بی کیپنگ باکس اور محکمہ زراعت سے ایک باکس بطور گرانٹ ملا۔ وہ بتاتے ہیں کہ شہد کی مکھیوں کی افزائش ایک قدرتی عمل کے ذریعے بھی کی جاسکتی ہے۔ ایک باکس میں موجود آٹھ چھتوں میں سے کچھ حصے کو الگ کرکے نئے باکس میں رکھا جاتا ہے، جہاں ایک نئی کالونی بن جاتی ہے۔ حیرت انگیز طور پر نئی کالونی کی مکھیاں خود اپنی نئی ملکہ مکھی بھی تیار کرلیتی ہیں۔اسی قدرتی طریقے سے کالونیوں کی تعداد بڑھا کر بیکی نے اپنے کاروبار کو موجودہ سطح تک پہنچایا ہے۔

مون سون میں شہد کیوں نہیں بنتا؟

مون سون کے دوران خراب موسم اور پھولوں کی کمی کے باعث مکھیوں کو زندہ رکھنے کے لیے چینی کا محلول دیا جاتا ہے۔ تاہم اس عرصے میں شہد کی پیداوار نہیں ہوتی۔بیکی واضح کرتے ہیں کہ حقیقی شہد صرف پھولوں کے رس سے تیار ہوتا ہے، مصنوعی خوراک سے نہیں۔ اس لیے خالص شہد کی پیداوار کے لیے سازگار قدرتی ماحول اور پھولوں کی وافر مقدار ضروری ہے۔عام طور پر دسمبر سے اپریل تک قدرت میں پھولوں کی کثرت ہوتی ہے، یہی وجہ ہے کہ اس دوران شہد کی پیداوار اپنے عروج پر پہنچ جاتی ہے۔

شہد کی مکھیوں کو بھی کئی خطرات لاحق

شہد کی مکھیوں کی پرورش اگرچہ منافع بخش کاروبار ہے، لیکن اس میں کئی مشکلات بھی ہیں۔بیکی کے مطابق ’اسمال ہائیو بیٹل‘ نامی ایک نقصان دہ کیڑا شہد کے چھتوں میں انڈے دیتا ہے۔ اس کے لاروے پوری کالونی کو ایک ہی رات میں تباہ کرسکتے ہیں۔اس کے علاوہ چیونٹیوں، شہد خور پرندوں، چھپکلیوں اور بھڑوں کے حملے بھی عام مسائل ہیں۔ اسی لیے مکھیوں کی حفاظت اور باکس کی صفائی پر خصوصی توجہ دینا پڑتی ہے۔ شہد کے چھتوں کا ہر دو دن بعد اچھی طرح معائنہ کرنا ضروری ہے۔

سالانہ 2 سے 3 لاکھ روپے آمدنی

تمام مشکلات کے باوجود بیکی حسین آج شہد کی مکھیوں کی پرورش سے سالانہ تقریباً 2 سے 3 لاکھ روپے کماتے ہیں۔ ان کے کاروبار سے دو دیگر افراد کو بھی روزگار ملا ہے۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ کاروبار چلانے کے ساتھ ساتھ بیکی اپنی MBA کی تعلیم بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔

آسام میں شہد کی مکھیوں کی پرورش کے وسیع امکانات

بیکی کا کہنا ہے کہ آسام میں شہد کی مکھیوں کی پرورش کرنے والوں کی تعداد اب بھی توقع کے مطابق نہیں بڑھی ہے، حالانکہ اس شعبے میں بہت زیادہ امکانات موجود ہیں۔ان کے مطابق آسام میں شہد کی مکھیوں کی پرورش کے شعبے میں بے پناہ امکانات ہیں۔ اگر کوئی شخص مناسب منصوبہ بندی اور تربیت کے ساتھ اس شعبے میں آئے تو وہ یقینی طور پر خود کفیل بن سکتا ہے۔ صرف شہد فروخت کرکے ہی نہیں بلکہ نئی کالونیاں، شہد کے چھتے اور بی کیپنگ باکس فروخت کرکے بھی اچھی آمدنی حاصل کی جاسکتی ہے۔‘‘

ایک ڈبے سے کامیابی تک

بیکی مستقبل میں اپنے کاروبار کو مزید وسعت دینا چاہتے ہیں۔ فی الحال ان کا شہد مارکیٹ میں تقریباً 600 روپے فی کلوگرام کے حساب سے فروخت ہوتا ہے۔صرف ایک بی کیپنگ باکس اور 2200 روپے سے شروع ہونے والا یہ سفر آج ایک کامیاب کاروبار میں تبدیل ہوچکا ہے۔ بیکی حسین کی کہانی اس بات کی مثال ہے کہ صبر، محنت، تربیت اور خود اعتمادی کے ساتھ ایک معمولی آغاز بھی بڑی کامیابی میں تبدیل ہوسکتا ہے۔ان کی کامیابی کی یہ داستان آسام کے بے روزگار نوجوانوں کے لیے خود روزگاری اور خود کفالت کی ایک نئی راہ دکھاتی ہے۔